حضرت اسحاق، یعقوب، یوسف علیہ السلام 11
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 11
اللہ کے حکم سے حضرت یوسف علیہ السلام کی تدبیر
اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب انہیں ان کاسامان ٹھیک ٹھاک کر کے دیا تو اپنے بھائی کے سامان میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا۔ اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو ۔ انہوں نے ان کی طرف منہ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے؟ جو اب دیا کہ شاہی پیالہ گم ہو گیا ہو۔ جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ جتنا سامان سنبھال سکے اتنا دیا جائے گا۔ اس وعدے کی میں ضمانت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ، تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ اور نہ ہی ہم چور ہیں ۔ انہوں نے کہا۔ اچھا اگر تم جھوٹے ہو تو چور کی سزا کیا ہے؟ جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں گم شدہ چیز پائی جائے وہی اس کا بدلہ ہے۔ ہم تو ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پس یوسف ( علیہ السلام ) نے ان کے سامان کی تلاشی لینی شروع کر دی۔ اور اپنے بھائی کے سامان میں سے شاہی پیالہ نکالا۔ ہم نے یوسف (علیہ السلام ) کے لئے اسی طرح تدبیر کی ۔اس بادشاہ کے قانون کی روسے یہ اپنے بھائی کو نہیں روک سکتے تھے۔ مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو۔ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں۔ ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر70سے 76تک)
بھائیوں کو غلطی کا احساس کرانا ہے
حضرت یوسف علیہ السلام رات بھر اپنے بھائی بن یامن سے بات کرتے رہے اور گھر کے حالات معلوم کرتے رہے۔ بن یامن نے بتایا کہ بھائی آپ سے بچھڑنے کے بعد والد محترم نے مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔ اور ہر وقت خاموش اور سوچ میں گم رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے آپ علیہ السلام کی جدائی کا غم انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہر وقت ان کی آنکھوں سے آنسو بہتر رہتے ہیں۔ زبان سے تو وہ کچھ نہیں کہتے لیکن ان کا غم صاف دکھائی دیتا ہے۔ ہم سب بھائی انہیں سمجھانے اور ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ فرماتے ہیں کہ میں توصرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے صبر جمیل عطا فرمائے۔ بھائی ، مسلسل لگاتار آنسو بہنے کی وجہ سے والد محترم کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی سے تمام حالات سنتے رہے اور روتے رہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب بھائیوں کو ان کی غلطی کا احساس کرانا چاہیئے۔ بن یامن نے کہا بھائی، میں ان کے ساتھ جانا نہیں چاہتا ہوں بلکہ آپ علیہ السلام کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی اپنے بھائی کو روکنا چاہتے تھے لیکن کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے تدبیر ان کے اوپر القا فرمائی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بھائی، مصر کے قانون کے مطابق تو میں تمہیں روک نہیں سکتا ہوں۔ ہاں ہمارے پر دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق روک سکتا ہوں۔ اور کل میں اسی تدبیر پر عمل کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام نے بن یامن کے سامان میں شاہی پیالہ رکھ دیا۔
شاہی پیالہ گم ہو گیا ہے
حضرت یوسف علیہ السلام نے صبح اپنے تمام بھائیوں کو ان کے سامان کے ساتھ شاہی محل سے رخصت کیا۔ ابھی ان لوگوں کا قافلہ مصر سے باہر نکل کر صحرا میں کچھ ہی دو رگیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے سپاہیوں کے ساتھ گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے اور قافلے کو روک لیا۔ سپاہیوں کے افسر نے کہا کہ شاہی پیالہ گم ہو گیا ہے۔ اس لئے تمہارے سامان کی تلاشی لینی ہو گی۔ آپ علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، ہم نہ تو چور ہیں اور نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم میں سے کوئی چور نکلا تو تمہاری شریعت میں چو ر کیا سزا ہے؟ بھائیوں نے کہا ہماری شریعت میں یہ قانون ہے کہ جس کی چیز جو شخص چرائے گا تو اگر چوری ثابت ہو گئی تو وہ شخص اس کا غلام بنا لیا جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک تلاشی دے دو۔ تلاشی کے دوران بن یامن کے سامان سے شاہی پیالہ نکل آیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تمہاری شریعت کے قانون کے مطابق بن یامن میرا غلام ہے اور میں اسے اپنے پاس رکھتا ہوں۔
بن یامن نے بھائیوں کا ظلم یاد دلایا
اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا ۔ اگر اس نے چوری کی ہے ( تو یہ تعجب کی کوئی بات نہیں ہے ) اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔ یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے دل میں بات رکھ لی اور ان کے سامنے بالکل ظاہر نہیں کیا کہ تم بدتر جگہ میں ہو اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر77) جب بن یامن کے سامان سے شاہی پیالہ بر آمد ہوا تو تمام بھائیوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کے بڑے بھائی ( یعنی حضرت یوسف علیہ السلام ) نے بھی چوری کی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا بچپن میں آپ علیہ السلام کی بوا (پھوپھی ) نے آپ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھنے کے لئے حضرت یوسف علیہ السلام پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اور بعد میں پورے خاندان کو جمع کر کے یہ بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ اس وقت یہ تمام بڑے بھائی بھی موجود تھے۔ اور جانتے تھے کہ آپ علیہ السلام بے قصور ہیں۔ لیکن یہاں وہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو عزت دار ظاہر کرنے کے لئے آپ علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا رہے تھے۔ اتنا بڑا الزام سن کر حضرت یوسف علیہ السلام تو ضبط کر گئے لیکن بن یامن سے یہ الزام برداشت نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بن یامن کو تمام حالات بتا دیئے تھے کہ بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ اسی لئے بن یامن سے برداشت نہیں ہو سکا اور انہوں نے تمام بھائیوں سے کہا۔ تم یوسف ( علیہ السلام ) کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو جب کہ وہ بے قصور ہیں۔ اور یہ تم بھی جانتے ہو۔ اور تم لوگوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اسے ذرا یاد کرو۔ یہ سن کر تمام بھائی شرمندہ ہو گئے اور خاموش ہو گئے۔
بن یامن کو روک لیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ اے عزیزمصر اس کے والد محترم بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے میں ہم میں سے کسی کو لے لیجئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بہت ہی نیک انسان ہیں۔ یوسف ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کہ ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد تو ہم یقینا نا انصافی کرنے والے ہو جائیں گے۔ جب یہ اس سے مایوس ہو گئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد محترم نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پختہ قول و قرار لیا ہے۔ اور اس سے پہلے تم یوسف ( علیہ السلام )کے بارے میں کوتاہی کر چکے ہو۔ پس میں تو اس سر زمین سے نہیں ٹلوں گا۔ جب تک کہ والد صاحب مجھے اجازت نہیں دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم سب والد محترم کی خدمت میں واپس جاﺅ اور کہو کہ ابا جان ، آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے۔ اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم آپ جانتے ہیں۔ ہم کچھ غیب کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ آپ ( علیہ السلام ) اس شہر کے لوگوں سے دریافت فرمالیں جہاں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ۔ اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر78سے 80تک)
بڑا بھائی مصر میں رک گیا
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب ان سے فرمایا کہ بن یامن کو میرے پاس چھوڑ دو تو تمام بھائی آپ علیہ السلام کی خوشامد کرنے لگے اور کہا کہ ہمارے والد صاحب بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ۔ اور ایک بیٹے کی جدائی کا غم پہلے ہی برداشت کر رہے ہیں۔ اگر آپ (علیہ السلام ) اسے بھی روک لیں گے تو یہ ہمارے والد کے لئے ناقابل برداشت ہو گا اور ہم پختہ وعدہ کر کے آئے ہیں کہ ہم بن یامن کو لے کر آئیں گے۔ آپ اسے بھیج دیں اور ہم میں سے کسی بھائی کو رکھ لیں۔ آپ علیہ السلام نے تمام باتیں سن کر فرمایا۔ تمہیں بن یامن کو ہی چھوڑنا پڑے گا۔ اور اب تم جاﺅ اور اپنے والد کو سمجھاﺅ۔ اور اگر میں اس کے علاوہ کسی اور کو روکوں گا تو یہ نا انصافی ہو گی۔ بھائیوں نے بہت منت سماجت کی لیکن آپ علیہ السلام بن یامن کو روکنے کے فیصلے پر قائم رہے۔ آخر کار آپ علیہ السلام بن یامن کو لے کر چلے گئے۔ اور تمام بھائی آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کیا کریں۔ اور قافلے والے بھی رک گئے اور وہیں پڑاﺅ ڈال دیا۔ سب سے بڑے بھائی روبیل نے کہا۔ تم سب لوگ جانتے ہو کہ ہم نے اللہ کے نام سے اپنے والد محترم سے پختہ وعدہ( عہد ) کیا تھا کہ ہم کسی بھی صور ت میں بن یامن کو واپس لے کر آئیں گے۔ اور تم سب جانتے ہو کہ اس سے پہلے ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کے متعلق ابا جان سے وعدہ کیا تھا اور توڑ دیا تھا۔ اور اب تو میں ابا جان کا سامنا نہیں کر سکتا۔ تم لوگ قافلے والوں کے ساتھ واپس جاﺅ اور ابا جان کو بتاﺅ کہ بن یامن کو کس طرح گرفتار کیا گیا ہے۔ اور میں یہاں رک کر بن یامن کی رہائی کی کوشش کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کوئی راستہ نکال دے کہ میں بن یامن کو لے کر آﺅں۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر
اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ یہ تو نہیں ، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔ پس اب صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے۔ وہ ہی علم والا اور حکمت والا ہے پھر ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا۔ ہائے یوسف ، ان کی آنکھیں رنج و غم کی وجہ سے سفید ہو چکی تھیں۔ اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔ بیٹوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، آپ علیہ السلام ہمیشہ یوسف کو ہی یاد کر تے رہیں گے۔ یہاں تک کہ گھل جائیں یا ختم ہو جائیں۔ انہوں نے فرمایا۔ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر83سے 86تک) حضرت یوسف علیہ السلام کا سب سے بڑا بھائی روبیل مصر میں ہی رک گیا تھا۔ اور باقی تمام بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں واپس آئے اور آپ علیہ السلام کو بن یامن کی گرفتاری کا پورا واقعہ بیان کیا اور کہا۔ ہمارا بڑا بھائی وہیں مصر میں رک کر اسے رہا کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرا دل قبول نہیں کر تا کہ بن یامن ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ اور میں یہ بات مان ہی نہیں سکتا بہر حال میں صبر کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے کوئی بہتر راستہ نکال دے اور پھر ہم سب کو ایک ساتھ کر دے۔ آپ علیہ السلام کو پہلے ہی سے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کا صدمہ تھا اس پر بن یامن کی جدائی نے دہرا صدمہ پہنچا دیا۔ آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر تمام بیٹوں کو صدمہ ہوتا۔ اور انہوں نے کہا ابا جان آپ اس طرح ہر وقت غمزدہ رہیں گے تو ہمیں ڈر ہے کہ آپ علیہ السلام کو کچھ ہو گیا تو ہم کیا کریں گے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تواپنے بچوں کو یاد کرتا ہوں۔
بھائیوں کو پھر سے مصر بھیجا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا) میرے پیارے بچو، تم جاﺅ اور یوسف کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو۔ اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہو جاﺅ۔ اور رب کی رحمت سے تو وہی نا امید ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ یوسف(علیہ السلام )کے پاس پہنچے او رکہنے لگے کہ اے عزیز، ہم اور ہمارے خاندان کو دکھ پہنچا ہے۔ اور ہم حقیر پونجی لائے ہیں۔ پس آپ ہمیں پورے غلہ کا ناپ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے۔ اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر87اور 88) حضرت یعقوب علیہ السلام کی حالات دیکھ کر تمام بھائیوں کو بھی افسوس اور صدمہ ہونے لگا تھا۔ اور انہیں احساس بہت شدید ہو رہا تھا کہ ہم نے والد محترم سے یوسف ( علیہ السلام ) کو جد ا کر کے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ وہ اپنے والد محترم کو سمجھانے لگے کہ ابا جان، اپنے آپ کو سنبھالئے ۔ آپ علیہ السلام تو یوسف کے غم میں گھل گھل کر اپنی جان دے دیں گے۔ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ابھی یوسف ( علیہ السلام ) کو لے کر آجاتے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بچو، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ امید رکھو، اور تم لوگ پھر مصر جاﺅ اور ابن یامن اور یوسف کو تلاش کرو۔ اللہ تعالیٰ سے مجھے یہ پوری امید ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہم سب کو ملا دے گا۔ تمام بھائی مصر آئے اور بڑے بھائی سے ملاقات کی اور بتایا کہ والد محترم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ہمارے خاندان کے لئے رسد بھی ختم ہونے والی ہے۔ اور اب تو ہمارے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے خاندان کے لئے رسد خرید سکیں۔ ہم عزیز مصر کے پاس چل کر درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس تھوڑی سے پونجی کو لے ہمیں پورا سامان دے دے۔ انہوں نے روبیل سے بن یامن کی رہائی کے باے میں پوچھا تو اس نے کہا۔ میں پوری کوشش کررہا ہوں ، لیکن کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ چلو ہم ایک مرتبہ پھر عزیز مصر کے پاس چلتے ہیں اور اس سے رحم کی درخواست کرتے ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں رحم ڈال دے۔
بھائیوں کی عاجزی
حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ اپنے آپ کو بھائیوں پر ظاہر کردیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ تمام بھائیوں کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہو رہا ہے۔ اور وہ بری طرح پچھتا رہے ہیں ۔اور چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح ہمیں بن یامن اور یوسف ( علیہ السلام ) مل جائیں۔ اور تمہارے والد محترم نے اس امید میں انہیں بھیجا ہے کہ تم ضرور انہیں مل جاﺅ گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ اور بھائیوں کا انتظار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی حاضر ہوئے ۔ ان کی حالت دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھر آیا لیکن ضبط کئے بیٹھے رہے۔ بھائیوں نے کہا۔ اے بادشاہ ، اے عزیز مصر ، ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔ اور ہم لوگ بہت تکلیف میں ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ بہت ہی رحمد دل ہیں۔ اور لوگوں کے ساتھ سچی ہمدردی کرتے ہیں۔ ہمارے اوپر رحم فرمائیے۔ اور یہ تھوڑے سے درہم لے کر چاہے خیرات ہی سمجھ کر ہمیں پورا سامان دے دیں اور ہمارے بھائی کو ہمیں واپس دے دیں۔ تا کہ ہم اپنے والد محترم کی تکلیف کو کچھ کم کر نے میں ان کی مدد کر یں۔ اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہتر بدلہ عطا فرمائے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں