خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 29
سوره الملک
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سارا ملک ( کائنات) اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اللہ تعالی بڑی برکت والا ، قدرت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانچ کرنے کے لئے زندگی اور موت کو پیدا فرمایا کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ایک کے اوپر ایک سات آسمان بنائے ۔ تم غور سے دیکھو! اس میں تمہیں کوئی دراڑ نظر نہیں آئے گی۔ تو جس نے کفر کیا۔ اس کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور اس کی آگ زبردست جوش ماررہی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے بڑا اجر وثواب ہے اور تم بات آہستہ کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ تو دلوں میں چھپی بات جانتا ہے۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین بچھائی تا کہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اللہ تعالیٰ کا رزق تلاش کرو اور کھاؤ اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ اللہ تعالی کی سلطنت زمین اور آسمان پر ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھراؤ کرے تو تمہیں کون بچائے گا ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے تو کون تمہیں رزق دے گا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے کان، آنکھ اور دل بنائے ۔ اس کے بعد بھی تم حق کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ جب وہ آئے گی تو کافر بہت بڑے نقصان میں پڑ جائیں گے۔
(سورۃ الملک مکمل )
سورة القلم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 3
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ مجنون نہیں ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بہت اعلیٰ اور اونچے اخلاق عطا فرمائے ہیں۔ اسکے بعد بد بخت ولید بن مغیرہ ( جس نے آپ ﷺ کو مجنوں کہا تھا ) کے دس عیب بتائے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھانے والا ہے، ذلیل ہے، طعنے دینے والا ہے، چغل خور ہے، بھلائی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھنے والا ہے، گنہگار ہے، بد زبان ہے، زنا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اپنے مال اور اولاد پر گھمنڈ کرتا ہے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کے سور جیسے منہ کو آگ سے داغے گا۔ اس کے بعد باغ والوں کا واقعہ بیان فرمایا جواللہ تعالی کو بھول گئے تھے اور تباہ ہو گئے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ( گناہوں سے بچنے والے) مسلمانوںکو اللہ تعالی جنت میں داخل فرمائے گا اور مسلمان اور مجرمین برابر نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی پنڈلی کو ظاہر فرمائے گا۔ (پنڈلی کا ظاہر کرنا یہ اللہ تعالی کی کوئی خاص صفت ہو گی جس پر اسی طرح ایمان لانا ضروری ہے، جس طرح اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے اور اس کی کیفیت اور باریکی کے ساتھ کھوج تلاش میں پڑنا ممنوع ہے ) اس دن کا فر اور منافق اللہ تعالٰی کو سجدہ نہیں کر سکیں گے اور شرمندگی سے اُن کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور وہ ذلیل ہوں گے کیوں کہ وہ دنیا میں اللہ تعالی کو سجدہ کرنے کے لئے بلائے جاتے تھے تو سجدہ نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالی آہستہ آہستہ انہیں دوزخ میں داخل کر دے گا ۔ جب کا فر قرآن پاک سنتے ہیں تو آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں جب کہ یہ قرآن پاک تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے ۔
(سورہ القلم مکمل)
سورہ الحاقه
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے متعلق پُر زور الفاظ میں بیان فرمایا کہ وہ ایک ثابت اور ضرور واقع ہونے والی حقیقت ہے۔ اس کے بعد قوم ثمود، قوم عاد، قوم فرعون اور قوم نوح کی سرکشی اور اُن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت جب واقع ہوگی تو صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اچانک چکنا چور کر دیئے جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے ۔ آٹھ فرشتے اللہ تعالی کا عرش اٹھائے ہوں گے۔ اُس دن سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور کوئی چھپ نہیں سکے گا۔ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی لوگوں کو بتائے گا اور جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نا کام ہوگا اور کہے گا: کاش! کسی طرح مجھے موت آجاتی۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن پاک کی آیتیں تم پر تلاوت فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ شاعری نہیں کرتے اور نہ ہی آپ صلی اللہ کا ہن ہیں۔ اگر آپ ﷺ (نعوذ باللہ ) اپنی طرف سے کوئی بات بناتے تو اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ بے شک آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت والا قرآن سناتے ہیں اور یہ کافروں کے لئے حسرت ہے۔ یقینا قرآن پاک حق ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔
(سورۃ الحاقہ مکمل)
سورة المعارج
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کا فر عذاب ما نگتے ہیں تو وہ قیامت کے دن ہوگا اور وہ پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا۔ اُس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہو جائیں گے۔ دوست اپنے دوست کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا اور مجرم عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹے ، اپنی بیوی اپنے بھائی اور سارا خاندان اور زمین میں جو بھی ہے ، سب کچھ دے کر عذاب سے چھوٹنا چاہے گا لیکن وہ عذاب سے نہیں بیچ سکے گا۔ ایمان والے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور امانتوں اور اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور حق کی گواہی دیتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ جنت کے عیش و آرام کے حقدار ہیں۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اسلام قبول کرنے سے انکار کرنے کے بعد اس بات کی امید کیسے کر سکتے ہیں کہ انھیں جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سب مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ اگر اللہ تعالی چاہے تو ان سے اچھے لوگ لے آئے ۔ آپ ﷺ ان کافروں کو اُن کی بے ہودگیوں میں پڑے رہنے دو اور دنیا میں مگن رہنے دو۔ قیامت کے دن یہ قبروں سے نظریں نیچی کئے ہوئے ذلیل ہوتے ہوئے نکلیں گے۔
(سورۃ المعارج مکمل )
سوره نوح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر 10
اللہ تعالٰی نے ان دونوں رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ! میں نے اپنی قوم کو رات دن اسلام کی دعوت دی۔ خفیہ طور سے اور علانیہ بھی تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کانوں پر کپڑے لپیٹ لئے اور میں نے ہر طرح سے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن یہ لوگ بتوں کی پوجا میں لگے رہے اور اسے اللہ! زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا ۔ اگر وہ رہیں گے تو بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار اور کافر ہوگی ۔ اللہ تعالی نے کافروں کو غرق کر دیا اور اُن کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اور میرے والدین اور سب مسلمان مرد اور عورتوں کو بخش دے۔
(سورہ نوح مکمل)
سورة الجن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہہ دو کہ میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور میں تمہارے بھلے اور بُرے کا مالک نہیں ہوں اور میرا کام تو صرف اللہ تعالٰی کا پیغام اس کے بندوں تک پہونچانا ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور سب غیب کا جانے والا اللہ تعالٰی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ رسولوں کے سوائے کسی کو غیب سے آگاہ نہیں کرتا۔
(سورۃ الجن مکمل)
سورة المزمل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو نماز تہجد کے بارے میں ہدایات دیں اور فرمایا کہ قرآن پاک خوب ٹھہر ٹھہر کر (سمجھ سمجھ کر) پڑھو اور اللہ تعالی کو خوب یاد کرو ۔ مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اللہ تعالی کو اپنا مددگار بناؤ۔ کافروں کی باتوں پر صبر کرو ۔ انہیں مہلت دو ۔ بہت جلد قیامت کے دن اللہ تعالی انہیں پکڑے گا اور انھیں وزنی بیڑیاں پہنائے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کرے گا اور گلے میں پھنسنے والا کھانا کھلائے گا اور دردناک عذاب دے گا اور قیامت کے دن زمین اور پہاڑ ریت کی مانند ہو جائیں گے اور وہ دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور آسمان پھٹ جائے گا۔ بے شک یہ نصیحت ہے۔ جو چا ہے اس نصیحت کو قبول کرے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ پر چلے۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ اور مسلمانوں کا راتوں میں عبادت کرنا دیکھ رہا ہے کہ تم لوگ بہت مشقت اٹھاتے ہو اور مستقبل میں بھی ایسا کرتے رہو گے تو تکلیف میں آجاؤ ک گے سو اللہ تعالی نے تم پر رحم فرمایا ۔ اب آسانی سے نماز میں جتنا قرآن پاک پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھو اور مستقبل میں تم میں کچھ بیمار ہوں گے۔ کچھ زمین میں سفر کریں گے۔ اللہ تعالی کا رزق تلاش کرنے کے لئے اور کچھ اللہ تعالٰی کے لئے لڑتے ہوں گے۔ تو آسانی سے جتنا قرآن ( نماز میں ) پڑھ سکتے ہو پڑھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس سے زیادہ پاؤ گے ۔ بے شک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔
(سورۃ المزمل (مکمل)
سورة المدثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو اسلام کی دعوت کا حکم دیا اور کافروں کی تکلیف پر صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ قیامت کا دن کا فروں پر بہت سخت عذاب ہوگا ۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ اور ابو جہل کو اللہ تعالی جو عذاب دے گا، اس کو بتایا اور اُن دونوں کے گھمنڈ اور تکبر اور انکار کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بے شک ڈرنے کی چیز ہے اور ایمان والے نیک اعمال کرنے والے جنت میں ہوں گے اور مجرمین دوزخ میں ہوں گے ۔ دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے: کون سی بات تمہیں دوزخ میں لائی ؟ وہ کہیں گے : ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور محتاجوںکو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بے ہودگیوں میں پڑے رہتے تھے اور فیصلہ کے دن (یعنی قیامت) کو جھٹلاتے تھے اور نصیحت سے منہ پھیرتے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا۔ بے شک یہ قرآن پاک نصیحت ہے، تو جو چاہے نصیحت قبول کرلے اور اللہ تعالی کی شان مغفرت ( بخشش) کرنا ہے۔
( سورۃ المدثر مکمل)
سورة القيامہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گے اور چاند، سورج میں جا کر مل جائے گا اور انسان کو کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائیں گے اور انسان کے سب اگلے پچھلے اعمال بتا دیے جائیں گے۔ وہ بہت بہانے بنائے گا۔ مگر سب ردّ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو فرمایا کہ آپ ﷺ وحی کے وقت سکون سے قرآن سنیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ قرآن پاک آپ ﷺ کو سمجھا دے گا اور یاد کرا دے گا۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بد بخت ابو جبل نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑایا۔ آپ ﷺ کو جھٹلایا اور منہ پھیر کر اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا تو خرابی ہے اس کی اور بہت بڑی خرابی ہے اس کی اور وہ اس گھمنڈ میں ہے کہ اُسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ ایک پانی کی حقیر بوند تھا پھر خون کی پھٹکی بنا پھر اللہ تعالی نے اسے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بنایا تو جو اللہ تعالی یہ سب کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔
(سورۃ القیامہ مکمل)
سورة الدهر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 19
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ انسان پر ایک وقت گذرا کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی ملی ہوئی منی سے اُسے پیدا کیا تا کہ اس کی آزمائش کرے پھر اسے دیکھنے والا سننے والا اور سمجھنے والا بنایا اور اسے سیدھا راستہ بتایا تا کہ دیکھے کہ وہ حق کو مانتا ہے یا کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان کے لئے اللہ تعالی نے زنجیریں تیار کر رکھی ہیں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس کے بعد جنت والوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں کافور ملا ہوا بہترین مشروب پلایا جائے گا۔ انہیں ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے۔ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ گرمی لگے گی اور نہ ٹھنڈی لگے گی اور چاندی کے گلاسوں میں ادرک ملی ہوئی سلسبیل کی نہر کا مشروب پلایا جائے گا اور اُن کی خدمت کے لئے موتی کی طرح لڑکے ہوں گے اور اُن کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور صاف ستھری شراب پلائی جائے گی۔
رکوع نمبر 20
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر دھیرے دھیرے اتارا تو آپ ﷺ صبر کریں اور کسی گنہ گار اور کافر کی بات پر توجہ نہ دیں اور صبح اور شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور رات میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں اور تسبیح بیان کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن پاک نصیحت ہے تو جو چاہے اللہ تعالٰی کا راستہ اختیار کرے۔ اور اللہ تعالی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے لیتا ہے۔
(سورۃ الدہر مکمل )
سورة المرسلات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 21
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں تارے محو کر دیئے جائیں گے ( یعنی ان کی چمک دمک ختم ہو جائے گی ) اور آسمان میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور پہاڑ دھول بنا کر اڑا دیے جائیں گے۔ وہ فیصلہ کا دن ہو گا اور تم کیا جانو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ؟ اس دن جھٹلانے والوں (کافروں) کی خرابی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے کے کافروں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح بعد والے کافروں کے ساتھ بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے بنایا۔ پھر اسے محفوظ جگہ رکھا اور ایک مقررہ وقت تک رکھ کر بنایا اور ایک مقررہ وقت پر دنیا میں لایا اور اللہ تعالی بہترین قدرت والا ہے تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہیں سنبھالنے والی بنایا اور اس پر پہاڑوں کا لنگر بنایا اور میٹھا پانی پلایا تو چلو اُس دن کی طرف جسے تم جھٹلاتے تھے۔ بے شک جہنم میں بہت بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں۔ اونٹوں اور محلوں کے برابر ، اُس دن جھٹلانے والوں ( انکار کرنے والوں ) کی خرابی ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ وہ بول نہیں سکیں گے اور نہ ہی انھیں عذر ( بہانے ) کرنے کی اجازت ملے گی۔ یہ ہے فیصلہ کا دن اور اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو جمع کیا۔ اب کافروں کا کوئی داؤ چل نہیں سکتا، اگر کوئی داؤ چلانا چا ہو تو چلا کر دیکھ لو۔
رکوع نمبر 22
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ایمان والے جنت میں سایوں میں ہوں گے اور چشموں سے پیتے اور میوے اور پھل کھاتے ہوں گے ۔ یہ اُن کے نیک اعمال کا صلہ ہوگا۔ بے شک اللہ تعالی نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے۔ اور اے مجرمو! دنیا میں کچھ دن کھا پی لو اور فائدہ اٹھا لو اور جب نماز پڑھنے کو کہا جاتا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اب اس کے بعد یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ۔
(سورۃ المرسلات مکمل )
(پارہ نمبر29 مکمل)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں