2حضرت صالح علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 2
حضرت صالح علیہ السلام
حضرت صالح ؑ کا سلسلہ نسب حضرت صالح ؑ بن عبیل بن اسف بن شالخ بن عبیل بن کا ثر ( جاثر، عاثر) بن ثمود ہے۔ (تاریخ ابن خلدون) علامہ ابن کثیر سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضر ت صالح ؑ بن عبدبن ماسح بن حاجرین ثمود ہے۔ حضرت صالح ؑ قوم ِ ثمود کے سب سے معزز خاندان سے تھے۔ آپ علیہ السلام نہایت حلیم اور منکسر المزاج تھے۔ آپ علیہ السلام کا رنگ سرخ، سفیدی کی طرف مائل تھا۔ بال بالکل سیدھے باریک اور بالکل سیاہ نہیں تھے۔ بلکہ خفیف سا بھور پن ظاہر ہوتاتھا۔ ہمیشہ برہنہ پار(ننگے پاﺅں)چلتے تھے۔ مکان کبھی نہیں بنوایا۔ عمر بھر مسجد میں رہے اور رات کو وہیں سوتے تھے۔ اپنی قوم کے سب سے ذہین ، نیک اور لوگوں کے ہمدرد کے طور پر مشہور تھے۔ ہر کسی کی مدد کرتے تھے۔ اور قوم ِ ثمود بچپن سے آپ علیہ السلام کی صداقت، دیانت اور عظمت کو تسلیم کرتی تھی۔ جوانی میں بھی اپنی قوم میں ہر دلعزیز تھے۔ ہمیشہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہے۔ اعلان ِ نبوت سے پہلے بھی بتوں سے بیزار تھے۔ آپ علیہ السلام کی قوم بری طرح بت پرستی میں مبتلاتھی۔ انھیںبتوں کی پوجا کر تے دیکھ کر آپ علیہ السلام بری طرح کڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ اور اپنا رسول بنا کر قوم ِ ثمود کی طرف بھیجا۔
حضرت صالح علیہ السلام کا اعلان نبوت
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو پھلوں اور میوﺅں سے بہت نوازا تھا۔ پھل فروٹ اور میوے ان کے علاقے میں اتنے زیادہ پیدا ہوتے تھے کہ انھیں کھانے کے لئے کچھ کر نے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ بت پرستی اس قوم میں عام ہوگئی تھی۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی۔ آپ علیہ السلام قوم ِ ثمود کے سب سے معزز خاندان کے سب سے معزز گھرانے کے سب سے معزز فرد تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ اس نے تمہیں پیدا فرمایا اور زمین پر بسایا۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم عاد کے بعد جانشین بنایا۔ اور ٹھکانہ دیا۔ تو تم زمین میں اس کے میدانی علاقوں میں عالیشان محل تعمیر کرتے ہو ۔ اور پہاڑوں کو تراش تراش کر محلات بناتے ہو۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی قدر کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سو ا کسی کی عبادت مت کرو۔ اس کی طرف رجوع کرو۔ اور دل و جان سے مغفرت طلب کرو۔ بے شک میرارب (اللہ تعالیٰ) قریب ہے اور التجائیں قبول کر نے والا ہے۔
قوم ثمود کو اسلام کی دعوت
حضرت صالح علیہ السلام نے قوم ِ ثمود کو اسلام کی دعوت دی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔“ اے میری قوم ، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اور اس کے سواکوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ (سورہ الاعراف آیت نمبر 73) اسی سورہ میںآگے فرمایا۔ اور تم اس حالت کو یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کوقوم عاد کے بعد جانشین بنایا اور تم کو زمین میں رہنے کا ٹھکانہ دیا۔ کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تر اش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو۔ سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فسادمت پھیلاﺅ۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر74) اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا ۔ ترجمہ ”اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو بھیجا۔ اس نے فرمایا اے میری قوم ، تم اللہ کی عباد ت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے۔ اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے۔ پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طر ف رجوع کرو۔ بے شک میرا رب قریب ہے اور دعاﺅں کو قبول کر نے والا ہے۔“ (سورہ عود آیت نمبر61) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”بے شک ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو بھیجا۔ (انھوں نے فرمایا کہ) تم سب اللہ کی عبادت کرو۔ پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔“(سورہ التمل آیت نمبر 45) تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے قوم عاد کے تذکرہ میں بیان ہو چکا ہے۔ کہ عاداور ثمود ایک ہی دادا کی اولاد میں دو شخصوں کے نام ہیں۔ ان کی اولاد ا ن کے نام سے موسوم ہو کر دو قومیں بن گئیں۔ ایک قوم عاد اور دوسری قوم ثمود کہلائی۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں بستے تھے۔ اور ان کے بڑے شہر کانام حجر تھا۔ جس کو اب مدائن ِ صالح کہا جاتاہے۔ قوم عاد کی طرح قوم ثمود بھی دولت مند، قوی اور بہادر قوم تھی۔ اور سنگ تراشی اور فن ِ تعمیر میں ماہر تھی۔ کھلی زمین پر بڑے بڑے محلات بنانے کے علاوہ پہاڑوں کو کھود کر ان میں طرح طرح کی عمارتیں بناتے تھے۔ ارض القران میں مولانا سید سلیمان صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی تعمیر ی یادگاریں اب تک باقی ہیں۔ اور ان پر ارمی اور ثمودی اسم الخط میں کتبے منقوش ہیں۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جودعوت دی وہ وہی دعوت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اس وقت تک سب انبیائے کرام دیتے چلے آئے ہیں۔ انھوں نے اپنی قوم سے ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا رب اور خالق و مالک سمجھو اسکے سوا کوئی عباد ت کے لائق نہیں ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی جوانی کے زمانہ سے اپنی قوم کو دعوت توحید دینا شروع کی اور برابر اسی میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپے کے آثار شرو ع ہو گئے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع ) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم،۔ تم تیسرا قصہ اورسم لویا اپنی قوم ( قریش ) کو سنادو صالح علیہ السلام کا ۔ کہ قوم عاد جن کو عاد اولیٰ کہلاجاتا ہے ان کی ہلاکت کے بعد ہم نے قوم ثمود میں انھیں کی برادری میں سے حضرت صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ قوم ثمود تو حجاز والوں سے بہت ہی قریب ہے۔ اس کی بستیاں اپنے (شام کے تجارتی) سفروں میں دیکھتے ہو۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود سے فرمایا کہ تم اللہ کے بندے ہو۔اس ایک اللہ کی عبادت کرو، اس پر ایمان لاﺅ اسکی ہی فرمانبرداری کروکیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
حضر ت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔ تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ ثمود سے مراد ثمود بن عاثر ہے۔ یہ جدلیس کا بھائی تھا۔ قومِ ثمود معاشی طور سے خوش حال تھے۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف عمل کیا اور بتوں کی پوجا کی۔ اور زمین میں فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا ۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں نسب کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ اور حسب کے اعتبار سے افضل تھے۔ پس آپ علیہ السلام انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ بوڑھے ہو گئے۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القرآن المعروف تفسیرقرطبی جلد نمبر 4امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی)
قوم عاد کی تباہی کی مثال
حضرت صالح علیہ السلام نے پہلے تو اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی پھر سمجھایا کہ تمہارے سامنے قوم عاد کے حالات ہیں۔ کہ اُن کے کفر کے نتیجہ میں اور اپنے نبی کو جھٹلانے کے نتیجہ میں کس طرح ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ اور وہ بالکل ہلاک و برباد ہو گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ تمہیں زمین کا ذمہ دار بنایا۔ اس لئے تم اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر کرو۔ اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اور قوم عاد کی طرح بتوں کی پوجا مت کرو۔ اور ضد اور سر کشی اختیار مت کرو۔ اور زمین میں فساد ( برائیاں ) مت پھیلاﺅ۔ اس کے بعد سمجھایا کہ صر ف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور زمیں پر بسایا اور ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی۔ اور جن بتوں کی تم پوجا کر رہے ہو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا ہے۔ یہ خود پیدا ہونے کی طاقت بھی نہیں رکھتے بلکہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو۔ اس بات کو سمجھو اور بتوں کی پوجا چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرواور اپنی پچھلی غلطیوں ( بت پوجا) کو چھوڑ دو۔ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ اور معاف کرنے والا ہے۔
قوم ثمود ماہر سنگ تراش تھے
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ ساتھ فنِ تعمیر میں بھی ماہر بنایا ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں کیا ہے۔ ترجمہ ” ( حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا) اور تم وہ حالت کو یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم عاد کے بعد جانشین بنایا ۔ اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانہ دیا۔ کہ تم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاﺅ۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر 74) اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا ” ترجمہ ۔ یہ لوگ ( قوم ثمود کے لوگ) پہاڑو ں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہو کر۔“ ( سورہ الحجر آیت نمبر82) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”( حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا) اور تم پہاڑوں کوتراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر 49) ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کے فن تعمیر کے بارے میں بتایا۔ تفہیم القران میں لکھا ہے کہ ثمود کی یہ صفت ویسی ہی تھی جیسی ہندوستان میں ایلورہ ، اجنٹا اور دوسرے مقامات پر پائی جاتی ہے۔ یعنی وہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر عالیشان عمارتیں بناتے تھے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ مدائن صالح میں اب تک ان کی کچھ عمارتیں جوں کی توں موجود ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس قوم نے انجینئری ( فن تعمیر) میں کتنی حیرت انگیز ترقی کی تھی۔ ( تفہیم القران سورہ الاعراف حاشیہ نمبر59) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو قوم عاد کا خلیفہ اور نائب بنایا۔ تا کہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں اور اس راستے پر نہ چلیں جس راستے پر چل کر وہ ( قوم عاد) عبرت کا نشان بنے۔ بلکہ صراط مستقیم پر چلیں جو کامیابی و کامرانی کا راستہ ہے۔ ان لوگوں کو عاد کی قوم کے اس وسیع و عریض خطے کا مالک بنا دیا کہ اس میں اپنے رہنے کے لئے محلات تعمیر کریں۔ قوم ثمود کے لوگ محلات کی تعمیرکرنے اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بنانے اور ان کو محکم کرنے اور پختہ کرنے کے فن سے پوری طرح واقف تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں یہی سمجھایا ۔ کہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے اور سر کشی نہیں کرو گے تو اس کا نتیجہ بہت اچھا ہو گا۔
قوم ثمود کا جواب
قوم ثمود جب بت پرستی میں مبتلا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اور حضرت صالح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور مختلف طریقوں سے اپنی قوم کو سمجھایا۔ لیکن قوم ثمود نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے کی بجائے مخالفت کرنے لگے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔” انہوں نے( قوم ثمود نے ) کہا۔ اے صالح ( علیہ السلام ) اس سے پہلے تو ہم تم سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے کیا تم ہمیں ان ( بتوں) کی عبادت سے روک رہے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ داد کرتے چلے آئے ہیں۔ ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے۔ جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو۔ “ ( سورہ ہود اایت نمبر62)قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کے ساتھ بد تمیزی کی۔ کیوں کہ ان کے اندر بت پرستی بہت گہرائی تک اتر گئی تھی۔ اور ابلیس نے ان پر بہت سخت قبضہ جمایاہوا تھا۔ قوم ثمود نے جواب میں آپ علیہ السلام سے کہا۔ اے حضرت صالح علیہ السلام تم تو وہ شخص تھے جس سے ہم نے بہت سی امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ حضرت صالح علیہ السلام چونکہ سب سے معزز گھرانے کے اور سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔ اور لگ بھگ چالیس پچاس برس اپنی قوم میں گزار چکے تھے۔ اور ہر وقت لوگوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔ ہمیشہ سچ فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی خوبیاں آپ علیہ السلام میں تھیں۔ اسلئے قوم ثمود آپ علیہ السلام کو مستقبل کا حکمراں کی حیثیت سے دیکھنے لگی تھی۔ اسی بات کو آپ علیہ السلام کی قوم نے دہرایا تھا کہ تم وہ شخص تھے جس سے ہم نے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ تفسیر انوارا لبیان میں لکھا ہے کہ ان لوگوں ( قوم ثمود) نے ضد و عنا د پر کمر باند ھ لی ۔ اور حضرت صالح علیہ السلام سے کہنے لگے کہ میاں تم تو بڑے سمجھدار اور ہونہار تھے۔ ہم تم کو اپنا سردار بنا لیتے اور اپنے کاموں میں تمہیں آگے آگے رکھتے ۔ تم نے جو یہ باتیں نکالی ہیں کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور ہمارے باپ دادا ،جن کی عبادت کرتے تھے انہیں یکسر چھوڑ دیں۔ یہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں ۔ تم ہیمیں جس بات کی دعوت دے رہے ہو ہمیں تو اس کے صحیح ہونے میں شک ہے۔ اور شک بھی معمولی نہیں بلکہ بڑا شک ہے۔ جو تذبذب اور تردد میں ڈالنے والا ہے ۔
قوم ثمود کی سر کشی
سورہ ہود کی آیت نمبر 62کی تفسیر میں تفسیر سیرت القران میں لکھا ہے کہ جب قوم ثمود مال و دولت کی کثرت عیش و عشرت کی زندگی اور بلند و بالا عمارتوں پر ناز کرتے ہوئے پتھر کے بے جان بتوں کی عبادت و بندگی میں ڈوب گئی۔ تب اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی اصلاح کے لئے حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا۔ تا کہ ان کو خواب ِ غفلت سے بیدار کیا جا سکے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے وہی بنیادی بات فرمائی جو تمام انبیائے کرام نے فرمائی کہ اے میری قوم ، تم ایک اللہ کی عبادت کرو ۔ کیوں کہ وہی ایک اللہ ہے جس نے انسان کو زمین کے بے جان ذرات سے پیدا کیا ہے۔ پھر اس کو صلاحیتیں عطا فرمائی ۔ جن سے کام لے کر وہ اس دنیا میں رہنے بسنے اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ فرمایا تم دنیا کے عیش و عشرت میں پھنس کر اپنے خالق و مالک اللہ کو مت بھول جانا۔ اور اسی کی طرف پلٹ آﺅ۔ وہ اللہ ایسا مہربان کہ اپنے بندوں کی ہر فریاد سنتا ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد ( قوم ثمود کے لوگ) کہنے لگے کہ اے صالح ( علیہ السلام ) ہمیں تو آپ سے بہت کچھ امیدیں تھیں۔ اب آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ ہمیں ان معبودوں ( بتوں) کی عبادت و بندگی سے روک رہے ہیں۔ جن کی عبادت و بندگی ہمارے باپ دادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ بت( جن کی پوجا ہم کرتے ہیں) تو ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن آپ ( علیہ السلام ) جس معبود کی طرف بلا رہے ہیں۔ ہمیں تو شک ہے کہ ( نعوذ باللہ ) وہ ہے بھی یا نہیں؟ ( تفسیر بصیرت القرآن جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی) سورہ ہود کی آیت نمبر61اور 62کی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے سے باز آنے کی نصیحت کی۔ اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی ہے۔ اور ہم سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی نے اپنے فضل سے تمہیں زمین میں بسایا ہے ۔ تمہیں اللہ سے توبہ و استغفار کرنا چاہیئے۔ اور اسی کی طرف جھکے رہنا چاہیے۔ وہ بہت ہی قریب ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے جواب میں قوم ثمود نے کہا۔ آپ ( علیہ السلام ) نے یہ بات زبان سے نکالی۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں آپ ( علیہ السلام) سے وابستہ تھیں۔ لیکن آپ نے ان سب پر پانی پھیر دیا۔ اور ہمیں ہماری پرانی روش اور باپ دادا کے پوجا پاٹ کے طریقے سے ہی ہٹانے لگے ۔ ہمیں تو آپ ( علیہ السلام ) کی نئی رہبری میں بہت بڑا شک ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں