حضرت ہود علیہ السلام 5
سلسلہ نمبر05
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی
تفسیر بصیرت القران میں ہے کہ وہ قوم جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔ ”عاد“ کہلاتی تھی۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے تھی ۔ ان کا اقتدار عماد سے لے کر حضرموت اوریمن تک وسیع تھا۔ ان کی زمینیں بڑی سر سبز و شاداب تھیں۔ وہ ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال تھے۔ جسمانی صحت اور طویل العمری میں بھی ان کا کوئی مقابل نہیں تھا۔ اسی لئے غرور و تکبّر اور کفر و شرک میں بھی بڑے شہ زور تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے مختلف طریقوں سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور فرمایا۔ دیکھو یہ اس اللہ کا کرم ہے جس نے تمہیں زندگی اور وجود بخشا ہے۔ اسی ذات کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر طرح کے کفر اور شرک سے بچتے رہو ۔ مگر وہ اپنی بد مستیوں میں ہر چیز بھول چکے تھے۔ اور اسی غرور و تکبر میں اور سر کشی میں اللہ کے عذاب کو دعوت دے بیٹھے اور کہنے لگے۔ ہم تو اپنے باپ داد ا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا رب اگر سچا ہے تو ہم پر اس عذاب کو لے آئیں۔ جس سے روزانہ ہمیں ڈراتے ہیں۔ جب کوئی قوم سر کشی کی اس منزل تک آجاتی ہے تو اللہ اپنے عذاب کو بھیج کر رہتا ہے۔ چنانچہ حضرت ہود علیہ السلام نے اعلان کر دیا کہ اب تمہارے اوپر وہ عذاب آنے والا ہے۔ جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو۔ تم اس کا انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھانتظار کر رہا ہوں۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی لیا۔ اور عاد نے بد بختنی کو دعوت دے دی تھی۔ اور ان پر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کی شروعات کر دی اور ان پر سے بارش کو روک لیا۔ اور بارش نہ ہونے سے وہ پانی کی کمی شکار ہونے لگے۔
قوم عاد قحط میں مبتلا
اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی شروعات اس طرح کی کہ قوم عاد کو قحط میں مبتلا کر دیا۔ ان پر بارش روک لی گئی۔ جب برسات نہیں ہوئی تو اس علاقے کے درخت، پیڑ پودے دھیرے دھیرے پھل ،میوے اور پھول کم دینے لگے اور سوکھنے لگے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوم عاد کو اشارہ تھا کہ اب بھی سنھبل جاﺅ۔ اور حضرت ہود علیہ السلام کی بات مان کر اسلام قبول کر لو۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو یہی سمجھاتے کہ اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی ہے۔ اب بھی اسلام قبول کر لو۔ اللہ تعالیٰ تم پر بارش برسا دے گا۔ قوم عاد بہت ہی دولت مند اور امیر تھے۔ اس قوم کا ہر شخص بہت زیادہ مالدار تھا۔ جب اللہ نے بارش روک لی تو قوم عاد تھوڑا بہت بہت اناج اور پھلوں اور میووں کی کمی کا شکار ہوئی۔ اور اس سال یہ سب سے کم پیدا ہوئے۔ لیکن اس علاقے میں ندیاں، نہریں اور چشمے بہت تھے۔ حالانکہ ان میں بھی پانی کی کمی ہو ئی لیکن یہ اتنے زیادہ تھے کہ اس سال انہیں پانی کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ اور پیداوار کی کمی کا انہیں احساس نہیں ہوا۔ لیکن دوسرے سال بھی اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی۔ اور دوسرے سال بارش نہ ہونے کی وجہ سے ندیوں ، نہروں اور چشموں کا پانی کافی حد تک کم ہو گیا۔ اور اناج ، پھلوں اور میووں بلکہ ہر چیز کی پیداوار اتنی زیادہ کم ہو گئی کہ قوم عاد کو اپنی ضروریات کے لئے اپنی جمع شدہ دولت نکال کر دوسری قوموں سے خریدنا پڑا۔ اس دوران حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔
حضرت ہود علیہ السلام کی آخری کوشش
حضرت ہود علیہ السلام کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کی شروعات کر دی تھی اور بارش روک لی تھی۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سال تو قوم عاد کو زیادہ فرق نہیں پڑا لیکن جب دوسرے سال بھی بارش نہیں ہوئی تو ان کی معیشت ٹوٹنے لگی۔ اور وہ شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔ حضرت ہود علیہ السلام اس دوران اپنے فرض کو ادا کر تے رہے۔ اور اپنی اسلام کی طرف مائل کرنے کی آخری کوشش کر رہے تھے ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ”(حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا)اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے رب ( پروردگار، پالنے والے) سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور پھر ( دل و جان سے ) اس کی طرف رجو ع کرو۔ ( یعنی اسلام قبول کرلو) تو وہ ( اللہ تعالیٰ) تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسا دے گا۔ اور تمہاری طاقت و قوت میں پہلے سے زیادہ اضافہ کر دے گا۔ اور تم ( شرک و کفر کا ) جرم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے منہ نہ موڑو۔ ( سورہ ہود آیت نمبر52) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتیں بھی یاد دلائیں اور آئندہ نعمتیں ملتے رہنے کا عملی طریقہ بھی بتایا۔ اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو یعنی ایمان لاﺅ تمہارے گذشتہ سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اور اس کی بارگاہ میں توبہ بھی کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر بارش بھیج دے گا۔ جو ضرورت کے وقت خوب برستی رہے گی۔ اور تمہاری جو موجودہ قوت و طاقت و زور آوری ہے اللہ تعالیٰ اس کو اور بڑھا دے گا۔ صحاب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ تین سال تک بارش نہیں ہوئی تھی اور عورتیں بانجھ ہو گئی تھیں۔ اولاد پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مال و اولاد نہ ہونے سے قوت میں کمی ہو رہی تھی۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ ایمان لاﺅ اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔ مال بھی ملے گا اور اولاد بھی ہو گی اور ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوت میں اضافہ ہو گا۔ ( تفسیر انوار البیان مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ تم استغفار میں لگ جاﺅ، گذشتہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو۔ آئندہ کے لئے گناہوں سے رک جاﺅ۔ یہ دونون باتیں جس میں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کی روزی آسان کر تا ہے۔ سنو ایسا کرنے سے تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی۔ اور تمہاری طاقت و قوت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں ہے کہ (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم تم اپنے گناہ ( کفر و شرک وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراﺅ۔ ( یعنی ایمان لاﺅ اور ) پھر ( ایمان لا کر ) اس کی طرف ( عبادت سے) متوجہ رہو۔ (یعنی عمل صالح کرو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے) وہ تم پر خوب بارش برسادے گا۔ در منشو رمیں ہے کہ قوم عاد پر تین سال متواتر قحط پڑا تھا اور ویسے بارش خود بھی مطلوب ہے۔ اور ( ایمان وعمل کی برکت سے ) تم کو قوت دے کر تمہاری ( موجودہ ) قوت میں ترقی کر دے گا۔ ( پس ایمان لے آﺅ) اور مجرم رہ کر ( ایمان سے)اعراض مت کرو۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع)
قوم عاد کی بد بختی
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر باش روک کر انہیں قحط میں مبتلا کر دیا تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں آخری مرتبہ سمجھایا کہ اب بھی موقع ہے اسلام قبول کر لو۔ لیکن بد بخت قوم عاد اسلام قبول کرنے کی بجائے اپنے بتوں کی اور زیادہ پوجا کرنے لگی۔ اور ان بتوں سے بار ش مانگنے لگی۔ اس طرح ایک سال گزر گیا۔ دوسرے سال دھیرے دھیرے چشموں کا پانی کم ہونے لگا۔ اور قوم عاد کھانے کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کا شکار ہونے لگی۔ حضرت ہود علیہ السلام نے پھر سمجھایالیکن وہ لوگ نہیں مانے۔ اس طرح دوسرا سال بھی گزر گیا۔ جب تیسرا سال شروع ہوا تو اس سال میں کھانا اور پانی لگ بھگ ختم ہونے لگا۔ لیکن یہ بد بخت قوم پھر بھی بُت پرستی میں مبتلا رہی۔ جب تین سال تک قحط میں مبتلا رہنے کے بعد بھی حضرت ہود علیہ السلام کی قوم بت پرستی میں مبتلا رہی تو اللہ تعالیٰ نے وہ عذاب بھیجا۔ جس سے یہ سب لوگ ختم ہو گئے۔ اس عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ہم قرآن پاک کی اس سلسلے میں کچھ آیات پیش کرتے ہیں ۔ ہم یہاں صرف اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔ سورہ حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” پس قوم عاد نے سر کشی اختیار کی زمین میں ناحق ۔ اور کہنے لگے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اور وہ ہمیشہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔ پس ہم نے بھیج دی ان پر سخت ٹھنڈی ہوا۔ شامت کے دنوںمیں تا کہ ہم انہیںچکھائیں ذلت آمیز عذاب کا مزہ اس دنیاوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت زیادہ رسوا کرنے والا ہوگا۔ اور ان کی ہرگز مدد نہیں کی جائے گی۔ ‘ ‘
ہولناک عذاب
اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف میں فرمایا۔ ” وہ قوم ( قوم عاد) بولے۔ (اے ہود علیہ السلام )کیا تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے خداﺅں ( بتوں) سے بیزار کر دو۔ تو لے آﺅ وہ عذاب جس کی تم دھمکیاں دیتے رہے ہو۔ اگر تم سچے ہو ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ عذاب کے نازل ہونے کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پا س ہے۔ اور میں تو تمہیں وہ پیغام سنا رہا ہوں جو دے کر بھیجا گیا ہوں۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔ پس جب انہوں نے عذاب کو بادل کی صورت میں دیکھا جو ان کی وادیوں کی طرف آرہا تھا ۔ تو بولے ۔یہ بادل ہے۔ ہم پر برسنے والا۔ ( نہیں یہ کم عقل یہ نہیں جانتے کہ ) بلکہ یہ عذاب ہے۔ جس کے لئے تم جلد ی مچا رہے تھے۔ یہ ( تیز و تند) ہوا ( آندھی) ہے۔ اس میں درد ناک عذاب ہے۔ تمہیں تہس نہس کر کے رکھ دے گی۔ اپنے رب کے حکم سے جب اُن پر صبح ہوئی تو سوائے ویران ٹوٹے پھوٹے کھنڈر اور ریزہ ریزہ مکانوں کے اور کچھ نہیں دکھائی دیا۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرموں کو۔اللہ تعالیٰ نے سورہ زاریات میں فرمایا۔ ” اور عاد( کے قصہ) میں نشانِ عبرت ہے۔ ہم نے اُن پر آندھی بھیجی۔ جو خیر و برکت سے خالی تھی۔ وہ کسی چیز کو نہیں چھوڑتی تھی۔ جس پر سے گزرتی تھی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی تھی۔ “ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ”عاد نے بھی جھٹلایا تھا ۔ پھر کیسا ( خوفناک) تھا ہمارا عذاب اور ڈر اﺅنا۔ ہم نے اُن پر تیز و تند آندھی بھیجی ایک دائمی نحوست کے دن وہ اس طرح لوگوں کو (بلکہ ہر چیز کو) اکھاڑ پھینک دیتی تھی۔ جیسے وہ مڈھ ہیں اکھڑی ہوئی کھجور کے۔ “ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں بھی فرمایا۔ ”رہے عاد تو انہیں برباد کر دیا گیا۔ آندھی سے جو سخت سرد اور بے حد تیز و تند تھی۔ اللہ نے اسے اُن پر مسلط کر دیا تھا۔ اور (مسلسل) سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رہی۔ اور وہ جڑوں سے اکھاڑ دینے والی تھی۔ تو تم اگر دیکھتے قوم عاد کو ( عذاب کے بعد) تو ایسا لگتا جیسے وہ کھوکھلی کھجور کے مڈھ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مختصرا قوم عاد کے اوپر بھیجے گئے عذاب کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم انشاءاللہ یہاں ان آیات کی تفسیر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ جس سے آپ کو عذاب کی ہولناکی، سختی، خوفناکی، تباہی اور تفصیل سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
قوم عاد نے مکہ مکرمہ وفد بھیجا
اللہ تعالیٰ نے جب قوم عاد پر عذاب کی شروعات کی۔ تو جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد تین برسوں تک قحط کا شکار رہی تو انہون نے اپنا ایک وفد حرم شریف ( مکہ مکرمہ ) بھیجا کہ وہ وہاں کے بڑے لوگوں سے درخواست کرے کہ وہ قوم عاد کے لئے دعا کریں۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ جب قوم عاد کے لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے انکار میں حد سے گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سال تک قحط میں مبتلا کئے رکھا۔ قحط سالی نے ان کا جینا مشکل کر دیا۔ اس زمانے میں جب لوگوں کو کوئی مشکل پیش آتی تو اللہ تعالیٰ سے اس مشکل سے نجات کے لئے درخواست کر تے تھے۔ وہ کعبتہ اللہ کے پاس حاضر ہو تے تھے۔ اور اس کے وسیلے سے آسانی کا سوال کر تے تھے۔ یہ اس دور کے لوگوں کا عام طریقہ تھا۔ عمالقہ قبیلے کے لوگ حرم پاک ( مکہ مکرمہ) کے نزدیک قیام پذیر تھے۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذبن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد تھے۔ عملیق کے نام پر ہی اس قبیلے کا نام عمالقہ تھا۔ ان دنوں جو شخص اس قبیلے کا سردار تھا اس کا نام معاویہ بن بکر تھا۔ اس سردار کی والدہ کا تعلق قوم عاد سے تھا۔ اس بوڑھی عورت کا نام جلہذہ تھا جو قوم عاد کے ایک شخص جس کا نام خیری تھا کی بیٹی تھی۔ قوم عاد نے تقریباً ستر70آدمیوں پر مشتمل ایک وفد حرم پاک کو بھیجا ۔ تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے وسیلہ سے بارش کی دعا کریں۔ ( قصص الانبیا ءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) تاریخ طبری میں محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب قوم عاد پر قحط مسلط کر دیا گیا تو انہوں نے پانچ لوگوں کو منتخب کر کے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ لوگ مکہ مکرمہ بھیج دیئے ۔ تا کہ وہ ان کے لئے بارش کی دعا کریں۔ کُل ستر 70 لوگوں کا قافلہ پانچ منتخب افراد کی معیت میں مکہ مکرمہ کیجانب روانہ ہو ا۔ جب یہ چاروں افراد یعنی قیل بن عنز ، مرشد بن سعد، جلہمہ بن خیری( معاوی بن بکر کا خالو) لقیم بن ہزل مکہ مکرمہ میں معاوہ بن بکر کے پاس پہنچے تو اس نے ان کا اور قافلے والوں کا بہت اکرام کیا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)
قوم عاد کا وفد عیش و عشرت میں مبتلا ہو گیا
قوم عاد کا وفد جب قبیلہ عمالقہ کے سردار معاویہ بن بکر کے پاس پہنچا تو اس نے خوشی خوشی ان کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی۔ قبیلہ عمالقہ پر بارش برس رہی تھی۔ اسی لئے وہ قحط میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے وہاں ہر چیز افراط تھی۔ معاویہ بن بکر کی بہن ہزیمہ بنت بکر کیشادی لقیم بن ہزل سے ہوئی تھی۔ اس طرح وفد کے پانچ بڑے لوگوں میں سے ایک معاویہ بن بکر کا بھائی تھا۔ اور ایک بہنوئی تھا۔ اور چونکہ قوم عاد کی ایک خاتون قبیلہ عمالقہ میں بیاہی گئی تھی۔ اسی لئے عمالقہ والے قوم عاد کے لوگوں کو ماموںکہتے تھے۔ اسی لئے سردار نے ان کا خوب اکرام کیا۔ چونکہ وفد کے لوگ قحط سالی کا شکار تھے۔ اسی لئے جب یہاں ہر چیز کی فراوانی دیکھی تو وہ اپنے آنے کا مقصد بھول گئے۔ اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو گئے۔ یہ لوگ معاویہ بن بکر کے پاس ایک مہینے تک شراب نوشی کرتے رہے اور معاویہ کی دو خوب صورت باندیوں سے گانا سنتے رہے۔ بارش کے لئے اور جس مصیبت میں وہ گرفتار تھے اس کو دفع کرنے کے لئے ایک آدمی کو دعا کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اور یہ لوگ شراب نوشی اور عیاشی میں مست تھے۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری جلد اول)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں