پیر، 17 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 3 Story of Prophet Ibrahim


حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 3

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قوم کو اسلام کی دعوت

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑی محبت اور ادب اور احترام سے اپنے باپ یا چچا کو اسلام کی دعوت دی۔لیکن اُس نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا،اور ڈانٹنے ڈپٹنے لگا۔بہر حال آپ علیہ السلام نے باپ کو سمجھانے کے بعد اپنی قوم کو سمجھانے کی طرف قدم بڑھایا۔گھر والوں میں سے آپ علیہ السلام کی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہااور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام نے اسلام قبول کر لیا تھا۔اب آپ علیہ السلام اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آئے۔قوم کے لوگ شاہی مندر میں پوجا اور کیرتن کے لئے جمع تھے،اور شاہی پجاری آذر انہیں اُن کے مذہب کے بارے میں یعنی بتوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔آپ علیہ السلام مندر میں دخل ہوئے،اور آزر کو اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم(علیہ السلام ) کو اِس کی(اسلام کی)سمجھ بوجھ بخشی تھی،اور اس کے احوال سے خوب واقف تھے۔جب اُس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں(بُت)جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو،کیا ہیں؟سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا؛پھر تو تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا رہے۔انہوں نے کہا۔کیاآپ(علیہ السلام)ہمارے پاس حق لائے ہیں؟یا یوں ہی مذاق کر رہے ہیں؟آپ (علیہ السلام) نے فرمایا؛ نہیں !اصل میں تم سب کا پروردگار تو وہ ہے ،جو آسمان اور زمین کا مالک ہے۔جس نے تمہیں پیدا کیا ہے،میں تو اِسی بات کا گواہ اور قائل ہوں (سورہ الانبیاءآیت نمبر 51 سے 56 تک )حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں سمجھانے سے پہلے پوچھا کہ یہ تم لوگ جو اِن بتوں کی پوجا کر رہے ہو،اِس کی کوئی حقیقت بھی ہے،یا نہیں؟تو قوم کے لوگوں نے بتایا کہ ہم نے کبھی اِس پر غور نہیں کیا ہے،بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اِن کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کرنے لگے۔تب آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ تمہارے باپ دادا اور تم جو کر رہے ہو،اِس کی کوئی حقیقت نہیں ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کا مالک اور خالق اﷲ تعالیٰ ہے،اور اُسی نے ہم سب کو پیدا کیا ہے،اور صرف وہی عبادت کرنے کے لائق ہے۔یہ سن کر آزر اور قوم کے لوگوں کو بڑا عجیب لگا،اور آزر تو اپنی قوم کے سامنے بڑی خفت محسوس کر رہا تھا۔ اُس نے فوراًقوم کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے کہا؛”تم جو کہہ رہے ہو،اِس میں حقیقت بھی ہے یا تم یونہی ہم سے مذاق کر رہے ہو۔“

قوم کو دلیل سے سمجھایا

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جب آزر نے قوم کی ترجمانی کرتے ہوئےکہا تو قوم کے لوگ بھی اُس کی ہاں میں ہاں کرنے لگے۔تب آپ علیہ السلام نے انہیں دلیل سے سمجھایا۔اﷲ تعالیٰ نے الشعراءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”انہیں ابراہیم(علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دو،جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔،اور ہم تو اِن کے برابر مجاور بنے بیٹھے ہیں۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیاوہ سنتے بھی ہیں؟یا تمہیں نفع و نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں؟انہوں نے کہا(ہم کچھ نہیں جانتے)ہم نے تو اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا؛کچھ خبر بھی ہے ،جنہیں تم پوج رہے ہو(یعنی بتوں کو اور ستاروں کو) ،تو تم اور تمہارے اگلے باپ دادا وہ سب میرے دشمن ہیں۔سوائے اپس اﷲ تعالیٰ کے جو تمام جہانوں کا رب ہے،پالنے والا ہے۔جس نے مجھے پید کیا ہے،اور وہی میری رہبری فرماتا ہے۔وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے،اور پلاتا ہے۔اور جب میں بیمار پڑ جاو¿ں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔اور وہی مجھے مار ڈالے گا،پھر زندہ کرے گا۔اور جس سے (میری)اُمید بندھی ہوئی ہے کہ وہ روزِجزا(قیامت کے دن)میرے گناہوں کو بخش دے گا۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر 69 سے 82 تک) جب اُن لوگوں نے آپ علیہ السلام سے اُن کی بات کی سچائی کی دلیل مانگی تو آپ علیہ السلام نے اُن سے پوچھا کہ اچھا یہ بتاو¿ !تم اِن بتوں اور ستاروں کی پوجا کیوں کرتے ہو؟کیا وہ تمہارا کچھ فائدہ کرتے ہیں؟اور اگر تم اُن کی پوجا نہ کرو اور انہیں معبود ماننے سے انکار کر دو تو وہ تمہا را کوئی نقصان کر سکتے ہیں؟اور جو دعائیں اور مُرادیں تم اُن سے مانگتے ہو،کیا وہ سنتے اور پوری کرتے ہیں؟تو آزر اور قوم والوں کو کوئی جواب نہیں بن پڑا،کیونکہ اگر وہ یہ کہتے کہ ہاں وہ سنتے ہیں،اور نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں تو انہیں دلیل سے ثابت کرنا پڑتا۔اور اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔اِسی لئے انہوں نے کہا کہ بھائی ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے،اِسی لئے ہم اِن بتوں اور ستاروں کو اپنا معبود مانتے ہیں،اور اِن کی پوجا کرتے ہیں۔تب آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ اِن بتوں اور ستاروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اور تم اور تمہارے باپ دادا جو کچھ بھی کرتے رہے ہو،یہ اُس اﷲ تعالیٰ سے دشمنی کرنا ہے،جو بتوں اور ستاروں اور تم کو اور تمہارے باپ دادا کو پیدا کرنے والا ہے۔ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے،اور سب پر اُسی کا حکم چلتا ہے۔چونکہ تمہارے باپ دادا نے اﷲ تعالیٰ کا چھوڑ کر اِن بتوں اور ستاروں کی پوجا کی،اور تم بھی وہی کر رہے ہو۔اِس لئے تمہارے باپ دادا اور تم اﷲ تعالیٰ کے دشمن ہوئے،اِسی لئے میرے بھی دشمن ہوئے۔اِس کے بعد سمجھایا کہ عباد ت کا حقدار صرف اﷲ تعالیٰ ہے،کیونکہ اُس نے زمین و آسمان،سورج ،چاند ،ستارے اور ہم سب کو بنایا ہے۔اور وہی ہر شئے کا مالک ہے،اُسی کا حکم زمین،آسمان ،سورج،چاند،ستاروں پر بلکہ ہمارے جسموں پر بھی چلتا ہے۔وہی ہمارے لئے کھانے کی غذائیں اور پینے کا پانی پیدا کرتا ہے،اور وہی ہماری سانسوں کو چلا رہا ہے۔اور جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو وہی ہمارے جسموں کو اچھا کرتا ہے،اور وہ ایک مخصوص مدت تک ہمیں زندہ رکھے گا،پھر ہمیں مار ڈالے گا۔پھر ہمیں زندہ کرے گا،اور جو کچھ ہم نے دنیامیں کیا ہو گااُس کا حساب لے گا۔اور پھر ہمارے اعمال کی مناسبت سے جزائ(انعام )یا سزا دے گا۔اِس لئے تم لوگ اِن بتوں اور ستاروں کی پوجا چھوڑ کر صرف ایک اﷲ کی عبادت کرو،اُس پر ایمان لاؤ اور اسلام قبول کر لو۔ 

قوم نے جھٹلایا اور آپ علیہ السلام نے پھر سمجھایا

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دلیل نہیں کئی دلائل سے اپنے باپ اور قوم کے لوگوں کو سمجھایا۔اُس وقت اُن لوگوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑا،اور وہ خاموش سوچتے رہ گئے۔آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ میری باتوں پر غور و فکر کرو۔یہ خبر دھیرے دھیرے پورے شہر میں اور پھر پورے ملک میں پھیل گئی۔کافر سرداروں اور مذہبی رہنماو¿ںیعنی پنڈتوں اور پجاریوں کا اجلاس ہوا،اور اُس میں طے ہوا کہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات نہیں ماننی ہے،اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو صاف جھٹلا دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر انہیں دلائل دیکر سمجھایا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا؛ترجمہ؛”اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اُس سے ڈرتے رہو۔اور اگر تم میں (ذرا بھی) دانائی ہے تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔تم تو اﷲ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو،اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔توجن جن کی تم اﷲ تعالیٰ کے سوا پاجا پاٹ کر رہے ہو،وہ تو تمہاری روزی کے مالک نہیں ہیں۔پس تمہیں چاہیئے کہ تم اﷲ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو،اور اُسی کی عبادت کرو۔اور اُسی کی شکر گزاری کرو، اور اُسی کی طرف لوٹائے جاو¿ گے۔اور اگر تم(مجھے)جھٹلاو¿ تو تم سے پہلے کی اُمتوں نے بھی (اپنے رسولوں کو)جھٹلایا ہے۔اور رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور سے پہنچا دینا ہے۔“(سورہ العنکبوت آیت نمبر ۶۱ سے ۸۱ تک)آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے جھٹلانے کے باوجود انہیں سمجھایا کہ دیکھو تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم اِن بتوں کی پوجا چھوڑ کر صرف ایک اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اور کوئی بھی شخص جس میں ذرا بھی عقل اور سمجھ داری ہو گی تو وہ غورو فکر کر کے یہی تسلیم کرے گاکہ اِس کائنات کا نظام چلانے والاایک ہی ہے۔اور وہی ہم انسانوں کی ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے،اور وہ اﷲ تعالیٰ ہے۔اِس لئے اگر تم میں ذرا بھی عقل اور سمجھ داری ہو گی تو تم اسلام قبول کرنے سے انکار نہیں کرو گے۔اور یہی تمہارے لئے بہتر ہے،اچھا یہ بتاو¿ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو۔کیا وہ تمہارے لئے روزیاں یعنی کھنے اور پینے کی اشیاءپیدا کر سکتے ہیں؟نہیں بالکل نہیں پید کر سکتے ہیں،صرف اﷲ تعالیٰ ہی تمہارے لئے ہر شئے کو پیدا فرماتا ہے۔اِسی لئے تم صرف اُسی سے روزیاںطلب کرو،اور صرف اُسی کی عبادت کرو۔اور کفر اور شرک کر کے اﷲ تعالیٰ کی ناشکری مت کرو،کہ اُسی کی دی ہوئی روزی کھا رہے ہو۔اور دوسروں کو اُسے چھوڑ کر معبود مان رہے ہو،اور دیکھو اگر تم نے مجھے جھٹلایا ہے،یعنی میری بات ماننے سے انکار کیا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔تم سے پہلے کی اُمتوں نے بھی یہی حرکتیں کیں تھیں ،اور میرے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔اب تم مانو یا نہ مانو،تمہاری مرضی۔

حکمت سے پھر اپنی قوم کو سمجھایا

حضرت ابراہیم علیہ السلام دلائل سے اور حکمتوں سے اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن آپ کا اپنا بزرگ آزر تھا۔وہ قوم کو آپ علیہ السلام کی بات سمجھنے ہی نہیں دیتا تھا۔اور گھر پر بھی آپ علیہ السلام کو ڈانٹتا رہتا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ؛”اُس نے (آزرنے)جواب دیا کہ اے ابراہیم(علیہ السلام )!کیا تُو ہمارے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے؟سُن اگر تُو باز نہیں آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار مار کر مار ڈالوں گا۔جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ ہو رہ۔“(سورہ مریم آیت نمبر 46)آپ علیہ السلام اس کے باوجود آزر کو سمجھاتے تھے،اور اپنی قوم کو بھی سمجھاتے رہتے تھے۔اِسی طرح ایک مرتبہ ستاروں کی پوجا سے روکنے کے لئے اپنی قوم کو سمجھایا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ الانعام میں فرمایا؛ترجمہ؛”جب رات کی تاریکی اُن پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا۔آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے،مگر جب وہ غروب ہو گیاتو آپ(علیہ السلام ) نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔پھر جب چاند کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے،لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہیں دی ہوئی ہوتی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاتا۔پھر جب سورج کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے،یہ تو سب سے بڑا ہے،پھر جب وہ غروب ہو گیا تو آپ (علیہ السلام)نے فرمایا ؛بے شک میں تمہارے شرک بیزار ہوں۔میں اپنا رُخ یکسُو ہو کر اُس کی طرف کرتا ہوں،جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے۔اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“(سورہ الانعام آیت نمبر 76 سے 79 تک)آپ علیہ السلام کی قوم بتوں کی پوجا کرنے کے علاوہ ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی۔ انہیں سمجھانے کے لئے آپ علیہ السلام نے بڑا پیارا اور نرم رویہ اختیار کیا۔اُن سے پوچھا کہ تم کن کن کی پوجا کرتے ہو؟تو انہوں نے اپنے بتوں کے نام بتانے کے ساتھ ساتھ ستاروں اور چاند اور سورج کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ بھی ہمارے خدا یعنی معبود ہیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ٹھیک ہے !چلو تم کہتے ہو تو میں ستاروں کو رب تسلیم کر لیتا ہوں۔قوم کے لوگ خوش ہو گئے کہ چلو ابراہیم علیہ السلام ہماری بات مان رہے ہیں۔لیکن جب تھوڑی دیر کے بعدچاند نکل آیا تواُس کی روشنی کے آگے سب تارے پھیکے پڑ گئے۔تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”ارے ارے اِس چاند کی روشنی کے آگے تو تمہارے سب خداو¿ں کی چمک مدھم ہو گئی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے غروب ہوگئے،اور میں غروب وہنے والے کو اپنا خدا نہیں مان سکتا۔آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا؛”چاند بھی ہمارا خدا ہے۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”چلو ٹھیک ہے،میں تمہاری بات مانتا ہوں۔“لیکن جب چاند بھی غروب ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے قوم سے فرمایا؛”اے لوگو! اگر میرا رب مجھے ہدایت نہیں دیتا تو میں تو تمہاری طرح گمراہ ہو چکا ہوتا۔“پھر جب سورج نکلا تو قوم نے کہا؛”یہ بھی ہمارا خدا ہے۔“لیکن جب وہ ڈوب گیا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ دراصل یہ ستارے ،چاند اور سورج کوئی خدا وغیرہ نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی اُس اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہیں،جو ہمارا خالق اور مالک ہے۔اور اُس نے ہماری آسانی اور فائدے کے لئے اِن چیزوں کو بنایا ہے،اور یہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ہماری خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔“لیکن اتنا سمجھانے کے بعد بھی جب قوم نے کہا کہ یہ ہمارے معبود ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تم لوگ گواہ رہناکہ میں تمہارے شرک سے بیزار اور بری ہوں۔اور ہر طرف سے منہ موڑ کر میں نے اُس اﷲ کی طرف کر لیا ہے،جس کے قبضے میں ہم سب ہیں،بلکہ وہ بھی ہیں کو تم معبود مانتے ہو۔“

بتوں کو توڑنے کی دھمکی

حضرت ابراہیم علیہ السلام طرح طرح کے دلائل اور حکمت سے اپنی قوم کو سمجھا رہے تھے۔لیکن اُن کے اوپر پنڈتوں اور پجاریوں کی پکڑ بہت مضبوط تھی،اور پنڈتوں اور پجاریوں پر ابلیس شیطان کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔اِس لئے کوئی بھی آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کر رہا تھا،بلکہ اُٹا آپ علیہ السلام کو دھمکانے لگے کہ تم جس معبود کی بات کر رہے ہو(نعوذ باﷲ)وہ کچھ نہیں ہے،اور تم ہمارے معبودوں کو برا کہہ کر انکار کر رہے ہو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا کوئی معبود تمہیں نقصان پہنچا دے،کیا تم کو اِس کا ڈر نہیں لگتا؟تو آپ علیہ السلام نے جو فرمایا اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں فرمایا؛ ترجمہ؛”اور اُن سے (حضرت ابراہیم علیہ السلام سے)اُن کی قوم نے حجت کرنا شروع کردی۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا؛”کیا تم اﷲ کے معاملے میں مجھ سے حجت کرتے ہو؟جبکہ اُس نے مجھے (صحیح اور درست) طریقہ بتادیا ہے۔اور جن چیزوں (بتوں اور ستاروںوغیرہ) کو تم اﷲ کے ساتھ شریک بناتے ہو۔میں اُن سے بالکل نہیں ڈرتا ۔ہاں ! اگر میرا پرور دگار یعنی اﷲ تعالیٰ میرے لئے جو بھی چاہے ،وہ ہو سکتا ہے۔اور تم دیکھتے اور غور نہیں کرتے ہوکہ میرا رب یعنی اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ اور میں اُن چیزوں (بتوں اور ستاروں وغیرہ) سے کیسے ڈروں؟جبکہ تم اِس بات سے نہیں ڈر رہے ہوکہ تم نے اﷲ کے ساتھ شریک اُن کو بنایا ہے،جن کے بارے میںاﷲ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ہے۔تو اگر تمہیں کچھ بھی علم ہے تو(غور کرو کہ)اُن دو جماعتوں(مسلمانوں اور کافروں) میں سے کون امن کا زیادہ مستحق ہے؟“(سورہ الانعام آیت نمبر 80 اور 81)جب آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ تم کو ہمارے معبودوں (بتوں) سے ڈر نہیں لگتا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تم ڈرنے کی بات کرتے ہو،میرا ارادہ تو یہ ہے کہ میں بہت جلد تمہارے جھوٹے معبودوں کو توڑ ڈالوں گا۔تب بھی وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے۔اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا)اور اﷲ کی قسم! میں تمھارے اِن بتوں کے ساتھ جب تم (میلے میں) چلے جاو¿ گے تو ایک چال چلوں گا۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 57)

بتوں کو توڑ دیا

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ یہ بُت جنہیں تم معبود مانتے ہو،یہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور میں یہ انہیں توڑ کر ثابت کروں گا۔یعنی میں اِن کے خلاف ایک چال چلوں گا،اور یہ بُت مجھے اُس چال سے روک نہیں پائیں گے۔آپ علیہ السلام کی قوم دوسری قوموں کی طرح تہوار مناتی تھی۔کچھ دنوں بعد ایک تہوار آیا،اُس میں پوری قوم شہر کے باہر جمع ہوتی تھی،اور بہت بڑا میلہ لگتا تھا ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی اِس دھمکی کو بعض لوگوں نے سن بھی لیا تھا۔وہ اِن بتوں کے نام پر ہر سال شہر سے باہر میلہ منعقد کرتے تھے،اور پوری آبادی خوشی کے اِس موقع پر شہر سے باہر چلی جاتی تھی۔آپ علیہ السلام کے باپ نے آپ علیہ السلام کو اپنے ساتھ میلے میں چلنے کی دعوت دی،تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں بیمار ہوں(یعنی تم لوگ میلے میں جو خرافات کرو گے،وہ میں نہیں کر سکتا،اِس لئے میں معذور (بیمار) ہوں)۔آپ علیہ السلام کا اصل مقصد یہ تھا کہ اِن مورتیوں کی اہانت کی جائے۔اور دین حق کی سربلندی اور بُت پرستی کے باطل عقیدے کی بیخ کنی کی کوشش کی جائے۔اور انہیں یہ بتایا جائے کہ یہ بُت اِسی سلوک کے لائق ہیں۔کہ انہیں ریزہ ریزہ کر دیا جائے،اور اُن کو پوری طرح ذلیل و خوار کیا جائے۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ الصافات میں فرمایا؛ترجمہ”اور (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے)کہا؛میںتو بیمار ہوں،اِس پر وہ سب منہ موڑ کر واپس چلے گئے۔آپ (علیہ السلام)اُن کے معبودوں کے پاس گئے،اور فرمانے لگے؛تم کھاتے کیوں نہیں ہو؟اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ بات نہیں کرتے ؟پھر تو(پوری قوت کے ساتھ)دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے ۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 89 سے 93 تک)اﷲ تعالیٰ سورہ الانبیاءمیں فرماتے ہیں۔ترجمہ؛”پس اُس نے(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) اُن سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے،ہاں صرف بڑے بُت کو چھوڑ دیا۔یہ بھی اِس لئے کہ وہ سب اپس کی طرف ہی لوٹیں۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 58)جب پوری قوم کے لوگ میلے میں چلے گئے تو آپ علیہ السلام چوکنا انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے شاہی مندر میں آئے۔آپ علیہ السلام نے ایک وزنی کلہاڑا ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔شاہی مندر بہت بڑا تھا،دروسزے کے سامنے سب سے بڑا بُت رکھا ہوا تھا،اُس کے بازو میں اُس سے چھوٹا بُت رکھا تھا۔اُس کے بازو میں اُس سے چھوٹا ،اِس طرح پہلو بہ پہلوکئی بُت رکھے ہوئے تھے۔اور ہر ساتھ والا بُت اپنے سے پہلے والے بُت سے چھوٹا تھا۔مشرکین اپنے بتوں کے سامنے کھانا لا کر رکھتے تھے،اور کہتے تھے کہ جب ہم چلے جائیں گے،تو یہ بُت اِن میں برکت ڈال دیں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب مندر میں داخل ہائے تو دیکھا کہ پورے ہال میں بہت سارے بُت رکھے ہوئے ہیں۔اور اُن کے سامنے کھانا رکھا ہوا ہے،آپ علیہ السلام ہر بُت سے فرماتے؛”تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم کھانا نہیں کھا رہے ہو؟“پورے مندر میں خاموشی طاری رہی،اور کسی بُت نے جواب نہیں دیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تم لوگ میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟اور اگر جواب نہیں دے سکتے تو تمہیں معبود کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔“اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے کلہاڑے سے بتوں پر حملہ کر دیا،اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔اور بڑے بُت کے کاندھے پر وہ کلہاڑا لٹکا کر واپس چلے آئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....... 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں