2 حضرت نوح علیہ السلام
تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر4
قسط نمبر 2
حضرت نوح علیہ السلام کا اعلان ِ نبوت
اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو اس وقت مبعوث فرمایا جب اُن کی قوم میں بت پرستی اور شرک عام ہو گیا تھا۔ اور انسان ضلالت اور گمراہی کی وادیوں میں بھٹکنے لگا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو بھول چکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے متعلق عجیب و غریب نظریات رائج ہو چکے تھے۔ ہر طرف کفر و شرک ، ظلم اور زبردستی کا دور دورہ تھا۔ انسان اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہے تھے۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔ اور نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا آپ علیہ السلام اہل زمین کے پاس تشریف لانے والے پہلے رسول ہیں ۔ اسی لئے قیامت کے دن آپ علیہ السلام کو لوگ ” اول الرسل “کہہ کر شفاعت کی درخواست کریں گے۔ نوح علیہ السلام جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے انہیں بنو راست کہا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کی بعثت کے وقت کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر مبارک پچاس سال تھی۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ علیہ السلام کی عمر مبارک تین سو پچاس 350سال تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر مبارک چار سو اسی 480سال تھی۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری ، علامہ محمد بن جریر طبری ، البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ، علامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر)ایسے وقت میں جب انسانوں کی اکثریت کافر ہو گئی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ ان کی قوم بہت بری طرح شرک میں مبتلا ہو گئی تھی۔ لگ بھگ پچاس 50سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھانے لگے۔ اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتاتے چلیں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسلام کی دعوت دی ۔ ہر نبی اور ہر رسول نے یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کروا للہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام مخصوص قوم کے لئے اور مخصوص وقت کے لئے اور مخصوص علاقے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ صرف ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے انسانوں اور جناتوں کے لئے اور قیامت تک کے لئے آئے ہیں۔
قوم کو اسلام کی دعوت
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی قوم کی طرف بھیجا ۔ بعثت کے معنی ہیں بھیجنا ۔ اور ارسال کے معنی بھی ہیں بھیجنا ۔ ان میں فرق یوں ہے کہ مطلقاً بھیجنا بعثت ہے۔ اور کچھ دے کر بھیجنا ارسال ہے۔ ( تفیسر نعیمی مفتی احمد یار خان نعیمی پارہ نمبر8) اس لئے اللہ تعالیٰ جسے کتاب اور شریعت دے کر بھیجتے ہیں وہ رسول اور نبی دونوں ہوتے ہیں۔ اور جنہیں رسو ل کی شریعت اور کتاب کی تعلیم دینے کے لئے بھیجتے ہیں ۔ وہ نبی ہوتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم ، میں تمہارے لئے ظاہر طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ( یعنی اللہ کا رسول ) ہوں ۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ میری بات مانو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اگر تم لوگ نہیں مانتے تو اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا ہے۔ کاش تم لوگ یہ جانتے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور میں تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ میرا بدلہ تو وہی دے گا جو سارے جہان کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے فرمایا۔ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہار ا معبود ہونے کے لائق نہیں ہے۔ اور مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ “ ( سورہ اعراف آیت نمبر59) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام )کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ ( اور انھوں نے فرمایا) میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کردینے والا ہوں۔ کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو۔ مجھے تو تم پر درد ناک دن کے عذاب کا خو ف ہے۔ “ ( سورہ ھود آیت نمبر25اور 26) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” یقینا ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ اس نے کہا ۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی عبادت کرو۔ اور اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ کیا تم لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر23) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی بھیجا کہ اپنی قوم کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرا دو۔ ( اور خبردار کر دو) ۔ اس سے پہلے کہ ان کے پاس درد ناک عذاب آجائے۔ (حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم، میں تمیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ تم اللہ کی عبادت کرو۔ اور اسی سے ڈرو۔ اور میرا کہنا مانو۔ تو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ( عذاب) جب آجاتا ہے تو ٹلتا نہیں ہے۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی۔“(سورہ نوح آیت نمبر1سے 4تک)
اللہ تعالیٰ کی گواہی
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ اور ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ جب قیامت کے دن میدانِ حشر میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم یہ کہے گی کہ انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت نہیں دی تھی۔ تب ہمیں اُن کی طرف سے گواہی دینا ہوگی کہ انھوں نے اپنی قوم کو پورا پورا اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ خیر آپ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم نے صاف انکار کر دیا۔ اور ان میں سب سے آگے وہی طبقہ تھا جس نے قوم کو گمراہی میں مبتلا کیا تھا۔ وہ طبقہ قوم کے علماءو فقہا ( جیسے ہمارے ہندوستان میں مندروںکے پجاری ، پنڈت اور سادھو ہیں جو اپنے آپ کو برہمن کہلواتے ہیں) کا تھا۔ ان کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور تھی۔ اسی بارے میں مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم نہ تو اللہ تعالیٰ کے وجود کی منکر تھی اور نہ ہی اس سے ( اللہ سے ) ناواقف تھی۔ نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا۔ بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ قوم مبتلا ہو گئی تھی (وہ) شرک کی گمراہی تھی۔ یعنی اس نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں شریک اور عبادت کے استحقاق میں حصہ دار قرار دے دیا تھا۔ پھر اس بنیادی گمراہی سے بے شمار خرابیاں اس قوم میں پیدا ہو گئی تھیں۔ جو خود ساختہ معبود ( بت اور تصویریں ) خدائی میں شریک ٹھہرالئے گئے تھے۔ ان کی نمائندگی کے لئے قوم میں ایک خاص طبقہ ( پنڈتوں، پجاریوں ، سادھوﺅں اور سنتوں کا ) پیدا ہو گیا تھا۔ جو تمام مذہبی سیاسی اور معاشی اقتدار کا مالک بن بیٹھا تھا۔ اور اس نے انسانوں میں اونچ نیچ کی تقسیم پیدا کر دی تھی۔ اور اجتماعی زندگی کو ظلم و فساد سے بھر دیا تھا۔ اور اخلاقی فسق و فجور سے انسانیت کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھی۔
قوم کا جواب
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو اس کی سب سے شدید ضرب اسی طبقے پر پڑی ۔ جس کے قبضے میں پوری قوم کی باگ ڈور تھی۔ حالت یہ تھی کہ من گھڑت خداﺅں کے نمائندے ( جیسے ہمارے ہندوستان میں پنڈت ، پجاری اور سادھو وغیرہ ہیں) جو کہتے تھے۔ اسی پر عوام آنکھ بند کر کے عمل کرتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ذمہ داروان بھی ان کو اپنا بڑا مانتے تھے۔ اس طرح مذہب ، سیاست ، معاشرت اور حکومت ہر جگہ یہی طبقہ بڑا بنا ہوا تھا۔ اور یہی لوگ سردار کہلاتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اگر عوام قبول کر لیتی تو اس طبقے کی بڑائی اور سرداری ختم ہو جاتی اور ان کے مندروں کو توڑ دیا جاتا۔ عوام انہیں اپنا بڑا ماننے سے انکار کر دیتی اور حکومت پر سے ان کا کنٹرول ختم ہو جاتا۔ اور اسلامی حکومت قائم ہو جاتی تو اس طبقے کو بھی عام لوگوںکی طرح رہنا پڑتا ۔ یہ سب باتیں اس طبقے کے لوگ سمجھ گئے تھے۔ اس لئے اپنی سرداری اور معزز حیثیت کو برقرا ر رکھنے کے یہی طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ اس نے خود بھی اسلام قبول نہیں کیا اور عوام کو بھی اسلام قبول کرنے نہیں دیا۔ اور آپ علیہ السلام کی دعوت کو روکنے کی بھر پور کوشش کی۔ چونکہ عوام اس طبقے پر اندھا اعتماد کرتی تھی۔ اسی لئے یہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے خلاف طرح طرح سے عوام کو بھڑکاتے رہتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی باتوں اور تعلیم کو سمجھنے نہیں دیتے تھے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی ) قوم کے بڑے لوگوں ( سرداروں) نے کہا۔ کہ ہم تو تمہیں صاف غلطی اور گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، مجھ میں ذرا بھی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں تو پرور دگار عالم ( اللہ تعالیٰ ) کا رسول ہوں۔ تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں۔ اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ ( یعنی تمہاری بھلائی چاہتا ہوں) اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کاموں کی خبر رکھتا ہوں۔ جن کو تم کو خبر نہیں ہے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر60سے 62تک)
کافر سرداروں نے عوام کو بھڑکایا
اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم کے کافروں کے سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے۔ یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ ہی کو ( رسول بھیجنا) منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتار دیتے۔ ہم نے تو اسے ( اسلام کی دعوت کو) اپنے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں ہے۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر24) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” اور ان لوگوں ( حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافر سرداروں نے ) نے بڑا سخت فریب کیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ہی ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر23) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں ( پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھو سنتوں) نے عوام کو بھڑکایا۔ کبھی کہتے تھے کہ ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام گمراہ ہیں۔ بھٹک گئے ہیں اور ہم جو بتوں کی پوجا کرنے کو کہتے ہیں وہی حق ہے۔ کیوں کہ ہم سب اپنے باپ دادا کو انہی بتوں کی پوجا کرتے دیکھتے آرہے ہیں۔ اور حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کا ذکر تو ہم نے سنا ہی نہیں ہے۔ اور تم ان کی دعوت قبول کر کے ان کے بہکاوے میں مت آنا اور بتوں کی پوجا کو نہیں چھوڑنا۔ علامہ ابن کثیر سورہ الاعراف آیت نمبر61اور 62کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے رئیس ( یعنی پنڈتوں ، پجاریوں، ساھوﺅں اور راجے مہاراجے ) کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) گمراہی پر ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کم عقلو، عقل کے ناخن لو، میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ تمہارے رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوارسول ہوں۔ میں تمہیں اس اللہ کی عبادت کی دعوت دے رہا ہوں جو بے بس نہیں ہے۔ بلکہ قادر مطلق ہے۔ جب کسی چیز کو کہتا ہے ہو جاتو ہو جاتی ہے۔ تم مجھے بے راہ رو کہتے ہو۔ اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اور تمہیں نصیحت کر رہا ہوں۔ تم مجھے اس لئے گمراہ کہہ رہے ہو کہ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔
حضرت نوح علیہ السلام مسلسل سمجھاتے رہے
جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بُت پرستی سے منع فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو ان کی قوم نے سمجھا کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) دنیاوی حکومت اور سرداری چاہتے ہیں۔ تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تو صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اور چاہتا ہوں کہ تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اور اس کا میں تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ کہ اس کے بدلے میں آپ لوگ مجھے کچھ دیں۔ بلکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ثواب کے طور پر عطا فرمائے گا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرستی میں اتنی زیادہ مبتلا ہو چکی تھی اور گمراہ ہو گئی تھی کہ اس قوم کے سرداروں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ ہم تو تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے۔ میں تو اللہ تعالیٰ کا کا رسول ہوں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا فرمایاجو تم نہیں جانتے۔ آپ جانتے ہیں اس پر آپ علیہ السلام کی قوم نے کیا جواب دیا؟ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ میں کہا کہ ( نعوذ باللہ ) یہ ( حضرت نوح علیہ السلام ) دیوانہ پاگل ہو گیا۔ تو کچھ زمانہ انتظار کرتے ہیں کہ اس کا پاگل پن ختم ہو جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے اتنے شدید جواب کے بعد بھی اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپ علیہ السلام ہر وقت ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے۔ اور طرح طرح کی حکمت سے اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواﺅ۔ ( اور معافی مانگو) وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستاہوا چھوڑے گا۔ اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اور تمہیں باغات دے گا۔ اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے ہو۔ حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے ( الگ الگ رنگ اور قد و قامت) پیدا کیاہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پید ا کر دیئے ہیں۔ اور ان میں چاند کو خوب جگمگا تا بنا یا ہے۔ اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے۔ اور تم کو زمین سے ایک ( خاص اہتمام) سے اگایا ( پیدا کیا ) ہے۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا۔ اور ( ایک خاص طریقے سے ) پھر نکالے گا۔ اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنایاہے۔ تاکہ تم اس کی کشادہ راہوں ( راستوں ) پر چلو پھرو۔ “ سورہ نوح آیت نمبر10سے 20تک )
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں