سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام
سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام
قسط نمبر 5
زمین پر آمد
جب حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے وہ پھل کھا لیا تو دونوں کو انسانی حاجت درپیش ہوئی ۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جنت پاک جگہ ہے یہاں تم گندگی نہیں کر سکتے۔ اس لئے اب زمین پر جاﺅ۔ اور وہیں رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اور ابلیس کو زمین پر اتار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ آیت نمبر36 میں فرمایا۔ ترجمہ ” لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں (جنت) سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اترجاﺅ، تم ( یعنی انسان اور شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور ایک مقررہ وقت تک تمہارے لئے زمین پر ٹھہرنا ہے۔ اور فائدہ اٹھانا ہے۔ “ آگے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اب نیچے ایسی حالت میں اترو کہ تم ( انسان اور شیطان) آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے۔ اور ایک مخصوص وقت تک نفع حاصل کرنا ہے اور فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے۔ اور اسی میں سے پھر نکالے ( اٹھائے ) جاﺅ گے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر 24اور 25) سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں یہاں سے اتر جاﺅ۔ تم ( انسان اور شیطان ) آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ ہی بہکے گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔“
حضرت آدم علیہ السلام کتنا وقت جنت میں رہے
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں جمعہ کے دن عصر بعد روح پھونکی اور آپ علیہ السلام کو زندگی دینے کے بعد جنت میں رکھا۔ ابلیس شیطان نے دونوں کو بہکایا اور جنت سے نکلوا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نماز عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک کی ایک ساعت ہی جنت میں رہے۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ایک ساعت ایک سو تیس130سال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ہمارے یہاں کا ایک دن تمہارے یہاں ( یعنی زمین پر کا ) ہزار سال کے برابر ہے۔ اسی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اور تابعین رحمتہ اللہ علیہم نے اُس ساعت کے سال کا اندازہ لگایا ۔ جب کہ ہزار سال کم سے کم بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک دن زمین کے ہزاروں ( اس میں پچاس ہزاور اور ننانوے ہزار بھی آجاتے ہیں ) سال کے برابر ہے۔ اس طرح یہ ساعت کئی سو سال ہو سکتی ہے۔ حضرت سعید بن جُبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کی مقدار ٹھہرے ۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ ( تابعی) فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام جنت میں دن کا چوتھائی حصہ ٹھہرے اور یہ دو گھڑیاں اور نصف ہے۔ اور یہ دو سو پچاس 250سال ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام جنت سے نکالے جانے پرسو سال روتے رہے۔
زمین پر کون کہاں اتارا گیا
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام ،سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو اور ابلیس شیطان کو زمین پر اتار دو ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو اتارا ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں اتارا۔ ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ہندوستا ن میں اتارا گیا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہوا کے اعتبار سے زمین کا سب سے بہترین حصہ ہندوستان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آدم علیہ السلام کو اتاراتھا ۔ اور یہاں کے درختوں کو جنت کی ہوا سے تعلق چھوڑا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں سراندیپ کے اس پہاڑ پر اتار ا گیا جس کو نود یا بوز کہتے ہیں۔ یہ خیال رہے کہ پہلے ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا ان سب کو ہندوستان کہا جاتا تھا۔ اور سراندیپ سری لنکا میں ہے۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جدہ میں اتارا گیا۔ ابلیس شیطان کو بصرہ کے قریب جنگل بیسان میں اتار ا گیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کیا کیا لائے
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ہندوستان کی زمین اس لئے ہری بھری ہے اور عود اور قرنفل وغیرہ خوشبوئیں اس لئے وہاں پیدا ہوتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جب اس زمین پر آئے تو ان کے جسم پر جنت کے پتے تھے۔ اور پتے ہوا سے اڑکر جس درخت پر پہنچے وہ ہمیشہ کے لئے خوشبو دار ہو گیا۔ آپ علیہ السلام جنت سے مختلف قسم کے بیج اور تین قسم کے پھل اور حجر اسود ( جو خانہ کعبہ میں لگا ہوا ہے) اور وہ عصا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا۔ جس کی لمبائی دس گز تھی۔ اور کچھ کھیتی باڑی وغیرہ کے اوزار بھی ساتھ لائے تھے۔ آپ علیہ السلام زمین پر آنے کے بعداس قدر گریہ وزاری میں مشغول رہے کہ ان چیزوں سے بے خبر ہو گئے۔ ابلیس شیطان نے موقع پا کر اُن کو اپنا ہاتھ لگایا۔ جس جس چیز پر اس کا ہاتھ لگا وہ زہریلا ہو گیا۔ اور جو اس کے ہاتھو ں سے محفوظ رہا اس کا نفع برقرار رہا۔ حضرت آدم علیہ السلام جنت سے تین طرح کے پھل اور میوے لائے تھے۔ ایک وہ جو پورے کھا لئے جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کا اوپری حصہ کھا لیا جاتا ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ تیسرے وہ جن کا اوپری چھلکا پھینک دیا جاتا ہے اور اندرونی حصہ کھالیا جاتا ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ تیسرے وہ جن کا اوپری چھلکا پھینک دیا جاتا ہے اور اندرونی حصہ کھا لیا جاتا ہے۔ جب حجر اسود کو جنت سے لایا گیا تھا تو اس کی روشنی کئی میل تک جاتی تھی۔ حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں نویں یا دسویں ساعت میں حضرت آدم علیہ السلام کا اخراج ہوا اُن کے ساتھ جنت کی ایک شاخ تھی اور سر پر جنت کے درخت کا ایک تاج تھا۔ سعدی کا قول ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں اترے آپ علیہ السلام کے ساتھ حجر اسود تھا اور جنتی درخت کے پتے تھے جو ہندوستان میں پھیلا دیئے اور اسی سے خوشبو دار درخت پیدا ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان کے شہر ” دھنا یا دحنا“ میں اتار گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان اتار گیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( تابعی ) فرماتے ہیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں اتارا گیا۔ اترتے وقت حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر تھے اور سر جھکا ہو اتھا اور ابلیس شیطان اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالے آسمان کی طرف نظریں جمائے اتر ا تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا اطمینان قلب
حضرت آدم علیہ السلام نے درخت کا پھل کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیارکی اور جنت میں ہی اللہ تعالیٰ نے عافیت عطا فرمائی تھی۔ اسی کی طرف اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ( سورہ ابقر ہ آیت نمبر37) لیکن زمین پر آنے کے بعد بھی آپ علیہ السلام کو اطمینان قلب نصیب نہیں ہوا اور مسلسل ایک بے چینی رہی۔ اب آپ علیہ السلام زمین پر آکر رو رو کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ ایک اچھے انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت اپنے جانے انجانے نقصان کی معافی مانگتے رہے۔ جیسا کہ زمین پر آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام معافی مانگتے رہے۔ کافی عرصے بعد انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یاد آیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صدقے میں مجھے معاف کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتے ہیں) کہ تمہیں کیسے معلوم کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کوئی ہے؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ جب آپ نے میرے جسم میں روح پھونکی اور میں نے آنکھ کھولی تو میں نے ” عرش معلی “ پر لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ لکھا دیکھا تھا۔ تو میں سمجھ گیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ضرور کسی بڑی ہستی کا نام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ اُن کے نام کو لکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک وہ میرا حبیب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بھی پیدا نہیں کرتا۔ اور میرا یہ بندہ تمہاری اولاد میں سے ہوگا۔ یہ تفصیل سن کر حضرت آدم علیہ السلام کے دل مبارک کو سکون نصیب ہوا۔
حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی ملاقات
اس کے بعد آپ علیہ السلام سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو ڈھونڈنے لگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو الگ الگ مقام پر اتار ا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو سری لنکا میں اتار ا تھا۔ سری لنکا کہاں ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ آپ نے ہندوستان کا نقشہ دیکھا ہوگا۔ اس نقشہ کے بالکل نیچے ایک لٹکوّا ہ ایسے دکھائی دیتا ہے وہی سری لنکا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سری لنکا میں سراندیپ کی پہاڑی پر اتارے گئے۔ کہتے ہیں۔ اس پہاڑی پر آج بھی حضرت آدم علیہ السلام کے پیروں کے نشان ہیں۔ اس کی لمبائی لگ بھگ گیارہ فٹ ہے۔ ہمارے پیر کا تلوا پنجہ ( ایک جوان مرد کا ) تقریباً پونہ فٹ کا ہے ۔ اور ہمار قد ساڑھے پانچ فٹ سے لے کر سات فٹ تک ہوتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد کتنے فٹ ہوگا۔ اکثر روایات میں آپ علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ ( تقریباً نوے90فٹ ) آتا ہے۔ اب اللہ بہتر جانے آپ علیہ السلام کا قد اس سے بھی زیادہ رہا ہو۔ بہر حال حضرت آدم علیہ السلام سری لنکا سے چلے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی تلاش میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مصر کے آس پاس اتار ا تھا۔ وہ وہاں سے چلیں ۔ ادھر حضرت آدم علیہ السلام دریاﺅں ، زمین اور سمندر کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ ادھر سے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں۔ اور دونوں کی ملاقات میدانِ عرفات میں ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سر زمین ہندوستان میں اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جدہ میں اتا را گیا۔ پس آپ علیہ السلام اپنی زوجہ کی تلاش میں نکلے۔ یہاں تک کہ دونوں اکٹھے ہو گئے۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اُن کی طرف میدانِ مزدلفہ میں آگے بڑھیں۔ اس لئے اس کا نام ” مزدلفہ“ پڑ گیا۔ اور میدان عرفات میں ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ لہٰذا اس کا نام ”عرفات “ پڑ گیا۔ اور جس جگہ دونوں اکٹھے ہوئے تھے اس کا نام ”جمع “ پڑ گیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام محبت سے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے تو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو روک دیا اور عرض کیا۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مہر ادا کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عرض کیا۔ آپ علیہ السلام محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود پڑھیں۔ یہی سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مہر ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو درودِ پاک سکھلایا گیا اور آپ علیہ السلام نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تین مرتبہ یا کچھ زیادہ مرتبہ درود پڑھا۔
تمام انسانوں سے میثاقِ بندگی ( بندگی کا عہد)
للہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے آدم ( علیہ السلام ) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے اُن ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا۔ کیوں نہیں ۔ ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ “ ُ سورہ الاعراف آیت نمبر172) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا کہ ہم سب عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر کے آئے ہیں کہ ہم سب اللہ کی بندگی کریں گے۔ یہ عہد مسلمان ، ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی اور تمام انسان یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کر کے آئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد سے مقامِ نعمان ( میدان عرفات میں ایک مقام) پر نویں ذی الحجہ کے دن میثاق لیا۔ تمام اولاد آدم کو اُن کی پشت سے نکالا اور اپنے سامنے بکھیر دیا۔ جس طرح بیج ہوتا ہے۔ پھر ان سے گفتگو فرمائی۔ کیا میں تمہار رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ۔ بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ ہم نے گواہی دی کہ کہیں حشر کے میدان میں تم یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ یا یہ نہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا ( آباءو اجداد ) نے کیا تھا تو انہیں دیکھ کر ہم نے شرک کیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت کے دن ایک دوزخی شخص کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اگر دنیا کی کوئی چیز تیرے پاس ہوتی تو کیا تو اسے فدیہ میں دے دیتا؟ وہ کہے گا۔ ہاں میں ضرور دے دیتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے بندے میں نے تو تجھ سے اس سے بھی کم کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے تجھے آدم ( علیہ السلام ) کی پشت سے نکال کر ایک عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا تو نے میر ا حکم نہیں مانا اور شرک میں مبتلا ہو گیا۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو اکٹھا کیا۔ انہیں شکل و صورت دے کر ان سے گفتگو کی اور ان سے عہد و میثاق لیا۔ اور انہیں اپنی ذات پر گواہ مقرر کیا۔ وہ میثاق یہ تھا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے عرض کیا ۔ کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں اس پر سات آسمان اور سات زمینوں کو گواہ مقرر کرتا ہوں۔ اور تم پر اس ( میثاق کے) سلسلہ میں تمہارے باپ آدم علیہ السلام بھی گواہ ہوں گے کہ کہیں قیامت کے دن تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم تو ا س عہد و پیماں کو جانتے بھی نہیں ۔ میرا عہد یہ ہے کہ میرے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اور میرے سوائے کوئی تمہارا رب نہیں ہے ۔ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔ میں تمہاری طرف نبی اور رسول بھیجوں گا جو تمہیں میرا میثاق یعنی عہدو پیمان یاد دلائیں گے۔ اور میں تمہاری ہدایت کے لئے اپنی کتاب نازل کروں گا۔ تمام اولاد ِ آدم نے کہا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس دن تمام انسانوں نے اس حقیقت کا اقرار کیا۔ اور اللہ کی بندگی کرنے کا عہد کیا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دونوں کو خانہ کعبہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام زمین کھودتے جاتے تھے اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا مٹی پھینکتی جاتی تھیں۔ اتنا کھودا کہ پانی نکل آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اب بنیادیں اٹھاﺅ۔ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جب ہندوستا ن سے پیدل ہی چلے تو جس جگہ قدم رکھتے وہ جگہ شہر اور دونوں قدموں کے درمیان والی خالی جگہ جنگل و بیابان بنتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت زمین پر اتارا جس کو خانہ کعبہ کی جگہ رکھا گیا۔ پس حضرت آدم علیہ السلام اسی کا طواف کرتے تھے۔ جب طوفانِ نوح آیا تو وہ یاقوت اٹھا لیا گیا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ میرے عرش کے بالمقابل زمین میں ایک محترم جگہ ہے وہاں جاﺅ اور اس جگہ میرا گھر تعمیر کرو۔ پھر اس کا بھی طواف کیا جائے گا۔ جس طرح فرشتوں کو میرے عرش کا طواف کرتے دیکھا تھا۔ اس گھر میں تمہاری اور تمہاری اولاد کی دعا قبول کروں گا۔ شرط یہ ہے کہ وہ میری فرمانبرداری کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں۔ کیوں کہ نہ تو میں اس جگہ سے واقف ہوں اور نہ ہی اتنا طاقت ور ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو حکم دیا جو انہیں مغرب کی طرف لے گیا۔ یہاں تک کہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ راستہ میں جس جس مقام پر آپ علیہ السلام ٹھہرے ان جگہوں پر آبادیاں بنتی چلی گئیں۔ اور جس جس جگہ چھوڑدیا وہ سب جنگل و بیابان بن گئے۔ پھرآپ علیہ السلام نے بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کی تعمیر پانچ مقامات سے کی۔ اور ( ۱) طورِ سینا (۲) طورِ زیتون (۳) کوہ لبنان (۴) کوہ ِ جودی (۵) جبل ِ حرا کے پتھر استعمال کئے۔ جو فرشتوں نے لا کر دیئے تھے۔ جب تعمیر سے فارغ ہو ئے تو فرشتہ انہیں میدانِ عرفات لے گیا اور تمام مقاماتِ حج بتائے۔ جہاں آج بھی لوگ مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔ پھر انہوں نے ایک ہفتہ طواف کیا اور ہندوستان واپس آگئے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں