پیر، 10 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 3 Story of Prophet Hood


 

  حضرت ہود علیہ السلام 3

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

کافر سرداروں نے قوم کو بہکایا

حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے تو عوام ان سے متاثر ہو نے لگتی تھی تو قوم کے مذہبی علماء( پنڈت) اور بتوں کے مجاور ( یعنی مندروں کے پجاری) انہیں بہکاتے ۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اگر قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہہ کر اسلام قبول کر لیا تو ان کا دھندہ ، کاروبار بالکل بند ہو جائے گا۔ لوگ اسلام قبول کر کے بتوں کو توڑ دیں گے اور مندروں کو ختم کر دیا جائے گا ۔ اور اسلام میں مساوات یعنی برابری ہے تو ہم لوگ قوم کے بڑے نہیں رہ پائیں گے۔ اور ہمیں بھی عام مسلمانوں کی طرح رہنا پڑے گا۔ یہی بات انہوں نے حکمرانوں کو بھی سمجھائی کہ تمہاری حکمرانی چھین جائے گی۔ اسی لئے قوم کے حکمراں اور سردار آپ علیہ السلام کے بہت سخت مخالفت تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ یہ دنیا کی زندگی ہمیشہ کی زندگی نہیں ہے بلکہ ہمیں مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں پھر سے زندہ کرے گا۔ اور ہم نے اس دنیا میں جو کچھ کیا ہے اس کا حساب دینا ہوگا۔ تو قوم کے سرداروںنے بہکانا شروع کر دیا ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے بعد ( قوم نوح کےبعد) ہم نے اور بھی اُمت پیدا کی۔ پھر ان میں خود ان میں سے ہی رسول بھیجا۔ ( رسول نے کہا) کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ تم ( اللہ کے عذاب سے )کیوں نہیں ڈرتے ؟اور (اُن ) سرداران ِ قوم نے جواب دیا جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے۔ اور ہم نے انہیں دنیاوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا۔ ( انہوں نے قوم سے کہا) کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے۔ تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے۔ اور تمہارے پینے کا پانی بھی پیتاہے۔ اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری ( اطاعت فرماں برداری ) کر لی تو بے شک تم سخت خسارے میںپڑ جاﺅ گے۔ کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی رہ جاﺅ گے تو تم پھر زندہ کئے جاﺅ گے۔ نہیں نہیں ۔ دو راور بہت دور ہے وہ جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے۔ یہ تو صرف دنیا کی ہی زندگانی ہے۔ اور دنیا میں ہم جیتے ہیں اورمرتے رہتے ہیں۔ اور ایسا ہے ہی نہیں کہ ہم پھر سے اٹھا ئے جائیں گے۔ یہ تو بس ایسا شخص ہے کہ جس نے ( نعوذ باللہ ) اللہ پر جھوٹ ( بہتان ) باند ھ لیا ہے۔ ہم تو اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (سورہ المومنون آیت نمبر31سے 38تک) اس طرح قوم کے سرداروں یعنی مذہبی رہنما یعنی پنڈتوں پجاریوں اور حکمرانوں نے عوام کو بہکانا شروع کر دیا۔ اور دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ عوام جو آپ علیہ السلام کی دعوت سے متاثر ہور رہی تھی وہ کفر کی طرف پلٹ گئی۔ ہاں کچھ خوش قسمت تھے جنہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا۔ لیکن یہ بہت کم تھے۔

ہم سے طاقتور کون ہے؟

چوں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بہت ہی طاقتور بنایا تھا۔ اس لئے وہ اپنے علاوہ ہر کسی کو حقیر سمجھتے تھے۔ اور دوسری قوموں کے ساتھ بہت حقارت آمیز اور ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ اور اپنے آپ کو دوسری قوم کا سربراہ یا حاکم سمجھتے تھے۔ اس بارے میں بھی حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں سمجھایا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور جب تم کسی کوپکڑتے ہو تو بڑے سخت طریقے سے اور بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔ دیکھو اللہ سے ڈرو۔ اور میرا کہنا مانو۔ اللہ پر ایمان لے آﺅ۔ اسلام قبول کر لو۔ بتوں کی پوجا سے توبہ کر لو۔ تا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ اور اپنی نعمتیں تمہیں عطا فرمائے۔ اور اگر تم بتوں کی پوجا سے باز نہیں آﺅ گے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ تمام نعمتیں چھین نہ لے۔ اور تم ہاتھ ملتے رہ جاﺅ ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو ۔ اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔ اس سے ڈرو، جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو۔ اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اولاد سے۔ باغات سے اور چشموں سے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ تم پر بڑے دن کا عذاب نہ آجائے۔ انہوں نے ( قوم عاد نے ) کہا ۔ تم ہمیں نصیحت کر و یا نہ کرو دونوں ہمارے لئے برابرہے۔ یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے۔ اور ہمیں ہر گز عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر130سے 138) حضرت ہود علیہ السلام نے اتنی محبت اور حکمت سے اپنی قوم کو سمجھایا ۔لیکن قوم اتنی زیادہ بد بخت اور سر کش ہو چکی تھی کہ انہوں نے کہا ( نعوذ باللہ ) یہ پرانی روایات اور من گھڑت کہانیاں ہیں۔ اور تم ہمیں کچھ بھی کہو گے تو ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ اور تمہاری کوئی بھی بات کا ہم پر اثر نہیں ہوگا۔ اور ہمارے حساب سے تو ہم پر عذاب وغیرہ کچھ نہیں آئے گا۔ کیوں کہ ہم اپنے معبودوں ( بتوں اور تصویروں) کی اتنی دل لگا کر پوجا کرتے ہیں کہ وہ ہم سے بہت خوش رہتے ہیں۔ اور ہم پر بہت مہربان رہتے ہیں۔ اور اگر تمہارا اللہ ہم پر کوئی عذاب بھیجے گا بھی تو ہمارے معبود ہمیں اس عذاب سے بچا لیں گے۔ اور ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

قوم عاد کا اپنے معبودوں ( بُتوں ) پر عقیدہ 

حضرت ہود علیہ السلام کے سمجھانے پر آپ علیہ السلام کی قوم بات کو سمجھنے کے بجائے ان کو ہی غلط ٹھہرانے لگی۔ اصل میں ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ تمام نعمتیں ہمارے بت ہمیں دیتے ہیں۔ جن کی ہم پوجا کرتے ہیں۔ اور ہمارے بتوں نے ہمیں طاقت ور بنایا ہے۔ اس بات نے ان کے اندر بہت گھمنڈ بھر دیا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا۔ اے ہود ( علیہ السلام)ہم اس زمین پر سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اور کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور ہم اپنے خداﺅں (بتوں) کو نہیں چھوڑنےوالے ہیں کیوں کہ انھوں نے ہی ہمیں طاقتور بنایا ہے۔ اور ہمیں تو لگتا ہے کہ ہمارے خداﺅں نے تمہارے دماغ میں خلل ڈال کر (نعوذ باللہ) پاگل بنا دیا ہے۔ اور تم بھی تو ہماری طرح انسان ہی ہو۔ اور ہمارے خداﺅں (بتوں) نے تمہارے دماغ میں خلل اسی لئے ڈال دیا ہے۔ کہ تم انہیں نہیں مانتے اور مخالفت کرتے ہو۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” عاد نے تو بے وجہ زمین میں سر کشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور (طاقتور) کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے ( بہت ہی) زیادہ زور آور ہے۔ وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔ ( سورہ حم السجدہ آیت نمبر 15) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے (قوم عاد نے ) کہا ۔ اے ہود( علیہ السلام ) تم تو ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں لائے۔ اور ہم صرف تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں ( بتوں ) کو نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود ( بت) کے برے جھپٹے میں آگئے ہو اور اس نے تمہیں دماغی خلل میں مبتلا کر دیا ہے۔ ( سورہ ہود آیت نمبر53اور 54) قصص الانبیاءمیں ہے کہ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ا ٓپ ( علیہ السلام) اپنی صداقت پر کوئی معجزہ نہیں دکھا رہے ہیں۔ اور ہم صرف یہ کہنے سے کہ میں اللہ کا رسول ہون ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ کوئی دلیل کو خرقِ عاد ت برہان چاہیئے۔ ہم آپ ( علیہ السلام )کے صرف کہنے سے اپنے خداﺅں ( بتوں) کو چھوڑ آپ ( علیہ السلام ) کی بات کیسے مان لیں۔ اس لئے ہمیں تو یقین ہونے لگا ہے کہ آپ علیہ السلام کی عقل ٹھکانے پر نہیں رہی۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ آپ (علیہ السلام )نے ہمارے خداﺅں کی خدائی کو چیلنج کیا ہے۔ اور ان کے معبود ہونے کا انکار کیا ہے۔ اسی لئے وہ آپ علیہ السلام سے ناراض ہو گئے ہیں۔ اور اب آپ ( علیہ السلام) کو جنون میں مبتلا کر دیا ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام ) کو ہمارے خداﺅں کی مذمت پر صرف یہ چیز ابھارتی ہے کہ ان کی جانب سے آپ ( علیہ السلام ) کو کوئی تکلیف اور نقصان پہنچا ہے۔ (تفسیر در المنشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی ) 

ہمارے معبودوں (بتوں )کی مار پڑی ہے :

تفسیر انوار البیان میں ہے کہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ یہ آپ ( علیہ السلام ) بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں تو ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود نے آپ ( علیہ السلام ) پر کچھ کر دیا ہے۔ یعنی آسیب وغیرہ پہنچا کر دیوانہ بنا دیا ہے۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر3مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ آپ (علیہ السلام) جس چیز ( اسلام) کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل اور حجت تو ہمارے پاس لائے نہیں ہیں۔ اور ہم صرف آپ علیہ السلام کے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ اور نہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے اور نہ ہی ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ ہمارا تو خیال یہ ہے کہ چونکہ آپ علیہ السلام ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے روک رہے ہیں اور ان پر عیب لگا رہے ہیں اسی لئے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی آپ ( علیہ السلام ) پر مار پڑی ہے۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی عقل چلی گئی ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ مگر مگر قوم نے آپ علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اور کہنے لگے کہ آپ ( علیہ السلام) کے پاس ایسی کوئی بات نہیں ہے جو ہمارے لئے دلیل ہو۔ اس لئے ہم تو اپنے معبودوں کی پوجا نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی تم پر مار پڑی ہے۔ جن کی شان میں تم نے گستاخیاں اور بے ادبیاں کی ہیں۔ اسی لئے ایسے خیالات آنے لگے ہیں اور آپ ( علیہ السلام) ہذیان بکنے لگے ہیں۔ ( تفسیر جلا لین جلد نمبر3امام جلا الدین سیوطی ، امام جلا ل الدین محلی)

ہم اپنے معبودوں (بتوں) کی پوجا نہیں کرے گے :

تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے ان کی دعوت کا جواب وہی اپنی جاہلانہ روش سے دیا کہ آپ علیہ السلام نے ہمیں کوئی معجزہ تو دکھایا نہیں صرف زبانی بات کی ہے۔ اس لئے صرف آپ علیہ السلام کے کہنے سے ہم اپنے معبودوں ( بتوں) کی پوجا کو نہیں چھوڑ یں گے۔ اور نہ ہی ایمان لائیں گے۔ بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ ہمارے معبودوں بتوں کو برا کہنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام کسی دماغی خرابی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اسی لئے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا۔ اے ہود ( علیہ السلام) آپ ہمارے پاس اپنے دعوے ( اسلام) کی صحت پر کوئی حجت پیش نہیں کر سکے ۔ ان کا یہ کہنا صرف اور صرف مفاد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھا۔ ورنہ حضرت ہود علیہ السلام تو ان کو کئی روشن معجزات دکھا چکے تھے۔ ہم آپ علیہ السلام کے کہنے پر اپنے خداﺅں کی پوجا نہیں چھوڑنے والے ہیں اور نہ ہی آپ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے اور آپ علیہ السلام کو ہمارے کسی خدا نے جنون اورپاگل پن میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام ایسی ( نعوذ باللہ) خرافات بیان کر رہے ہیں۔ اور ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ آپ علیہ السلام ہمارے معبودوں ُبتوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اس لئے بہت جلد کوئی خدا ااپ علیہ السلام کو ضرور ہلاک کر دے گا یا نقصان پہنچائے گا۔ 

ہمارے کسی بت نے سزا دی ہے :

تفسیر نعیمی میں ہے کہااے ہود ( علیہ السلام) ہم آپ پر اس لئے ایمان نہیں لائیں گے کہ ہم جان گئے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو جنون ہو گیا ہے۔ اور اس پاگل پن کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ آپ علیہ السلام کو ہمارے کسی بت نے غیبی مار ماری ہے۔ یعنی آپ علیہ السلام نے ہمارے کسی بت کو برا کہا تو اس نے یہ سزا دی کہ آپ علیہ السلام بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ یا پھر یہ کہ آپ علیہ السلام ہمارے سارے بُتوں کو برا کہتے رہے۔ یہاں سارے بت تو خاموش رہے مگر شاید کسی بت سے برداشت نہیں ہو سکا تو اس نے اس طرح سزا دی کہ آپ علیہ السلام دماغی خلل میں مبتلا ہو گئے۔ اور جن علاقوں میں آپ علیہ السلام بڑے امن سے رہتے تھے۔ وہاں سب دشمن بن گئے ۔ اور آپ علیہ السلا م اس طرح ہذیان بکنے لگے۔ تو ہم ااپ علیہ السلام کے ہذیان بکنے کی بنا پراپنا آبائی (باپ دادا کا ) دین کس طرح چھوڑ دیں۔ (تفسیر نعیمی، پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر بصیرت القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نہایت خلوص ، محبت اور متانت و سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو ایک ایک گھر تک پہنچا رہے تھے۔ مگر بد قسمت قوم عاد آپ علیہ السلام کے پیغام توحید کو نہیں سمجھ سکی۔ اور کہنے لگی۔ ہم صرف آپ علیہ السلام کے کہنے سے ان معبودوں کو تو نہیں چھوڑ سکتے جو ہمارا سہارا ہیں۔ جب کہ آپ علیہ السلام ایسا کوئی معجزہ بھی نہیں لائے جس سے ہم سمجھ لیں کہ اور یقین کر لیں کہ آپ علیہ السلام سچ کہہ رہے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ محسوس کر رہے ہیں کہ آپ علیہ السلام جو رات دن اٹھتے بیٹھتے ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں تو ہمارا کوئی معبود آپ علیہ السلام سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے آپ علیہ السلام کے دماغ پر ایسا برا اثر ڈالا ہے کہ آپ علیہ السلام بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔(تفسیر بصیرت القران جلد نمبر 2مولانا محمد آصف قاسمی)

حضرت ہود علیہ السلام کا اللہ پر توکّل

حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد نے آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی۔ اس پر حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ اگرتم ایسا سمجھتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں ان بتوں سے بے زار ہوں جن کو تم ( نعوذ باللہ) معبود مانتے ہو۔ اور جنہیں تم( نعوذ باللہ) اللہ کا شریک بناتے ہو۔ اب تم سب ( یعنی تم لوگ اور تمہارے بت) مل کر میرے خلاف سازش کرو۔ اور سب مل کر میرے خلاف کاروائی کرو ۔ اور مجھے مہلت نہ دو بے شک میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ جو میرا بھی رب ہے اور تمہار ا بھی رب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی پیشانی کے بالوں کو پکڑا ہوا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ چلانے والا ہے۔ پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں نے پہنچا دیا ہے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے دیکر مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو کھلا چیلنج دے دیا۔ اس کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اس نے ( حضرت ہود علیہ السلام نے) جواب دیا کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا ( تمہارے ) ان بتوں سے بیزار ہوں۔ جنہیں تم ( اللہ کا ) شریک بناتے ہو۔ اچھا تم سب مل کر میرے حق میں بدی ( سازش ) کر لو اورمجھے بالکل بھی مہلت نہیں دو۔ میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے۔ جو میرا اور تمہارا سب کا پرودگار ہے۔ ( سورہ ہود آیت نمبر54سے 56تک) 

میں تمھارے معبودوں (بتوں) سے بےزار ہوں :

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ سن کر اللہ کے رسول ( حضرت ہود علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اگر یہی بات ہے تو سنو، میں تمہیں اور اللہ تعالیٰ کو گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبادت ہو رہی ہے سب سے بیزار ہوں اور بری ہوں۔ اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی ملا لو۔ اوراپنے ان سب جھوتے معبودوں کو بھی ملا لو۔ اور تم سے جو ہوکسے مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو اور مجھے کوئی مہلت نہیں لینے دو۔ اور مجھ پر ترس بھی مت کھاﺅ۔ اور تم مجھے جتنا نقصان پہنچا سکتے ہو اس میں کمی نہیں کرو۔ میرا توکل رب العالمین کی ذات پر ہے ۔ وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ۔ اس کے حکم کے بغیر مےرا کوئی بھی کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا ہے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر 12عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر جلالین میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کہتے ہو تمہارے معبودوں کی مار مجھ پر پڑ ی ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ مجھے تمہارے معبودوں سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ اب تم اور تمہارے معبود جو کچھ میرے خلاف کر سکتے ہو کر ڈالو۔ تمہارا بھروسہ ان جھوٹے معبودوں پر ہے۔ اور میر ا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہے جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ ( تفسیر جلا لین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی، امام جلال الدین محلی)تفسیر معارف القران میں ہے کہ اس کے جواب میں حضرت ہود علیہ السلام نے پیغمبر انہ جرا¿ت کے ساتھ فرمایا۔ کہ اگر تم میری بات نہیں مانتے ہو تو سن لو کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارے سب معبودوں سے بیزار ہوں ۔اب تم اور تمہارے بت سب مل کر میرے خلاف جو کچھ داﺅ گھات کر سکتے ہو کر لو۔ اور اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہیں دو۔ اور فرمایا کہ اتنی بڑی بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کر لیا ہے۔ جو میر ابھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ جتنے بھی زمین پر جاندار ہیں سب کی پیشانی کو اس نے پکڑ رکھا ہے۔ اور کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کو ذرّہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع ) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں