حضرت صالح علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 4
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بڑی محبت اور شفقت سے سمجھایا۔ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کو یاد دلایا۔ اللہ تعالیٰ سورہ الشعرا ءمیں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” ( حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا) کیا ان چیزوں ( اللہ کی نعمتوں) میں جو یہاں ہیں ایسے ہی امن میں چھوڑ دیئے جاﺅ گے ۔ یعنی ان باغوں اور ان چشموں میں اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم اور نازک ہیں اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاﺅ ۔ جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ ( سورہ الشعرا ءآیت نمبر146سے 152تک) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے ۔ حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیںاللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ اور اس کے عذاب سے متنبہ فرما رہے ہیں۔ کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے ، کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرما دیے ہیں اور امن و چین سے تمہاری زندگی گزارنے میں مدد کر رہا ہے تم اس اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کر کے ان نعمتوں میں امن و امان میں ایسے ہی چھوڑ دیئے جاﺅ گے؟ ان باغات اور ان دریاﺅں میں ، ان کھیتوں ، ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑ رہے ہیں۔ جن میں تہہ بہ تہہ کھجوریں بھر پر لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کھجوروں سے لدے ہوئے ہیں ۔ تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کر کے ان کو آرام سے ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ مکانوں میں رکھ چھوڑا ہے ۔ اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کر نے کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہو۔اپنا وقت اپنا روپیہ بے جا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات اور پہاڑوں میں صرف اپنی بڑائی اور ریا کاری اور اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کے لئے مکانات تراش رہے ہو۔ جس میں کوئی نفع نہیں ہے۔ بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہیے۔ اپنے خالق ، رازق، منعم ، محسن کی عبادت اور اس کی فرماں برداری کرنی چاہیئے اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیے۔ جس کا نفع تمہیں دنیا اور آخرت میں ملے گا۔ تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیےے ۔ اس کی تسبیح و تہلیل اور صبح و شام اس اللہ کی عبادت کرنی چاہیے تمہیں اپنے موجودہ سرداروں کی ہرگز نہیں ماننا چاہئے۔ یہ توا للہ کی حدود سے تجاوز کر گئے ہیں۔ توحید کی اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ نافرمانی، گناہ ، فسق و فجور پر خود بھی لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلا رہے ہیں۔ اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے ہیں ۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر19علامہ عماد الدین ابن کثیر)
کچھ لوگوں کا قبول اسلام اور قوم کا ظلم
قوم ثمود میں بت پرستی عام تھی۔ اور جگہ جگہ بتوں کے مندر تھے۔ ان مندروں کے پنڈت اور پجاری قوم کے بڑے بنے ہوئے تھے۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم عاد میں بھی تھے۔ اور آج کل ہمارے ہندوستان میں بھی ہیں۔ عوام ان پنڈتوں اور پجاریوں کی بہت عزت کرتی تھی۔ اورمندروں میں بتوں کے اوپر اپنے مال و دولت چڑھائی تھی۔ جس کی وجہ سے پنڈتوں اور پجاریوں کا طبقہ دن بہ دن بہت زیادہ امیر ہوتا جا رہا تھا۔ جب حضرت صالح علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور قوم ثمود کو اسلام کی دعوت دی تو سب سے زیادہ ان ہی پنڈتوں اور پجاریوں کے طبقے نے مخالفت کی۔ اور عوام کو بھی بہکانے لگے۔ اسی کے بارے میں سورہ الشعراءکی آیت نمبر151اور 152میں عوام سے فرمایا۔ اور بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاﺅ۔ جو ملک میں فساد پھیلارہے ہیں اور اصلاح نہیں کر رہے ہیں جیسا کہ آج کل ہمارے ہندوستان ملک میں یہاں کے پنڈتوں اور پجاریوں نے فساد پھیلا رکھا ہے۔ اور ہندو مسلمان نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ بالکل ایسے ہی قوم ثمود کے پنڈت اور پجاری بھی کر رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام کی مسلسل دعوت و تبلیغ سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ لیکن عوام کی اکثریت پنڈتوں اور پجاریوں کی بات مان کر کفر اور شرک میں مبتلا رہی۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا ان میںاکثریت غریبوں اور مفلسوں کی تھی۔ جب کہ عوام کا زیادہ تر امیر طبقہ پنڈتوں اور پجاریوں کا ساتھ دے رہا تھا۔ ان بد بختوں نے مسلمانوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔ اور انہیں ہر طرح سے ستانے لگے۔
کافر منحوس ہوتا ہے
اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام ) کو بھیجا۔ ( انہوں نے فرمایا) تم سب اللہ کی عبادت کرو۔ پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم کے لوگو، تم نیکی کر نے سے پہلے برائی کرنے کی جلدی کیوں مچا رہے ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سے استغفار کیوں نہیں کر تے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ وہ کہنے لگے۔ ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو ہمارے لئے منحوس سمجھ رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور تم لوگ ( کفر و شرک) کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منحوس ٹھہرائے جاﺅ گے۔ بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر45سے 47تک) جب قوم ثمود کے کافرں نے مسلمانوں پر ظلم کیا تو مسلمانوں نے بھی ان کا مقابلہ کیا۔ اس پر حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں سمجھایا تو کافروں نے کہا کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ) اپنی قوم کے لئے منحوس ثابت ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے بھی منحوس ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ منحوسیت اسلام میں نہیں ہے۔ بلکہ کفر اور شرک میں ہے۔ اور کافر اور مشرک ہونے کی وجہ سے تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منحوس ٹھہرائے جاﺅ گے۔ اور تم لوگ بہت بڑے فتنے میں پڑے ہوئے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پہچان نہیں پا رہے ہو۔ اور تباہی اور ہلاکت کے راستے پر چل رہے ہو۔
کافروں اور مسلمانوں کا مناظرہ
حضرت صالح علیہ السلام مسلسل بڑی محنت سے اسلام کی تبلیغ کر تے رہے۔ اور لوگ ان کی دعوت پر ایمان لا کر اسلام قبول کر تے جا رہے تھے۔ اور مسلمانوں کی تعداد دن بہ دن دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی تھی۔ ان میں کچھ علاقوں کے سرداروں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ دیکھ کر کافروں کے سرداروں نے انہیں مناظرے کی دعوت دی جو مسلمانوں نے قبول کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی( حضرت صالح علیہ السلام کی ) قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے ان غریب لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ان سے پوچھا۔ کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح ( علیہ السلام ) اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کی طرف سے بھیجے ہوئے ( رسول) ہیں؟ انہوں نے کہا۔ بے شک ہم تو ان پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ اور جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے ( اس پر بھی پورا یقین رکھتے ہیں ) وہ کافر سردار کہنے لگے۔ تم جس بات پر یقین کر تے ہو ہم تو اس بات کا انکار کرتے ہیں۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر75اور 76) ان بد بخت کافرسرداروں نے صاف صاف مسلمانوں سے کہہ دیا کہ وہ حضرت صالح علیہ السلام کی رسالت کا اور اسلام کا انکار کرتے ہیں اور منکر ہیں۔ انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ حضرت صالح علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا اور کہنے لگے ۔ کیا ہم لوگ ہمیں میں سے ایک شخص کی فرماں برداری کرنے لگیں؟ تب تو ہم یقینا غلطی اور دیوانگی میں پڑ جائیں گے۔ کیا ہم سب لوگوں کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وہ جھوٹا اور شیخی خور ہے۔ اب سب (قیامت کے دن) جان لیں گے کہ کو ن جھوٹا اور شیخی خور تھا؟ “ (سورہ القمر آیت نمبر23سے 26تک) اس مناظرے کو پوری قوم ثمود دیکھ رہی تھی۔ اور کافر سردار اور پنڈت اور پجاری بھی جمع تھے۔ اور وہی لوگ کافروں کی طرف سے نمائندگی کر رہے تھے۔
کافر سرداروں کا تکبر
در اصل ان کی سرداری اور عزت اور مال و دولت اسلام قبول کرنے سے ختم ہو جاتی اور انہیں بھی عام غریب مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنی پڑتی۔ اسی لئے یہ لوگ آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کے سب سے زیادہ مخالف تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مناظرے میں مسلمان حاوی ہو رہے ہیں اور عوام ان سے متاثر ہو سکتی ہے تو ان لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنی شروع کر دی ۔ سورہ القمر کی ان آیات کی تشریح میں تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے۔ قوم ثمود جو پہاڑوں کو تراش تراش کر بلند ترین عمارتیں بنانے میں ماہر تھے۔ مال و دولت سے اور ہر نعمت سے مالا مال تھے۔ جب انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان سے کہا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو۔ تم میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی نہیں ملا جسے نبی بنا کر بھیجا جاتا۔ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہیں نبی مان بھی لیں تو ہم سے بڑا بے وقوف کون ہوگا؟ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو جھوٹا اور شیخی باز تک کہنے سے گریز نہیں کیا ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر5مولانا محمد آصف قاسمی) سورہ القرکی ان آیات کی تشریح میں تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں لکھا ہے۔ قوم ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ اس لئے حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلانا گویا تمام انبیائے کرام کو جھٹلانا ہے کیوں کہ سب نے اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی ہی قوم کے ایک فرد کو رسول مان لیں۔ اور پوری جماعت کو چھوڑ کر اس اکیلے کی پیروی کر نے لگیں۔ اللہ کے رسول کو تو انسانوں سے اعلیٰ جنس یعنی فرشتوں میں سے ہونا چاہیئے۔ اور حضرت صالح علیہ السلام میں ایسی کون سی بڑائی اور خوبی پائی جاتی ہے کہ اللہ نے ہمارے بڑے بڑے سرداروں اور مالد اروں کو چھوڑ کر اسے اپنا نبی بنا لیا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ وہ جھوٹا اور متکبر ہے۔ اور اس کے کبر اور غرور نے اس پر ابھارا کہ وہ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کر ے اور ہمیں اطاعت کرنے کا حکم دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ کل جب دنیا میں ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا اور پھر قیامت کے دن دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور متکبر کون تھا۔ ( تفسیر تیسسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)
قوم ثمود کی عجیب و غریب معجزے کی مانگ
قوم ثمود کی اتنی مخالفت کے باوجود حضرت صالح علیہ السلام لگاتار انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ آ پ علیہ السلام کی قوم سرکشی اور نافرمانی کرتی رہی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اور زیادہ انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے اور شرک سے ( بتوں کی پوجا سے ) اور زیادہ منع فرمانے لگے۔ یہاں تک آپ علیہ السلام کی قوم عاجز آگئی اور اس نے کہا۔ اگر تم سچے نبی ہو تو اپنی نبوت کی کوئی نشانی یا دلیل پیش کرو۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ ہی بتاﺅ کون سی نشانی یا دلیل چاہتے ہو؟ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے الشعرا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” وہ ( قوم ثمود) بولے کہ بس تم ان میں سے ہو جن پر جادو کر دیا گیا ہے۔ اور تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ اگر تم واقعی سچے لوگوں میں سے ہو تو کوئی معجزہ لے آﺅ۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر153اور 154) ایک دن حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھا رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے تو قوم ثمود نے کہا ۔ ہم ایمان اس شرط پر لائیں گے کہ آپ علیہ السلام اپنے سچے ہونے اور اپنی نبوت کی کوئی نشانی یا دلیل پیش کریں ۔ آپ علیہ السلام نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا۔ یہ سامنے جو پہاڑ ہے اس میں سے ایک اونٹنی نکالیں۔ وہ حاملہ ہو۔ فلاں رنگ کی ہو۔ اتنی لمبی ہو ، اتنی موٹی ہو۔ انہوں نے بڑی عجیب و غریب اونٹنی کی مانگ کی۔ کہ اس کا رنگ عام طور سے اونٹنیوں کا ہوتا ہے اس کے خلاف کہا۔ اور عام اونٹنیوں سے کئی گنا زیادہ بڑی ، اونچی، لمبی اور چوڑی اونٹنی کی مانگ کی۔اور اس کے علاوہ بھی کئی خوبیوں کی مانگ کی۔ کہ وہ اتنا دودھ دے کہ پوری قوم ثمود کو کافی ہو۔ اور بھی کئی عجیب خوبیوں کی مانگ کی۔ سب سے عجیب بات جس کی قوم ثمود نے مانگ کی وہ یہ تھی کہ وہ اونٹنی دس مہینے کی حاملہ ہو۔ اور پہاڑی سے نکلتے ہی اس کا بچہ پید اہو۔ غرض یہ کہ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے ایسی اونٹنی کی درخواست کی جیسی اونٹنی عام طور سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ ان لوگوں کو یقین تھا کہ ایسی عجیب و غریب اونٹنی دنیا میں کہیں ہو ہی نہیں سکتی۔ اور حضرت صالح علیہ السلام ہماری مانگ پوری کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ اور جب مانگ پوری نہیں کر سکیں گے تو ہمیں اسلام کی دعوت نہیں دیں گے۔ اور ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ قو م ثمود اپنی سمجھ کے مطابق آپ علیہ السلام سے جان چھڑانے کی تدبیر کر رہی تھی۔ لیکن وہ کم عقل لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ سے کچھ عجیب و غریب مانگ کرتاہے تو اسکی وجہ سے وہ خود مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ قوم ثمود مصیبت میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے ہم کریں گے۔ حضر صالح علیہ السلام نے اونٹنی کی تفصیل سننے کے بعد فرمایا ۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہارا مطالبہ پورا کر دے اور اس پہاڑ سے ایسی ہی اونٹنی نکال دے جیسی تم مانگ کر رہے ہو تو کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور مجھ پر ایمان لے آﺅ گے۔ سب نے کہا ۔ ہاں ہم آپ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کر لیں گے۔ آپ علیہ السلام نے قوم ثمود سے پختہ عہد اور وعدہ لے لیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں