حضرت نوح علیہ السلام
تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر4
قسط نمبر 4
حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لانے کی اولاد کو وصیت
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے تو بڑے بچے بھی اتنے گمراہ ہو گئے تھے کہ انھوں نے بھی آپ علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیش ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو تکلیف پہنچانے لگی اسی دوران ایک دن حضرت نوح علیہ السلام کو ایک بوڑھے نے دیکھا۔ جو لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اس کی گود میں اس کے بیٹے کا بیٹا ( پوتا ) تھا۔ اس بوڑھے نے لڑکے سے کہا۔ بیٹے اس شخص کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے جال میں نہیں پھنسنا ۔ اور کہیں یہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ سن کر اس لڑکے نے کہا۔ آپ مجھے نیچے اتاریئے اور اپنا ڈنڈا مجھے دیں۔ بوڑھے نے اسے نیچے اتار دیا۔ اور ڈنڈا دیا۔ ڈنڈا لے کر وہ لڑکا حضرت نوح علیہ السلام کے سامنے آیا۔ آپ علیہ السلام محبت سے اس کی طرف جھکے۔ اس لڑکے نے پوری طاقت سے ڈنڈا آپ علیہ السلام کے سر پر دے مارا۔ آپ علیہ السلام کا سر پھٹ گیا۔ خون بہنے لگا اور آپ علیہ السلا م چکرا کر گر پڑے۔ اور وہ دونوں اسی حال میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ ایک عرصہ گزر گیا حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور ان سے بحث و تکرار کر کے حقیقت کو ان کے سامنے لانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال 950قیام پذیر رہے۔ لیکن اتنی طویل مدت کی جدو جہد بھی فائدے مند ثابت نہیں ہو سکی۔ اور چند خوش نصیبوں کو چھوڑ کر باقی پوری قوم حق و صداقت ( اسلام ) سے دور ہی رہی ۔ ان کی دشمنی کی انتہا دیکھئے کہ جب کوئی کافر مرنے لگتا تھا تو وہ جاتے جاتے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کر جاتا تھا کہ تم پر حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت لازم ہے۔ کچھ بھی ہو تم ایمان نہیں لاﺅ گے۔ اور اسلام قبول نہیں کرو گے۔ اور ہر حالت میں اس دین ( اسلام) کو جھٹلاﺅ گے۔ جب کسی کے یہاں بچہ پیدا ہوتا تھا۔ اور بات سمجھنے کے قابل ہو تا تھا ۔ تو اسے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اسے نصیحت کی جاتی تھی کہ حق( اسلام) کی مخالفت اور حضرت نوح علیہ السلام سے عداوت اس نسل کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی پہلی نسل کے لئے ضروری تھی۔ باپ اپنے بچوں کو وصیت کرتے تھے کہ جب تک زندہ رہنا۔ تب تک حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت کا جذبہ دل میں سرد نہیں ہونے دینا۔ اور کبھی بھی ان کی دعوت کی طرف توجہ نہیں کرنا۔ ان کی طبیعت کا اقتضا ہی یہ تھا کہ ایمان اور حق کی اتباع کا انکار کرتے چلیں جائیں ۔ گویا سر کشی اورعناد اُن میں رچ بس چکا تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم پر شفقت اور مہربانی
حضرت نوح علیہ السلام انتہائی صبر اور بردباری کے ساتھ دن رات سرا” اور اعلانیہ “ انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی کو بھی اتنے سخت اور شدید حالات نہیں پیش آئے۔ جن کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام کو کرنا پڑا۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ آتے اور پکڑ کر گلا دبا دیتے اور مجلسوں میں آپ علیہ السلام کو مارتے اور بھاگ جاتے تھے۔ آپ علیہ السلام ان کے اس سلوک کے باوجود ان کے لئے بد دعا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے لئے دعا کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ اے میرے رب، میری قوم کو بخش دے کیوں کہ یہ ( اصل حقیقت ) نہیں جانتے ہیں۔ مگر آپ علیہ السلام کے اس حسن سلوک کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ اور ان کی دشمنی اور کفر میں اضافہ ہی ہوا۔ یہاں تک کہ جب آپ علیہ السلام ان میں سے کسی آدمی سے بات کرتے تھے تو وہ اپنے سر کو کپڑے کے ساتھ خوب لپیٹ لیتا اور اپنے کانوں میں انگلی ڈال لیتا تھا۔ تا کہ آپ علیہ السلام کے الفاظ اسے نہ سنائی دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا) میں نے جب بھی انہیں تیری بخشش کے لئے بلایا۔ انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں۔ اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا۔ اور ( کفر و شرک پر ) اڑ گئے اور تکبر کیا۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر 7) پھر وہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور تیزی سے چلے جاتے تھے۔ اور کہتے تھے ۔ اسے رہنے دو۔ کیوں کہ یہ ( نعوذ باللہ) جھوٹا ہے۔ آپ علیہ السلام پر انتہائی سخت اورشدید آزمائش آتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام ایک زمانہ کے بعد دوسرے زمانہ کے لوگوں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کا انتظارکرتے رہے مگر جو بھی نسل آئی۔ وہ پہلی نسل سے زیادہ بد بخت اور خبیث اور متکبر اور سر کش نکلی۔ اور وہ لوگ کہتے یہ ہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی تھا۔ اور یہ مسلسل جنون ( دیوانگی) میں مبتلا ہے۔ اور ان میں سے ہر آدمی مرتے وقت اپنی اولاد کو وصیت کر جاتا تھا کہ اس مجنوں سے بچ کر رہنا۔ کیوں کہ اس کے بارے میں میرے باپ دادا نے بتایا ہے کہ لوگوں کی ہلاکت اور بربادی اس کے ہاتھوں پر ہے۔ اس طرح کی وصیت وہ آپس میں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی اپنے بچے کو کندھے پر اٹھاتا تھا اور جب وہ بچہ اتنا بڑا ہو جاتا تھا کہ اس کی بات کو سمجھ سکے تو وہ کہتا ۔ اے میرے بیٹے، میں زندہ رہوں یا مر جاﺅں تو اس مجنون شخص سے بچنا۔ آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو اتنا مارتی تھی کہ آپ علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر جب ہوش آتا اور کچھ افاقہ ہوتا تو اس طرح دعا کرتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو ہدایت عطا فرما کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کا گلا دباتے تھے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں اوپر چڑھ آتی تھیں۔ اور جب وہ آپ علیہ السلام کو چھوڑتے تو آپ علیہ السلام یہ دعا کرتے ۔ اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیوں کہ وہ جاہل ہے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے عذاب کی مانگ کی
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو مسلسل تکلیفیں اور اذیتیں دیتی رہی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دیتے رہے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈراتے رہے۔ لیکن قوم میں بد بختی اور سر کشی اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمائش کی کہ جس اللہ کے عذاب سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو وہ لے آﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (قوم کے لوگوں نے) کہا۔ اے نوح( علیہ السلام) تم نے ہم سے بحث کر لی اور خوب بحث کر لی۔ اب تم جس چیز سے ہمیں دھمکا رہے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ ہمارے پاس لے آﺅ۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر32) حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن قوم نے اب یہی طریقہ اپنا لیا تھا کہ جب بھی کسی کو آپ علیہ السلام سمجھانے لگتے تو وہ کہتا اے نوح ( علیہ السلام) تمہیں جتنا سمجھانا تھا تم نے ہمیں سمجھا لیا اور خوب اچھی طرح سمجھا لیا ہے۔ یعنی تمہیں جتنی اسلام کی دعوت دینی تھی تم نے دے دی اور خوب اچھی طرح اسلام کی دعوت دی۔ اب تم ایسا کرو اگر تم واقعی سچے ہو تو جس عذاب کی تم ہمیں اکثر دھمکی دیتے رہتے ہو وہ اللہ کا عذاب لے آﺅ۔ جب قوم کے ہر فرد نے عذاب کی مانگ کرنی شروع کر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دیکھو عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور وہ بھی جب وہ خود چاہے گا تب عذاب آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام نے ) جواب دیا۔ اسے ( عذاب کو) بھی اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو صرف وہی لائے گا۔ اورہاں ( جب عذاب آئے گا) تب تم لوگ اسے ( اللہ کو ) ہرا نہیں سکو گے۔ اور اس وقت میں تمہاری کتنی بھی خیر خواہی چاہوں گا تب بھی میری خیر خواہی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر33اور 34) حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ جس عذاب کی تم بار بار مانگ کر رہے ہو وہ لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ اسے صرف اللہ تعالیٰ ہی لا سکتا ہے اور وہ بھی جب اس کا ارادہ ہوگا۔ اور جب وہ عذاب آجائے گا تب میں بھی تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اس وقت میں تمہاری کتنی بھی بھلائی چاہوں گا تو وہ بھی تمہارے کام نہیں آسکے گی۔ اس لئے بار بار عذاب مانگنے کی نادانی مت کرو۔ اور میری بات کو سمجھو اسلام قبول کر لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو وہ تمہیں بخش دے گا اور مغفرت کر دے گا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ لیکن قوم کی بد بختی تھی کہ وہ مسلسل عذاب کی مانگ کرتی رہی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی التجا
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم مسلسل عذاب کی مانگ کرتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام پر ظلم و ستم کرتی رہی۔ جب حضرت نوح علیہ السلام پر قوم کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ ، تیرے بندے میرے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اسے تو دیکھ رہا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ اگر تو اپنے بندوں کو زندہ رکھنا ہی چاہتا ہے تو انہیں ہدایت دے یا پھر اپنا کوئی فیصلہ آنے تک مجھے صبر عطا فرمااور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا۔ تمہاری قوم میں جتنے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں اب ان کے علاوہ کوئی بھی اسلام قبول نہیں کرے گا۔ اور اس پر تم غم مت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام )نے کہا۔ اے میرے پرور دگار میں نے اپنی قوم کو رات و دن تیری طرف بلایا۔ مگر میرے بلانے سے ( یہ لوگ) اور زیادہ ( دور) بھاگنے لگے۔ میں نے جب کبھی انہیں تیری مغفرت کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ اور اپنے چہروں پر کپڑوں کو اوڑھ لیا۔ اور کفر و شرک پر اڑ گئے اور تکبر کیا۔ پھر میں انہیں با آواز بلند بلایا۔ اور بے شک میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی۔ اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشوا ﺅ( معافی مانگو) وہ یقینابڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمانوں کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اور تمہیں باغات دے گا۔ اور تمہارے لئے نہریں نکالے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح ( مختلف رنگ اور قدو قامت )سے پیدا کیا ( سورہ نوح آیت نمبر 5سے 14تک) اسی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام ) نے کہا اے میرے پرور دگار ، ان لوگوں نے میری نافرمانی کی۔ اور ایسوں کی فرماں برداری کی جنہوں نے ان کے مال و اولاد کے نقصان کو بڑھایا ہے۔ اور ان لوگوں نے ( یعنی کافر سرداروں ، پنڈتوں ، پجاریوں ، سادھوﺅں اور حکمرانوں ) بڑا سخت فریب کیا ہے۔ اور انہوںنے عوام سے کہا۔ کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور ”ود“ اور ”سواع“ اور ” یغوث “ اور یعوق“ اور ”نسر“ کو نہیں چھوڑنا۔ اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ( سورہ نوح آیت نمبر21سے 24تک)
جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہمیں نوح ( علیہ السلام ) نے پکارا۔ تو دیکھ لو ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔( سورہ الصافّات آیت نمبر74) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت نوح علیہ السلام نے کہا) اے میرے پروردگار ،میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھ مسلمانوں کو نجات دے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر118) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” پس اُس نے ( حضرت نوح علیہ السلام نے)اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر“ ( سورہ القمر آیت نمبر ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام ) نے دعا کی اے میرے رب، ان کے جھٹلانے پر میری مدد کر۔“ ( سورہ المومنون آیت نمبر26) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” نوح علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس تم ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو۔ ( سورہ ہود آیت نمبر36)
کشتی بنانے کا حکم
اللہ تعالیٰ سے حضرت نوح علیہ السلام نے گذارش کی کہ پچھلے کئی سو سال سے میں اپنی قوم کو سمجھا رہا ہوں ۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے پوری قوم کفر اور شرک پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اس لئے اے اللہ تعالیٰ اب تو انہیں ہدایت دے دے یا پھر اپنا فیصلہ سنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ تمہاری قوم میں جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے اب کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام کو بہت دکھ ہوا کہ کئی سو برس کی مسلسل شدید محنت کے بعد بھی یہ کافر ہی مریں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ تم ان کے کاموں یا ان کے اوپر غمگین نہیں ہونا اسی لئے آپ علیہ السلام نے صبر کر لیا۔ اور جب آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ پوری قوم کے لئے عذاب مقرر کر دیا گیا ہے تو آپ علیہ السلام نے دعا کی ۔ اس کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور نوح علیہ السلام نے کہا۔ اے میرے پروردگار تو رو‘ئے زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا۔ اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو ( یقینا) یہ تیرے ( دوسرے ) بندوں کو ( بھی) گمراہ کر دیں گے۔ اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں کو ہی پیدا کریں گے۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر26سے 27) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ اب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے میرے رب ، (اللہ تعالیٰ) میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ اب تو میرے اور ان کے درمیان میں پورا فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے۔ اور یہ بھی دعا کی ۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) زمین پر کافروں میں سے کسی کو نہ چھوڑ ۔ بے شک اگر تو انہیں رہنے دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے۔ اور ان کی اولاد بھی ناشکری ہوگی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کے بعدا للہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کشتی بناﺅ۔ ہماری مدد سے اور ہمارے حکم سے۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق تیار کرو۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات نہیں کرنا۔ وہ پانی میں ڈبو دیئے جائیں گے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر37) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح علیہ السلام نے دعا کی، اے میرے رب ، ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر۔ تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کےمطابق ایک کشتی بناﺅ۔ ( سورہ المومنون آیت نمبر27) اسی آیت میں آگے فرمایا۔ ” خبر دار جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ بات نہیں کرنا۔ وہ تو سب ڈبو دیئے جائیں گے۔“ (سورہ المومنون آیت نمبر27) اللہ تعالیٰ کا اشارہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور بیٹے کی طرف تھا۔ کیوں کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ پر اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے۔ اور اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ( تفسیر جلالین،تفسیر روح البیان)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں