جمعرات، 6 اپریل، 2023

حضرت نوح علیہ السلام 3 Story of Nooh AS


حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 3

عوام کافر سرداروں کے دباﺅ میں تھی

اس طرح لگا تار حکمت سے آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ ان کی قوم کے عام لوگ جب بھی اان کی بات پر توجہ دینے لگتے اور متاثر ہونے لگتے تھے۔ تو ان کے سردار یعنی پنڈت پجاری وغیرہ حکمرانوں یعنی بادشاہوں راجوں مہاراجوں کے ذریعے ان کا معاشی ، مذہبی اور معاشرتی استحصال کرتے اور ان کے ساتھ ایسا ذلیل سلوک کرتے تھے کہ وہ آپ علیہ السلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ اور سرداروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے تھے۔ ان کے بڑے اُن سے کہتے۔ کہ یہ شخص ( حضرت نوح علیہ السلام ) کوئی رسول وغیرہ ( نعوذ باللہ ) نہیں ہے۔ بلکہ تمہاری طرح کا ( نعوذ باللہ ) ایک معمولی آدمی ہے۔ اور اس کے دعوے کا اصل مقصد یہ ہے کہ تم سے برتر ہو کر رہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو رسو ل بھیجنا ہی تھا تو اس کا م کے لئے فرشتوں کو بھیجتا۔ اسی لئے اس شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو بالکل غلط ہے۔ کیوں کہ ہم نے اپنے سے پہلے کے بڑوں سے بالکل بھی یہ بات نہیں سنی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود مت بناﺅ۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ آدمی ( نعوذ باللہ ) پاگل ہو گیا ہے۔ اور اسی لئے ساری دنیا کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔ کہ میں رسول ہوں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر6مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے سے بچتے ہیں۔ نہ خود حق قبول کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کو حق قبول کرنے دیتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے چودھریوں اور سرداروں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا۔ اور کہنے لگے کہ یہ شخص جو اپنے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں ۔ اس میں ہمیں تو کوئی خاص بات نظر نہیں آتی ہے۔ جیسے تم آدمی ہو ایسا ہی یہ آدمی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہارا بڑا بن کر رہے۔ اور تم اس کے ماتحت بن کر رہو۔ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو اس کے لئے فرشوں کو نازل فرما دیتا جو تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیتا۔ یہ جو بات کہہ رہا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور صرف ایک معبود کی عبادت کرو اور اسی کو تنہا وحدہ لا شریک بتا رہا ہے ایسی کوئی بات تو ہم نے اپنے باپ داداوں سے کبھی نہیں سنی ہے۔ جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ ان چوھریوں اور سرداروں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے خیال میں تو یہ بات آتی ہے کہ اس شخص پر دیوانگی سوار ہے۔ تم ذرا انتظار کر لو۔ ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہو جائے۔ یا پھر اسے موت آجائے تو اس کے سارے کے سارے دعوے رکھے کے رکھے رہ جائیںگے۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر4مولانا عاشق الہٰی ماجر مدنی ) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیر اور نذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کا پیغام پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا کوئی تمہاری عبادت کا حقدار نہیں ہے۔ تمہیں اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی پوجتے ہوئے ڈر نہیں لگتا۔ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا۔ یہ تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اور نبوت کا دعویٰ کرکے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے۔ اور سرداری حاصل کرنےکی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف کیسے وحی آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اگر نبی بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کوبھیج دیتے۔ یہ تو ہم نے کیا ہمارے باپ داد انے بھی نہیں سنا ہے کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کر رہا ہے اور ڈینگیں مار رہا ہے۔ اچھا ذرا انتطار کر لو دیکھ لینا ( نعوذ باللہ ) ہلاک ہو جائے گا۔ 

چند غریب لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ 

حضرت نوح علیہ السلام لگاتار مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اپنی جدو جہد جاری رکھی۔ دھیرے دھیرے دس برس گزر ے۔ بیس برس گزرے، پچاس برس گزرے یہاں تک کہ سو 100برس گزر گئے۔ اور آ پ علیہ السلام مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ قوم کی اکثریت تو انکار کرتی رہی۔ اور کفر پر ڈٹی رہی۔ لیکن کچھ اللہ کے نیک بندے بھی اس قوم میں تھے۔ یہ چند غریب لوگ تھے۔ اور ان غریبوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا۔ قوم کے عام لوگ اور خاص طور سے سرداروں ( مذہبی علماءیعنی پنڈت، سادھو ، پجاریوں اور حکمرانوں ) نے آپ علیہ السلام کا اور اُن غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگے۔ اور انہیں طرح طرح سے تکلیفیں اور اذیتیں دینے لگے۔ لیکن آپ علیہ السلام اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری اور آپ علیہ السلام لگا تار اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا ۔ جب کہ ان کے بھائی نوح علیہ السلام نے کہا۔ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے۔ سنو، میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا امانت دار رسول ہوں۔ بس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے میں تم سے کوئی اجر ( بدلہ ) نہیں چاہتا ہوں۔ میرا اجر تو صرف اللہ رب العالمین دے گا۔ پس تم اللہ ( کے عذاب ) سے ڈرو۔ اور میری فرماں برداری کرو۔ قوم نے جواب دیا۔ ہم تم پر ایمان لائیں؟ تمہاری تابعداری تو رذیل (نیچ) لوگوں نے کی ہے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر107سے 111تک) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا۔ ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تمہارے تابعداروں ( یعنی مسلمانوں) کو بھی ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ کیوں کہ اُن میں نیچ اور موٹی عقل والے( بے وقوف) ہی ہیں۔ اور ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ تم ( دنیاوی لحاظ سے) ہم سے برتر نہیں ہو۔ بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ ( سورہ ہود آیت نمبر27)

کافر سرداروں کا بھید بھاﺅ

جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافر سرداروں یعنی پنڈتوں، پجاریوں، سادھوﺅں اور حکمرانوں نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت سے کچھ غریبوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اور قوم کا عام طبقہ آپ علیہ السلام کی دعوت پر توجہ دینے لگا ہے۔ اور متاثر بھی ہو رہا ہے۔ اور ان کا جھوٹا پروپیگنڈہ ناکام ہو رہا ہے۔ تو انہوں نے قوم میں یہ افواہ پھیلانا شروع کر دی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو ( نعوذ باللہ ) نیچ لوگوں نے قبول کیا ہے۔ اس لئے اونچی ذات کے لوگوں کو ان سے بچ کر رہنا چاہیے۔ آپ کو یاد ہوگا ۔ اس سے پہلے ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں چار طبقے تھے۔ پہلا سب سے اونچا طبقہ پنڈتوں ، پجاریوں ، سادھوﺅں اور راجوں مہاراجوں کا تھا۔ جیسا کہ ہمارے ہندوستان میں ہے۔ اس سے نیچا فوجیوں کا تھا۔ اس طبقے کو ہمارے ہندوستان میں کھتری کہا جاتا ہے۔ تیسرا طبقہ جو سرکاری کاموں میں لکھا پڑھی کرتے تھے۔ یعنی منشیوں اور کلرکوں کا ۔ یہ طبقہ یہاںویش کہلاتا ہے۔ اور سب سے نچلے طقے میں کسان اور کچھ گھریلو کاموں والے لوگ تھے۔ جنہیں ہندوستان میں شودر کہا جاتا ہے۔ اور اسی طبقے کی اکثریت نے اسلام قبول کیا تھا۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کا جواب

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم چار طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور سب سے نچلے طبقے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ قوم کا سب سے اونچا طبقہ جو مذہبی علماءیعنی پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھوﺅں کا تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن اور اسلام کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ کیوں کہ اسلام قبول کرنےکے بعد ان کی سرداری اور حکومت ختم ہو جاتی اور اپنے تمام عیش و آرام کو چھوڑ کر انہیں بھی عام مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنی پڑتی۔ کیوں کہ یہ طبقہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں۔ اور کوئی اونچی اور نیچی ذات نہیں ہے۔ اسی لئے یہ طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے سخت مخالف تھا اور جب ان کی قوم کے سب سے نچلے طبقے نے اسلام قبول کیا تو اس طبقے نے باقی دونوں طبقوں سے کہنا شروع کر دیا کہ تم لوگ اسلام قبول نہیں کرنا ۔ ورنہ تم بھی نچلی ذات کے ہو جاﺅ گے۔ اور مسلمانوں کو اذیت اور تکلیفیں دینے لگے۔ اور سب سے نچلی ذات والوں سے کہا کہ اگر تم اسلام قبول کر لو گے تو تمہیں بھی اسی طرح تکلیفیں دی جائیں گی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام سے کہا کہ تمہاری دعوت کو نیچ لوگوں نے قبول کیا ہے۔ اس لئے ہم تمہاری دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ اور اگر تم چاہتے ہو کہ ہم اسلام قبول کریں توتمہیں ان نچلی ذات کے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا ہوگا۔ اور اسلام سے خارج کرنا ہوگا۔ اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے جو فرمایا۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ میری قوم والو، مجھے بتاﺅ اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی ( صحیح اور روشن ) دلیل پر ہوں اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت ( یعنی اسلام) عطا فرمائی ہوا اور وہ تمہاری نگاہوں میں نہیں آسکی ہو۔ (یعنی اسلام کی حقیقت اور اہمیت تمہاری سمجھ میں نہیں آسکی ہو) تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں گا۔ جب کہ تم اس سے ( اسلام سے) بیزار ہو۔ میری قوم والو، میں تم سے ( اسلام قبول کرنے کے عوض میں ) اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجرو ثواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور نہ ہی میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں۔ انہیں ( بھی) اپنے رب سے ملنا ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ( انسانوں کو اونچے نیچے طبقوں میں تقسیم کر کے) جہالت کر رہے ہو۔ میری قوم کے لوگو، اگر میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں( جیسا کہ تم لوگ شرط پیش کر رہے ہو) تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں میری کون مدد کر سکتا ہے؟( یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی تمہارا بت مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہو سکتا ہے) کیا تم کچھ بھی غور و فکر نہیں کرتے؟“ ( سورہ ہود آیت نمبر28سے 30تک) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم نے کہا۔ کیا ہم تم پر ایمان لائیں ؟ جب کہ تمہاری تابعداری یعنی اطاعت تو رذیل ( نیچ) لوگوں نے کی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے کیا خبر کہ پہلے وہ کیا کرتے رہے؟ ان کا حساب تو میرے رب کی ذمہ ہے۔ اگرتمہیں شعور ( سمجھ) ہوتو اور میں ایمان والوں یعنی مسلمانوں کو دھکے دینے والا نہیں ہوں۔ ( یعنی میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنے ساتھ میں رکھوں گا۔) میں تو صاف طور سے ( اللہ کے غضب اور عذاب سے ) ڈرانےوالا ہوں“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر111سے 115تک) اس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر سرداروں کو صاف صاف جواب دے دیا کہ تم ایمان لاﺅ یا نہ لاﺅ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں تو مسلمانوں کو ہر حال میں ساتھ رکھوں گا۔ 

قوم کے کافر سرداروں کا کڑا جواب

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر سرداروں کو صاف صاف فرما دیا کہ تم ایمان لاﺅ یا نہ لاﺅ میں تو کسی بھی حال میں مسلمانوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کروں گا۔ آپ علیہ السلام کا اتنا صاف جواب سن کر قوم کے سرداروں نے کھل کر آپ علیہ السلام سے دشمنی کرنی شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم کے کافر سرداروں نے) کہا۔ اے نوح ( علیہ السلام ) اگر تم باز نہیں آئے تو یقینا تمہیں سنگسار کر دیا جائے گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر116) یعنی اگر آپ علیہ السلام اپنی دعوت دینا بند نہیں کریں گے تو ہم پوری قوم کو حکم دیں گے کہ وہ جہاں آپ علیہ السلام کو پائے تو مارے۔ چاہے وہ کسی بھی چیز سے ہو۔ اور بچوں کو حکم دیں گے کہ وہ پتھر مارے۔ چاہے ان پتھروں سے آپ علیہ السلام کی موت ہی کیوں نہ ہو جائے۔ قوم کے سرداروں نے حضرت نوح علیہ السلام کو صرف دھمکی نہیں دی بلکہ اس پر عمل بھی کیا۔ اور پوری قوم میں اعلان کر وا دیا کہ حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں کو اسلام کی دعوت سے روکو۔ اور جس کو جیسے بھی بنے وہ اسی طرح روکے۔ پوری قوم کافر سرداروں ( پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھوﺅں ) کے ساتھ تھی۔ صرف حضرت نوح علیہ السلام اور چند غریب مسلمان حق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ قوم کے کافر ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے تھے۔ اور یہی کوشش کرتے تھے کہ مسلمان اسلام کو چھوڑ دیں یا پھر حضرت نوح علیہ السلام اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ لیکن ان کے ظلم و ستم سہنے کے بعد بھی مسلمان حق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اور اسلام پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ 

حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں پر ظلم و ستم

حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں کی دشمن پوری قوم ہو گئی تھی۔ کافروں کے سرداروں نے قوم سے کہا۔ جو حضرت نوح علیہ السلام کو جتنا ستائے گا وہ اتنے زیادہ انعام کا مستحق ہوگا۔ اس طرح مذہبی علماءیعنی پنڈتوں، پجاریوں ، سادھوﺅں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر طرح کا ظلم و ستم کرنے لگے۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام استقامت سے ڈٹے ہوئے تھے۔ اور کافروں کو اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ کافر آپ علیہ السلام کو مارتے جاتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے جاتے تھے۔ وہ بد بخت نہیں جانتے تھے کہ ان کا کتنا بڑا نقصان ( آخرت) کا ہو رہا تھا۔ جہاں چند لوگ بیٹھے ہوتے اور آپ علیہ السلام وہاں پہنچ کر انہیں سمجھانے لگتے تو وہ لوگ اٹھ کر آپ علیہ السلام کو مارنے لگتے تھے اور ادھ مرا چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے تھے تو وہ لوگ کانوں پر کپڑا باندھ لیتے تھے۔ تا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کانوں میں نہ پڑے۔ راستے میں بچے آپ علیہ السلام کو پتھر مارتے تھے۔ ایک مرتبہ تو قوم کے ایک بہت بڑے مجمع نے آپ علیہ السلام کو اتنا مارا کہ بے ہوش ہو گئے اور سانس اتنی دھیمی ہو گئی کہ وہ لوگ سمجھے کہ آپ علیہ السلام کا ( نعوذ باللہ ) انتقال ہو گیا ۔ اور آپ علیہ السلام کو اونی کپڑے میں لپیٹ کر پھینک دیا۔ 

اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا ظلم و ستم جب حد سے گزر گیا تو آپ علیہ السلام نے اس کی ہلاکت کی دعا کی۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم مٹی کے چند خوب صورت کھلونے بناﺅ۔ وہ اتنے اچھے ہوں کہ مجھے پسند آجائیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ بات بہت سی عجیب لگی ۔ پھر بھی آپ علیہ السلام نے بڑی محنت سے دل لگا کر چند بہت ہی خوب صورت کھلونے بنائے۔ جب کھلونے مکمل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں توڑ دو۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ حکم سن کر حیرت ہوئی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس لئے تمام کھلونوں کو توڑ دیا۔ لیکن انہیں توڑنے میں آپ علیہ السلام کو بہت دکھ اور تکلیف ہوئی۔ اور کھلونے توڑنے کے بعد آپ علیہ السلام بہت اداس ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اداسی کی وجہ دریافت فرمائی۔ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں) حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، آپ نے چند خوب صورت کھلونے بنانے کا حکم دیا۔ میں نے بہت دل و جان سے بنائے پھر آپ نے انہیں توڑنے کا حکم دیا ۔ تو میں نے توڑ دیا لیکن انہیں توڑنے میں مجھے بہت دکھ اور تکلیف ہوئی۔ اسی وجہ سے اداس ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے نوح ( علیہ السلام) تمہیں مٹی کے چند کھلونوں سے اتنی محبت ہو گئی تھی تو مجھے اپنے جیتے جاگتے بندوں سے کتنی محبت ہو گی۔ تب حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑ گڑا نے لگے اور عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تیرے بندوں کے ظلم و ستم کو سہتا رہوں گا اور انہیں آپ کی طرف بلاتا رہوں گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ 

قوم کے ظلم و ستم پر اُن کے لئے دعا

حضرت نوح علیہ السلام اس کے بعد مسلسل اپنی قوم کو سمجھاتے رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے اے میری قوم، تم مجھے کتنا بھی ظلم و ستم کا نشانہ بناﺅ۔ میرے ساتھ کتنا بھی برا سلوک کرلو۔ لیکن میں تمہاری بھلائی ہی چاہتا رہوں گا۔ اور تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم اسلام قبول کر لو۔ تم اپنے دل کی بھڑاس نکال لو۔ اور تمہیں میرے ساتھ جو بھی کرنا ہے کر لو۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کو نوح ( علیہ السلام ) کا قصہ پڑھ کر سنائیں۔ جب انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم، اگر تم کو میر ا رہنا اور اللہ کے احکامات کی (یعنی اسلام کی ) نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے۔ تم اپنی تمام تدبیر اپنے ساتھیوں اور اپنے بنائے ہوئے جھوٹے خداﺅں کے ساتھ مل کر پختہ کر لو۔ اور تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعث نہیں ہونی چاہیئے۔ پھرمیرے ساتھ ( جو کرنا چاہتے ہو) کر گزرو۔ اور مجھ کر مہلت نہ دو۔ ( سورہ یونس آیت نمبر71) اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے اور جب قوم تکلیف اور اذیت دیتی تو فرماتے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو معاف فرما دے یہ نہیں جانتی۔ حضرت نوح علیہ السلام اس کے بعد بھی اپنی قوم کو مسلسل سمجھاتے رہے۔ اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس میں برسوں گزر گئے۔ کچھ تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے۔ لیکن اکثریت کافر ہی رہے۔ کافر آپ علیہ السلام سے تنگ آئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ اے نوح، اگر تم باز نہیں آﺅ گے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ یعنی اے نوح، اگر تم اسلام کی دعوت دینا بند نہیں کرو گے۔ تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ( نعوذ باللہ) ختم کر دیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ایسا ہی کیا۔ اور آپ علیہ السلام کو مار مار کر بری طرح زخمی کر دیا۔ اور آپ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ وہ لوگ سمجھے کہ آپ علیہ السلام کا نعوذ باللہ انتقال ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام کو اونی کپڑے میں لپیٹ کر آپ علیہ السلام کے گھر میں پھینک دیا۔ آپ علیہ السلام ہوش میں آگئے اور اسی حالت میں نکل کر پھر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو اتنا مارتی کہ آپ علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر جب ہوش میں آتے اور کچھ افاقہ ہو تا تو اس طرح دعا کرتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو ہدایت فرما۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں