جمعرات، 6 اپریل، 2023

حضرت نوح علیہ السلام 5 Story of Nooh AS


 حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 5

حضرت نوح علیہ السلام کی کافرہ بیوی اورکافر بیٹا

حضرت نوح علیہ السلام نے کئی نکاح کئے تھے۔ اور ان کی کئی بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی تو عمذرہ بنت براکیل تھی۔ اوریہی سام ، حام، یافث کی والدہ ہیں۔ دوسری بیوی کا نام واعلہ یا والعہ تھا۔ اور کنعان اس کے بیٹے کا نام تھا۔ یہ اور اس کا بیٹا دونوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) یہ دونوں ماں بیٹے اپنی قوم کے سرداروں یعنی پنڈتوں ، پجاریوں ،سادھوﺅں اور حکمرانوں سے ملے ہوئے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی مخالفت میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ اسی وجہ سے قوم کے کافرسرداروں نے ان دونوں ماں بیٹے پر اپنی خصوصی مہربانیاں کی ہوئی تھیں ۔ جس کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی بہت عیش و آرام میں گزر رہی تھی۔ ان ماں بیٹوں کے پاس شاندار گھر اور بے شمار مال و دولت اور نوکر چاکر تھے۔ جب کہ حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی وہ بیویاں اور بیٹے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا وہ سب ٹوٹے پھوٹے جھونپڑوںمیں فاقوں کے عالم میں زندگی گزار رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کی کافرہ بیوی اور بیٹے کو جب بھی آپ علیہ السلام سمجھاتے تھے تو الٹا و ہ دونوں آپ علیہ السلام کو سمجھاتے کہ یہ پاگل پن چھوڑیں اور قوم کے کافر سرداروں کی بات مان کر اسلام کی دعوت بند کر دیں۔ اور عیش و آرام کی زندگی گزاریں جیسی ہم گزار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ کافروں کے معاملہ میں نوح ( علیہ السلام ) اور لوط( علیہ السلام) کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجہ تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی۔ اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکی۔ اور دونوں کو کہہ دیا گیا کہ آگ میں جانے والوں کے ساتھ چلی جاﺅ۔ ( سورہ التحریم آیت نمبر 10) مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یہ خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی تھیں۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ انہوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ساتھ نہیں دیا ۔ بلکہ ان کے مقابلے میں دین کے دشمنوں کا ساتھ دیتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ ان دونوں عورتوں کی خیانت در اصل دین کے معاملے میں تھی۔ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا دین قبول نہیں کیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے سرداروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے شوہر کے ہاں آنے والے لوگوں کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری، تفہیم القران سورہ التحریم مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی) امام عبدا لرزاق ، امام زیابی، امام سعید بن منصور، امام ابن ابی الدنیا، امام محمد بن جریر طبری، امام ابن منذر، امام ابن ابی حاتم، اور امام حاکم نے کئی طرق سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ کہ ان دونوں نے زنا نہیں کیاتھا۔ البتہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں کو کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ( دیوانہ پاگل) ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ مہمان پر جرا¿ت کر جاتی تھی۔ اور مخالفت کرتی تھی۔ پس یہی ان دونوں کی خیانت تھی۔ (تفسری در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

اللہ تعالیٰ کی مدد سے کشتی کی تیاری

حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر کشتی بنانے کی تیاری شروع کر دی۔ اور اس کام میں جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتے آپ علیہ السلام کی مدد کرنے لگے۔ کافروں نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھا تو ہنسنے لگے۔ اور ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اور کہنے لگے، پہلے تو ہمیں اس کے پاگل ( نعوذ باللہ) پر تھوڑا شک تھا اب یقین ہو گیا ہے۔ کیوں کہ نہ کہیں پانی کا نام و نشان ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا لگتا ہے کہ اتنا پانی آئے گا کہ زمین پر کشتی کی ضرورت محسوس ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑے صبر سے ان کافروں کی باتیں سنتے اور چپ چاپ کشتی بنانے میں مصروف رہتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ اب تمہاری قوم میں سے کوئی اسلام قبول نہیں کرے گا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینا بند کر دی۔ اور کشتی بنانے کی تیاری میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” کشتی بناﺅ ہماری مدد سے اور ہمارے حکم سے “ ( سورہ ہود آیت نمبر37) اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا۔ ترجمہ ” تو ہم نے ان کی ( نوح علیہ السلام کی ) طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بناﺅ۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر27) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ جب اتنے دراز زمانے تک کافروں کو دعوت اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور عذاب کا وقت قریب آگیا تو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو حضرت نوح علیہ السلام کو تبلیغ سے روک دیا۔ اور کافروں کی دی ہوئی تکلیفوں پر تسلی دی۔ اس کے بعد فرمایا۔ کہ ایک خاص قسم کی کشتی بناﺅ۔ اور اول سے آخر تک کشتی اچھی، صحیح ، خوب صورت اور مکمل فائدے مند ہو۔ جب کوئی لائق ترین کاریگر اور استاد فن کوئی چیز بنانا چاہتا ہو تو چار چیزوں پر غور کرتا ہے۔ (۱) سامان بہترین ہو۔ (۲) نقشہ بہترین اور لا جواب نمونہ ہو۔ ( ۳) فن کاری بہت زیادہ ہو۔ ( ۴) ہر ضرورت پوری ہو۔ یعنی اے نوح علیہ السلام ، لکڑی بہت شاندار اور پختہ و، کشتی کا نمونہ اور نقشہ بہت اچھا ہو۔ اپنی پوری فن کاری صرف کر دینا۔ تا کہ کشتی صرف کشتی نہ رہے۔ بلکہ نبی کا معجزہ بن جائے۔ کیوں کہ اس پر ہر قسم کی مخلوق کو سوار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں آپ علیہ السلام نے کشتی تیارکی۔ مطلب یہ کہ ہمارے معائنے میں اے نوح( علیہ السلام ) تم بناتے جاﺅ۔ ہم اس کو پاس کرتے جائیں گے۔ کام نبی علیہ السلام کا ہوگا اور تصدیق رب ( اللہ تعالیٰ) کی ہوگی۔ لہٰذا رب نے پہلی وحی میں نقشہ سمجھایا کہ مرغ کے سینے کی شکل کی کشتی بنانا۔ جس طرح آج کل جہاز اورکشتیاں ہیں۔ انکا نقشہ وہیں سے لیا گیا ہے اور بیس 20سال حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی کی لکڑی جمع فرمائی۔ ( تفسیر روح البیان ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر12، مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

کشتی کے لئے لکڑی کا انتظام

حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم ملا تو اس وقت آپ علیہ السلام نہ تو کشتی کو جانتے تھے اور نہ ہی اس کے بنانے کو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق کشتی بناﺅ۔ روایات حدیث میں ہے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کشتی بنانے اور اس کی تمام ضروریات کا طریقہ بتایا۔ اور آپ علیہ السلام نے ساگ کی لکڑی سے یہ کشتی تیار کی۔ ( یہ کشتی ہمارے آج کل کے پانی کے جہاز وں سے بہت بڑی تھی) اس طرح جہاز سازی کی صنعت اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کے ہاتھوں شروع ہوئی۔ پھر اس میں ترقیات ہوتی رہیں۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سو سال درخت لگاتے ررہے۔،ان کو کاٹتے رہے اور خشک کرتے رہے۔ اور سو سال ان میں کام کرتے رہے۔ (کشتی بنا تے رہے)۔ آپ علیہ السلام نے دمشق کے علاقے میں کشتی بنائی۔ اور اسکی لکڑی لبنان کے پہاڑوں سے کاٹی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مےری نگرانی میں وحی کے مطابق کشتی بناﺅ، تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اے اللہ تعالی ، میں بڑھئی مستری نہیں ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔بے شک یہ میری نگرانی میں ہو گا۔ آپ علیہ السلام نے کلہاڑ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اور آپ علیہ السلام کا ہاتھ صحیح کام کرنے لگا۔ (تفسیر قرطبی جلد نمبر ۵ المعروف جامع الحکام ا لقرآن ، امام محمدبن احمد بن ابو بکر قرطبی)۔ تفسیر در منشور میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ کشتی بنا ﺅ تو حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیااے میرے رب (اللہ تعالیٰ)،کشتی کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ لکڑی کا بنا ہوا مکان ہے جو پانی پر چلتا ہے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم میں سکو نت پزیر رہے۔اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا آخری زمانہ آیا توایک درخت لگایا وہ خوب بڑھا اور اسے جہاں تک جانا تھا وہ گیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے اسے کاٹ لیا اور کشتی بنا نے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم دیا گیا توآپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے میرے رب، لکڑی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ درخت لگاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے بیس20سال تک ساگوان کا درخت لگائے رکھا۔ جب آپ علیہ السلام نے درخت کو مکمل حالت میں پالیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے کاٹا اور اسے خشک کر لیا۔ پھر عرض کیا۔ اے میرے رب ، میں یہ گھر کیسے بناﺅں۔ تب اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کشتی بنانے کے بارے میں بتادیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے چالیس40سال ساگوان کا درخت لگایا اور چار سو سال میں کشتی تیار کی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام درخت اگاتے رہے اور اسے کاٹ کر خشک کرتے رہے۔ پھر سو برس100اس پر کام کرتے رہے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا۔ مجھے بتائے کون سا وہ پہلا درخت ہے جو سب سے پہلے زمین پر اگا؟ تو انھوں نے جواب دیا۔ وہ ساگوان کا درخت ہے۔ اور یہ وہ درخت ہے جس سے حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی۔ تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ بعض سلف کہتے ہیں ۔ حکم ہو ا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنالو۔ اس میں ایک سو 100سال گزر گئے۔ پھر مکمل (کشتی کی ) تیاری میں سو100سال گزر گئے۔ ایک قول ہے کہ چالیس سال لگے۔ واللہ اعلم ۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی سے کشتی تیاری ہوئی۔ ( تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں ۔ ضحاک نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، کشتی کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ لکڑی کا ایک گھر ہے جو پانی کی سطح پر چلتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب لکڑی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم درخت اگاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے بیس20سال تک ساگوان کے درخت اگائے۔ اس عرصہ میں آپ علیہ السلام نے قوم کو اسلام کی دعوت دینا بند کر دی تھی۔ اور انہوں نے بھی آپ علیہ السلام کو تنگ کرنا اور تکلیف دینا چھوڑ دیا تھا۔ جب درخت تیار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان درختوں کوکاٹو اور سکھاﺅ۔( تفسیر تبیان القران جلد نمبر5علامہ غلام رسول سعیدی)

کافروں اور ان کے سرداروں کا مذاق اڑانا

حضرت نوح علیہ السلام نے ساگوان کے درختوں کو کاٹ کر ان کے تختے اور ستون اورمیخیں ( کیلیں ہماری زبان میں کھلّے) بنائے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے کافروںنے جب حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھا تو پہلے تو حیرت میں پڑ گئے کہ آخر آپ علیہ السلام کر کیا رہے ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ یہ آپ علیہ السلام کیا کر رہے ہیں؟جب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ یہ سن کر وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے اور لوٹ پوٹ کر ہنسنے لگے۔ امام فخر الدین رازی نے ان کے مذاق اڑانے کی یہ وجوہات بیان کی ہے۔ (1) وہ کہتے تھے کہ اے نوح ( علیہ السلام ) تم رسالت کا دعویٰ کرتے تھے اور بن گئے بڑھئی (مستری)۔ (2) اگر تم رسالت کے دعوے میں سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ تم کو کشتی بنانے کی مشقت میں نہیں ڈالتا۔ (3) اس سے پہلے انہوں نے کشتی نہیں دیکھی تھی۔ نہ ان کو یہ معلوم تھا کہ کشتی کس کام آتی ہے۔ اس لئے وہ اس پر تعجب کرتے اور ہنستے تھے۔ ( 4) وہ کشتی بہت بڑی تھی اور جس جگہ آپ علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے وہ جگہ پانی سے بہت دور تھی۔ اس لئے وہ کہتے تھے یہاں پر پانی نہیں ہے۔ اور اس کشتی کو دریاﺅں اور سمندر کی طرف لے جانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اس لئے ان کے خیال میں اس جگہ کشتی بنانا محض بے عقل ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد نمبر6امام فخرالدین رازی)تفیسر در منشور میں ہے کہ جب قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے( نعوذ باللہ)مجنون ( پاگل) کو دیکھو کہ گھر بنا رہا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے پانی پر چلے۔ اور پانی کہاں ہے؟ وہ بہت ہنستے اور قہقہے لگاتے۔ ( تفسیر درّ منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر انوارا لبیان میں ہے کہ ادھر تو کشتی تیار ہو رہی تھی اور ادھر ان کی قوم کے سردار اور چودھری( یعنی پنڈت ، پجاری، اور راجے مہاراجے) گزرتے تھے چونکہ انہیں عذاب آنے کا یقین نہٰں تھا اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام پر ہنستے تھے۔ اور ٹھٹھا کرتے تھے۔ کہ جی ہاںتم اس کشتی میں بیٹھ کر محفوظ ہو جاﺅ گے۔ کبھی کہتے تھے کہ یہ کشتی خشکی پر کیسے چلے گی۔ کبھی کہتے تھے کہ اے نو ح ( علیہ السلام ) ابھی تک تم اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتے تھے۔ اب تو تم بڑھئی ( مستری) ہو گئے ہو۔ ( تفسیر انوارا لبیان جلد نمبر3مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنانے میں مشغول تھے۔ ان کی قوم کے سردار ( پنڈت ، پجاری وغیرہ) جب ان کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو؟ تو آپ علیہ السلام فرماتے کہ طوفان آنے والا ہے۔ اسی لئے کشتی تیار کر رہا ہوں۔ ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی اور استہزاءکرتی تھی کہ یہاں تو پینے کے لئے پانی کا قحط ہے۔ اور یہ بزرگ اس خشکی میں کشتی چلانے کی فکر میں ہیں۔( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک نسفی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے اور جب بھی ان کے پاس سے قوم کے سردار گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام پانی سے بہت دور جنگل میں کشتی بنا رہے تھے۔ پس وہ ان پر ہنستے اور کہتے۔ اے نوح( علیہ السلام ) تم تو رسول بننے کے بعد بڑھئی بن گئے ہو۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر 2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) 

بچوںکی پیدائش بند ہو گئی

تفسیر مظہری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنانی شروع کر دی۔ امام بغوی لکھتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے بالکل بے پرواہ ہو کر اپنے رب کے حکم سے کشتی بنانے میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کی عورتوں کو بانجھ کر دیا اور ایک بھی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔ حضرت نوح علیہ السلام لکڑی کاٹتے کیل لگاتے اور تختے جوڑتے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ گزرتے اور مذاق اڑاتے۔ ( تفسیر بغوی جلد نمبر3) وہ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے کہ یہ ایک ایسی جگہ کشتی تیار کررہے ہیں جہاں قریب قریب پانی کا نشان بھی نہیں ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہنستے اور کہتے اے نوح( علیہ السلام ) تم نبو ت کا تاج اتار کر بڑھئی بن گئے ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھتے کہ کیا بنا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام فرماتے ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ تو وہ آپ علیہ السلام کی باتیں سن کر خوب ہنستے۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کافروں کے مذاق کے بارے میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کہتے اے نوح ( علیہ السلام) تم نبوت کے بعد بڑھئی بن گئے ہو۔ اور دوسرا قول ہے کہ انہوں نے پہلے کشتی نہیں دیکھی تھی اسی لئے پوچھا کہ کیا بنا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔کہ ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا تو وہ پہلے تو حیران ہوئے اور پھر آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ طوفانِ نوح سے پہلے زمین پر کوئی ندی، نہر اور دریا نہیں تھے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے ۔ طوفان کے پانی نے سمندروں میں جانے کے لئے جو راستہ بنایا وہی اب ندیاں اور دریا ہیں۔ (تفسیر قرطبی الالجامع الاحکام القران امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر تیسرّ الرحمن فی لبیان القران میں ہے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کافر کہنے لگے کہ نبی ہونے کے بعد اب بڑھئی ہو گئے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کام آپ علیہ السلام پانی سے بہت دور ایک میدان میں سخت گرمی میں کر رہے تھے۔ اسی لئے کافروں نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ اس سے پہلے انہوں نے کشتی دیکھی نہیں تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ ہمیں پانی پر لے کر چلے گی تو وہ ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ ( تفسیر تسیر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں