اتوار، 2 اپریل، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 28 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 28

سورہ المجادلۃ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یرکوع نمبر 1

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ کیوں کہ وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا فروں کو بھی اسی طرح ذلیل کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے کے کافروں کو ذلیل کیا گیا ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع فرمائے گا تو اُن کے بُرے اعمال بتا دے گا۔ اللہ تعالی نے سب محفوظ کو رکھا ہے اور یہ کافر بھول گئے ہیں اور اللہ تعالی ہر ایک پر نظر رکھنے والا ہے۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔ جب دو آدمی باتیں کرتے ہیں تو تیسرا اللہ تعالی سنتا ہے اور تین آدمیوں میں چوتھا اللہ تعالی سنتا اور دیکھتا ہے اور پانچ لوگوں میں چھٹا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور اللہ تعالی ہر وقت ہر ایک کے ساتھ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بُرے مشورے سے منع فرمایا اور بتایا کہ منافقین اپنے دوستوں (اہل کتاب سے ) رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے ہیں تو (دکھاوے کے لئے ) آپ ﷺ کی بے انتہا تعریف کرتے ہیں اور دلوں میں سوچتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ تو یہ منافق قیامت کے دن سخت عذاب میں ہوں گے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ہدایات دیں کہ تم نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے مشورے دیا کرو اور اپنے بھائیوں کو مجلسوں میں جگہ دو اور رسول اللہ ﷺ کے ادب کے بارے میں ہدایات دیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ ایسے لوگوں کے دوست ہیں جن پر اللہ تعالی کا غضب ہے ( یعنی یہودیوں کے دوست ہیں) اور وہ نہ تو تم میں ہیں اور نہ ہی اُن میں ۔ یہ منافق جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا تو اس کی بارگاہ میں بھی ایسے ہی قسمیں کھا ئیں گے ۔ یہ جھوٹے ہیں اور ان پر شیطان غالب آگیا ہے۔ یہ شیطان کے گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ نقصان اٹھانے والا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالی پر اور آخرت پر ایمان لائیں اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے دشمنی کرتے ہیں چاہے وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا نقش گہرا کر دیا ہے۔ وہ انھیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اُن سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ یہ اللہ تعالی کی جماعت ہے اور اللہ تعالی کی جماعت ہی کامیاب ہے۔

(سورہ المجادلہ مکمل )

سورة الحشر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اس کے بعد غزوہ بنی نضیر کا ذکر فرمایا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر کے تو ڑ دیا تھا اور آپ ﷺ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے بنو نضیر کا محاصرہ کر لیا۔ اکیس روز کے محاصرے کے بعد یہودیوں (بنو نضیر ) نے رسول اللہ ﷺ سے جان کی امان چاہی اور دوسرے علاقوں میں جانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ یہ یہودی جاتے جاتے اپنے گھر اور کھجور کے باغوں کے درختوں کو جلاتے ہوئے گئے تاکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار صحابہ کرام صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے۔ 

رکوع نمبر 5

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ منافق اُن کے در پردہ دوستوں اہل کتاب (یہودیوں) سے کہتے تھے کہ اگر تم لوگ نکالے گئے تو تمہارے ساتھ ہم بھی نکل جائیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے ۔ یہ بہت بڑے جھوٹے ہیں۔ یہ نہ تو مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور نہ ہی یہودیوں کے ساتھ ۔ دعویٰ دونوں کے ساتھ رہنے کا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ شیطان انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا کر کے کفر کرنے کو کہتا ہے اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو شیطان اُس سے الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔ اُن دونوں (یعنی شیطان اور اس کے بہکاوے میں آکر کفر کرنے والے ) کا یہ انجام ہوگا کہ دونوں ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور گناہوں سے بچو اور نیک اعمال کرو۔ ہر کوئی (قیامت کے دن ) دیکھ لے گا کہ اُس نے آخرت کے لئے کیا اعمال کئے ہیں۔ تم فاسقوں کے جیسے نہ ہو جاتا جو اللہ تعالی کو بھول بیٹھے ہیں ۔ جنت والے اور دوزخ والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے اور جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ بہت پاک ہے۔ سلامتی دینے والا ہے۔ امان بخشنے والا ہے۔ حفاظت فرمانے والا ہے۔ عزت والا ہے۔ عظمت والا ہے اور کافروں کے شرک سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ بنانے والا ہے پیدا کرنے والا ہے۔ ہر ایک کی صورت بنانے والا ہے۔ سب اچھے نام اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔

 (سورۃ الحشر مکمل ) 

سورة الممتحنه 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کیوں کہ وہ اُس حق (رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک) کا انکار کرتے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے، تو نہ کافروں سے دوستی کرو نہ ہی خفیہ پیغام بھیجو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اور تمہارے دشمن ہیں ۔ اگر یہ تم پر حاوی ہوں گے تو اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں سے تمہیں تکلیف پہنچائیں گے اور چاہیں گے کہ کسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ اور تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تم سے دور بھاگیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تم میں اور مکہ مکرمہ کے کافروں میں دوستی کرادے اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قادر ہے۔ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اللہ تعالی اُن سے دوستی کرنے کو منع نہیں فرماتا جوتم سے لڑنا نہ چاہیں اور نہ ہی تمہیں گھروں سے نکالیں بلکہ اللہ تعالٰی ان لوگوں سے دوستی کو منع فرماتا ہے جو تم سے لڑ نا چا ہیں۔ اور تمہیں گھروں سے نکالنے کے درپے ہوں ۔ اس کے بعد خواتین کے بارے میں مسلمانوں کو احکامات دیئے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا: اے مسلمانو ا تم اُن لوگوں (یہودیوں) سے دوستی نہ کرو ۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے ۔

 (سورۃ الممتحنہ مکمل )

سورہ الصف 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالی اُن کو دوست رکھتا ہے جوصف در صف لگا کر مضبوط دیوار کی طرح ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو نبوت ورسالت اور کتاب (توریت ) عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور اُن رسول ﷺ کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور اُن کا نام احمد ﷺ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ احمد ﷺ صاف صاف نشانیاں لے کر آگئے تو کافروں اور اہل کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کہا کہ یہ تو ( نعوذ باللہ ) کھلا جادو ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالی پر جھوٹ باند ھے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر لے گا چاہے کافروں کو کتنا ہی بُرا لگے۔ 

رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ پر پکا ایمان رکھو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے جان و مال سے لڑو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم غور کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا اور جنت کے عیش و آرام میں لے جائے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور بہت جلد تمہاری مدد کر کے فتح دلائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور نعمت ہو گی ۔ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو جیسی مدد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُن کے حواریوں نے کی تھی تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کر کے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی مدد کی کافروں کے مقابلہ پر۔

(سورۃ الصف مکمل)

سورہ الجمعہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کرتے ہیں اور اللہ تعالی ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ مقدس ہے ، عزت والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں میں رسول اللہ ﷺ کو بھیجا جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں۔ انھیں پاک کرتے ہیں ۔ کتاب (قرآن پاک ) اور حکمت (سنت) کا علم سکھاتے ہیں جب کہ اس سے پہلے وہ گمراہ تھے۔ اس کے بعد یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں توریت عطا فرمائی تو انھوں نے اسے اس طرح لیا جیسے گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان یہودیوں سے کہو ؛ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو مرنے کی آرزو کرو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یہ لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے مرنے کی آرزو کبھی بھی نہیں کریں گے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنو تو تمام کاروبار اور خرید و فروخت بند کر کے نماز کی تیاری کرو اور نماز کے لئے دوڑو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم اس پر غور کرو تو پھر جب نماز مکمل ہو جائے تو اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ اس امید پر کہ تم کامیابی (فلاح) پاؤ اور اللہ تعالی کا رزق سب سے اچھا ہے۔

 (سورہ الجمعہ مکمل) 

سورة المنافقون 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو منافقوں کے بارے میں بتایا کہ جب یہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ جھوٹے ہیں اور اپنی قسموں کو اپنی منافقت پر ڈھال بناتے ہیں ۔ یہ لوگ زبان سے ایمان لائے اور دل سے کافر ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کے ولوں پر مہر لگا دی ہے۔ یہ دشمن ہیں ، ان سے بچو ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ ﷺ تمہاری مغفرت مانگیں تو گھمنڈ سے منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ ﷺ ان منافقوں کے لئے معافی مانگیں یا نہ مانگیں ، کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اللہ تعالی ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا: اے مسلمانو ا تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالی کے ذکر سے تمہیں غافل نہ کر دے اور جو مال اور اولاد کے لئے دنیا میں مگن ہو جائے گا وہ بہت بڑے نقصان میں ہوگا اوراللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو ۔ اس سے پہلے کہ تمہیں موت آ جائے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

(سورۃ المنافقون مکمل)

سورة التغابن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 15 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ جو کچھ زمین اور آسمانوں میں ہے ۔ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی بادشاہت ساری کائنات پر ہے اور اللہ تعالی ہی کے لئے تمام تعریف ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام انسانوں کو پیدا کیا اور اُن میں کوئی مسلمان ہے اور کوئی کافر ہے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت بہترین صورت بنائی ہے۔ اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالی کی ضرورت ہے تو اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اُس نور ( قرآن پاک ) پر ایمان لاؤ جو آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ قیامت کے دن اللہ تعالی ایمان والوں کو جو نیک عمل بھی کریں اُن کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھو اور تمہاری کچھ بیویاں اور بچے دنیا کی طرف رغبت رکھتے ہیں تو انھیں احتیاط سے سمجھاتے رہو اور اگر معاف کرو، در گزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں تمہاری آزمائش ہے۔ یقینا اللہ تعالی کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تم اپنی آخرت کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرے گا تو اللہ تعالی اُسے دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔

(سورہ التغابن مکمل ) 

سورة الطلاق

رکوع نمبر 17 اور رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس رکوع نمبر 17 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد رکوع نمبر 18 میں بتایا کہ بہت سے شہر والوں نے اللہ تعالی کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور رسولوں کو جھٹلایا تو اُن پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مار پڑی اور وہ نقصان والے ہو گئے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس رسول ﷺ کے ذریعہ عزت اتاری، تو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اُن کے لئے جنت ہے اور وہ ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے سات آسمان بنائے اور اتنی ہی زمینیں بنا ئیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر اترتا ہے۔

 (سورہ الطلاق مکمل) 

سورہ التحریم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 19

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور امہات المؤمنین کا ذکر فرمایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا : اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور اُس آگ پر سخت فرشتے مقرر ہیں جواللہ تعالی کا حکم نہیں ٹالتے اور سختی سے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور کافروں سے کہا جائے گا کہ آج بہانے نہ بناؤ تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اے مسلمانو! اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو آگے نصیحت بن جائے (یعنی ہمیشہ کے لئے وہ گناہ چھوٹ جائے ) تو اللہ تعالی تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالی قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا اور ( پل صراط پر ) اُن کا نور اُن کے دائیں ہا ئیں ، آگے اور پیچھے دوڑتا ہوگا۔ وہ عرض کریں گے : اے اللہ ہمارے نور کو پورا کر دے اور ہماری مغفرت فرما دے۔ بے شک اللہ تعالٰی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود کا فرتھیں اور فرعون کی بیوی کے بارے میں بتایا کہ ایک بہت بڑے کا فر کی بیوی ہونے کے باوجود ایمان والی تھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے فرعون اور اس کے برے عمل سے نجات دے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بہت ہی نیک ایمان والی تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں اوراللہ تعالیٰ کی فرماں بردار ہیں ۔

 (سورۃ التحریم مکمل)

 (پارہ نمبر 28 مکمل)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں