منگل، 18 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 13 Story of Prophet Ibrahim


حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 13

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا وصال

حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اُس وقت وہ ملک کنعان میں تھا۔اور آپ علیہ السلام ”الخلیل“میں رہتے تھے،جسے آج کل ”حبرون“بھی کہا جاتا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہو چکے تھے،اور فلسطین میں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے تھے۔جب سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر ایک سو ستائیس (127) سال ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ رضی اﷲ عنہا کے وصال سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے۔بنو حیث کے عفرون بن صخر سے آپ علیہ السلام نے ایک قطعہ زمین چار سو مثقال چاندی پر خریدی۔حالانکہ وہ آپ علیہ السلام کو بلاقیمت دینا چاہتا تھا،لیکن آپ علیہ السلام نے زمین خریدنا منظور کیا۔اور وہاں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو دفن کر دیا۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کانکاح

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کنعانیوں کی لڑکی سے نکاح نہ کریں۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نکاح کا پیغام اپنی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے والد حاران کے قبیلے میں بھیجا۔یہ قبیلہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ننیھال بھی تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لیکر آئے ،اور نقفا بنت بتویل بن ناحور بن آزر سے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔اُس وقت حضرت اسحاق علیہ السلام کی عُمر چالیس سال تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام جڑواں پیدا ہوئے۔اور آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔اور دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن دونوں بیویوں کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ قطورہ یا قنطورہ سے نکاح کیا۔اور اِس تیسری بیوی سے چھ بیٹے زمران،یقشان،مدائن،مدین،اشبق اور شوخ پیدا ہوئے۔پھر قطورہ یا قنطورہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجون بنت اہیب سے نکاح کیا۔اِس چوتھی بیوی سے پانچ بیٹے کیسان،فروخ،اسیم،لوطان،اور نافس پیدا ہوئے۔ا،س طرح آپ علیہ السلام کے کُل بیٹوں کی تعداد تیرہ (13) ہوئی۔

ملک الموت سے ملاقات

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے،اور مسکینوں اور مسافروں پر رحم فرماتے تھے۔اُن کے پاس مہمان نہیں آتے تو آپ علیہ السلام انتظار کرتے رہتے تھے،اور گردن لمبی کر کے راستے کو تکتے رہتے تھے۔اِس کے بعد مہمان کی تلاش میں نکل پڑتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام مہمان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آ پ علیہ السلام کو ایک مسافر آتا دکھائی دیا۔آپ علیہ السلام اُس کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے،وہ انسانی شکل میں ”ملک الموت“تھے۔انہوں نے سلام کیا،اور آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔پھر پوچھا؛”آپ کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا؛”میں مسافر ہوں ،آپ علیہ السلام کو مہمان کے آنے کی اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے یہ توجہ نہیں کی کہ کون ہے؟آپ علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا؛”میں یہاں آپ جیسے شخص کے لئے بیٹھا ہوں۔“اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر میں لے آئے۔جب حضرت اسحاق علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو ملک الموت کو پہچان گئے،اور رونے لگے۔بیٹے کوروتا دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی رونے لگے،اور انہیں روتے دیکھ کر ملک الموت بھی رونے لگے۔کچھ دیر بعد اچانک ملک الموت اُٹھ کر گھر کے باہر آگئے،اور آسمان کی طرف چلے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام رونے کی وجہ سے توجہ نہیں کر سکے،کچھ دیر بعد دیکھا تو مہمان غائب تھا۔آپ علیہ السلام تیزی سے اُٹھ کر باہر آئے،اور دیکھا تو مہمان کہیں دکھائی نہیں دیا۔اندر آکر بیٹے سے ناراضگی سے فرمایا؛”تم میرے مہمان کو دیکھ کر رونے لگے ،جس کی وجہ سے وہ چلے گئے۔“حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!آپ علیہ السلام مجھ سے ناراض نہ ہوں ،میں نے آپ علیہ السلام کے ساتھ ملک الموت کو دیکھا تھا۔اِس لئے یہ سوچ کر رونے لگا تھاکہ آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آگیا ہو۔“اِس کے بعد پھر ایک مرتبہ ملک الموت آپ علیہ السلام کے پاس آئے تو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔نماز ختم ہونے کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا مانگی،تب ملک الموت اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میں آپ کے ایک ایسے بندے کے پاس سے ہو کر آرہا ہوںکہ اِس وقت روئے زمین پر اُس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”تُونے اُس بندے میں کیا دیکھا؟“ملک الموت نے کہا؛”اُس نے تیری مخلوق میں سے ہر ایک کے لئے اُس کے دین اور اُس کی معصیت کے لئے خیر کی دعا مانگی،کسی کو نہیں چھوڑا۔“

روح قبض کرنے کے وقت ملک الموت کی شکل

حضرت ابراہیم علیہ السلام ،اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے کہ ملک الموت حاضر ہوئے،اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام نے جواب دیا،اور فرمایا؛”بھائی تم کون ہو؟جو میری اجازت کے بغیر میرے کمرے میں چلے آئے۔“انہوں نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !میں ملک الموت ہوں ۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم مومنوں کی روح قبض کرتے تو کس شکل میں آکر اُن کی روح قبض کرتے ہو؟“تو ملک الموت نے عرض کیا؛” یا رسول اﷲ علیہ السلام !آپ ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرۂ مبارک پھر لیا،کچھ دیر بعد ملک الموت نے انتہائی سُریلی آواز میں عرض کیا؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو انتہائی خوبصورت حسین چہرے والا شخص دکھائی دیا،جس کے چہرے پر بہت زیادہ شفقت اور محبت ظاہر ہو رہی تھی۔اور اتنی پیاری مسکراہٹ تھی کہ انسان کا دل بے اختیار اُس کی طرف کھنچا جاتا تھا،اتنا نور تھا کہ بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔آپ علیہ السلام نے جب ملک الموت کو اِیسی حالت دیکھا توفرمایا؛”تم کو ایسی میں دیکھنے کے بعد کوئی بھی تمہارے ساتھ جانا پسند کرے گا۔“اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم کافروں اور ظالموں کی روح قبض کرنے آتے ہو تو کس شکل میں آتے ہو؟“ملک الموت نے عرض کیا؛”ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرہ¿ مبارک پھر لیا۔کچھ دیر بعد انتہائی پھٹی ہوئی اور خوفناک آواز سنائی دی؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے ملک الموت کی طرف دیکھا تو ایک انتہائی سیاہ اور بھیانک شکل دکھائی دی،اُس کے چہرے پربے انتہا سختی ،غصہ ،ناراضگی اور حقارت دکھائی دی۔اور وہ شکل اتنی خوفناک اور ہولناک تھی کہ اُسے سیکھ کر آپ علیہ السلام چکرا کر گئے،اور زمین پر گر گئے۔قریب تھا کہ آپ علیہ السلام کی روح پر واز ہو جاتی کہ ملک الموت عام شکل میں سامنے آئے اور آپ علیہ السلام کو سنبھالنے لگے۔آپ علیہ السلام کا پورا بدن پسینے میں شرابور ہو چکا تھا،کچھ دیر بعد حالت اعتدال پر آئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اگر کافر اور ظالموں کو دوزخ،میدان حشر اور قبر کے عذاب سے بچالیا جائے،تب بھی تمہاری یہ شکل و صورت ہی اُس کے عذاب کے لئے کافی ہے۔“

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وصال

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصال کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا وصال ایک سو پچہتر(175) سال کی عُمر میں ہوا۔ایک اور روایت ہے کہ ایک سو نوے(190)اور دوسو(200) سال کے درمیانی عُمر میں ہوا۔اور ایک روایت ہے کہ دو سو(200) سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔اور زیادہ تر علمائے کرام کا اِسی پر اتفاق ہے۔جب آپ علیہ السلام کے وصال کا وقت آیا تو اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا؛”میرے خلیل کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا۔“ملک الموت ایک بوڑھے کی انسانی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تشریف لائے۔اُس وقت آپ علیہ السلام اپنے انگوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے۔آپ علیہ السلام نے ایک بوڑھے مہمان کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے،اور فوراًاُن کا استقبال کیا۔اور عزت سے بٹھایا ،اور انگور لا کر خدمت میں پیش کئے۔ملک الموت نے انگور اُٹھا کر کھانے شروع کئے،لیکن وہ ٹھیک سے کھا نہیں پا رہے تھے۔کیونکہ ہاتھوں میں اتنازیادہ رعشہ تھا کہ کبھی انگور کان میں چلا جاتا تھا،اور کبھی ناک میں چلا جاتا تھا۔اور جو دانے منہ میں جاتے تھے تو انہیں چبا نہیں با رہے تھے،اور وہ اُن کے کپڑوں پر گر رہے تھے۔آپ علیہ السلام حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہے،پھر فرمایا؛”حضرت آپ کی عُمر کتنی ہے؟“تو ملک الموت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر کااندازہ لگا کر اُن سے دو سال زیادہ عُمر بتائی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اِس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال کے بعد میری بھی ایسی حالت ہونے والی ہے۔اے اﷲ تعالیٰ !ایسا مجبور بڑھاپا آنے سے پہلے مجھے اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لے۔“جب ملک الموت نے آپ علیہ السلام کو راضی دیکھا تو اصل شکل میں آئے ،اور آپ علیہ السلام کی روح قبض کرلی۔بے شک ہم اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں،اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اچانک وصال ہوا ۔حضرت اسماعیل بھی مکۂ مکرمہ سے ملک کنعان آگئے تھے،اور دونوں بھائیوں نے ملکر اپنے والد محترم کو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ دفن کیا۔یہاں اب ایک بہت بڑا شہر بن گیا ہے۔جس کا نام حبرون یا الخلیل ہے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام نبوت سے سرفراز

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصا ل کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ واپس آگئے،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں ملک عرب میں مبعوث فرمایا۔اور آپ علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ کے آس پاس کے علاقوں ،اور حجاز اور نجد بلکہ پورے ملک عرب میں اسلام کی دعوت دینے لگے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے بارے میں سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) کا کتاب میں ذکر کریں،بے شک وہ وعدے کے سچے تھے،اور نبی اور رسول ہیں۔اور اپنے گھر والوں نماز پڑھنے اور ذکوٰةدینے کا حکم دیتے تھے۔اور اپنے رب کے نزدیک بڑے پسندیدہ ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 55)اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چار صفات بیان فرمائیں ہیں۔پہلی یہ کہ وہ وعدہ پورا کرنے والے تھے،دوسری یہ کہ انہیں اﷲ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت دونوں سے سرفراز فرمایا تھا۔تیسری یہ کہ نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور چوتھی یہ کہ اﷲ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو بہت پسند فرماتا ہے۔اِسی دوران حضرت اسحاق علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اور وہیں اﷲ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرما دیا۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کام کو اُن دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری رکھا۔حضرت اسحاق علیہ السلام کا تفصیل سے ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت اسحاق،حضرت یعقوب،اور حضرت یوسف علیہم السلام “میں انشاءاﷲ کریں گے۔

وعدے کے سچے

اﷲتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ آپ علیہ السلام وعدے کے سچے تھے۔اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے۔آپ علیہ السلام پورے حجاز کے باپ ہیں۔جو اﷲ کے دین اسلام کی دعوت دیتے تھے،اور جو عبادت کا ارادہ کرتے تھے،پوری کرتے تھے۔ہر ایک کا حق ادا کرتے تھے،ہر وعدہ وفا کرتے تھے۔ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ فلاں جگہ ملوں گا،وہاں آجانا۔حسب وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پہنچ گئے،لیکن وہ شخص نہیں آیا۔آپ علیہ السلام اُس کے انتظار میں ٹھہرے رہے،یہاں تک کہ ایک دن اور ایک رات گزرگئے۔اباُس شخص کو یاد آیا تو دوسرے دن اُس نے آکر دیکھا تو آپ علیہ السلام وہیں انتظار کر رہے تھے۔پوچھا کہ کیا کل سے آپ علیہ السلام یہیں ہیں؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب وعدہ ہوچکا تھا تو میں تمہارے آنے سے پہلے کیسے ہٹ سکتا تھا۔“اُس نے معذرت کی کہ میں بھول گیا تھا۔حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو انتظار کرتے کرتے کامل ایک سال گزر گیا تھا۔اماما بن شزپ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے وہیں مکان بنا لیا تھا۔حضرت عبد اﷲ بن ابو الحمار رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے رسول اﷲ ﷺ سے کچھ تجارتی لین دین کیا۔میں چلا گیا اور یہی کہہ کر گیا کہ آپ ﷺ یہیں ٹھہریئے،میں ابھی واپس آتا ہوں۔پھر مجھے خیال ہی نہیں رہا،وہ دن گزرا اور رات گزری ،دوسرا دن بھی گزر گیا۔تیسرے دن مجھے خیال آیا تو وہاں جاکر دیکھاتو آپ ﷺ وہیں انتظار کر رہے تھے۔میں معذرت کرنے لگا تو آپ ﷺ نے مجھ سے صرف اتنا فرمایا کہ تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ،اور میں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلیۂ مبارک

حضرت سمرہ بن کعب رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اﷲ کے نبی اور رسول ہیں۔جن کا اﷲ تعالیٰ ”صادق الوعد“کی صفت سے ذکر فرمایا ہے۔وہ ایسے شخص تھے،جن کی طبیعت میں تیزی تھی۔اﷲ کے دشمنوں سے ہر وقت جہاد میں مصروف رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دشمنوں پر فتح عطا فرمائی تھی(یعنی ہمیشہ فتح ہوتی تھی)۔آپ علیہ السلام کافروں سے بہت سخت جنگ کرتے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔آپ علیہ السلام کا سر مبارک چھوٹا تھا،گردن موٹی تھی،ہاتھ پاو¿ں لمبے تھے،کندھے چوڑے تھے،اور انگلیاں لمبی تھیں۔مخلوق کے سامنے رہتے تھے،کافروں ہر نہایت سخت اور شدید تھے۔نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور آپ علیہ السلام کی ذکوٰة مال کے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کرنا تھا۔

اﷲ تعالیٰ نے عربی الہام کردی تھی

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی۔حضرت عقبہ بن بشیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔میں نے محمد بن علی رحمتہ اﷲ علیہ سے پوچھا؛’[سب سے پہلے عربی زبان کس نے بولی؟“انہوں نے فرمایا؛”حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بولی،جب آ پ علیہ السلام کی عُمر مبارک تیراہ(13) سا ل تھی۔میں پوچھا؛”اِس سے پہلے وہ کون سی زبان بولتے تھے؟“انہوں نے فرمایا؛”عبرانی زبان بولتے تھے۔“(ابن سعد)حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے عربی زبان الہام فرمائی تھی،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باقی تمام اولاد اُن کی لُغت پر تھی۔خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سریانی بولتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام عربی بولتے تھے۔لیکن ایک دوسرے کی زبان سمجھ لیتے تھے،باپ سریانی زبان میں ”ھل لی کشینبا“یعنی مجھے پتھر اُٹھا کر دو۔بیٹے پتھر دیتے ہوئے عربی میں کہتے”ھاک الحجر فخذہ“یعنی یہ ہے پتھر لے لیجیئے۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔سب سے پہلے جس نے عربی زبان بولی،اور کتاب کو اپنی زمان ،اپنے الفاظ،اور اپنے کلام پر لکھا،پھر اُسے کتاب بنایا۔مثلاً”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم“وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔حتیٰ کہ آپ علیہ السلام کی اولاد نے بعد میں اس کے درمیان جدائی کی۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد

حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ میں رہے،اور ہر سال حاجیوں کی خدمت انجام دیتے رہے۔اور اہل یمن اور آس پاس کے علاقوں میں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔قبیلہ بنو جرہم پہلے ہی اسلام قبول کر چکا تھا۔اِس دوران حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد پید ہوتی رہی ،اور بڑھتی رہی۔آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹے زیادہ مشہور ہوئے۔اُن کے نام قیداریا قیذار،ادبیل،نابت،بطور،بسام،مشمع،ذوما،مسا،حراة،قیما،نافس،اور قدما ہیں۔یہ تما اولاد آپ علیہ السلام کی زندگی میں پھلتی پھولتی گئی۔اور دھیرے دھیرے تمام بیٹے ایک ایک کرکےاطراف میں جا جا کر آباد ہوتے رہے۔صرف نابت اپنی اولاد کے ساتھ اپنے والد محترم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال 

حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل مکۂ مکرمہ میں رہے،اور خانۂ کعبہ کے متولی بنے رہے۔محمد بن اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔ایک سو تیس (130) سال کی عُمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال ہوا۔اُس وقت تمام بیٹے اور بھائی موجود تھے جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام بھی شامل تھے۔وصال سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام کو بلا کراُن کے بڑے بیٹے عیص یا عیصو سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔انشاءاﷲ اِس کا ذکر حضرت اسحاق علیہ السلام کی کتاب میں تفصیل سے کریں گے۔تمام بھائیوں اور بیٹوں نے آپ علیہ السلام کی وصیت کے مطابق آپ علیہ السلام کو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے بازو میں میزاب اور حجر اسود کے درمیان ”حطیم“میں دفن کر دیا۔توریت میں آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو سینتیس(137) سال لکھی ہے۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔

ختم شد 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں