پیر، 17 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 2 Story of Prophet Ibrahim


حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 2

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے۔حضرت ابراہیم بن تاخ بن ناحور بن ساروغ بن رانموبن فالغبن عابر بن شالح بن ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔یہ اہل کتاب کی موجودہ توریت میں لکھا ہوا سلسلہ¿ نسب ہے۔حافظ ابن عساکر ،حضرت اسحاق بن بشر کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام والدہ محترمہ کا نام ”امیلہ“تھا۔انہوں نے آپ علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔امام کلبی کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ”بونا بنت کرینابن کرنی تھا۔جو ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہے۔امام ابن عساکر حضرت عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کنیت ”ابو فیفان“ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ علیہ السلام کا سلسلۂ نسب اِس طرح بیان کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام تارج بن ناحوربن ساروغ بن ارغوابن فالغ بن عابر بن شالخ بن قینان بن ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اِس طرح لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بن آذر (اسے تارح یا تارخ کہتے ہیں)اور آذر ایک بُت کا نام تھا،جس کی وجہ سے لقب آذر ہوا۔بن ناحور بن ساروخ (ساروغ یا شوروخ یا اشرغ)بن ارغوا بن فالغ (فالخ)بن عابر (یا عنبر) بن شالخ(یا شلیخ) بن ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا غور و فکر

حضرت ابراہیم علیہ السلام اُسی غار میں پڑے ہوئے تھے،اور دھیرے دھیرے جب سنِ شعور کو پہنچے تو آپ علیہ السلام نے غور و فکر شروع کر دیا۔والدہ محترمہ اُن کی قوم کے معبووں کے بارے میں بتاتی تھیں۔آپ علیہ السلام کی قوم بتوں کے ساتھ ساتھ ستاروں اور چاند اور سورج کی بھی پوجا کرتی تھی۔آپ علیہ السلام جب بھی انہیں دیکھتے تو والدہ محترمہ سے پوچھتے تھے،اور جب وہ انہیں اُن کے بارے میں بتاتیں تو آپ علیہ السلام اِس پر غور و فکر کرتے تھے۔لیکن جب انہیں ڈوبتے ہوئے سیکھتے تھے تو یہی فرماتے تھے کہ جو چیز ڈوب جائے ،وہ معبود نہیں ہو سکتیں۔بلکہ معبود وہ ہے،جس نے اِن سب کو اور پوری کائنات کو بنایا ہے۔ اور وہ اکیلا یہ سارا انتظام سنبھال رہا ہے۔جب آپ علیہ السلام جوان ہو گئے تو والدہ محترمہ نے آپ علیہ السلام کے باپ کو بتایا۔وہ بہت خوش ہوا ،اور آپ علیہ السلام کی والدہ انہیں باپ کے کے پاس لے آئیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔اہل کتاب کے مطابق جب تارخ کی عُمر پچھتر (75)سال ہوئی تو حاران،حضرت ابراہیم علیہ السلام، اور ناحور پیدا ہوئے۔اور حاران کے بیٹے حضرت لوط علیہ السلام پیدا ہوئے۔وہ یہ بتاتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تاخ کے درمیانی بیٹے ہیں،اور حاران کا اپنے باپ کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔اور آپ علیہ السلام کی جائے پیدائش کلدانیوں کا ملک بابل (کا شہر اُر) بتایا جاتا ہے۔امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل (کے شہر اُر) میں پیدا ہوئے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کس زمانے میں پید ا ہوئے؟اور آپ حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے عرصے بعد پیدا ہوئے؟اِس کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی تفسیر تبیان القرآن میں لکھتے ہیں۔حضرت نوح علہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلا م کے درمیان دس صدیاں ہیں۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس صدیاں ہیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے دو ہزار (2000)سال بعد پید ہوئے۔ایوب بن عقبہ قاضی یمامہ بیان کرتے ہیں ۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس آبا ءہیں،اور یہ ایک ہزار سال کا عرصہ ہے۔اور حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان دس آباءہیں،اور یہ بھی ایک ہزار سال کا عرصہ ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان سات آباءہیں،اور اُن کے درمیانی سال معلوم نہیں ہیں۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار پانچ سو (1500) سال ہیں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے درمیان چھ سو یا پونے چھ سو سال کا عرصہ ہے۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت آدم علیہ السلام کے تین ہزار تین سو سینتیس 3337 سال بعد پید ہوئے۔اُس وقت طوفان نوح کو بارہ سو ترسٹھ 1263 سال گزر چکے تھے۔زیادہ صحیح یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام دوسو 200 سال گزار کر اِس دنیا سے رخصت ہوئے۔امام کلبی کہتے ہیں کہ ایک سو پچھتر175 سال عُمر تھی ،اور امام مقاتل کہتے ہیں کہ ایک سو نوے۰۹۱ سال عُمر تھی۔

آذر باپ تھا یا چچا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلہ¿ نسب میں والد کا نام تارح یا تارخ ہے۔اور قرآن پاک کے مطابق آذر ہے۔یہ آپ علیہ السلام کا باپ تھا یا چچا تھا،اِس بارے میں علمائے کرام میں مختلف رائیں ہیں۔بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آذر ہی باپ تھا،اور اُس کا نام تارح یا تارخ تھا۔،اور سب سے بڑا پجاری ہونے کی وجہ سے لقب آذر تھا۔اور بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آذر اور تارح یا تارخ دو بھائی تھے۔اور آذر آپ علیہ السلام کا چچا تھا۔اور تارح یا تارخ والد تھے،اور آپ علیہ السلام کے بچپن میں ہی اُن کا انتقال ہو گیا تھا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔ واﷲ و اعلم۔اور ہمیں اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ آذر آپ علیہ السلام کا باپ تھا یا چچا تھا،اور یہ ہمارا موضوع بھی نہیں ہے۔ہاں جو حضرات اِسے تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہوں،وہ تفاسیر اور تاریخ کا مطالعہ کریں،اِن میں علمائے کرام نے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

عجیب دُکان دار

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے دینی رُخ کو درست کر چکے تو اپنے والد کے پاس آئے۔آپ علیہ السلام اُس وقت تک تمام باطل مذاہب سے بیزاری اختیار کر چکے تھے،لیکن انہوں نے ابھی تک اِس بات کا اظہار نہیں کیا تھا۔جب آپ علیہ السلام نے اپنے والد کے پاس آکر بتایا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں،اور اُن کی والدہ نے بھی بتایا کہ یہ وہی آپ کا بیٹا ہے،جس کے بارے میں پوچھا تھا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنگل میں چھپانے کا سارا واقعہ بھی بتایا۔یہ سب سُن کر آذر بہت خوش ہوا ،آذر شاہی مندر کا پجاری تھا،بلکہ وہی شاہی پجاری تھا۔اِس طرح وہ پوری قوم کا مذہبی رہنما تھا،اور پوری قوم پر بلکہ حکمرانوں پر بھی اُس کا حکم چلتا تھا۔آذر بت بنایا کرتا تھا،اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتوں کو بیچنے کے کام پر لگا دیا۔اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت تک آپ علیہ السلام کو مبعوث نہیں فرمایا تھا،اور آپ علیہ السلام کو کوئی واضح رہنمائی نہیں ملی تھی۔لیکن در پردہ اﷲ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی رہنمائی فرماتا تھا۔بتوں سے نفرت اور بیزاری شروع سے تھی ،لیکن باپ کا حکم تھا تو بتوں کو لیکر جاتے تھے۔اور بازار میں انہیں بیچنے کے لئے رکھ کر اُن بتوں کا مذاق اُڑاتے تھے۔آپ علیہ السلام آواز لگاتے تھے؛”کون ہے جومجھ سے ایسی چیز خریدے جو نہ تو نفع پہنچا سکتی ہے،اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتی ہے۔“

بتوں کا مذاق اُڑانا

حضرت ابراہیم علیہ السلام اِسی طرح بتوں کا مذاق اُڑا کر فروخت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کے اِس طرح آوازلگانے سے اپنے بتوں کی توہین سمجھتے تھے،اور کوئی بھی آپ علیہ السلام سے بُت نہیں خریدتا تھا۔جبکہ آپ علیہ السلام کے دونوں بھائی اچھے خاصے بت فروخت کر لیا کرتے تھے۔،اور آپ علیہ السلام ایک بھی بت فروخت نہیں کر پاتے تھے۔دراصل آپ علیہ السلام کا مقصد بتوں کو فروخت کرنا نہیں تھا،بلکہ قوم والوں کو حقیقت بتانا مقصد تھا ۔بازار بند ہونے کے بعد آپ علیہ السلام اِن بتوں کو لیکر ندی پر جاتے تھے،اور ایک ایک بُت کو پکڑ کر ندی میں ڈبوتے ،اور فرماتے تھے؛”لے پانی پی لے“اور جب وہ پانی نہیں پیتا تھاتو بلند آواز سے فرماتے؛”تُو معبود نہیں ہو سکتا ،کیونکہ تُو کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے۔تُو تو صرف مٹی اور پتھر ہے۔“اِس طرح آپ علیہ السلام ہر بُت کے ساتھ کرتے تھے۔آپ علیہ السلام کی قوم اپنے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک دیکھتی تو غصہ سے بھر جاتی تھی،اور آپ علیہ السلام کو منع کرتی تھی تو آپ علیہ السلام فرماتے ؛”یہ تمہارے کیسے خدا اور کیسے معبود ہیںکہ اُن کے ساتھ بُرا سلوک ہوتا ہے،تب بھی یہ کچھ نہیں کر سکتے ۔“

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت

حضرت ابراہیم علیہ السلام آذر کے ساتھ رہ رہے تھے،اور بتوں کے ساتھ آپ علیہ السلام کا وہی رویہ تھااِس طرح برسوں گزر گئے،اور آپ علیہ السلام کا نکاح سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا سے ہو گیا۔آپ علیہ السلام کی قوم اُن کے معبودوں کے ساتھ آپ علیہ السلام کا توہین کرناروز دیکھتی تھی،لیکن آپ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی،کیونکہ آپ علیہ السلام شاہی پجاری کے بیٹے تھے۔ دھیرے دھیرے پوری قوم میں یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہمارے بتوں سے نفرت کرتے ہیں،اور اُن کے دشمن ہیں۔یہ خبر شاہی پجاری آذر تک پہنچی، اُس نے آپ علیہ السلام سے اِس بارے میں پوچھا تو آپ علیہ السلام نے اُسے اسلام کی دعوت دی۔کیونکہ اُسوقت تک اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی بھیج کر آپ علیہ السلام کو قوم کی طرف مبعوث فرما دیا تھا۔اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں فرمایا؛ترجمہ؛” اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے،جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے فرمایا کہ کیا تُو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟بے شک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح (کھلی صاف صاف) گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔“(سورہ الانعام آیت نمبر 74)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ؛”اور اِس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرو،بے شک وہ بڑے سچائی والے رسول تھے۔جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا؛اے میرے باپ!دیکھیئے میرے پاس وہ علم (اسلام )آیا ہے،جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں ہے۔تو آپ میری بات مانیں ،میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا۔اے میرے باپ !آپ شیطان کی پوجا سے باز آجائیں،اور شیطان تو رحم و کرم کرنے والے اﷲ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے۔اباجی !مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الہٰی نہ آجائے،اور آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 41 سے 45 تک)

باپ(یا چچا) کی دشمنی

اﷲ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلا م کو نبوت کی ذمہ داری عطا فرمائی کہ اب اپنے گھر والوں کو اور قوم والوں کو سمجھاو¿۔اور ان کے سامنے اسلام کی حقانیت اور کفر کی غلاضت کو واضح کرو۔تو قاعدے کے مطابق آپ علیہ السلام نے اپنے باپ یا چچا سے اسلام کی دعوت کی شروعات کی۔کیونکہ ایک تو وہ آپ علیہ السلام کے گھر کا سب سے بڑا بزرگ تھا،اور دوسری سب سے اہم بات یہ کہ گھر کا بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قوم کا بھی سب سے بڑا مذہبی رہنما یعنی شاہی مندر کا سب سے بڑا پجاری تھا۔اُس کا پوری قوم میں اتنا بڑا مقام تھا کہ سب لوگ اُس کی بات کو آنکھ بند کر کے مانتے تھے۔اِسی لئے آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے اُسے اسلام کی دعوت دی،اور بڑی محبت سے اور بڑے ادب سے الگ الگ دلیلوں سے سمجھایا۔باپ چونکہ بہت بڑا عالم تھا،اور جانتا تھا کہ بُت پرستی اور ستارہ پرستی یعنی کفرو شرک یہ سب شیطان کے ہتھیار ہیں،اور اِن کے ذریعے وہ انسان کو اﷲ تعالیٰ کا باغی بناتا ہے۔اِس لئے آپ علیہ السلام نے اُس سے علمی گفتگو کی،اور سمجھایا کہ شیطان کے بہکاوئے میں آکر اپنی دنیا اور آخرت کو برباد مت کرو۔لیکن افسوس اُس پر شیطان اتنی بری طرح حاوی تھا کہ اُس نے آپ علیہ السلام کی بات کو سمجھنے کے بجائے اُلٹا ڈانٹنے لگا،اور دشمنی کرنے لگا۔

باپ یا چچا کو سمجھایا

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ یا چچا کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ اپنے باپ کو صراط مستقیم کی دعوت دی، اور بتایا کہ شیطان کی عبادت مت کرو۔اور یہ بھی فرمایا کہ تم جس دین پر ہو،اُس پر قائم رہنے سے تم پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب پہنچ جائے گا۔اُن کے باپ نے ساری ان سنی کر دی اور کوئی بات نہیں مانی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔الغرض حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں،اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں،لیکن وہ باز نہیں آیا۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت سے وہ الحاح اور عاجزی کرو،جو اﷲ کا حق ہے۔یقینا اِس مسلک کے لوگ سب کے سب بھٹکے ہوئے ہیں۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔پہلی آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم نے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔میں تم کو اور تمہاری ساری قوم کو گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔(اِس کے بعد آذر باپ تھا یا چچا ،اِس کے بارے میں بحث کرنے کے بعد لکھا ہے)آذر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ ہو یا چچا ،بہر حال نسبی طور سے قابل احترام بزرگ تھا۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے ”دعوت ِ حق“اپنے گھر سے شروع فرمائی۔مفتی احمد یار خان نعیمی اِس بارے میں کہ آذر باپ تھا یا چچا ،کافی لمبی بحث کے بعد لکھتے ہیں۔اِس آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عالی ہمت و جرا¿ت مطلقہ کا بھی ذکر ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اُن برائیوں کی برملا تردید کی،جو قوم میں سرایت کر گئی تھی،اور شاہی قانون بھی بن چکی تھی۔ایسی برائیوں کی تردید کرنا بڑی ہمت و جرا¿ت کا کام ہے۔اور آپ علیہ السلام کی انتہائی دانشمندی کا بھی ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام نے پہلے اپنے قرابت دار اور قوم کے سردار آذر کو تبلیغ کی۔آپ علیہ السلام کی یہ دلیری اور دانشمندی تا قیامت مبلغین کے لئے مثال ہے۔علامہ غلام رسول سعیدی اس کے بارے میں کہ آذر باپ تھا یا چچا،کافی لمبی بحث کے بعد لکھتے ہیں۔اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے (عُرفی) باپ آذر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو؟بے شک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔یعنی تمہاری عبادت کا طریقہ ہر صاحب ِ عقل سلیم کے نزدیک کھلی ہوئی گمراہی ہے،اور جہالت ہے۔اور اس سے زیادہ واضح جہالت اور گمراہی کیا ہوگی کہ تم اپنے ہاتھوں سے بت بنا کر اُن کی پوجا کرتے ہو۔پھر ایسے کمزور ،لاچار، بے حس اور بے جان تاشیدہ پتھروں کو اپنا خدا ماننا اور اُن کی پوجا کرنا کھلی ہوئی گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں