حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 12
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں نے جب آپ علیہ السلام کے چہرہ¿ مبارک پر کچھ پریشانی کے آثار دیکھے تو عرض کیا؛”آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوئیں،ہم آپ علیہ السلام کو نقصان بہنچانے نہیں بلکہ خوش خبری سنانے آئے ہیں۔“آپ علیہ السلام نے حیرانی سے پوچھا؛”خوش خبری؟کون سی خوش خبری؟“تو انہوں نے عرض کیا؛”یارسول اﷲ علیہ السلام !دراصل ہم اﷲ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں،اور ہم انتہائی خوب صورت نوجوانوں کی انسانی شکل میں ہیں۔اِسی لئے آپ علیہ السلام ہمیں پہچان نہیں رہے ہیں۔ہم یہ نوجوانوں کی شکل اِسی لئے بنائے ہوئے ہیں کہ ،ہمیں اﷲ تعالیٰ نے قوم لوط پر حجت قائم کرنے اور عذاب دینے کے لئے بھیجا ہے۔اور آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ خوش خبری سنانے کا فرمایاہے کہ بہت جلدی ا ﷲتعالیٰ آپ علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمائے گا،جو ”علیم“یعنی علم والا ہوگا۔“یہ خوش خبری سن کرسیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا جو قریب ہی کھڑی تھیں۔وہ ہنس کر بولیں؛”کیوں مذاق کرتے ہو؟میں ایک بوڑھی ہوں ،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو گئے ہیں،دوسرے یہ کہ میں بانجھ ہوں۔“یہ سن کر فرشتوں نے کہا؛” ایسا ہی ہوگا،اور اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“
فرشتوں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو اطمینان دلایا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو اﷲ تعالیٰ پر مکمل یقین اور بھروسہ تھا۔لیکن فرشتوں نے جس طرح اچانک غیر متوقع طور پر ایسی خوش خبری سنا دی کہ کچھ وقت تک حیران ہوگئے۔کیونکہ اکثر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اُس وقت سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر نوے (90) سال سے زیادہ تھی۔اور ایک روایت میں تو ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی عُمر اُس وقت ننانوے(99) سال تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر بھی لگ بھگ سو(100) سال سے زیادہ تھی۔سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا نام ”یسارہ“تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے اُن سے کہا؛”اے سارہ رضی اﷲ عنہا!ایسا ہی ہوگا ،اور اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“تو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”تم نے ابھی مجھے سارہ کہا،جبکہ میرا نام یسارہ ہے۔“تو جرئیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”سارہ اُس عورت کو کہتے ہیں،جو والدہ بننے والی ہو،اور یسارہ بانجھ عورت کو کہتے ہیں۔“اِس پر سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”اے جبرئیل علیہ السلام ! تم نے میرے نام میں سے ”ی“کم کر دیاہے۔“جبرئیل علیہ السلام نے کہا؛”بے شک اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہا سے وعدہ کیا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کے نام کے اِس حرف کو آنے والے زمانے میں آپ رضی اﷲ عنہا کی اولاد میں سے ایک بچے کے نام میں رکھے گا۔اور وہ یہ کہ اس کانام اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ”زندہ“ہے۔پس اُس کا نام یحییٰ رکھا۔
اﷲ تعالیٰ نے نام رکھا
اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر اُن کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہاکو بیٹے کی بشارت دی۔اور صرف بشارت ہی نہیں دی ،بلکہ بیٹے کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔اور بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹے کے بیٹے یعنی پوتے کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔بیٹے کی بشارت سننے کے بعد جب دونوں میاں بیوی کو اطمینان ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کیا؛”آپ علیہ السلام کے بیٹے کا نام اسحاق علیہ السلام رکھنا،اور وہ بھی اﷲ کے نبی ہوں گے۔اور اُن کے بیٹے کا نام یعقوب (علیہ السلام) رکھنا،اور وہ بھی اﷲ کے نبی ہوں گے۔“اِس طر ح سے باپ ،بیٹا اور پوتا تینوں اﷲ کے نبی ہوئے۔اور اﷲ تعالیٰ نے اِسی پر اپنی مہربانیاں بس نہیں کیں،بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور خصوصی اعزاز عطا فرمایا۔اور وہ یہ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی اﷲ تعالیٰ نے اپنا نبی بنایا ہے۔اِس طرح سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا اِس پوری کائنات کی واحد اکیلی خاتون ہیں۔جن کا بیٹا ،پوتا اور پڑپوتا اﷲ تعالیٰ کے نبی بنے۔حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام لیکر اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن آیات میں بتایا ہے،وہ آیات ہم اوپر پیش کر چکے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں امامت
حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا؛”اب تمہاری بیوی سارا کو سارا کے نام سے نہیں بلایا جائے گا،بلکہ اُس کا نام ”سارہ“ہوگا۔اور اﷲ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے گا،اور تمہیں اُس کے بطن سے بیٹا عطا فرمائے گا۔وہ بڑا با برکت ہوگا،اور اُس سے کئی قومیں اور قوموں کے سردار پیدا ہوں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ بشارت سن کر فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے۔پھر سجدے سے اُٹھ کر دل ہی دل میں بولے۔کا سو سال کی عُمر کے بعد میرے یہاں بیٹا پیدا ہو گا؟کیا سارہ والدہ بنے گی؟حالانکہ اُس کی عُمر ننانوے سال سے زیادہ ہو چکی ہے؟آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ بارگاہ میں عرض کیا؛”کاش!اسماعیل علیہ السلام !تیرے حضور جیتا رہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ضرور تیری بیوی سارہ کے بطن سے تیرا بیٹا پیدا ہوگا،اور تُو اُس کا نام رکھے گا،جو اسی وقت اگلے سال پیدا ہو گا،اور میں اس سے اور اس کی اولاد سے اپنا عہد باندھوں گا۔اور میں نے اسماعیل کے بارے میں بھی تیری دعا سن لی،میں اسے بھی برکت دوں گا،اور اُس کی عظمت کو بلند کروں گا۔میں اُس کی نسل کو بہت بڑھاو¿ں گا۔اُس کی نسل سے بارہ سردار پیدا ہوں گے،اور میں اسے ایک بڑی قوم بناؤںگا۔
حضرت ابرہیم علیہ السلام کو اعزاز
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا ہے کہ اُن کی ہر اولاد میں نبی پید ا فرمائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹوں کے بارے میں مختلف روایات میں آیا کہ لگ بھگ دس بیٹے تھے ۔علمائے کرام چار بیٹوں کے نام بتاتے ہیں۔1) حضرت اسماعیل علیہ السلام ،2)حضرت اسحاق علیہ السلام ،3)مدین،اور 4)مدائن ۔اِن میں سے مدین اور مدائن تیسری بیوی سے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الحدید میں فرمایا؛”اور ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم( علیہ السلام)کو رسول بنا کر بھیجا۔اور ہم نے اُن کی نسل میں کتاب اور نبوت رکھ دی۔“(سورہ الحدید آیت نمبر 26)علامہ ابن کثیر اِس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جس نبی پر بھی کتاب اُتری وہ آپ علیہ السلام کی نسل اور اولاد سے تھے۔یہ اعزاز اور عزت و توقیر کی وہ خلعت ہے جو کسی اور کے اوپر نہیں سجی۔اور وہ بلند مرتبہ ہے،جس پر کوئی فخر نہیں کر سکتا ۔یہ خلعت ِزیبا صرف حضرت ابراہیم علیہ السلا م کے لئے ہے۔اور یہ وجہ ¿ فخر صرف اُن کی اولاد کے لئے ہے ،کیونکہ آپ علیہ السلام کی صلب سے ہی وہ عظیم المرتبت بیٹے پید ا ہوئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے،جنہیں ”اسرائیل“(عبداﷲ)کہاجاتا ہے۔اور انہی کی طرف بنی اسرائیل کے تمام قبیلے منسوب کئے جاتے ہیں۔جن میں عرصہ¿ دراز تک سلسلہ¿ نبوت و رسالت قائم رہا۔اور وہ اتنے بڑھے کہ اُن کی تعداد ستاروں سے تجاوز کر گئی ۔زیادہ تر انبیائے کرام علیہم السلام اِن میں تشریف لاتے رہے۔حتیٰ کہ اُن کا سلسلہ¿ نبوت اُن میں آنے والے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا،جو حضرت یعقوب علیہ السلا م کے خانوادے سے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے خصوصی اعزاز
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ اعزازتو عطا فرمایا ہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو ”انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ“بنایا ہے۔اِس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو وہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا ہے،جس پر آپ علیہ السلام کو سب سے زیادہ فخر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہو گا۔اور وہ ہے ،اُن کی اولاد میں سید الانبیاء،خاتم الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا پیدا ہونا۔علامہ ابن کثیر حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں لکھنے کا بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُن سے عرب کے مختلف قبائل پیدا ہوئے۔آپ علیہ السلا م کی نسل سے سوائے خاتم الرسل،مولائے کُل،فخر ِبنی آدم فی الدنیا والآخرةمحمد بن عبد اﷲ بن عبد المطلب بن ہاشم قریشی ،مکی اور مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نبی پیدا نہیں ہوا ۔اِس مقدس شاخ (بنی اسماعیل) اور بند مرتبہ نسل سے صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی پیدا ہوئے،جن کی شفاعت کی آج بھی سبھی آس لگائے بیٹھے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں ایسے مرتبے پر(قیامت کے دن) فائز ہوں گا کہ اﷲ تعالیٰ کی پوری مخلوق میری خدمت میں حاضر ہو گی ۔حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حاضر ہوں گے۔(یہ شفاعتِ کبریٰ کی حدیث ہے،جو بخاری و مسلم بلکہ تمام احادیث کی کتاب میں بہت تفصیل سے درج ہیں)اِس حدیث میں سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے والد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی بڑی تعریف فرمائی ہے آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم کا مبارک کلام دلالت کر رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔اِس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا والد محترم کہلانا اتنا بڑا عزا زہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود بھی اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے تمام انبیاءعلیہم السلام کے سردار صلی اﷲ علیہ وسلم کا والد بنا دے۔اِس دعا کو اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129میں ذکر کیا ہے۔
اﷲ کے خلیل
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ مہمان نواز تھے،اور کسی نہ کسی کو ساتھ میں لئے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔اگر کوئی مہمان نہیں آتا تو آپ علیہ السلام خود مہمانوں کی تلاش میں نکل جاتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام کسی مہمان کی تلاش میں نکلے اور کافی دور تک جانے کے بعد کوئی مہمان نہیں ملا۔جب آپ علیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ ایک شخص گھر کے اندر کھڑا ہے،آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”اے اﷲ کے بندے !میری اجازت کے بغیر آپ میرے گھر میں کیسے آئے ؟“اُس شخص نے جواب دیا؛”میں گھر کے مالک کی اجازت سے آیا ہوں۔“آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”تم کون ہو؟“اُس نے بتایا؛”میں موت کا فرشتہ ہوں ،مجھے اﷲ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اپنے ایک بندے کے پاس تاکہ میں اُسے خوش خبری سنا دوں کہ اﷲ تعالیٰ نے اُسے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔‘آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”مجھے بتاؤ !وہ خوش نصیب کون ہے؟اﷲ کی قسم !اگر آپ مجھے اُس کا پتہ بتا دیں گے تو وہ کتنی بھی دور ہوگاتو میں اُسے لے آو¿ں گا۔اور ہمیشہ اپنے پڑوس میں رکھوں گا،اور خدمت کرتا رہوں گا۔حتیٰ کہ موت میرے اور اُس کے درمیان جدائی ڈالے گی۔“فرشتے نے کہا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !وہ بندے آپ خود ہیں۔“آپ علیہ السلام نے حیرانی سے پوچھا؛”میں؟مجھے اﷲ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔“تو فرشتے نے عرض کیا؛”جی ہاں!آپ علیہ السلام کوہی اﷲ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔“یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام نے سجدۂ شکر ادا کیا۔اِس کے بعد فرشتے سے پوچھا ؛ ”اﷲ تعالیٰ نے مجھے کس وجہ سے اپنا خلیل بنایا ہے؟“فرشتے نے عرض کیا؛”وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں کو دیتے ہیں،لیکن اُس سے لیتے کچھ نہیں ہیں۔“
زندگی بعد الموت کا مشاہدہ
اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا۔اے میرے رب! آپ مجھے دکھایئے کہ آپ مُردوں کو کس طرح زندہ کریں گے؟۔ہم نے فرمایا؛(اے ابراہیم علیہ السلام)کیاتم اِس پر یقین نہیں رکھتے؟(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )عرض کیا؛یقین اور ایمان تو ہے،لیکن (یہ سوال اِس لئے ہے)تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔(ہم نے)فرمایا؛تو تم چار پرندے پکڑ لو،اور اُن کو اپنے آپ سے مانوس کر لو۔اور پھر اُن کے ٹکڑے کرڈالو،پھر ہر پہاڑ پر اُن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو۔پھر انہیں پکارو،تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے ۔اور جان رکھو کہ اﷲ تعالیٰ غالب ہے ،حکمتوں والا ہے۔(سورہ البقرہ آیت نمبر 206)اِس واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں درج ہے۔ہم مختصراًبتا رہے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے موت کے بعد دوبارہ زندگی کے عملی مشاہدے کا سوال کیا تو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چار پرندوںکو پکڑ کر مانوس کر لیا۔اِس کے بعد چاروں پرندوں کو ذبح کر کے اِن کی بوٹی بوٹی بنا لیا،اور سب کو ایکدوسرے میں ملادیا۔اِس کے بعد اِن بوٹیوں کے چار حصے کئے،اور چار الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام ایک ایسی جگہ کھڑے ہو گئے،جہاں سے چاروں پہاڑیاں دکھائی دیتی تھیں۔پھر آپ علیہ السلام نے ان پرندوں کے جو نام رکھے تھے،وہ نام لیکر پکارا تو چاروں پرندوں کی بوٹیاں اُڑاُڑ کر اپنی جگہوں پر پہنچیں،اور مکمل پرندے بن گئے۔آپ علیہ السلام یہ سب مشاہدہ کر رہے تھے۔پھر اُن پرندوں میں جان پڑ گئی ،اور وہ اُڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس آگئے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں