ہفتہ، 15 اپریل، 2023

حضرت صالح علیہ السلام 3 Story of Prophet Saleh



حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 3

حق کی مخالفت

سورہ ہود کی ان دو آیات کی تفسیر میں تفسیر کمالین شرح تفسیر جلالین میں لکھا ہے۔ قوم ثمود میں حضرت صالح علیہ السلام کے وعظ کا یہ خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے تمہیں زمین کی مٹی کے خمیر سے پیدا کیا اور تم کو زمین پر آباد کیا ہے۔ پھر اس اللہ کے علاوہ اور کون عبادت کے لائق ہو سکتا ہے۔ سر کشی سے باز آجاﺅ اور اس کی طرف رجوع ہو جاﺅ۔ اس کے جواب میں قوم ثمود کے لوگ بولے کہ ہمیں تو تمہاری ذات سے بڑی بڑی امیدیں تھیں کہ تم قوم کی رہنمائی کرو گے لیکن ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ یہ دیکھ کر تم ہمارے بزرگوں کو برا بھلا کہتے ہو اور ان سے ہمیں بر گشتہ کرنا چاہتے ہو۔ ہمیشہ سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب بھی کوئی غیر معمولی قابلیت کا آدمی کسی قوم میں پید اہو تا ہے تو لوگ اس کی قابلیت کو سراہتے ہیں۔ اور اس سے بڑی بڑی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ کہ یہ باپ داداﺅں کا نام روشن کر ے گا۔ لیکن جب وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے یا ایسا کام کرتا ہے جو ان کی عام روش کے خلاف ہوتا ہے تو لوگ گردن موڑ لیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو ( نعوذ باللہ ) بڑ ا نکمّا نکلا۔ اور ساری امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ گویا بزرگی اور پیشوائی کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ حق بات کی تعلیم دی جائے۔ بلکہ جس غلط بات کو لوگ حق سمجھتے اس کی دعوت دی جائے۔ ( تفسیر کمالین شرح تفسیر جلا لین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ، امام جلال الدین محلی ، شرح مولانا محمد نعیم دیوبندی)

حضرت صالح علیہ السلام کی محبت بھری نصیحت

سورہ ہود کی آیت نمبر16کی تفسیر میں صاحبزادہ مفتی اقتدار احمد خان لکھتے ہیں ۔ قوم عاد کے چوتھے دادا کے دوسرے بیٹے ثمود نے اپنی رہائش یمن سے دور سنگلاخ پہاڑوں میں اختیار کی۔ وہیں اس کی نسل بڑھ کر قوم ثمود کے نام سے مشہور ہوئی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی عمر دو سو اسی 280سال ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے بھی چالیس سال کی عمر میں تبلیغ فرمانی شروع کر دی۔ یہ قوم پہاڑوں میں بہت خوب صورت مکان تعمیر کرنے کا فن جانتی تھی۔ سنگ تراشی کی ابتداءایک قول کے مطابق ان ہی سے شروع ہوئی۔ یہاں حضرت صالح علیہ السلام کی پہلی تبلیغ کا ذکر ہے۔ تین جگہ آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ( ۱) سورہ الاعراف میں ذرا تفصیل سے آیا ہے۔ ( ۲) سورہ ہو د میں یعنی اس آیت میں ( ۳) سورہ والشمس میں ۔اس جگہ پہلی تبلیغ اس طرح ہوئی کہ قوم ثمود کسی تقریب میں جمع تھی۔ تو آپ علیہ السلام کو اجازت دی گئی کہ وہاں جا کر ایمان ( اسلام ) کی تبلیغ فرماﺅ۔ تب حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم ، ملا جلا کر شرکیہ عبادت مت کرو۔ ( در اصل قوم ثمود بھی قوم نوح اور قوم عاد کی طرح اللہ کے ساتھ بتوں کی عبادت کرتی تھی) بلکہ فقط اللہ واحد کی عبادت کرو۔ کیوں کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہی اللہ ہے جس نے تم کو نیست سے ہست کیا اور پیدا کیا۔ اور یہ کہ تمہارے جدّ اعلیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین کی مٹی سے ایجاد کیا۔ اس لئے وہ موجد اور بدیع انسان ہے۔ 

اللہ نے انسان کو مقصد دے کر پیدا کیا

پھر پیدا کرنے کے بعد تم کو ایسے ہی معطل نہیں چھوڑ ا اور وحشی جانوروں کی طرح تم کو نہیں بنایا۔ بلکہ تم کو دنیا کا منتظم ، نظام سنبھالنے والا اور مخلوق کا حاکم بنایا۔ یہ سب قوتیں اور ہنر اسی کے دیئے ہوئے ہیں۔ اور تم کو بہترین معمار مستری کا ریگر اچھر مکان تعمیر کرنے والا بنایا۔ تفسیر مدارک میں ہے کہ ہر شخص کی عمر کم سے کم تین سور برس اور زیادہ سے زیادہ ایک ہزار برس ہوتی تھی۔ اتنی عمر کے ساتھ اتنی طاقت اور قوت ملنا عین اس اللہ کا کرم ہے۔ توا س کی بارگاہ میں جھک جاﺅ اوربتوں کی پوجا چھوڑ دو۔ اور اپنے سابقہ گناہوں پر اور کفر و شرک پر معافی مانگو۔ اور اس طرح ایمان لے آﺅ کہ مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرو۔ پھر بتوں کی محبت دلوں سے نکال کر توبہ کر و۔ اور اسی اللہ کی طرف لوٹو کیوں کہ یہی حق ہے۔ جو پہلے تمہاراتھا یعنی ہرا نسان دین حق پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں کافر، یہودی اور عیسائی بنتا ہے۔ لہٰذا لوٹو اور رجو ع کرو اس رب کی طرف جس کے پاس سے قالو بلیٰ کا وعدہ کر کے آئے ہو۔ اور یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بڑی دور ہے۔ اور بڑی دشواریاں ہیں وہاں فریاد لے جانے میں اپنے بادشاہوں کی طرح مت سمجھنا کہ وہاں پہنچنے کے لئے ہزار سفارشیں اور اشوتیں چلانی پڑتی ہیں۔ پھر بھی وہ غرورکے پتلے غریبوں کی فریاد نہیں سنتے ہیں۔ اے دنیا کے طالب گارو، اس کی بارگاہ سب سے قریب ہے۔ ادھر میری طرف آﺅ اور اس رب اللہ تعالیٰ کو پکارو جو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ہاں میرا رب سبحان اللہ ایسا قریب ہے کہ ہر دعا کا مجیب ہے۔ اور ایسا عجیب ہے کہ ہر آن ، ہر جگہ ، ہر بندے کو دیکھنے والا اور دیکھ کر فریاد سننے والا اور سن کر قبول کرنے والا اور قبول فرما کر حاجت سے زیادہ دینے والا ہے۔ کہ اس کے در بار سے کوئی مظلوم حاجت مند، فریاد کرنے والا اور دعا مانگنے والا مایوس نہیں لوٹتا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)

قوم ثمود کی بد نصیبی

سورہ ہود کی آیت نمبر62کی تفسیر میں صاحبزاد ہ مفتی اقتدار احمد خان لکھتے ہیں۔ قوم ثمود کو حضرت صالح علیہ السلام جیسا شفیق سمجھانے والا ملا ۔ مگر ان کی بد نصیبی کہ انہیں اور کوئی جواب نہیں بن پڑا تو بولے کہ اے صالح ( علیہ السلام ) بے شک تم تو ہم میں بہت لائق سمجھدا ر مانے جاتے تھے۔ کیوں کہ تمہارا حسن تمہار ا ڈیل ڈول اور صحت و جوانی اور تمہارا اٹھان پھر اس پر تمہاری شرافت اور کم گوئی۔ نیچی نظریں ، عبادت ، ریاضت غرض یہ ہے کہ تمہاری ہر ادا بے مثال تھی۔ ہم کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ ہم تم کو سردار بنانے کو سوچ رہے تھے۔ ہم کو خیال تھا کہ تم اپنے باپ دادوں کا دین خوب چمکاﺅ گے۔ اچھے اچھے بت بنایا گرو گے۔ اور خود بھی پوجو گے اور نئے نئے طریقوں سے ہم کو بھی پوجنے کو کہو گے۔ آج سے پہلے ہم امید لئے بیٹھے تھے کہ تم ہمارے بادشاہ بنو گے۔ کیوں کہ تم اچھے حسب و نسب اور دولت والے ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت حیا دار شرمیلے اور اسم با مثمیٰ تھے۔ آج تم کو کیا ہو گیا ہے۔ آج کی اس تبلیغ سے پہلے ہمیں امید تھی کہ تم ہم سے الگ دوسرا دین اختیار نہیں کرو گے۔ مگر تمہاری پختگی کہہ رہی ہے کہ ہمارا خیال اور ہماری امیدیں غلط تھیں۔ تم نے اپنی ہٹ سے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیاہے۔ اب یہاں تم جو جرا¿ت دکھا رہے ہو کہ ہم ان بتوں کی پوجا کرنے سے روک رہے ہو جن کی پوجا ہمارے آبا ءو اجداد کر تے رہے ہیں۔ اور یہ بتوں کی پوجا تو ہمار ا پرانا دین ہے۔ اور بے شک ہم سب قوم کے سمجھدار ، لائق اور ذمہ دار حضرات تمہاری توحید کی دعوت سے اور ہمارے آبائی دین کو جھٹلانے سے شک میں مریب ہیں۔ یعنی سخت پریشان ہیں۔ تم نے نفسوں کو مضطرب ، دل کو بے آرام اور عقل کو پریشان کر دیا ہے۔ اے صالح ( علیہ السلام) ، ہم کو اس بات کا غم ہے کہ تم تو ہمارے ضعیفوں کے مدد گار ، یتیموں کے فریاد رس اور بے کسوں کے مشکل کشا تھے۔ اسی وجہ سے تم ہم کو پیارے تھے۔ اور ہم تم سے لڑنا جھگڑنا اور تمہارا دشمن ہونا نہیں چاہتے تھے۔ اب تم نے یہ کون سا راستہ اختیار کر لیا ہے کہ ہم کو تمہارا دشمن ہونا پڑے گا۔ کیوں کہ معاملہ دین کا ہے۔ ( تفسیر کبیر ، تفسیر روح المعانی، تفسیر روح البیان ، تفسیر مظہری، تفسیر خازن ، تفسیر صاوی، تفسیر نور العرفان، تفسیر خزائن العرفان، تفسیر مدارک، تفسیر جمل، تفسیر نعیمی، پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

میر ا اجر تو اللہ کے پاس ہے

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ یہ وہی راستہ ہے جس پر چل کر سب کو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی ملے گی۔ کیوں کہ یہ اس اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا راستہ ہے جو سب کا خالق اور مالک ہے۔ اور جس کے قبضے میں تمام کائنات بلکہ ہر شئے ہے۔ اور تم جو بتوں کی پوجا کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہو وہ گمراہی ، تباہی ، ہلاکت اور دوزخ کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور اگر نعوذ باللہ میں نے تمہاری بات مانی توا للہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اور تم جو یہ دنیا کی سرداری اور بادشاہی کا لالچ مجھے دے رہے ہو مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہیئے۔ میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی مجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ ہود اور سورہ الشعراءمیں فرمایا ہے۔ سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اس نے ( حضرت صالح علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ اے میری قوم کے لوگو، ذرا بتاﺅ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی مضبوط دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنے پاس کی رحمت ( اسلام ) عطا کی ہو تو پھر اگر میں نے اس کی نافرمانی کر لی تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں میری مدد کر سکے؟ تم تو میرا نقصان ہی بڑھا رہے ہو۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر63) اور سورہ الشعراءمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” قوم ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام ) نے ان سے فرمایا ۔ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں۔ تم اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو پروردگار عالم کے پاس ہے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر141سے 145تک)

اسلام کی دعوت دینے کا فرض

سورہ ہود کی آیت نمبر63کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ آیت حضرت صالح علیہ السلام کی طرف سے ان کے لئے نرم گفتگو اور نرم مزاجی کے رویے کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام بھولے بھٹکے لوگوں کو کس خوب صورت طریقہ سے حق( اسلام ) کی دعوت دے رہے ہیں۔ فرماتے ہیں مجھے یہ بتاﺅ اگر میرا کلام اور میری دعوت حق پر مبنی ہو تو تمہارا کیا خیال ہے؟ ایسے میں اللہ کو کیا منہ دکھاﺅ گے؟ کل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حق (اسلام) کی مخالفت کا کیا جواز پیش کرو گے؟ تم کہتے ہو کہ میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت نہیں دوں۔ ذرا یہ بتاﺅ اگر میں بھی اس فریضے میں کوتاہی برتوں تو پھر تمہیں اللہ کے عذاب سے کون بچا سکے گا۔ کون تمہاری ہدایت کی کوشش کرے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اسلام کی دعوت و ارشاد کا فریضہ ترک کر دوں ۔ یہ فریضہ مجھ پر اللہ کی طرف سے لازم ہے۔ اگر میں اس بھلائی کے کام میں سستی کروںگا تو کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو مجھے اللہ کی پکڑ سے چھڑا لے گا۔ اور اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کے خلاف میری مدد کر سکے گا؟ تو جب تک میرے جسم میں جان ہے۔ میں تمہیں حق (اسلام) کی دعوت دیتا رہوں گا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی فیصلہ صادر نہیں فر ما دیتا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

نبوت کی ذمہ داری

سورہ ہود میں کی آیت نمبر63کی تفسیر میں صاحبزادہ مفتی اقتدار خان لکھتے ہیں ۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم ، میں نے تم کو بہت اچھی طرح سمجھایا۔ مگر تم نے نہیں سمجھا اور تم اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہو کہ میں نبی ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کا خاص پیغام خالص سچا دین ( اسلام ) لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ تو اچھا اب اس طرح سمجھنے کی کوشش کرو اور خوب غور کرو اور غور کرنے کے بعد مجھ کو بتاﺅ اگر میں سچائی پر ہوں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اور جو کچھ میں نے تم کو تبلیغ کی ہے وہ بالکل درست ہے اور میرے رب کی طرف سے ہی ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت اور یقین ہے جس کو میں ہی سمجھتا ہوں۔ شک تو صرف تم کو ہے ۔ لہٰذا تم بتاﺅ اگر میں تمہاری منت وسماجت مان کر یا تمہارے ڈرانے دھمکانے سے مرعوب ہو کر اس اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ نافرمانی کروں تو مجھ کو اللہ تعالیٰ کے عتاب سے کون بچائے گا؟اور کون میرا مدد گار ثابت ہوگا؟یا اس طرح کہ تبلیغ رسالت چھوڑ کر کفر و شرک کی برائی بیان کرنا چھوڑ کر بیٹھ جاﺅں اور گوشہ تنہائی اختیار کر لوں ۔ بس اپنی عبادت و ریاضت میں لگا رہوں۔ اور تم ڈوبتوں کو نہیں بچاﺅں اور جس ڈیوٹی ، عہدے اور ذمہ داری کو دے کر بھیجا گیا ہوں وہ انجام نہیں دوں تو تم میں سے کون ہمت والا ہے جوا للہ کے عذاب سے مجھے بچا لے گا؟ یا اس طرح کہ تمہاری خواہش کے مطابق تمہارے جھوٹے دین کو سچا کہہ دوں تو ذرا سوچو تمہاری ان امیدوں سے جو تم نے مجھ سے لگائی ہوئی تھیں یا لگائی ہے اس سے میرا فائدہ ہو گا یا نقصان ہوگا۔ تمہارے ساتھ ملنے سے تم تو مجھ کو سرداری اور بادشاہت کا لالچ دے رہے ہو مگر میں جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ لگنے سے میرا کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ میرا رب اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ میرے اعمال برباد ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی سز املے گی اور اللہ کا عتاب اور عذاب مجھ پر نازل ہوگا۔ اور پھر غور کرو جب میں تمہارے کفر اور شرک کے راستے کو نقصان کا راستہ کہہ رہا ہوں تو میں تمہارے ساتھ کیسے شامل ہو سکتا ہوں۔ ( تفسیر کبیر ،تفسیر روح المعانی ، تفسیر روح البیان ، تفسیر سرا ج البیان ، تفسیر جمل ، تفسیر صاوی ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں