اتوار، 9 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 2 Story of Hood AS



حضرت ہود علیہ السلام  2

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 2

قوم عاد بت پرستی میں مبتلا

اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں سے قوم عاد کے لوگ فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اور قوم کا لگ بھگ ہر شخص امیر ہو گیا تھا۔ لیکن مال و دولت فتنہ ہے۔ اور قوم عاد دھیرے دھیرے اس فتنے کا شکار ہونے لگی۔ شروع شروع میں تو قوم عاد کے لوگ مسلمان تھے۔ دھیرے دھیرے قوم عاد کی جو نئی نسل پیدا ہوتی رہی وہ ابلیس کے وسوسے کا شکار ہونے لگی۔ اور اسے کامیابی ملنے لگی۔ ابلیس شیطان لگاتار کوششوں میں لگا رہا۔ اور آخر کار قوم عاد بھی بُت پرستی میں مبتلا ہو گئی۔ابلیس شیطان نے قوم عاد کے ساتھ وہی ہتھکنڈے اپنائے جو اس نے قوم نوح کے ساتھ اپنائے تھے۔ اور پہلے تو قوم عاد کو اپنے نیک بزرگوںکی عقیدت میں مبتلا کیا۔ پھر ان کے بت بنوائے اور پھر اس عقیدت کو عبادت میں تبدیل کر دیا۔ اور ابلیس کو کئی سو برسوں کی لگاتارکوششوں کے بعد اتنی کامیابی ملی کہ قوم عاد کی اکثریت بت پرستی میں مبتلا ہو گئی۔ ان کے بتوں کے نام صدا ، صمورا، اور کہا تھے۔ جب ابلیس شیطان کے بہکاوے میں آکر قوم عاد بت پرستی میں مبتلا ہو ئی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اور ان کے درمیان حضرت ہود علیہ السلام کو پید ا فرمایا۔

حضرت ہود علیہ السلام اعلان نبوت سے پہلے

حضرت ہود علیہ السلام عاد بن ارم کے پڑ پوتے عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا خاندان قوم عاد میں سب سے نیک متوسط نسب کے تھے۔ اور مکرم جگہ کے رہنے والے تھے۔ بہت حسین و جمیل تھے اور قوم عاد کے لوگوں کی طرح جسیم تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی داڑھی مبارک بہت دراز ( لمبی ) تھی۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی) آپ علیہ السلام قوم عاد کے شریف قبیلے کے تھے۔ اس لئے کہ انبیائے کرام علیہم السلام ہمیشہ حسب و نسب کے اعتبار سے عالی یعنی اعلیٰ خاندان سے ہوا کرتے تھے۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر 8علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں۔ قوم عاد بت پرست تھی۔ انہوں نے کئی بت بنا رکھے تھے۔ جن میں سے ایک کا نام صمود اور ایک کا نام ہتار تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو ان کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ علیہ السلام جس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اسے خلود کہا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام حسب و نسب کے اعتبار سے شریف اور شکل و صورت کے اعتبار سے انتہائی حسین و جسیم تھے۔ آپ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے اپنی قوم کے لوگوں سے زیادہ سفید جسم رکھتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی داڑھی مبارک خاصی طویل ( لمبی) تھی۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) آپ علیہ السلام اعلان نبوت سے پہلے سے ہی اپنی قوم کی بت پرستی سے بیزار تھے ۔ اسی لئے اپنی قوم سے الگ تھلگ مکان میں رہتے تھے۔ اور غور و فکر کرتے رہا کرتے تھے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں کرتے تھے۔ جب حضرت ہود علیہ السلام کی طرف وحی آئی تو آپ علیہ السلام قوم کو اسلام کی دعوت دینے آئے۔ ( تفسیر مدارک جلد نمبر1امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) حضرت ہود علیہ السلام کی عمر کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا قول ہے آپ علیہ السلام کی عمر چار سو ساٹھ 460سال تھی۔ تاریخ شامی ایک سو چھیالیس 146سال مذکور ہے۔ ابن الکلمی کا قول ہے کہ چار سو چھتیس436سال عمر تھی۔ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام مرجانہ ہے اور وہ پاک دامن عورتوں میں سے تھیں۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر مبارک حضر موت کے علاقہ میں ہے۔ (تفسیر مظہری جلد نمبر3قاضی ثناءاللہ پانی پتی)

حضرت ہود علیہ السلام کا اعلان نبوت

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو برائیوں سے فلاح کی طرف لانے کے لئے حضرت ہود علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ( علیہ السلام ) کوبھیجا۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ ( اس کے باوجود) سو کیا تم نہیں ڈرتے؟( سورہ الاعراف آیت نمبر65) اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ( علیہ السلام) کو ہم نے بھیجا۔ انہیوں نے کہا۔ اے میری قوم والو، اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ ( اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور بتوں کو پوجا کر کے) تم تو صرف ( اللہ پر) بہتان باندھ رہے ہو۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر50) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” قوم عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب کہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا۔ کیا تم ( اللہ کے عذاب سے) ڈرتے نہیں۔ میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو ۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر123سے 125تک) اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور عاد کے بھائی کو یاد کرو۔ جب کہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ( اللہ کے عذاب سے) ڈرایا۔ اور یقینا اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں۔ اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ بے شک میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کھاتا ہوں۔ (سورہ الاحقاف آیت نمبر21) اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بہت طاقتور بنایا تھا۔ یہ بہت قد آور لمبے چوڑے اور بہت طاقت ور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور تمام لوگ بہت اونچے اونچے شاندار محل بنا کر رہتے تھے۔ ان لوگوں کے محلات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ” اونچے ستونوں والے “ یعنی ان کے محل اتنے اونچے ہوتے تھے کہ ان میں اونچے اونچے ستون لگے ہوتے تھے۔ جب حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم عاد میں اعلان نبوت فرمایا ۔ اے میری قوم ،ا للہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجا امانت دار رسول ہوں ۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میر ی اطاعت کرو۔ قوم عاد نے پہلے تو آپ علیہ السلام کی دعوت پر حیرت کا اظہار کیا پھر اس کا رویہ بھی وہی ہو گیا جو حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا تھا۔اور سب سے بڑے دشمن قوم کے کافر سردار ہی بنے۔

قوم کا جواب

حضر ت ہود علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم کے کافر سرداروں نے جواب دیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تم کو کم عقل میں دیکھتے ہیں۔ اور بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر66) اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم عاد نے) جواب دیا۔ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوںکو بھیجتا ۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ( انکار کرنے والے) ہیں۔“ ( سورہ حم السجدہ آیت نمبر14) اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” قوم نے جواب دیا کہ تم ہمارے پا س اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے اپنے معبودوں ( بتوں کی پوجا) سے باز رکھو۔“ ( سورہ الاحقاف آیت نمبر22) تفسیر بصیرت القران میں ہے کہ شرک ہمیشہ بہت معمولی انداز میں شروع ہوتا ہے۔ پھر یہ ایک قومی بیماری بن جاتی ہے۔ جب شرک قومی سطح پر ابھر کر سامنے آجاتا ہے تو اس کے مجاور قوم کی دولت اور سیاسی اقتدار لوٹنے کے لئے مذہبی لبادہ سے بہتر اور کوئی آسان طریقہ نہیں پاتے۔ اگر مصنوعی معبودوں ( بتوں اور تصویروں) کی مارکیٹ ویلیو گھٹنے لگتی ہے تو اُن کی اجارہ داری ڈولنے لگی ہے۔ اسی لئے تحریک توحید ( اسلام کی دعوت) کی سب سے پُر زور مخالفت اسی ہرا ول دستے ( مجاوروں ، پجاریوں، پنڈتوں) نے کی ہے۔ اور عوام کی بھیڑ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے۔ کیوں کہ اس میں علم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اور چند تمناﺅں کا نام دین بن کر رہ جاتا ہے۔ اس ہر اول دستہ ( مجاوروں، پجاریوں، پنڈتوں) کے ہاتھ میں چند ہتھیار ہوتے ہیں۔ ( ۱) اپنی معلومات معقولات کا گھروندہ بچانے کے لئے وہ اصلاح کرنے والے شخص کے علم و عقل پر حملہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم جاہل، احمق اور جھوٹے ہو۔ اور اس کےلئے وہ کوئی دلیل پیش نہیں کرتا ہے۔ اور اپنے گھمنڈ میں کہتا چلا جاتا ہے کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہی حق ہے۔ اور عوام ان کی ہر بات پر گردن ہلا ہلا کر تصدیق کرتی جاتی ہے۔ اور یہ الزام انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام پر بھی لگایا۔ ( ۲) ان جیسے لوگوں کا دوسرا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص ہمارے اندر پیدا ہوا ہے اور ہماری طرح شادی بیاہ کرتا ہے۔ کھاتا پیتا ہے۔ جو ہم جیسا ہے وہ اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ آخر اس میں کیا خوبی ہے اور ہم میں کیا خرابی ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ شخص ہماری سرداری اور اقتدار ہم سے چھین کر خود سردار بننا چاہتا ہے۔ اور یہ الزام بھی حضرت ہود علیہ السلام پر لگایا گیا۔ (۳) ان لوگوں کا تیسرا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ تم جس عذاب کی دھمکی دیتے ہوا س عذاب کو لے آﺅ۔ ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ اور ہم اتنے احمق بھی نہیں ہیں کہ تمہارے کہنے پر ان تمام معبودوںکو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ داد اپنا معبود سمجھتے تھے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام سے اس کی بھی مانگ کی گئی تھی۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی)

حضرت ہود علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا

حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا اور ان کے کافر سرداروں نے آپ علیہ السلام کے شان میں گستاخیاں کیں۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور ٹھوس دلائل سے قائل کیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت ہود علیہ السلام نے) فرمایا۔ اے میری قوم، مجھ میں ذرا بھی کم عقلی نہیںہے بلکہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ اور تم کو پر وردگار عالم یعنی اللہ تعالیٰ کاپیغام پہنچا رہا ہوں۔ اور میں تمہارا امانت دار اور تمہار خیر خواہ ( بھلائی چاہنے والا) ہوں۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر67اور 68) یعنی کم عقلی مجھ میں نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے اندر ہے جو تم یہ نہیں دیکھ پا رہے ہو کہ شرک اور بتوں کے پوجا کر کے کس نقصان اور خسارے میں جا رہے ہو۔ جب کہ مجھے تمہاری تباہی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے بعد کافرسرداروں کے دوسرے احمقانہ جواز کا جواب دیا۔ ترجمہ ۔اور کیا تم اس بات پر تعجب کر رہے ہو کہ تمہارے پروردگار یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسے شخص کے ذریعے تمہارے پاس نصیحت آئی جو تمہارے جیسا ہے۔ تا کہ وہ شخص تم کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرائے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر69)یہاں آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے انسا ن ہی رسول بھیجتا ہے۔ تا کہ وہ اللہ کی شریعت اسلام پر عمل کر کے بتائے کہ زندگی کس طرح گزارنی چاہیے ۔ اور جو تم لوگ فرشتے کی مانگ کر رہے ہو تو فرشتہ تمہاری جنس کا نہیں ہوگا اور تمہاری یہ مانگ بہت ہی احمقانہ ہے۔ اس کے بعد قوم نے جو الزام لگایا تھا کہ یہ شخص دنیا کی سرداری چاہتا ہے تو آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ مجھے دنیا کی سرداری نہیں چاہیے۔ بلکہ تم سے کچھ بھی صلہ یا بدلہ نہیں چاہئے۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم میں تم سے اس کی کوئی اجرت ( یا صلہ یا بدلہ) نہیں مانگتا۔ میرا اجر اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے۔“ (سورہ ہود آیت نمبر51) آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سخت جواب کے بعد بھی انہیں ٹھوس دلائل اور محبت سے سمجھایا۔

قوم نے تکبّر کیا

حضرت ہود علیہ السلام نے صبر سے قوم کی گستاخیوں کو برداشت کیا۔ اور بڑے محبت بھرے انداز میں سمجھایا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا۔ اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاﺅ زیادہ دیا۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تا کہ تم کو فلاح ہو۔“( سورہ الاعراف آیت نمبر69) یعنی آپ علیہ السلام نے ان کی قوم سے پہلے آنے والی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کفر و شرک اور گھمنڈ کو یاد دلایا کہ اس کے بعد ان کا کتنا بھیانک انجام ہوا ۔ کیوں کہ طوفان نوح کو گذرے ابھی صرف کئی سو سال ہو ئے تھے۔ اور قوم عاد کے بچے بچے کو اس کی پوری کہانی لفظ بہ لفظ یا د تھی۔ اس کی تفسیر میں مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ اے محبوب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ قوم نوح کے کرتوت اور ان کا انجام سن چکے۔ اب ان کے بعد والی قوم کا حال سنیئے ۔ کہ ہم نے ان کی طرف انہیں کی قوم ، انہیں کی نسل، انہیں کی برادری سے ایک رسول بھیجا۔ حضرت ہود علیہ السلام ۔ انہون نے بھی اپنی قوم کو یہی دعوت دی کہ نہایت نرمی سے فرمایا کہ اے میری قوم ، اللہ تعالیٰ پر میری معرفت ایمان لاﺅ۔ صرف اسی کی عبادت کرو کیوں کہ اس کے سوا معبود حقیقی سچا الہٰ کوئی نہیں ہے۔ تم قوم نوح کا انجام تو سن ہی چکے ہوا ور طوفان نوح کی علامات دیکھتے ہو۔ تو تم ڈرتے کیوں نہیں۔ ان کی قوم کے بعض سردار تو ایمان لائے اور بعض کافر رہے۔ کافر سرداروں نے کہا کہ ہم آپ ( علیہ السلام) کو بڑی بھاری بے وقوفی ، بے عقلی میں دیکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام بڑے (نعوذ باللہ) بے عقل ہیں۔ ہم کو یقین ہے کہ آپ ( علیہ السلام)جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہہ رہے ہیں۔ ( نعوذ باللہ) جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ بھلا ایک خدا سارا جہان کیسے سنبھال سکتا ہے۔ اور وہ ایک غریب آدمی کو رسول کیسے بنا سکتا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا رخان نعیمی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ( قومِ عاد پر ) یہ احسان فرمایا کہ حضر ت نوح علیہ السلام کی قوم کے بعد انہیں زمین کا باسی ( ذمہ دار) بنا دیا تھا۔ اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے قدو قامت کے تھے۔ وہ قد کے اعتبار سے طویل اور جسم کے اعتبار سے بھاری بھرکم اور عظیم الجثہ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اُن کے قد کی لمبائی100ذراع (گز) تھی۔ اور ان میں جو چھوٹے قد کے تھے ۔ اُن کی لمبائی60ذراع (گز) تھی۔ اور یہ زیادتی ان کے آباءکی تخلیق اور قدو قامت پر تھی۔ ان کا سر ایک عظیم اور بڑے قبہ کی طرح تھا۔ اور ان کی آنکھ اتنی بڑی بڑی تھیں کہ ان میں درندہ بچے دے سکتا تھا۔ اور اسی طرح ان کی ناک کے نتھنے بھی بڑے بڑے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قوم عاد کا ایک آدمی پتھر سے ( دروازے کے) دو کواڑ بناتا تھا۔ اگر ہم سے پچاس آدمی مل کر اسے اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ( تفسیر قرطبی جلد نمبر4امام محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی)

حضرت ہود علیہ السلام نے دلائل سے سمجھایا

قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کےسامنے ترشی اختیار کی۔ اور اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود ماننے سے انکار کر دیا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں دلائل سے سمجھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھی۔ ان کے علاقے میں بے شمار پانی کے چشمے تھے۔ جن کی وجہ سے ہر طرف ہریالی تھی۔ پھلوں کے درخت اور میووں کے پیٹروں کی بھرمار تھی۔ ان تمام نعمتوں کو یاد دلا کر حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں چوپایوں ( یعنی گھوڑے ، گائے ، بھینس ، خچر اور اونٹ وغیرہ یہ سب ان کے پاس بے شمار تھے) اور بیٹوں سے باغوں سے اور چشموں سے مدد عطا فرمائی ۔ تو کیا تم لوگ ہر اونچے مقام پر بغیر کسی ضرورت کے ایک بلند یاد گار بناتے ہو اور پختہ محل بنائے ہو کہ شاید تمہیں اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد سے فرمایا) کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطورر کھیل تماشا یاد گار( عمارت )بناتے ہو۔ اور بری صنعت والے ( مضبوط محل تعمیر ) کرتے ہو۔ گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے۔ ( سورہ الشعرا آیت نمبر128اور 129) 

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو

حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر بسایا۔ اور تمہیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔ اور تمہیں سب سے طاقتور بنایا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و کرم ہے۔ تو تم بے جا اپنی طاقت کا استعمال مت کرو اور بلا وجہ عالیشان محلات صرف اپنی شان بتانے کے لئے تعمیر مت کرو۔ اور جو گستاخیاں تم نے بتوں کی پوجا کر کے اور اللہ کی دعوت اسلام کو ٹھکرا کر کی ہیں ابھی بھی وقت ہے یہ سب چھوڑ دو اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور توبہ کر لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو اللہ تعالیٰ تمہاری طاقت کو اور بڑھا دے گا اور تمہیں اپنی نعمتوں سے اور نوازے گا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے پروردگار ( اللہ تعالیٰ) سے (اپنی گستاخیوں اور شرک پر ) معافی مانگواور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ تا کہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے۔ اور تمہاری طاقت پر اورطاقت قوت بڑھا دےگا۔اورتم گنہگار رہ کر (اسلام سے) منہ نہ پھیرو۔ (سورہ ہود آیت نمبر52) حضرت ہود علیہ السلام نے محبت سے اپنی قوم کو سمجھایا ۔ اور طرح طرح سے حکمت سے انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن ان کی قوم کے کافرسرداروں نے آپ علیہ السلام کی سب سے زیادہ مخالفت کی۔ اور عوام بھی ان ہی کے پیچھے چلتی رہی اور کفر پر ڈٹی رہی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں