پیر، 17 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 4 Story of Prophet Ibrahim



حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 4

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

بڑے بُت سے پوچھ لو

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اطمینان سے تمام بتوں کو توڑ ڈالا،اور کلہاڑے کو سب سے بڑے بُت کے کاندھے پر لٹکا کر چلے آئے۔آپ علیہ السلام کی قوم جب میلے سے واپس آئی ،اور شاہی مندر کے بتوں کا یہ حال دیکھا تو پورے شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ کسی نے شاہی مندر کے تمام بتوں کو توڑ ڈالا ہے۔پوری قوم کے لوگ اُمڈ پڑے،اور شاہی مندر کے پاس جمع ہو گئے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”(جب قوم کے لوگوں نے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو)کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ایسا شخص تو یقینا ظالموں میں سے ہے۔(اِن میں سے کچھ لوگ )بولے۔ہم نے ایک نوجوان کو اِس کا تذکرہ کرتے سنا ہے،جسے ابراہیم کہتے ہیں۔سب نے کہا؛ اچھا اسے مجمع میں سب لوگوں کے سامنے لاؤ،تاکہ سب دیکھیں۔کہنے لگے اے ابراہیم (علیہ السلام)!کیا تُو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟آپ علیہ السلام نے جواب دیا؛بلکہ اِس کام کو اُن کے بڑے (بُت) نے کیا ہے،تم اپنے معبودوں سے ہی پوچھ لو،افر یہ بول سکتے ہوں؟پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہوگئے اور کہنے لگے واقعی ظالم تو تم ہی (قوم ہی) ہو۔پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے،(اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے معلوم ہی ہےکہ یہ بال چال نہیں سکتے۔آپ (علیہ السلام) نے فرمایا؛افسوس ہے کہ تم اﷲ کے سوا اُن کی عبادت کرتے ہو،جو نہ تو تمہیں نفع ہی دے سکتے ہی، اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تُف ہے تم پر،اور اُن پر جن کی تم پوجا کرتے ہو،کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ہے؟“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 59 سے 67 تک)آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ شاہی مندر کے پاس جمع تھے۔اِن میں پنڈتوں اور پجاریوں کے ساتھ حکومت کے عہدے دار اور عوام بھی تھے۔تمام لوگ حیران تھے کیونکہ یہ بہت بڑا واقعہ تھا۔پنڈتوں، پجاریوں اور حکومت کے عہدے داروں کو اِس بات پر حیرت ہو رہی تھی کہ کس میں اتنی ہمت اور جرا¿ت ہے کہ اُس نے اتنا بڑا کام کر ڈالا۔عوام میں سے چند آدمیوں نے کہا کہ ابراہیم نام کا ایک جوان ہے،وہ ہمارے معبودوں یعنی خداو¿ں سے نفرت کرتا ہے۔اور اُس نے کہا تھا کہ مجھے موقع ملا تومیں تمہارے معبودوں کو ختم کر دوں گا۔فورا! حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلایا گیا،اور پوچھا گیا کہ کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت تم نے کی ہے؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟یہ بڑا بت صحیح سلامت ہے،اِسی سے پوچھ لو۔

حق کو پہچان لینے کے بعد ماننے سے انکار کردیا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری قوم شاہی مندر کے سامنے جمع تھی۔آپ علیہ السلام کو بلا کر جب پوچھا گیا کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟اپنے معبودوں سے پوچھ لو،وہ خود بتائیں گے کہ اُن کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے۔اور یہ بڑا بُت تو صحیح سلامت ہے ،اِسی سے پوچھ لو۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے معبودوں میں آپس میں جھگڑا ہو گیا ہوگا،اور بڑے بُت کو غصہ آگیا ہوگا،اور اُس نے غصہ میں آکر سب کو توڑ ڈالا ہو۔یا پھر ایسا ہوا ہوگا کہ بڑے بُت کو یہ گوارانہیں ہوا ہو گا کہ یہ چھوٹے بُت بھی اُس کے ساتھ خدائی میں شریک ہوں،اِس لئے اُس نے اِن سب کو تباہ و برباد کر دیا ہو گا۔“آپ علیہ السلام بلند آواز سے یہ سب فرما رہے تھے، اور پوری قوم خاموش کھڑی سن رہی تھی۔جب آپ علیہ السلام خاموش ہوئے تو سب لوگوں پر کچھ دیر سکتہ طاری رہا،اور پوری قوم آپ علیہ السلام کی تقریر اور دلیل سے متاثر ہو گئی تھی۔اور ہر کوئی دل ہی دل میں یہ تسلیم کر رہا تھا کہ آپ علیہ السلام جو یہ بتاتے ہیں کہ اِن بتوں کی کوئی اوقات نہیں ہے۔اور اگر کوئی انہیں توڑ بھی دے تو یہ کچھ نہیں کر سکتے ،قریب تھا کہ پوری قوم آپ علیہ السلام کی بات مان لیتی،لیکن ابلیس شیطان نے اپنے چیلو ں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں کے ذریعے انہیںانہیں روک دیا۔پنڈتوں اور پجاریوں نے جب دیکھا کہ قوم آپ علیہ السلام سے متاثر ہو رہی ہے،تو وہ آگے بڑھے اور کہا۔اے ابراہیم (علیہ السلام)!یہ تُو کیا بکواس کئے جا رہا ہے؟تجھے تو معلوم ہی ہے کہ یہ بول چال نہیں سکتے۔اور قوم کے لوگوں کو بہکانے لگے کہ یہ ہمارے باپ دادا کے معبودوں کو توڑنے والا ہے۔اِس نے بہت بڑا جرم کیا ہے،اب اِسے بادشاہ کے سامنے پیش کرنا پڑے گا۔پوری قوم جو متاثر ہونے لگی تھی،وہ پھر پنڈتوں اور پجاریوں کے ساتھ ہو گئی،اور آپ علیہ السلام کے خلاف نعرے لگانے لگی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”افسوس ہے تم لوگوں کی عقل پر کہ حق کق پہچان لینے کے بعد بھی ماننے سے انکار کر رہے ہو۔“

نمرود سے مکالمہ

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”کیا آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نے اُسے دیکھا جو سلطنت پاکر ابراہیم(علیہ السلام) سے اُس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔جب ابراہیم( علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو مارتا اور جِلاتا(زندہ کرتا)ہے۔وہ کہنے لگا،میں بھی جِلاتا اور مارتا ہوں۔ابراہیم (علیہ السلام ) نے فرمایا؛اﷲ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تُو اِسے مغرب سے نکال دے۔اب وہ کافر بھونچکا رہ گیا،اور اﷲ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 185)حضرت علی بن ابی طالب کرم اﷲ وجہ فرماتے ہیں۔جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھگڑا کیا تھا،وہ نمرود بن کنعان تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں۔اِس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔ اِس کا پایۂ تخت(دارالحکومت)بابل تھا۔اِس کے نسب نامہ میں کچھ اختلاف ہے۔امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جھگڑا کیا،وہ نمرود بن کوش بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔

پوری دنیا پر حکومت کرنے والے چار بادشاہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جس بادشاہ نے ناضرہ کیا تھا،وہ نمرود تھا۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔”الذی“سے مُراد اُس وقت کا بادشاہ تھا،جس کا نام نمرود بن کنعان بن سخاریب تھا۔یا نمرود بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔یہ وہ پہلا بادشاہ تھا،جس نے تاج پہنا،اور رعایا پر ظلم کیا،اور خدائی دعویٰ کیا،اور پوری دنیا پر حکومت کی۔اُس کی عُمر آٹھ سو برس ہوئی تھی،چار سو سال عزت سے حکومت کی،اور چار سو سال مچھر کی وجہ سے پِٹ پِٹ کر ذلیل ہو کر حکومت کی۔ّمچھر کا ذکر انشاءاﷲ آگے آئے گا)اُس کا پایۂ تخت (راجدھانی)”بابل“ تھا۔(تفسیر نعیمی)بعض صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مروی ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے پوری دنیا پرحکومت کی،وہ نمرود بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔اور وہ بادشاہ جنہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی،اُن کی تعداد چار ہے۔(1) نمرود(2)حضرت سلیمان علیہ السلام (3)حضرت ذوالقرنین(4) بخت نصر ۔اِن چاروں میں سے دو بادشاہ مسلمان تھے،اور دو کافر تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت ذوالقرنین مسلمان تھے،اور نمرود اور بخت نصر کافر تھے۔

نمرود لاجواب ہو گیا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب قوم کے لوگوںاور پنڈتوں اور پجاریوں سے کوئی جواب نہیں بن سکا،تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ بادشاہ نمرود کے دربار میں پیش کیا جائے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اس شخص سے مراد نمرود ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وطن کا بادشاہ تھا۔جس واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے،اِس کی تفصیل تلمود میں ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ نمرود کے یہاں سب سے بڑے عہدے دار یعنی چیف آفیسر آف دی اسٹیٹ کا منصب رکھتا تھا۔آپ علیہ السلام نے جب کھلم کھلا شرک کی مخالفت اورتوحید کی تبلیغ شروع کی،اور بُت خانے(مندر )میں گھس کر بتوں کو توڑ ڈالا تو آپ علیہ السلام کے باپ (آزر)نے خود اُن کے خلاف مقدمہ بادشاہ کے دربار میں پیش کیا۔مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیدائشی شہر بابل کے آس پاس تھا،اور اُن کے زمانے میں بادشاہ نمرود اُس علاقے کا حکمراں تھا۔دنیا میں کفرو شرک پھیلا ہوا تھا،اور آپ علیہ السلام کا باپ بھی بُت پرست تھا۔جب آپ علیہ السلام نے قوم کو توحید کی دعوت دی تو سب کو بُرا لگا۔نمرود بھی کافر تھا،اور کفر کا داعی بھی تھا،اور اپنے آپ کو معبود کہلواتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اُسے اسلام کی دعوت دی تو اُس نے کہا کہ میرے خیال میں میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔اور آپ علیہ السلام سے دلیل مانگی کہ تم جس رب کی بات کر رہے ہو اُس کی کوئی دلیل ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے ،اور مارتا ہے۔“درحقیقت یہ بہت بڑی دلیل تھی،جتنے بھی خدائی کے دعوے دار ہوتے ہیں۔اور جتنے اُن کے ماننے والے ہوتے ہیں،سب کو معلوم ہوتا ہے کہ زندہ کرنے اور موت دینے کا کام اُن کے بس کا نہیں ہے۔لا محالہ کوئی ذات ہے،جس کے قبضے میں ساری مخلوق ہے۔اور زندہ کرنا اور موت دینا اُسی کا کام ہے۔اور جو خدائی دعویٰ کرتے ہیں،وہ اپنے آپ کو تو نہیں بچا سکتے تو وہ دوسروں کو کیا زندگی دیں گے۔ایسی موٹی اور واضح بات جاننے کے باوجودنمرود نے بحث جاری رکھی،کیونکہ اُس کی بادشاہت داو¿ں پر لگ گئی تھی۔اِس لئے اُس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔اور اپنی بات کی دلیل کے لئے یہ کیا کہ دو آدمیوں کو بلایا،جن کو سزائے موت ہو چکی تھی۔اُن میں سے ایک کو قتل کیا ،اور دوسرے کو زندہ چھوڑ دیا۔اُس کی کم عقلی پر آپ علیہ السلام کو ہنسی آگئی،لیکن آپ علیہ السلا نے اﷲ تعالیٰ پر دوسری دلیل دے دی،اور فرمایا؛”میرا رب مشرو سے سورج نکالتا ہے،تُو مغرب سے نکال کر دِکھا۔“یہ سنتے ہی خدائی دعوایٰ کرنے والا نمرود مبہوت اور حیران رہ گیا،اور بالکل ہی گونگا بن گیا،اور لاجواب ہو گیا۔جب اُس سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو اُس نے آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا،اور کہا کہ اِس کو زندہ جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔

اﷲ کی مدد

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے اِس مکالمہ کا ذکر کئی روایتوں میں آیا ہے،کہ زمین پر سب سے پہلا جابر بادشاہ نمرود تھا۔اُس بد بخت نے حکم دیا تھا کہ تمام اناج اور سبزیاں،پھل اور کھانے پینے کی چیزیں سرکاری گوداموں میں رکھی جائیں۔اور عوام میں اعلان کروا دیا تھا کہ جس کو بھی اناج وغیرہ خریدنا ہو تو وہ مجھ سے آکر خریدے۔جب لوگ اُس کے پاس کھانا لینے کے لئے جاتے تھے تو وہ ہر ایک سے پوچھتا تھا کہ تیرا رب کون ہے؟وہ کہتا کہ تُو نمرود ہمارا رب ہے تو اُسے اناج دے دیتا تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کھانا خریدنے پہنچے تو اُس نے حسب روایت پوچھا کہ تیرا رب کون ہے؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ میرا رب ہے ،اور وہ لوگوں کو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔“نمرود نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور موت دیتا ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ مشرق سے سورج کو نکالتا ہے،تُو مغرب سے نکال کر بتا۔پس اُس کافر کے پاس کوئی جواب نہیں بن پڑا اور اُس نے آپ علیہ السلام کو کھانا نہیں دیا۔آپ علیہ السلام گھر واپس آرہے تھے کہ راستے میں ریت(بالو) کے ٹیلے کے پاس سے گزرے۔خالی ہاتھ جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا ،اس لئے ریت ہی اپنے تھیلے میں بھر لی،اور گھر لاکر رکھ دیا۔چونکہ تھکے ہوئے تھے ،اِس لئے سو گئے۔اِدھر سیدہ ساراہ رضی اﷲ عنہا نے تھیلا کھولا تو اُس میں بہت ہی عمدہ قسم کا اناج اور کھانا موجود پایا۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس میں سے کھانا پکا کر آپ علیہ السلام کو پیش کیا تو آپ علیہ السلام نے حیرت سے پوچھا؛”یہ کہاں سے آیا؟“انہوں نے بتایا کہ تھیلے میں سے نکالا ہے،آپ علیہ السلام نے تھیلے میں عمدا اناج اور کھانا دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا۔اور سمجھ گئے کہ یہ اﷲ کی طرف سے مدد ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں