پیر، 10 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 4 Story of Prophet Hood



حضرت ہود علیہ السلام

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

میرے خلاف جو چاہو کرلو

تفسیر مظہری میں ہے کہ ( حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) نہ تو میں اللہ کے سوا کسی بت کی عبادت کرتا ہوں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا اندیشہ کرتا ہوں۔ پس تم بھی اور تمہارے خدا بھی مل کر میرے خلاف کوئی بھی حیلسازی کرو، مجھے ہلاک کرنے یا اذیت دینے کا کوئی پروگرام طے کر لو۔ پھر مجھے ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دو۔ حضرت ہود علیہ السلام کے اس کلام میں مشرکوں اور ان کے بتوں کی اہانت اور اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین اور ان کے جھوٹے خداﺅں کے عجز کا اظہار ہے۔ یعنی وہ پتھر ہیں۔ بے بس مورتیاں ہیں ۔ نہ تو نفع دے سکتی ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے کافروں کی ان تین باتوں کا جواب اس طرح دیا۔ فرمایا تم نے میری باتوں کی تصدیق نہیں کی تو مجھ کو کوئی غم نہیں ہے۔ کیوں کہ میں اللہ کو شاہد بناتا ہوں وہی میر ی حقانیت کی گواہی دیتا ہے۔ تم اپنے بتوں سے لپٹے رہو ان سے آس لگاتے رہو۔ اور اپنی زندگی برباد کرتے رہو۔ میں تو اب بھی ان بتوں سے بیزار اور متنفر ہوں۔ تم مشاہدہ کر ہی رہے ہو کہ میں تمہاری ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہوں ۔ آئندہ بھی بتوں کو جھوٹا ہی کہتا رہوں گا۔ لہٰذا میری طرف سے تمہیں کھلے عام اجازت ہے کہ تم میرے ساتھ میرے خلاف جو چاہو مکاریاں کر لو سب مل کر بے شک میں نے شروع سے ہی اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی مکمل بھروسہ کیا ہے۔ جو ہر گھڑی مجھے پالنے والا ہے۔ میری مصیبتیں دور کرتا ہے۔ اور میری حفاظت کرتا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تیسر الرحمن البیان القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں ایسا جواب دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کافروں کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی اور فرمایا کہ ان کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر ہے۔ وہی ان کی حفاظت کرے گا۔ اور وہ سب مل کر ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بعد فرمایا۔ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم لوگ بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ اب تم لوگ مل کر پوری طاقت لگا دو اور میرے خلاف جو سازش کرنا چاہو کر و۔ اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔ میں نے تو اس اللہ پر بھروسہ کر لیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ ( تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)

حضرت ہود علیہ السلام کی آخری کوشش 

حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد کو کھلا چیلنچ دے دیا ۔ کہ اگر تم لوگ یہ سمجھ رہے ہو کہ ان بتوں نے ( نعوذ باللہ ) مجھے پاگل بنایا ہے تو میری طرف سے تمہیں اور تمہارے بتوں کو اجازت ہے کہ سب مل کر مجھے نقصان پہنچاﺅ اور آپ علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا بھی۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ اس کے بعد پھر آپ علیہ السلام نے انہیں آخرت کا خوف دلا کر سمجھانا شروع کیا کہ تم لوگ دنیا میں ہمیشہ نہیں رہو گے۔ تمہیں بھی ایک دن مرنا ہے اور مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ اس کے بعد قبر میں ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ہم سب کو دو بارہ زندہ کرے گا۔ اور ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ کیا تم لوگ یہ نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو کس طرح طوفان سے تباہ کر دیا ۔اس کے بعد تمہیں ان کا جانشین بنایا۔ اپنی نعمتیں دیں اور طاقت ور بنایا۔ اب بھی تم اسلام قبول کر لو۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ تو اللہ تعالیٰ تمہیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اور اگرتم لوگ بتوں کی پوجا سے باز نہیں آﺅ گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آجائے ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اللہ کا عذاب آنے سے پہلے ایک آخری کوشش کی لیکن قوم نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ آخرت کی کوئی زندگی نہیں ہے جو بھی ہے دنیا کی زندگی ہے اور اسی میں جینا اور مرنا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (قوم عاد کے لوگوں اور سرداروں نے کہا) کیا تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرک کر خاک اور ہڈی ہو جاﺅ گے تو تم پھر زندہ کئے جاﺅ گے۔ نہیں نہیں دو ر بہت دور ہے جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے۔ اصل زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہے۔ جس میں ہم جیتے اور مرتے رہے ہیںاور مرنے کے بعد ہم دوبارہ اٹھا ئے جائیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ (سورہ المومنون آیت نمبر36اور 37)

قوم نے عذاب کی مانگ کی

حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا۔ لیکن قوم عاد پر شیطان کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔ اتنا صاف صاف حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ لیکن ان بدبختوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہڈی بن جائیں گے اور مٹی میں مل جائیں گے تو ہمیں زندہ کر کے پھر سے قبروں سے اٹھایا جائے گا۔ یہ بات تو عقل نہیں مانتی اور جو تم یہ کہہ رہے ہو کہ تمہیں قیامت کے روز حساب دینا ہوگا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ بلکہ اسی دنیا میں ہمیں جینا ہے اور جب مر گئے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اور جو تم کہہ رہے ہو کہ تمھےں ڈر ہے کہ ہم پر عذاب نہ آجائے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اپنے اللہ سے کہو کہ ہم پر اپنا عذاب لے آئے۔ ہم تو انھےں خداﺅں کی پوجا کریں گے۔ جن کی ہمارے ماں باپ پوجا کرتے تھے۔ اور ہمارے باپ دادا ان کو اپنا مبعود مانتے تھے۔ اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آﺅ۔ حضرت ہود علیہ السلام کے برسوں اور بار بار سمجھانے پر بھی ان کی قوم کی اکثرےت کافر ہی رہی۔ ہاں تھوڑے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اور وہ تمام ایمان لانے والے حضرت ہود علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ اور اکثرےت جو ایمان نہیں لائی تھی انھوں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو دےر کس بات کی ہے۔ ہم تو آپ (علیہ السلام ) کی نبوت کا کھلے عام انکار کررہے ہیں۔ تم وہ عذاب لے آﺅ جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو۔ آپ (علیہ السلام ) ہمیں نصیحت کریں یا نہ کریں ۔ ہم تو نصےحت قبول نہیں کریں گے۔ یہ جو محلات ہم تعمےر کرتے ہیں یہ ہمارے بڑوں کا دستور ہے۔ اور جو ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ تو آپ فکر نہ کریں ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرماےا۔ ترجمہ ’ ’ (قوم عاد نے کہا)۔ پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دےتے رہتے ہو۔ اگر تم سچے ہو تو اسکو ہمارے اوپر لے آﺅ۔ “(سورہ الاعراف آےت نمبر70)اللہ تعالیٰ نے قرآان پاک میں آگے فرماےا۔ ترجمہ۔” انھوں نے (قوم عادنے) کہا کہ آپ (علیہ السلام ہمیں نصےحت کریں یا نہ کریں ہمارے لئے برابر ہے۔ یہ تو بس پرانے لوگوں کے بنائے گئے واقعات (کہانیاں) ہیں۔ اور ہم پر ہرگز عذاب نہیں دئےے جائےں گے۔“(سورہ الشعراءآئے نمبر 136سے 138)اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ قرآن پاک میں فرماےا۔ترجمہ” قوم( عاد) نے جواب دےا۔ کیا آپ ہمارے پاس اسی لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں کی پوجا سے باز رکھےں؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعدہ کرتے ہیں۔ وہ ہم پر لے آئےں۔(سورہ الاحقاف آےت نمبر 22) 

اللہ کا عذاب لے آﺅ :

علامہ ابن کثےر لکھتے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام ہمیں ایک خدا کی عبادت کا طریقہ سکھانے آئے ہیں۔ اور ہم اپنے خداﺅں کو چھوڑ دیں ۔ جن کی عبادت عرصے سے ہمارے اسلاف کرتے آئے ہیں۔ اگر آپ علیہ السلام سچے رسول ہیں تو پھر دیر کس لئے ہے۔ ہم تو آپ علیہ السلام کی نبوت کا بر ملا انکار کر رہے ہیں۔ پھر لے آﺅ وہ عذاب اور بربادی جس کی آپ علیہ السلام ہمیں عرصے سے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ جب انہوں نے (قوم عاد نے ) تکذیب کی اور یوں بھی کہا کہ عذاب لا کر دکھاﺅ تو حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اب تو تم پر اللہ کا عذاب اور غضب نازل ہو ہی چکا ہے۔ یعنی اس کے آنے میں دیر نہیں ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کر تا ہوں۔ (تفسیر انوار البیان جلد نمبر2سورہ اعراف مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ قوم عاد کی سر کشی ، تکبر ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام سے کہا کیا آپ علیہ السلام کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے منہ پھیر لیں؟سنو اگر یہی آپ علیہ السلام کا مقصد ہے تو یہ پور انہیں ہوگا۔ اور اگر آپ علیہ السلام سچے ہیں تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کریں۔ (تفسیر ابن کثیرپارہ نمبر8علامہ عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر معارف القران میں ہے کہ اس سر کش اور بد مست قوم نے ایک نہ سنی اور وہی جواب دیا جو عام طور سے گمراہ لوگ دیا کرتے ہیں۔ کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم سے اپنے باپ داد اکا مذہب چھڑا دو اور سارے دیوتاﺅں کو چھوڑ کر ہم صرف ایک خدا کو ماننے لگیں۔ یہ تو ہم سے نہیں ہوگا۔ ہاں آپ علیہ السلام جس عذاب کی دھمکی ہمیں دے رہے ہیں اس عذاب کو بلالو ۔ اگر تم سچے ہو تو ( تفسیر معارف القرآن جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع 

ہم جمہوریت کی مانیں گے

تفسیر نعیمی میں ہے کہ مراد وہ بت ہیں جن کو وہ پوجا کرتے تھے۔ یعنی ہمارے سارے باپ دادا جو دنیا بھر میں عقل و دانائی میں مشہو رتھے ہم ان کی اولاد ہیں۔ کیا ہم ان کے نقش قدم پر نہیں چلیں اور ان کے بتوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ یعنی جمہوریت کہتی ہے کہ معبود کئی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام اکیلے کہتے ہیں کہ معبود ایک ہے۔ ہم جمہوریت کی مانیں گے اور آپ علیہ السلام کی دعوت عقل اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ اسی لئے ہم نہیں مانیں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے آپ علیہ السلام کے جواب کا انتظار نہیں کیا اور کہا۔ آپ علیہ السلام ہم سے زیادہ بات نہ کریں بلکہ جس عذاب سے ہمیں ڈرارہے ہیں وہ لے آئیے۔ ہم تو بت پوجا نہیں چھوڑیں گے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی اس قوی اور قطعی دلیل کا ان کی قوم سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو انہوں نے اپنی جان چھڑا نے کے لئے اپنے باپ داد ا کی تقلید کا سہارا لیا اور کہا کیا آپ علیہ السلام ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان ( بتوں ) کی عبادت چھوڑدیں۔ جن کی عبادت ہمارے باپ داد اکرتے تھے۔ تو آپ علیہ السلام ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آئیں جس کا آپ علیہ السلام ہم سے وعدہ کرتے رہتے ہیں۔ ( تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی)

قوم عاد پر عذاب کی شروعات

جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو اتنا سخت جواب دیا تو حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور غضب واجب ہو گیا ہے۔ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کے مستحق بن گئے ہو۔ کیوں کہ تم جھگڑا کرتے ہو مجھ سے ان ناموں ( بتوں) کے لئے جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ جب کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو اب تم بھی اللہ کے عذاب کا انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ لگاتار برسوں تک سمجھانے کے بعد جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں مانی بلکہ دن بہ دن ان کی مخالفت اور بد تمیزیاں بڑھتی گئیں اور جب وہ بار بار آپ علیہ السلام سے عذاب کی مانگ کرنے لگے تو حضرت ہود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) اب تو میری مدد فرما۔ کیوں کہ انہیوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ عنقریب ہی یہ لوگ اپنے کئے پر نادم ہوں گے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر عذاب کی شروعات کر دی ۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) تم پر تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے غضب اور عذاب واجب ہو گیا ہے۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا رکھ لئے ہیں۔ ( حالانکہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ سوتم بھی انتظار کرو اور میں تمہارے ساتھ ( اللہ کے عذاب کا ) انتظار کر تا ہوں۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر71)

اللہ کے عذاب کا انتظار کرو :

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یعنی اپنی خرافات کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کے مستحق بن گئے ہو ۔کیا تم اللہ واحد کی عبادت اور اپنے بتوں کی پوجا کو یکساں ( ایک جیسا) سمجھنے لگے ہو جن کو تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اور خود ہی انہیں الوہیت کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ ان بے جان پتھروں کے لئے خدا کی اصطلاح تو تم نے اور تمہارے اسلاف نے شروع کر دی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سند یا دلیل نہیں آئی ہے۔ جب کہ تم نے حق قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور باطل پر قائم ہو تا اب میں تمہیں برائی سے روکوں یا نہ روکون دونوں برابر ہے۔ کیوں کہ تم نا سمجھ نہیں ہو بلکہ ہٹ دھرم اور متعصب ہو اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ بس اب اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انتظار کرو۔ اور دیکھو کہ عذاب کب آتا ہے۔ جسے ٹالا نہیں جا سکے گا۔ اور روکا بھی نہیں جا سکے گا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب تمہاری سر کشی اور بے ہوشی کی یہ حالت ہے تو اب تم اللہ کا عذاب آنے والا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اورمیں بھی انتظار کرتا ہوں۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا محمد شفیع) تفسیر نعیمی میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ گھبراﺅ مت ، یوں سمجھو کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے اس کا غضب اور عذاب آہی گیا ہے۔ بس اس کے ظاہر ہونے کی دیر ہے۔ سب کچھ مکمل ہو چکا ہے۔ تمہیں شرم نہیں آئی کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور تم مجھ سے ایسے بناﺅٹی جھوٹے معبودوں کی حمایت میں لڑتے ہو۔ جن کے نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے خود رکھے ہیں ۔ا ور جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اچھا اب فہمائش کا وقت نکل چکا ہے۔ اب تم بھی اللہ کے عذاب کا انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ جو تمہارے لئے عذاب ہو گا اور میر لئے اور مسلمانوں کے لئے رحمت ہوگا۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں