حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 5
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قوم نے جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کیں
اﷲ تعالی نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی قوم اور نمرود )کہنے لگے۔اِسے جلادو،اوراگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو اپنے معبودوں کی مدد کرو۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 68)آگے سورہ الصافات میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛ترجمہ؛”وہ کہنے لگے۔اِس کے لئے ایک (آگ) کا مکان بناو¿،اور اُس آگ میں اسے ڈال دو۔“(سورہ الصافات آیت نمبر ۷۹)نمرود نے جب یہ فیصلہ دیا کہ اِسے آگ میں جلادو تو پوری قوم نے چلا چلا کر کہا کہ اِسے آگ میں جلا دو،آگ میں جلادو۔اور پوری قوم اپنے بادشاہ کے ساتھ آپ علیہ السلام کو جلانے کے لئے تیار ہو گئی۔نمرود نے حکم دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیدخانے میں ڈال دو، اور پوری قوم آگ جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرو۔قوم کا ہر فرد آپ علیہ السلام کو جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرنے لگا۔پوری قوم میں جوش و خروش پھیلا ہوا تھا،اور سب لوگ چاہتے تھے کہ ایسی آگ بنائی جائے ،جس میں سے آپ علیہ السلام کے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہو۔
آگ کی شدت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جانے کے لئے ایک بہت ہی بڑے وسیع و عریض میدان میں لکڑیاں جمع کی جارہیں تھیں۔اور قوم کا ہر فرد کیا مرد کیا عورت کیا بچے سب ہی بڑھ چڑھ کر اِس میں حصہ لے رہے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے ہر فرد پر پنڈتوں اور پجاریوں کی پکڑ اتنی مضبوط تھی ۔اور اِن مذہبی رہنماؤں پر ابلیس شیطان کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ سب لوگ آپ علیہ السلام سے شدید نفرت کرتے تھے۔ابلیس شیطان نے پیڈتوں اور پجاریوں کواِس گمان میں مبتلا کر رکھ رتھا کہ اگر تم لوگ اور قوم اسلام قبول کر لوگے تو تمہاری بات نہیں مانی جائے گی۔اور تمہاری جو زبردست کمائی مندروں کے ذریعے ہو رہی ہے،وہ بند ہو جائے گی اور تم غریب ہو جاو¿ گے۔اور عوام کو ابلیس شیطان ،پنڈتوں اور پجاریوں نے اِس گمان میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اگر تم ابراہیم علیہ السلام کی بات مانو گے تو دنیا کا سب عیش و آرام تم سے چھوٹ جائے گا۔اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے معبود تمہیں کسی بڑی آفت یا مصیبت میں مبتلا کردیں۔ا،س لئے قوم کا ہر فرد آپ علیہ السلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔یہاں تک کہ اِس قوم کی ایک بوڑھی عورت نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اُس کا فلاں کام ہو جائے گا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے اتنی اتنی لکڑیاں دے گی۔قوم نے اتنی لکڑیاں جمع کیں کہ اُسے جمع کرنے میں کئی ہفتے لگ گئے۔اور اتنی بڑی آگ جلائی کہ اُس کی آنچ کئی سو فٹ دور سے محسوس ہوتی تھی۔آگ اتنی بڑی تھی اور اتنی دور تک پھیلی ہوئی تھی کہ اُس کے اوپر سے بہت اونچائی سے کوئی پرندہ گزرتا تھا تو آگ کی حِدت سے جل کر گر جاتا تھا۔
آگ میں پھینکے کی تیاری
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے ایک بہت بڑی آگ جلائی گئی۔جب آگ تیار ہو گئی تو نمرود کے حکم سے آپ علیہ السلا م کو قید خانے سے باہر لایا گیا۔آپ علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کے لئے ایک منجنیق نصب کی گئی،جس میں ڈال کر آپ علیہ السلام کو آگ میں پھینکنا تھا۔آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو منجنیق کے بارے میں بتا دیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ منجنیق کے بارے میں جانتے ہوں گے۔منجنیق دراصل ایک بہت بڑی غلیل ہوتی ہے،غلیل سے تو لگ بھگ سبھی لوگ واقف ہوں گے۔اِسی غلیل کی بڑی شکل منجنیق ہوتی ہے،اِس کی کنیاری اتنی بڑی ہوتی ہے کہ یہ زمین میں گاڑ دی جاتی ہے۔پہلے زمانے میں لوگ شہروں کے چاروں طرف بہت اونچی اور بہت موٹی دیواریں بناتے تھے۔اِس دیوار کو ”فصیل “یا ”شہر پناہ“کہا جاتا تھا۔جب وہ کسی شہر پر یا قلعہ پر حملہ کرتے تھے تو منجنیق کے ذریعے بہت بڑے بڑے پتھر پھینکتے تھے۔جس سے شہر کے اطراف بنائی ہوئی دیوار یا قلعے کی دیوار ٹوٹ جاتی تھی،اور وہ شہر میں یا قلعوں میں داخل ہوجایا کرتے تھے۔اُمید ہے کہ آپ منجنیق کے بارے میں سمجھ گئے ہوں گے،اب آگے بڑھتے ہیں۔منجنیق فٹ کرنے کے بعد آپ علیہ السلام کو لایا گیا،اور ہاتھ پاو¿ں باند کر منجنیق میں ڈال دیا گیا۔اور چار پانچ آدمی ملکر پھدے کو کھینچنے لگے،یہاں تک کہ انہوں نے پوری طرح پھدے کو کھینچ لیا۔اب بس پھدا چھوڑنے کی دیر تھی اور آپ علیہ السلام آگ میں جا کر گر جائیں گے۔
اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ (توکل)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں ڈال کر پھدا کھینچ لیا گیا۔اور آپ علیہ السلام کو ایسی حالت میں دیکھ کر کافروں کے علاوہ تمام مخلوق چیخ اُٹھی۔اور فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام آج جل گئے تو زمین پر کوئی بھی آپ کا نام لینے والا نہیں رہے گا۔“اِس پر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!اگر ابراہیم علیہ السلام تمہاری مدد لے تو اُس کی مدد کرو،اور اگر وہ میرے اوپر بھروسہ کرے تو میں اُس کی مدد کے لئے کافی ہوں۔“کتاب الزہد میں لکھا ہے۔جب لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کا ارادہ کیا تو تمام مخلوق حاضر ہوئی اور عرض کیا؛”یارب!تیرا خلیل علیہ السلام آگ میں ڈالا جارہا ہے،ہمیں اِس آگ کو بجھانے کی اجازت مرحمت فرما۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”وہ میرا خلیل ہے ،اور زمین پر اُس کے سوا میرا کوئی خلیل نہیں ہے۔میں اُس کا معبود ہوں ،اور میرے سوا اُس کا کوئی معبود نہیں ہے۔اگر وہ تم سے مدد طلب کرتا ہے تو ضرور اُس کی مدد کرو۔ورنہ اُسے میرے بھروسے پر چھوڑ دو۔“(طبری کتاب الزہد)حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیںاُس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ بجھانے ہر جانور آیا،ہر جانور تو آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا،اور گرگٹ آگ تیز کرنے کے لئے آیا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ گرگٹ آگ تیز کرنے کے لئے پھونک مار رہا تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کے لئے باندھا جارہا تھا تو جبرئیل علیہ السلام ،آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام!کیا آپ علیہ السلام کو مجھ سے کوئی ضرورت ہے؟“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تُجھ سے مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب فرشتوں نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ کسی مدد کی ضرورت ہوتو فرمایئے ،ہم مدد کریں گے۔آپ علیہ السلام نے جواب میں جو الفاظ ادا فرمائے،وہ اﷲ تعالیٰ کو اتنا زیادہ پسند آئے کہ اﷲ تعالیٰ نے اِن الفاظ کو قرآن پاک کی ایک آیت بنا دیا۔اور تمام مسلمان سینکڑوں برسوں سے اِس کی تلاوت کر رہے ہیں،اور قیامت تک تلاوت کی جاتی رہے گی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”حَسبُنَااﷲ ُ وَنِعمَ الوَکِیل“جس کا ترجمہ ہے کہ میں نے اﷲ پر بھروسہ کیا،اور اﷲ تعالیٰ میری مدد کے لئے کافی ہے۔
اے آگ !ٹھنڈی ہوجا،اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا
اﷲ تعالیٰ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اتنا زبردست بھروسہ تھا کہ انہوں نے کسی مخلوق کی مدد لینا پسند نہیں فرمایا۔آخر کار کافروں نے آپ علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینک دیا۔آپ علیہ السلام منجنیق سے نکل کر ہوا میں ہی تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اے آگ !ابراہیم علیہ السلام کے گرنے سے پہلے ٹھنڈی ہوجا،اور ابراہیم علیہ السلام کے لئے سلامتی بن جا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا ذاد بھائی حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ(اُن کے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ اے اﷲ تعالیٰ عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو دین کی سمجھ عطا فرما)اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔اگر اﷲ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے سلامتی بن جا تو آگ اتنی زیادہ ٹھنڈی ہو جاتی کہ آپ علیہ السلام اُس کی ٹھنڈک کی اذیت کو برداشت نہیں کر پاتے،اور ٹھنڈک ہی آپ علیہ السلام کو ختم کر دیتی۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ جب اﷲ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا تو وہ اتنی ٹھنڈی ہو گئی کہ آپ علیہ السلام کو تکلیف دینے لگی۔حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے ”سلٰماً“فرمایا تو تکلیف ختم ہو گئی۔ہاں صرف اتنا ہوا کہ وہ رسی جل گئی جس سے آپ علیہ السلا م کو باندھا گیا تھا۔اور جب آپ علیہ السلام آگ میں گرے تو وہ چاروں طرف سے جل رہی تھی۔لیکن آپ علیہ السلام جہاں گرے ،وہ جگہ پہلے سے گلزار بن چکی تھی،اور انتہائی ہرے بھرے سر سبز باغ میں تبدیل ہو چکی تھی۔اور آپ علیہ السلام باغیچے کی انتہائی دبیز اور نرم گھاس پر آکرآرام سے گرے۔جبرئیل علیہ السلام بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے تھے۔اور جب آپ علیہ السلام زمین پر گرے تو جبرئیل علیہ السلام نے پسینہ پونچھنے کی کوشش کی،لیکن وہاں پسینہ بھی نہیں تھا۔اور روایت میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کا پسینہ پونچھ رہے تھے۔
آگ سے صحیح سلامت باہر آئے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ آگ میں جبرئیل علیہ السلام تھے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی رہوتاکہ میرا خلیل(علیہ السلام) اکیلا پن محسوس نہ کرے۔چاروں طرف آگ جل رہی تھی،اور درمیان میں باغ تھا۔جس میں پھل اور پھول لگے ہوئے تھے،اور آپ علیہ السلام کے لئے کھانا تھا۔کافروں نے اتنی بڑی آگ لگائی تھی کہ اس آگ کو ختم ہونے میں کافی دن لگ گئے۔جب آگ دھیرے دھیرے بجھنے لگی اور لپٹیں کم ہوئیں،تو کافروں نے دیکھا کہ آگ کے درمیان میں باغ ہے۔اور اِس باغ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کسی سے بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں۔یہ منظر دیکھ کر تمام کافر حیران رہ گئے،اور مسلسل کئی روز تک یہ منظر دیکھتے رہے۔لیکن اِن بد بختوں پر ابلیس شیطان کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ اتنا بڑا اور صاف معجزہ دیکھنے کے باوجود یہ بد بخت ایمان نہیں لائے۔آگ کو مکمل طور سے بجھنے میں چالیس یا پچاس دن لگ گئے۔جب آگ مکمل طور سے بجھ گئی تو آپ علیہ السلام باہر آگئے۔
ہجرت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس بھیانک اور خوفناک آگ سے صحیح سلامت باہر آگئے۔نمرود، پنڈتوں اور پجاریوںاور عوام نے آپ علیہ السلام کو صحیح سلامت آگ سے باہر آتے دیکھاتو انہوں نے تجربے کے طور پر ایک آدمی کو آگ میں ڈالا۔ابھی بھی کہیں کہیں تھوڑی تھوڑی آگ جل رہی تھی،جیسے ہی اُس آدمی کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ زندہ جلنے لگا،اور کچھ دیر میں بھسم ہو گیا۔نمرود ،تمام پنڈت اور پجاری اور عوام حیرانی سے اِس منظر کو دیکھ رہے تھے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں دیکھ کر کھڑے ہوئے مسکرا رہے تھے۔اتنا صاف معجزہ سب نے دیکھا تو آپ علیہ السلام نے آخری کوشش کی اور پھر سے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔اور انہیں سمجھایا کہ اب بھی وقت ہے،اتنی صاف صاف نشانیاں دیکھ کر سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ ہی اکیلا اِس پوری کائنات کا خالق و مالک اور معبود ہے۔لیکن اِن بد بختوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا،اور کفر و شرک پر اڑے رہے۔تب اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہاب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور تم یہاں سے ہجرت کر جاو¿۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ؛”اُس نے(آزر نے)جواب دیا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تُو ہمارے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے؟سُن اگر تُو باز نہیں آیا تو میں تجھے پتھر مارمار کر مار ڈالوں گا۔جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ۔(آپ علیہ السلام ) نے فرمایا ؛اچھا تم پر سلام ہو۔“(سورہ مریم آیت نمبر 46 اور 47)آگ سے نکلنے کے بعدجب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو سب سے پہلے آزر نے مخالفت کی اور آپ علیہ السلام کو وطن چھوڑ دینے کا حکم دیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے!میں تو یہاں سے جارہا ہوںاور تم پر سلامتی ہو۔حضرت لوط علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا اسلام قبول کر چکے تھے۔اِس لئے آپ علیہ السلام نے اِن دونوں کو ساتھ لیا،اور ہجرت کر گئے۔ایک روایت میں ہے کہ یہاں سے اپنے چچا کے پاس گئے ،اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔چچا نے تو اسلام قبول نہیں کیا،لیکن اُن کے بیٹے حضرت لوط علیہ السلام نے اسلام قبول کر لیا تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں