سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام
سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام
قسط نمبر 4
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
حضرت آدم علیہ السلام کا جنت میں قیام
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلا م) تم جنت میں داخل ہو جاﺅ اور وہاں عزت و احترام کی زندگی بسر کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے کہا اے آدم ( علیہ السلام ) تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور اس میں سے جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو کھاؤ۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر35 ) تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی یہ بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کرانے کے بعد انھیں جنت میں رکھا اور ہر چیز کی رخصت دے دی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں ، نبی بھی تھے اور رسول بھی تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے آمنے سامنے بات چیت کی اور انہیں فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ عام مفسرین کا بیان ہے کہ انہیں آسمانی جنت میں رکھا گیا تھا۔ لیکن معتزلہ اور قدریہ کہتے ہیں کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ ( جو کہ جھوٹ ہے) ( تفسیر ابن کثیر)
سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ ( بیوی ) سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو پید ا فرمایا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یہ تو سب مانتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام وہاں پیدا ہوئے جہاں آج مکہ مکرمہ ہے۔ لیکن سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش میں اختلاف ہے کہ کہاں پیدا ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں پید اہوئیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سو رہے تھے ان کی پسلی سے ان کو پیدا فرمایا۔ تو آیت کے معنی ہوں گے اے آدم علیہ السلام ، آپ اور آپ کی بیوی جنت میں ٹھہرے رہو۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت فرمائی کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو نوری لباس پہنایا ، ان کے سر پر تاج رکھے، سونے کے تخت پر بٹھایا۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو مختلف قسم کے زیوروں سے آراستہ کیا اور پھر دونوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ (تفسیر کبیر روح البیان ) اس سے معلوم ہوا کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش زمین پر ہوئی۔ اب آیت کے معنی ہوں گے کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں جا کر رہو۔ ( تفسیر نعیمی)
حوا نام کیوں؟
ابلیس کو جنت سے نکالنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں جگہ دی گئی لیکن تنِ تنہا تھے۔ اس وجہ سے ان کی نیند میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو ان کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ جاگے تو انھیں دیکھا اور پوچھا ۔ تم کون ہو؟ اور کیوں پیدا کی گئی ہو؟ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ میں عورت ہوں اور آپ ( علیہ السلام ) کے ساتھ رہنے اور تسکین کا سبب بننے کے لئے پید ا کی گئی ہوں۔ فوراً فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام عرض کیا ۔ فرمائیے ان کا نام کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ حوا۔ انھوں نے کہا۔ اس نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اس لئے کہ یہ ایک زندہ سے پید ا کی گئی ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی آواز آئی۔ اے آدم ( علیہ السلام ) اب تم اور تمہاری بیوی آرام سے جنت میں رہو اور جو چاہو کھاﺅ پیو۔ جب سیدہ حوا رضی اللہ عنہا ان کی پسلی سے پیدا کی گئیں تب حضرت آدم علیہ السلام کو تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ اگر آپ علیہ السلام کو تکلیف محسوس ہوتی تو کوئی شخص اپنی بیوی پر مہربان نہیں ہوتا۔ جب آپ علیہ السلام بیدار ہوئے تو پوچھا گیا ۔ یہ کون ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اِمراة’‘۔ یعنی عورت ہے۔ پوچھا گیا۔ اس کا نام کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ حوا۔ پوچھا گیا ۔ امراة’‘ کیوں ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔یہ المراء( مرد ) سے پیدا ہوئی ہے۔ پوچھا گیا۔ اس کا نام حوا کیوں رکھا؟آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیوں کہ یہ حی ( زندہ ) سے پیدا کی گئی ہے۔ فرشتوں نے پوچھا ۔ کیا آپ علیہ السلام ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں۔ پھر فرشتوں نے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا سے پوچھا ۔ کیا آپ ان سے محبت کرتی ہیں؟وہ مسکرائیں اور شرما گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہاری زوجہ ہے۔ تم اکیلا پن محسوس کر تے تھے اس لئے یہ تمہاری ساتھی ہے۔ اور وہ دونوں جنت میں رہنے لگے۔ مگر شیطان ان دونوں کی تاک میں تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام کی آزمائش
آپ کو یاد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود ابلیس کہہ کر دھتکار دیا تھا۔ شیطان کو اس میں اپنی بہت ہی بے عزتی محسوس ہوئی تھی اوروہ یہی سوچ رہا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی وجہ سے میری بے عزتی ہوئی ہے تو میں بھی ایسا کچھ کروں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ وہی سلوک ہو جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا تھا۔ جنت کی ہر شئے استعمال کر سکتے ہو۔ کچھ بھی کھا پی سکتے ہو۔ ہاں ایک درخت ہے اس کا پھل نہیں کھانا۔ شیطان نے اسی کا فائدہ اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے کہا۔ اے آدم تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 35) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم ( علیہ السلام ) تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوںکھاﺅ۔ اور اس درخت کے پاس مت جاﺅ اس لئے کہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر19)باس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ ایک خاص درخت سے روکنا در اصل امتحان تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ انگور کی بیل تھی۔ کوئی کہتا ہے ۔ گیہوں کا درخت تھا۔ کسی نے سنبلہ کہا ہے۔ کسی نے کھجور ، کسی نے انجیر کہا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اس درخت کے کھانے سے انسانی حاجت ہوتی ہے۔ جو جنت کے لائق نہیں ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری فرماتے ہیں ۔ یہ کوئی ایک درخت تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا تھا۔ نہ تو قرآن پاک سے اس کا تعین ہوتا ہے اور نہ ہی کسی حدیث سے ۔ مفسرین میں اختلاف ہے ۔ اور اس کے معلوم ہو جانے سے کوئی اہم فائدہ نہیں ہوگا۔ اور نہیں معلوم ہونے سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس جستجو کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا بہتر علم ہے۔
ابلیس شیطان کا بہکانا
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جنت میں رکھا ۔ دونوں سکون سے رہ رہے تھے اور ابلیس شیطان حسد سے جل رہا تھا۔ آخر کار شیطان چپکے سے جنت میں داخل ہوا ۔ کیسے داخل ہوا اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو بہکانے لگا۔ کہنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ پھل اس لئے کھانے سے منع فرمایا ہے کہ اگر تم اسے کھا لو گے تو ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہو گے اور تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ اور بہت سے فائدے بتائے اور یقین دلانے کے لئے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس واقعہ کو کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس کا وسوسہ یہ تھا کہ اس درخت کے کھانے سے قوتِ ملکیت اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ مگر شروع میں چوں کہ آ پ علیہ السلام کا وجود اس طاقت ور غذا کا متحمل نہیں تھا اسی لئے منع کر دیا گیا تھا۔ اب آپ علیہ السلام کی حالت اور قوت میں ترقی ہو گئی ہے۔ اور آپ دونوں کے قویٰ میں اس کا تحمل پیدا ہو گیا ہے۔ تو اب وہ ممانعت باقی نہیں رہی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ دیکھو تمہیں اس درخت کے کھانے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ جو کوئی شخص اس درخت میں سے کھا لے گا وہ ہمیشہ یہیں رہے گا اور جو بادشاہی یہاں حاصل ہے اس میں کبھی کمزوری نہیں آئے گی اور اس نے یہ بھی کہا کہ تم دونوں کو تمہارے رب نے اس درخت کے کھانے سے اس لئے روکا ہے کہ اس کو کھا کر فرشتے ہو جاﺅ گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے۔
مومن اللہ کے نام کے بعد ہتھیار ڈال دیتے ہیں
حضرت آدم علیہ السلام کو اور ان کی بیوی کو ابلیس شیطان مسلسل بہکا تا رہا اور کہا کہ ابلیس نے ان دونوں سے عرض کیا۔ آپ علیہ السلام کے حضور مجھ سے بڑی بے ادبی ہوئی ہے کہ میں نے آپ علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے ملعون ہو گیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرلوں اور آپ علیہ السلام کو ایسے مقام اور مرتبہ پر پہنچا دوں جس سے آپ علیہ السلام مجھ سے راضی ہو جائیں اور آپ علیہ السلا م کا جو غصہ مجھ پر ہے وہ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد وہ آگے بولا۔ آپ علیہ السلام اپنی اس تعظیم و تکریم پر زیادہ خوش نہ ہوں کیوں کہ آخر کار آپ علیہ السلام کو موت آنے والی ہے۔ جس سے تمام عیش و آرام ختم ہو جائیں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ موت کیا چیز ہے؟ ابلیس شیطان مردہ بن کر ان کے سامنے پڑ گیا اور جان نکلنے کے وقت جو حالت ہوتی ہے یعنی ہاتھ پاﺅں پٹکنا، روح کا نکلنا اور تڑپنا وغیرہ ان دونوں دکھلایا۔ دونوں اس کی حالت دیکھ کر خوف کا شکار ہو گئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ کیا اس سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے۔ اس نے کہا۔ ہاں ،میں تم کو ایسے درخت کا پتہ بتاتا ہوں کہ جو اس کا پھل کھالے گا تو ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اور اس کی بادشاہت ہمیشہ قائم رہے گی۔ ان دونوں نے پوچھا ۔ وہ کون سا درخت ہے؟ تو اس نے وہی درخت بتایا جس کا پھل کھانے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ اس درخت کا پھل کھانے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔ اور اگر ہم کھالیں گے تو ہم پر عتاب ہوگا۔ اگر یہ ہمارے لئے فائدے مند ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے کھانے سے ہم کو نہیں روکتے۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ دونوں کو اس لئے منع نہیں کیا ہے کہ یہ درخت نقصان دہ ہے۔ بلکہ اس لئے منع فرمایا ہے کہ اسے کھا کر آپ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پالیں گے اور فرشتے بن جائیں گے تو آپ دونوں کو موت نہیں آئے گی اور آپ علیہ السلام کے رب نے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے پھل کھانے سے منع نہیں فرمایا۔ آپ دونوں اس کے پاس نہ جائیں ۔ میں اس کا پھل لا دیتا ہوں اور آپ دونوں کھالیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس پھل کو کھانے سے منع فرمایا ہے تو یہ ممانعت آپ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت تھی۔ اس وقت اس کو ہضم کرنے کی آپ دونوں میں طاقت نہیں تھی۔ اب اللہ کے فضل سے آپ دونوں بہت طاقتور ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب اس کا کھانا نقصان دہ نہیں ہے۔ اس طرح مسلسل ابلیس شیطان دونوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے لگا۔ اور قسم کھا کر کہنے لگا۔ میں تم دونوں کا خیر خواہ ( بھلائی چاہنے والا) ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام سادہ مزاج اور سادہ لوح تھے۔ آپ علیہ السلام نے سوچا کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ۔ آپ علیہ السلام کو یہ یاد نہ رہا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ لیں۔ پریشانی کے عالم میں بھول گئے اور ابلیس شیطان کی قسم کا اعتبار کر کے پھل کھالیا۔حضرت آدم علیہ السلام نے اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ۔ ابلیس شیطان بار بار قسم کھاتا رہا اسی قسم کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام اس خبیث کے بہکاوے میں آگئے ۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ تعالیٰ کو درمیان میں ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ( مومن) اللہ کے نام کے بعد ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کی عاجزی
حضرت آدم علیہ السلام انتہائی سادہ مزاج اور سیدھے سادھے تھے۔ انھوں نے شیطان کی قسم کا بھروسہ کر لیا اور دونوں نے پھل کھا لیا۔ پھل کھاتے ہی جنت کا لباس اتر گیا اور دونوں جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلام ) میں نے اس پھل کو کھانے سے منع فرمایا تھا۔ پھر بھی تم نے کھا لیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کی اور اپنی شرمندگی کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” پس اُن دونوں نے جب درخت کے پھل کو کھایا تو دونوں کے بدن کا پردہ ( جنت کا لباس ) اتر گیا اور دونوں ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہو گئے۔ اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کے رکھنے لگے۔ اور ان کے رب نے اُن کو پکارا ۔ کیا میں نے تم دونوں کو پہلے ہی اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا صاف دشمن ہے؟ دونوں نے کہا ۔ اے ہمارے رب ۔ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرتے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر22اور 23) ایک روایت میں ہے کہ اس درخت کا پھل کھانے میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے سبقت کی۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تم بھی کھا لو کیوں کہ میں نے کھایا تو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے اجتہاد سے سمجھا کہ کسی خاص درخت کا پھل کھانے کا منع ہے۔ اور اسی نوع ( ذات ) کے دوسرے درخت کا پھل کھانے کو منع نہیں ہے۔ اور یہ بھول گئے کہ اس نوع ( ذات ) کے کسی بھی درخت کا پھل کھانا منع ہے۔ پھرجب انہوں نے کھا لیا تو جنت کے جس نور نے ان کے بدن کو ڈھک رکھا تھا وہ اتر گیا تو وہ اپنے بدن کو پتوں سے چھپانے لگے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ۔ اس نے تیری قسم کھائی تھی اور میر ا گمان تھا کہ تیری مخلوق میں سے کوئی بھی تیری جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ہے۔
تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصو م ہیں
یہاں ذرا سا رُک کر ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہم حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ( نعوذ باللہ) غلطی ہوئی یا نافرمانی ہوئی۔ یہ انتہائی غلط بات ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے معصوم بنایا ہے۔ ان سے غلطی یا نا فرمانی ہو ہی نہیں سکتی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن پاک میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ ( نعوذ باللہ ) حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی یا نافرمانی ہوئی ہے۔ جب کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے ۔ ہر ایک کا بلکہ ہر شئے کا خالق ہے۔ ہر ایک کا اور ہر شئے کا مالک ہے۔ باقی سب اس کی مخلوق ہیں۔ وہ چاہے تو کسی کو بھی کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ انہیں نسیان ہو گیا تھا اور بھول کر انھوں نے پھل کھا لیا تھا۔ ان کا ایسا کوئی ارادہ تھا ہی نہیں کہ میں ( نعوذ باللہ ) جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا۔ ترجمہ” ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دے دیا تھا۔ لیکن وہ بھول گئے اور ہم نے اس میں ( نافرمانی کا ) کوئی ارادہ اور عزم نہیں پایا۔
صحیح اور غلط شخص کا فرق
یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے پھل کھانے کے عمل کو ( نعوذ باللہ ) غلطی یا نافرمانی نہیں فرمایا ہے۔ اور ہم بے خوف ہو کر ہمارے سب کے والد محترم اور امی جان سے ایسی غلط بات منسوب کرتے ہیں اگر ہماری حقیقی والدہ یا والد کے بارے میں اگر کوئی غلط بات منسوب کرتا ہے تو ہمارا خون کھول اٹھتا ہے۔ اور ہم اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ ساری دنیا کے ماں اور باپ کے بارے میں ہم خود ایسی غلط بات منسوب کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ اور صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی غلط شخص کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسا کہ ابلیس نے جان بوجھ کر غلطی کی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اور آج تک کوشش کرر ہا ہے۔ اور قیامت تک کوشش کرتا رہے گا۔ لیکن ایک اچھا اور سچا فرمانبردار بندہ بھول کر انجانے میں کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے اور اللہ تعالیٰ اسے نافرمانی بھی نہیں مانتا ہو۔ اس کے باوجود وہ شرمندہ ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں