اتوار، 2 اپریل، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 30 Khulasa e Quran


30 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (30) 

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره النباء 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، جب وہ آئے گی تو وہ ضرور جان جائیں گے ۔ کافر دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے رہنے کے لئے پھیلایا اور اس میں مضبوطی کے لئے پہاڑ گاڑ دیئے اور تم کو جوڑے جوڑے بنائے اور رات بنائی کہ تم آرام کی نیند پاؤ اور دن بنایا کہ رزق تلاش کرو اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ان میں ایک چمکتا چراغ ( سورج ) رکھا اور بادلوں سے بارش برسائی اور اس سے اناج اور سبزی اور پھل اور میوے پیدا کئے ۔ بیشک فیصلہ کا دن (یعنی قیامت کا آنا ) مقرر ہے۔ اس دن صور پھونکا جائے گا تو تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع (حاضر) ہو جاؤ گے اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہوں گے اور پہاڑ چلا دئیے جائیں گے تو وہ (سراب) چمکتی ریت بن کر رہ جائیں گے اور جہنم سرکشوں کی تاک میں ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں انھیں کوئی ٹھنڈک نہیں ملے گی اور پینے کے لئے کھولتا پانی اور جہنمیوں کی پیپ ملے گی۔ بے شک ان لوگوں کو حساب کا خوف نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے (ان سے کہا جائے گا ) کہ اب چکھو عذاب کا مزہ۔ ہم تو تمہاری سزا بس بڑھاتے ہی رہیں گے۔ 
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو ایمان لائے ، نیک اعمال کئے اور گناہوں سے بچے ، اُس دن وہ لوگ جنت کے باغوں میں ہوں اور بہترین پھل اور میوے کھائیں گے اور بہترین مشروب پئیں گے اور جنت میں نہ تو بے ہودہ بات اور نہ ہی جھوٹ سنیں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہمانی ہوگی ۔ جو زمین اور آسمان کا رب ہے۔ قیامت کے دن میدان حشر میں کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات کرے۔ جبرئیل علیہ السلام اور تمام فرشتے خاموش کھڑے ہوں گے ۔ ہاں صرف وہی بات کر سکے گا جس کو (مثلاً رسول اللہ ﷺ کو) اللہ تعالی رحمٰن اجازت دے گا اور وہ حق ہی بولے گا۔ قیامت برحق ہے ۔ اب جو چاہے اللہ تعالیٰ کا راستہ اختیار کرے ۔ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں اس عذاب (قیامت کا دن ) سے ڈرایا ہے جو نزدیک آ گیا ہے۔ اُس دن آدمی دیکھے گا کہ اس نے آگے کیا کچھ بھیج رکھا ہے اور کافر کہے گا: ہائے! میں کسی طرح مٹی ہو جاتا۔ (سورۃ النبا مکمل)
سورة النازعات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں جان نکالنے والے اور ہر قسم کا کام کرنے والے فرشتوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد قیامت کے بارے میں بتایا کہ جب وہ آئے گی تو کافروں کو عذاب ہوگا اور کافر کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گل جائیں گی تو دوبارہ ہمیں کیسے زندہ کیا جائے گا۔ ایک زور دار آواز ہوگی اور سب کے سب میدان حشر میں جمع ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے قبول کرنے سے انکار کیا اور بولا: میں تمہارا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت دونوں جگہ کے عذاب میں پکڑ لیا۔ ایمان والوں کے لئے اس قصہ میں سبق ہے۔ 
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اتنے بڑے آسمان کا بنانا کچھ مشکل نہیں ہوا تو تمہیں دوبارہ بنانا تو اس سے بھی آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین پھیلائی اور اس میں پہاڑوں کو جمایا اور اس میں سے پانی اور اناج اور پھل اور میوے اور چارہ نکالا جس سے تم اور تمہارے جانور فائدہ اٹھاتے ہیں تو جب قیامت آئے گی ہر آدمی اپنے اعمال کو یاد کرے گا ۔ جہنم ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔ جو لوگ دنیا میں مگن رہے اُن کے لئے جہنم ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب سے ڈرا اور اپنے نفس اور خواہشوں کو گناہوں سے روکا تو بے شک جنت ایسی ہی لوگوں کا ٹھکانہ ہے۔ (سورۃ النازعات مکمل)
سورة عبس 
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو سمجھایا کہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ کے اُن کا فر سرداروں کے پیچھے پریشان نہ ہوں جو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اُن لوگوں پر توجہ دیں جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہوں ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے ہر انسان کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ انسان کو کس طرح سے پیدا فرمایا؟ کس طرح تمام مخلوقات کے لئے رزق پیدا فرمایا؟ پھر قیامت کے بارے میں بتایا کہ جب وہ آئے گی تو آدمی اپنے ماں باپ ، اپنے بھائی ، اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے دور بھاگے گا ۔ اُس دن مؤمن خوش ہوں گے اور مجرم اور کا فرغمگین ہوں گے۔(سورہ النازعات مکمل)
سورة التكوير
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت کے دن سورج کی روشنی ختم کر دی جائے گی اور تارے بھی غائب کر دیئے جائیں گے اور پہاڑ چلائے جائیں گے۔ حاملہ اونٹنیوں کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور دہشت سے وحشی جانور ایک جگہ جمع ہو جائیں گے اور سمندروں میں آگ لگا دی جائے گی اور جسموں کو جانوں سے جوڑ دیا جائے گا اور زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں تجھے زندہ دفن کیا گیا؟ اور نامۂ اعمال کھولے جائیں گے اور آسمان بھیج دیا جائے گا اور جہنم کو دہکایا جائے گا اور جنت سامنے لائی جائے گی تو ہر کوئی یہ معلوم کر لے گا کہ اس نے کیا اعمال کئے ۔ اس کے بعد ستاروں اور رات اور صبح کی بعض کیفیات کی قسم کھا کر بتایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالی کی طرف ہے جبرئیل علیہ السلام لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں ۔ یہ کسی شیطان کا پڑھا ہوا نہیں ہے بلکہ قرآن پاک تو تمام عالم والوں کے لئے صاف نصیحت ہے، تو جو سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہے تو کرلے۔ (سورہ التکویر مکمل)
سورة الانفطار
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے ہولناک منظر کو بیان کیا کہ آسمان کو پھاڑ دیا جائے گا۔ تاروں کو بے نور کر دیا جائے گا۔ سمندر بہا دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی۔ ہر کوئی جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑ آیا ہے؟ اے انسان! کس فریب نے تجھے اللہ تعالی کی عبادت سے روکا۔ جب کہ اللہ تعالی نے تجھے پیدا کیا اور ہاتھ پاؤں اور بہترین شکل عطا فرمائی۔ ہر انسان پر اللہ تعالی نے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ہر عمل لکھ لیتے ہیں تو ایمان والے نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور بد کار کافر لوگ جہنم میں۔ یہ ہے انصاف کا دن اور تم کیا جانو انصاف کا دن کیسا ہے ؟ اُس دن کسی کو کچھ اختیار نہیں رہے گا اور صرف اللہ تعالی کا حکم چلے گا۔ (سورة الانفطار)
سورة المطففين
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کم تولنے والے بہت بڑے نقصان میں ہیں۔ کیا وہ لوگ قیامت کے دن کو بھول گئے جب ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے اور کافروں کے لئے " سجین" ہے۔ یہ لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے اور جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو کہتے تھے کہ یہ تو صرف کہانی قصے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا اور وہ اللہ تعالی کے دیدار سے محروم رہیں گے ۔ جہنم اُن کا ٹھکانہ ہے۔ ایمان والے نیک لوگوں کے لئے "علیین" ہے۔ وہ جنت میں تختوں پر ہوں گے اور بہترین مشک کی مہر گلی ہوئی نتھری شراب انہیں پلائی جائے گی ۔ دنیا کی زندگی میں مجرم لوگ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے ۔ آج ( قیامت کے دن ) مسلمان ان کا مذاق اڑائیں گے۔(سورة المطففين)
سورة الانشقاق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس سورہ میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ آسمان اللہ تعالی کے حکم سے پھٹ جائے گا اور زمین اللہ تعالی کے حکم سے اپنے اندر کی چیزیں باہر نکال دے گی ۔ تو اے انسان اتجھے یقینا اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی گھر والوں میں آئے گا اور جس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ موت کی تمنا کرے گا۔ دنیا میں تو وہ اپنے گھر میں بہت خوش تھا اور اس گمان میں تھا کہ اللہ تعالٰی اُس کا حساب نہیں لے گا تو پھر یہ کافر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ جب انھیں قرآن پاک سنایا جاتا ہے تو سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ (سورة الانشقاق)
سورة البروج
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں " اصحاب الاخدود" کا واقعہ بیان فرمایا جس میں کافروں نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف دیں گے اور توبہ نہیں کریں گے تو انھیں جہنم میں ڈالا جائے گا اور ایمان والے نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور اللہ تعالی عرش کا مالک ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے اور اللہ تعالی کی گرفت بہت سخت ہے۔ کیا تم لوگوں کو ان لشکروں کے بارے میں نہیں بتایا گیا جن پر اللہ تعالٰی نے گرفت کی؟ فرعون اور محمود کے لشکروں کی خبر ۔ یہ بزرگی والا قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔( سورة البروج)
سورة الطارق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ ہر انسان پر بلکہ ہر جاندار پر اللہ تعالی نے اپنے نگہبان (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں۔ اس کے بعد انسان اس کی تخلیق اور بناوٹ غور کرنے کا حکم دیا کہ تعالی نے ایسے کیسے بنایا؟ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ بھی بنائے گا۔ اُس دن ہر چھپی اور کھلی بات کی جانچ ہوگی اور انسان کچھ نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی مددگار ہوگا اور یہ قرآن پاک سچ اور حق ہے۔ یہ کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے۔ کافر اپنا داؤ چلتے ہیں اور اللہ تعالی اپنی تدبیر کرتا ہے۔ آپ ﷺ کچھ وقت کے لئے انھیں مہلت دے دیں۔( سورة الطارق)
سورة الأعلى  
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرو جو سب سے بلند ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہیں ( قرآن پاک) یاد کرادے گا اور پھر آپ ﷺ نہیں بھولیں گے۔ اللہ تعالی ہر ظاہر اور چھپی ہوئی چیز کو جانتاہے اور اللہ تعالی آسانی فرما دے گا۔ آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت کریں۔ تو جو نصیحت قبول کرے گا وہ کامیاب ہوا اور جو بد بخت نصیحت قبول کرنے سے انکار کر دے گا تو وہ آگ ( جہنم ) میں ڈالا جائے گا۔ پھر اس میں نہ چین سے زندہ رہ سکے گا اور نہ ہی وہ مر سکے گا۔ جس نے طہارت اختیار کی اور اللہ تعالیٰ کے نام سے نماز قائم کی وہ کامیاب ہوا اور تم لوگ دنیا کی زندگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہو اور آخرت کو بھول جاتے ہو جب کہ آخرت تمہارے لئے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔(سورة الأعلى مکمل)
سورہ الغاشيہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کیا تم کو اس چھا جانے والی مصیبت (قیامت) کی خبر ملی ؟ اُس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے ۔ مشقت اور تکلیف میں (میدان حشر میں ) رہیں گے ۔ بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ جلتے کھولتے چشمے کا پانی اور جلتے ہوئے کانٹے اُن کو کھانے پینے کو دئے جائیں گے۔ جن سے نہ بھوک مٹے گی اور نہ ہی موٹے ہوں (یہ حال جہنم والوں کا ہوگا ) اس کے بعد جنت والوں کا ذکر فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ اور چین وسکون میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوشش (اعمال) سے راضی ہوگا۔ جنت میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے ۔ جس سے یہ سیراب ہوں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کیا یہ لوگ اونٹ کی بناوٹ پر غور نہیں کرتے اور آسمان کی بلندی پر نگاہ نہیں کرتے ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ پہاڑوں کو کس طرح نصب کر دیا گیا اور زمین کوکس طرح سے بچھا دیا ہے؟ سو( آپ ﷺ ) انھیں نصیحت کریں ، آپ ﷺ تو بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں ان پر کچھ وکیل اور ذمہ دار نہیں ہیں ، اب اتنی صاف حقیقت جاننے کے بعد بھی جو ایمان نہیں لائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑا عذاب دے گا اور ہر ایک کو اللہ تعالی ہی کی بارگاہ میں جمع ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالٰی سب سے حساب لے گا۔( سورہ الغاشيہ مکمل)
سورة الفجر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قوم ثمود اور آل فرعون کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے سرکشی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب کا کوڑا مارا ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتے ہیں کبھی تو اس طرح سے کہ اس کو خوب نوازتے ہیں اور اس پر خوب احسانات فرماتے ہیں ، انسان کہتا ہے کہ میں اسی لائق تھا کہ مجھے نوازا جائے ( یعنی وہ بجائے شکر ادا کرنے کے اترانے لگتا ہے) اور کبھی اس کی آزمائش اس طرح سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اس کی روزی تنگ کر دیتے ہیں تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے مالک نے میری قدر نہیں کی (یعنی صبر کرنے کی جگہ وہ شکوہ شکایت کرتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں عزت تو اس کی ہوگی جو یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھتا ہو میراث کے مال کو انصاف کے ساتھ وارثین میں تقسیم کرتا ہو اور مال سے اس کو حد سے زیادہ محبت اور رغبت نہ ہو، اللہ تعالی کے یہاں عزت اور قدر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر انسان یتیم کی عزت نہیں کرتے اور آپس میں ایک دوسرے کو مستحق اور مسکین کو کھلانے کی رغبت نہیں رکھتے اور میراث کا مال اصل وارثوں کو دینے کی بجائے خود ہڑپ کر جاتے ہیں اور مال و دولت سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی اور فرشتے قطار در قطار اتریں گے اور جہنم سامنے لائی جائے گی۔ اس دن انسان سوچے گا اور اب سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، وہ کہے گا کاش ! میں نے دنیا کی زندگی سے آخرت کے لئے نیکی بھیجی ہوتی ۔ تو اس دن اللہ تعالی اسے ایسا سخت عذاب دیں گے کہ کوئی کسی کو اس کے جیسا عذاب نہ دیا ہوگا اور اس کی ایسی پکڑ کرے گا کہ اس کی مانند کوئی کسی کی پکڑ نہ کیا ہوگا اور ایمان لانے والوں ۔ پھر فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والوں سے کہا جائے گا : اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف چل، اس حال میں کہ تو اپنے رب سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے اور اللہ تعالی کے خاص بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہو جا۔(سورة الفجر مکمل)
سورة البلد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالی نے انسان کی دو آنکھیں بنائیں اور زبان بنائی اور دو ہونٹ دیئے پھر اسے دونوں راستے سُجھا دیے پھر وہ اگر ایمان لائے اور غلام کو آزاد کروائے اور بھوکے کو کھانا کھلائے اور رشتہ دار یتیم اور مسکین کی مدد کرے اور ایمان والوں کو آپس میں صبر کی تلقین کرے اور مہربانی کرے تو ایسے ہی لوگ دائیں طرف والے ہیں اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا ( یعنی کفر کیا ) تو وہ بائیں طرف والے ہیں۔ اُن کے لئے آگ ہے کہ اُس میں ڈال کر بند کر دیئے جائیں گے۔(سورة البلد)
سورة الشمس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں سورج ، چاند، دن، رات ، آسمان، زمین اور انسان کی جان کی قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اچھائی اور برائی کو الہام کر دیا ہے۔ جس نے طہارت اختیار کی اور اپنے نفس کو پاک کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لا کر اُن کا حکم مانا۔ وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے برائی اختیار کی اور کفر کیا وہ نا کام ہو گیا۔ اس کے بعد قوم ثمود کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے انھیں بلاک کر دیا اور اللہ تعالی کسی کا خوف نہیں ہے۔ (سورة الشمس)
سورة الليل 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17 
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رات کی اور دن کی اور خود اپنی قسم کھا کر فرمایا کہ تم انسانوں کی الگ الگ کوششیں ہیں تو جو ایمان لائے گا اور قرآن پاک پر عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی کر دے گا اور جو کنجوسی کرے گا اور کفر کرے گا اور قرآن پاک کو جھٹلائے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا اور وہ آخرت میں دشواری میں مبتلا ہوگا اور دنیا اور آخرت کا مالک بس اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں آگ سے ڈراتا ہے جس میں جھٹلانے والے جائیں گے اور گناہوں سے پر ہیز کرنے والے نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ آگ سے بچالے گا۔ (سورة الليل مکمل)
سورة الضحى
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں چاشت کے وقت اور رات کی قسم کھا کر رسول الله ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں کبھی نہیں چھوڑا اور آپ ﷺ کیلئے ہر آنے والا وقت بہتر ہوگا، بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہو جائیں گے تو آپ ﷺ یتیم کا خیال رکھیں اور مانگنے والوں کو عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر فرمائیں۔ ( سورة الضحى مکمل)
سورة الم نشرح
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کا سینۂ اقدس اسلام کے لئے کھول دیا اور کافروں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ ﷺ کے دل ودماغ پر جو بوجھ تھا اسے اتار دیا اور اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی خاطر آپ ﷺ کا ذکر بلند کر دیا۔ بے شک ہر تکلیف کے ساتھ آسانی ہے اور بے شک ہر آسانی کے ساتھ دشواری ہے۔ سو فارغ وقت میں اللہ تعالی کی طرف راغب ہو جائیں اور عبادت میں محنت کریں۔ (سورة الم نشرح)
سوره التين
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 20
اللہ تعالی نے اس رکوع میں انجیر، زیتون، طور سینا اور امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھا کرفرمایا کہ للہ تعالی نے انسان کو بہت بہترین انداز میں بنایا پھر اسے بڑھاپے کی طرف پھیر دیا۔ تو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اس کے لئے بے حد اجر و ثواب ہے ۔ تو (اے کا فرو!) اب کون سی چیز تجھے حق (اسلام) کو جھٹلانے کی وجہ بن رہی ہے؟ اور کیا اللہ تعالی تمام حاکموں کا حاکم نہیں ہے؟(سوره التين)
سورة العلق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 21 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا ۔ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا فرمایا ۔ پڑھئے، اللہ تعالی بڑا کرم کرنے والا ہے۔ اسی نے انسان کو قلم سے لکھنا سکھایا۔ وہ سب کچھ بتایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس کے بعد ابو جہل کو پھٹکارا کہ اس نے سرکشی کی (یعنی اسلام قبول نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں دیں ) اور اپنے آپ کو اللہ تعالی کی گرفت سے محفوظ سمجھ لیا۔ بے شک سب کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں جمع ہوتا ہے۔ پھر دیکھو وہ رسول اللہ ﷺ کونماز سے روکتا ہے۔ پھر اس نے آپ ﷺ اور قرآن پاک کو جھٹلایا اور آپ ﷺ سے منہ پھیر کر چل دیا تو اللہ تعالی دیکھ رہا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔ اگر وہ باز نہیں آیا تو اللہ تعالی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچے گا ۔ جھوٹے خطا کار کی پیشانی پھر وہ اپنے کافرساتھیوں کو بلا لے اور اللہ تعالیٰ اپنے سپاہیوں کو بلائے گا اور اس کی طرف آپ ﷺ اور مسلمان توجہ نہ دیں اور سجدہ کریں اور اللہ تعالی کے قریب ہو جائیں۔ (سورة العلق)
سورة القدر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 22 : اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے یہ قرآن پاک شب قدر میں اتارا اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے؟ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے اترتے ہیں ہر کام کے لئے، اور صبح ہونے تک سلامتی رہتی ہے۔ (سورة القدر)
سوره البينہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 23
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اہل کتاب (یہودی اور عیسائی ) ایک روشن دلیل ( رسول اللہ ﷺ ) کے انتظار میں تھے اور جب آپ ﷺ تشریف لائے اور اہل کتاب پر قرآن پاک کی آیتیں تلاوت کیں تو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے اور اکثر انکار کر کے کافر ہو گئے اور اہل کتاب کو تو اللہ تعالٰی نے یہی حکم دیا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان آئیں تو وہ اُن پر ایمان لائیں اور اُن کے ساتھ مل کر نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی سیدھا دین ہے۔ جن اہل کتاب نے انکار کیا اور وہ جو مشرک ہیں وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہی تمام مخلوق میں بدتر لوگ ہیں اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر لوگ ہیں ۔ یہ لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اللہ تعالی اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔ (سوره البينہ مکمل)
سورة الزلزال
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 24
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ زمین پوری شدت سے ہلا دی جائے گی اور یہ اس کا مقدر ہے اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی ۔ انسان حیرت سے کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے اور وہ تمام خبریں بتائے گی ۔ کیوں کہ اسے یہی حکم اللہ تعالی نے دیا ہے۔ پھر سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ پھر جس نے ذرہ برابر بھی بھلائی کی ہوگی اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی تو وہ اس کو دیکھے گا۔ (سورة الزلزال مکمل)
سورة العاديات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 25 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں گھوڑوں کی قسم کھانے کے بعد بتایا کہ انسان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے اور اپنی ناشکری پر وہ خود گواہ ہے۔ اس کے اندر مال و دولت کی چاہت اور محبت بہت شدید ہے۔ وہ بھول گیا کہ اللہ تعالی سب کو قبروں سے اٹھا کر جمع کرے گا اور سینوں میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ان سب سے باخبر ہے۔ (سورة العاديات مکمل)
سورة القارعة 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 26
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں فرمایا: گڑ گڑاہٹ سے دل دہلا دینے والی ۔ کیا ہے وہ گڑگڑاہٹ سے دل دہلا دینے والی۔ اور تم کیا جانو وہ کیا ہے؟ اُس دن انسان پتنگوں کی طرح پھیلے ہوئے ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑیں گے ۔ جس کے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا وہ جنت میں عیش و آرام میں ہوگا اور جن کے اعمال کا وزن ہلکا ہو گا وہ جہنم کی جوش مارتی آگ میں ہوں گے۔ (سورة القارعة مکمل)
سورة التكاثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 27 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ مال و دولت کی محبت اور طلب نے تمہیں دنیا میں آخرت سے غافل رکھا یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے تو تم جلد ہی جان جاؤ گے اور تم جلد ہی جان جاؤ گے اور اگر تم آخرت کا یقین رکھتے تو دنیا میں مال کی محبت میں نہ پڑتے اور بے شک تم ضرور پل صراط پر سے جہنم کو دیکھو گے اور یقینی طور سے دیکھو گے پھر ضرور تم سے اللہ تعالی کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورة التكاثر مکمل)
سورة العصر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 28
اللہ تعالی نے اس رکوع میں زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان خسارے میں ہے۔ مگر ( اس خسارے یعنی نقصان سے وہ بچ سکتا ہے ) جو ایمان لائے ۔ نیک اعمال کرے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرے اور صبر کی وصیت کرے۔ (سورة العصر)
سورة الهمزه
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 29
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ خرابی ہے اُن لوگوں کی جو منہ پر عیب کرے ( طعنے دے) اور پیٹھ پیچھے برائی کرے اور جس نے مال کو جمع کر کے اور گن گن کر رکھا۔ کیا یہ سمجھتا ہے کہ اُس کا یہ مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا ۔ ہرگز نہیں ! وہ تو روندنے والی آگ میں پھینکا جائے گا اور وہ روندنے والی آگ ایسی ہے کہ دلوں تک پہنچ کر چڑھ جائے گی اور انھیں آگ میں ڈھانپ دیا جائے گا۔ (سورة الهمزه مکمل)
سورة الفيل 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 30
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور کیا اُن کے داؤ نے انھیں تباہی اور ذلت میں نہ ڈالا ؟ تو اللہ تعالٰی نے اُن پر پرندوں کی ٹکڑیاں (غول کے غول ) بھیجے ۔ وہ انھیں کنکریاں مارتے تھے جس سے وہ کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گئے ۔ (سورة الفيل مکمل)
سورہ قریش 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 31 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ قریش کو اللہ تعالیٰ نے مانوس کیا اور انھیں جاڑے اور گرمی کے سفر میں آسانی دی تو اس نعمت کے شکرانے کے طور پر انھیں چاہئے کہ وہ اس گھر (خانہ کعبہ ) کے رب (اللہ تعالی ) کی عبادت کریں جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور ایک بڑے خوف سے امان دی۔ (سورہ قریش مکمل)
سورة الماعون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 32: اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ بھلا دیکھا اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے اور یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ اس کے بعد فرمایا: ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھولے بیٹھے ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں اور استعمال کی چیز مانگنے پر نہیں دیتے۔ (سورة الماعون مکمل)
سورة الكوثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :33
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو کوثر عطا فرمایا۔ تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک آپ ﷺ کا جو دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔ (سورة الكوثر مکمل)
سورة الكافرون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 34
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہہ دیں : اے کا فردا میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں میں اُن ( معبودان باطل) کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت کرنا ہوں ۔ تو تمہارے لئے تمہارا دین (تمہیں مبارک ہو ) اور میرے لئے میرا دین ہے۔ (سورة الكافرون مکمل)
سورة النصر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 35
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کی مدد آ جائے اور فتح حاصل ہو جائے اور آپ ﷺ دیکھیں کہ لوگ فوج در فوج ، گروہ در گروہ یا جماعت در جماعت دین (اسلام ) میں داخل ہونے لگیں تو (آپ ﷺ اور مسلمان ) اپنے رب کی حمد وثناء اور تسبیح وتعریف بیان کریں اور مغفرت مانگیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت جلد
توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (سورة النصر مکمل)
سورة لهب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 36 
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ ٹوٹ جائیں بد بخت ابو لہب کے ہاتھ اور وہ برباد ہو جائے ۔ اس کا مال د دولت اُس کے کام نہیں آیا اور وہ لپٹ مارتی آگ میں دھنسایا جائے گا اور ساتھ میں اس کی بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی ہے۔ اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسہ ہوگا۔(سورة لهب مکمل)
سورة الاخلاص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 37
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہہ دیں : اللہ تعالیٰ وہ ہے جو اکیلا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے ) نہ اُس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پید ہوا ہے اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے برابر کا نہیں ہے۔ (سورة الاخلاص مکمل)
سورة الفلق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 38
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہ دیں : میں اُس اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو فلق کا رب ہے۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔اور اندھیری رات کی تاریکی سے جب وہ پھیل جائے ۔ اور گرہ لگا کر ان میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے۔ (سورة الفلق مکمل)
سورة الناس
رکوع نمبر 39
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا: تم کہہ دو کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینے میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جناتوں میں سے یا انسانوں میں سے۔ (سورة الناس مکمل) (پارہ نمبر 30 مکمل)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں