منگل، 18 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 11 Story of Prophet Ibrahim



حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 11

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بڑا مانتے ہیں 

سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۴۲۱ کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے پہلے تفصیل سے بنی اسرائیل(یہودیوں) پر کئے گئے انعامات کو بیان فرمایا۔پھر یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے (بنی اسرائیل نے)اپنے دین اور اعمال میں کیا کیا بدعات اور خرابیاں پید کی ہیں۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔اور اِس کی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے شخص ہیں کہ تما م ادیان اور مذاہب کے ماننے والے اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں۔اور مشریکن مکہ بھی اِس پر فخر کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں،اور وہ حرم کے خادم ہیں۔اور یہود و نصاری (بنی اسرائیل اور عیسائی) بھی اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں،اور اُن کی اولاد ہونے کا شرف ظاہر کرتے ہیں۔اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بیان فرمایا۔تاکہ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت اور اسلام کا حجت ہوناسب پرثابت ہوجائے۔اِس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی خصوصیت خانہ¿ کعبہ کا حج ہے،اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو اپنا بڑا اور رسول مانتا ہے،اُس کے لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کے دین اسلام پر ایمان لانا واجب ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خانہ¿ کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا تو یہودیوں نے بُرا مانا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے ہو تو یہ خانۂ کعبہ اُن کے ہی ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے۔تمہیں تو اِس کے قبلہ بنائے جانے پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیئے۔

مناسک حج

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانۂ کعبہ کی تعمیر سے فار ہوئے تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”یارب ! ہم نے خانہ¿ کعبہ تعمیر کر دیا ہے،اب اے ہمارے پرور دگار!ہمیں مناسک حج سکھا ۔ہمارے لئے وہ ظاہر فرما،اور ہمیں اِن کی تعلیم دے۔تو اﷲ تعالی ٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو مناسک حج بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد جب یہ دعا مانگی کہ اے اﷲ تعالیٰ !ہمیں مناسک حج سکھا دے،تو اﷲ تعالیٰ نے جرئیل علیہ السلام کو بھیجا۔وہ آئے اور طواف کے بعد صفا اور مروہ پر سعیٔ کرایا،اور عرض کیا؛”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ،یہ ”شعائر اﷲ“ہیں۔“جب انہوں نے طواف اور سعیٔ کر لیا توجبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر” جمرۂ عقبہ“ پر لے آئے،وہاں شیطان کھڑا تھا،جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور آپ علیہ السلام کو دیں اور عرض کیا؛”یا رسول ا ﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ کی تکبیر بیان کرتے ہوئے یہ کنکریاں شیطان کو ماریں۔“آپ علیہ السلام نے تکبیر پڑھتے ہوئے کنکریاں ماریں تو شیطان بھا گ گیا۔پھر دوسرے دن ”جمرہ¿ وسطیٰ“پر ہاتھ پکڑ کر لے گئے،تو وہاں بھی شیطان کھڑا ہوا تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریں اُٹھا کر آپ علیہ السلام کو دیں،اور شیطان کو مارنے کو کہا۔آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں تو شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔پھر تیسرے دن ”جمرۂ قصوٰی “پر لے گئے،اور اسی طرح آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں اور شیطان بھاگا۔اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام ہاتھ پکڑ کر ”مِنیٰ“میں لیکر آئے ،اور بتایا کہ یہاں لوگ سر منڈائیں گے۔پھر انہیں ”مزدلفہ “لیکر آئے اور عرض کیا۔”یہاں لوگ دو نمازیں اکٹھی پڑھیں گے۔“پھر ”میدان عرفات“ میں لیکر آئے اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا؛”یا خلیل اﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مناسک حج پہچان گئے؟تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛ ”تمام مناسک حج پہچان گیا ہوں۔“اسی وجہ سے اِس میدان کا نام”میدن عرفات“پڑ گیا۔ یا کہا جائے گا۔

حج کے لئے پکارا(منادی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر اور مناسک حج سے فارغ ہوگئے ،تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا؛”اب تمام لوگوں میں حج کی منادی کر دو۔“یعنی تمام لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔آپ علیہ السلام نے تمام انسانوں کو حج کے لئے پکارا۔تمام لوگوں نے اِس پکار کو سنا۔یعنی قیامت تک جتنے لوگ پید ہونے والے تھے ،انہوں نے ”عالمِ ارواح“میں سنا،اور جواب دیا۔”لبیک اللھم لبیک“۔جس نے لبیک کہا وہ حج کرنے جائے گا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔میں نے حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ سے ”مقام ابراہیم“پر بنے نشان کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے فرمایا؛”یہ پتھر پہلے بھی اسی کیفیت میں تھا،جیسا آج ہے،لیکن اﷲ تعالیٰ نے جب ”مقام ابراہیم“کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کرنے اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔پس آپ علیہ السلام ”مقام ابراہیم“پر کھڑے ہوئے،اور یہ پتھر بلند ہونے لگا،حتیٰ کہ تمام پہاڑوں سے بھی بلند ہو گیا۔پس آپ علیہ السلام نے نیچے دیکھا اور فرمایا؛”اے لوگو!اپنے رب کا حکم قبول کرو ۔“پس لوگوں اُس کو قبول کیا اور کہا؛”لبیک اللھم لبیک“۔آپ علیہ السلام دائیں بائیں،اوپر نیچے دیکھتے رہے اور پکارتے رہے۔لوگو اپنے رب کا حکم قبول کرو۔پس جب تک مقام ابراہیم اوپر رہا،تب تک آپ علیہ السلام لوگوں کو پکارتے رہے۔اور لوگ لبیک کہتے رہے۔پھر مقام ابراہیم نیچے آیا اور آپ علیہ السلام اُس پر سے اُتر آئے۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اثر اِس پتھر پر تھا،ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ”جبل ابو قبیس “پر چڑھ کر لوگوں کو حج کے لئے پکارا۔

مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے

حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان بعد میں ملک شام اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔اور وقتاً فوقتاً مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صرف تین مرتبہ مکہ¿ مکرمہ تشریف لائے۔لیکن قرآن پاک اور احادیث کے مطابق کم سے کم پانچ مرتبہ آپ علیہ السلام کا مکۂ مکرمہ آنا ثابت ہے۔پہلی مرتبہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوچھوڑنے کے لئے آئے۔دوسری مرتبہ بیٹے کی قربانی کے لئے آئے۔تیسری مرتبہ آئے تو پہلی بہو سے ملاقات ہوئی،چوتھی مرتبہ آئے تو دوسری بہو سے ملاقات ہوئی ۔اور پانچویں مرتبہ آپ علیہ السلام خانۂ کعبہ کی تعمیر کے لئے آئے۔علامہ ابن کثیر اِس کے بارے میں لکھتے ہیں۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”جب ابراہیم (علیہ السلام)ان سب کو اور اﷲ کے سوا ان کے معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) عطافرمائے۔اور دونوں کونبی بنایا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 49)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اُسے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا،اور اِس پر مزید یعقوب (علیہ السلام)کو بھی عطا فرمایا،اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر ۲۷)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اس کو (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق نبی(علیہ السلام) کی بشارت دی۔جو صالح لوگوں میں سے ہو گا۔اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام)پر برکتیں نازل فرمائیں ،اور اُن دونوں کی اولا دمیں سے بعض تو نیک بخت ہیں،اور بعض اپنے نفس پر صریح (صاف) ظلم کرنے والے ہیں۔“(سورہ الصا فات آیت نمبر ۲۱۱ اور ۳۱۱)اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت فرشتوں کے ذریعے دی۔وہ فرشتے انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آئے،وہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب دینے کے لئے جارہے تھے۔اِس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ کیا ہے۔سورہ الحجر میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛ترجمہ”انہیں ابراہیم(علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال سنادو۔جب انہوں نے اُن کے پاس آکر سلا م کیا تو انہوں نے کہا ہم کو تم سے ڈر لگتا ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ ڈرو نہیں !ہم تمہیں ایک علیم(فہم والے،علم والے) بیٹے کی خوش خبری (بشارت) دیتے ہیں۔(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )فرمایا ؛کیا اِس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے بشارت دے رہے ہو؟یہ خوش خبری تم کیسے دے رہے ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کو بالکل سچی خوش خبری سنا رہے ہیں۔آپ مایوس لوگوں میں بالکل نہ ہوں۔ُحضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا؛اپنے رب کی رحمت سے نااُمید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔“(سورہ الحجر آیت نمبر 51 سے 56 تک)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان

اﷲ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا؛ترجمہ”کیاتُجھے ابراہیم(علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟وہ جب اُن کے یہاں آئے تو سلام کیا۔ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔(اور کہا یہ تو)اجنبی لوگ ہیں۔(چپ چاپ جلدی جلدی)اپنے گھر والوں کی طرف گئے،اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت پکا کر یا بھون کر)لائے۔اور اسے اُن کے پاس رکھا،اور کہا آپ کھاتے نہیں ہیں؟پھر تو دل میں خوف محسوس کیا۔انہوں نے کہا !آپ (علیہ السلام)خوف نہ کریں ،اور انہوں نے اُن کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔پس اُن کی بیوی آگے بڑھی،اور حیرت سے آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر بولی؛میں تو بوڑھی ہو گئی ہوں،اور ساتھ میں بانجھ بھی ہوں۔انہوں نے کہا۔ہاں!تیرے پروردگار (رب) نے اسی طرح فرمایا ہے،بے شک وہ حکیم و علیم ہے۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 24 سے 30 تک)اﷲ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہمارے بھیجے ہوئے پیامبر ابراہیم(علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لیکر پہنچے ،اور سلام کیا۔انہوں نے سلام کا جواب دیا،اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کابُھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔اب جو دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں،تو انہیں انجان(مخلوق) پاکر دل ہی دل میںخوف محسوس کرنے لگے۔انہوں نے کہا۔ڈرونہیں!ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے ہیں۔اُس کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی)بیوی جوکھڑی ہوئی تھی،وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام )کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔وہ کہنے لگیں؛ہائے میری کم بختی!میرے یہاں اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟میں خود بوڑھی ہو چکی ہوں،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں۔یہ تویقینا بڑی عجیب بات ہے۔فرشتوں نے کہا۔کیا تم اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟تم پر اے اِس گھر لوگ!اﷲ کی رحمتیں اور اُس کی برکتیں نازل ہوں۔بے شک اﷲ تعالیٰ حمدو ثنا کے لائق ہے،اور بڑی شان والا ہے۔(سورہ ہود آیت 69 سے 73)

فرشتوں کی حاضری نوجوانوں کی شکل میں

حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان کے ایک علاقے ”الخلیل“جو آج شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے،اُس میں رہتے تھے۔اُس وقت آپ علیہ السلام کے گھر کے پاس کا پورا علاقہ خالی تھا۔آپ علیہ السلام اپنے مکان کے آنگن میں (جو لکڑیوں کی باڑ سے بنا ہوا تھا)مویشیوں اور بکریوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو دور سے چند نوجوانوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار آتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ کچھ مہمان آرہے ہیں۔تو آپ علیہ السلام نے اُن کے کھانے کے لئے ایک بچھڑا ذبح کر کے تیار کر کے لے آئے۔یہ چند نوجوان فرشتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ تین فرشتے تھے،اور اِ ن کا نام جبرئیل ،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہے۔امام مقاتل فرماتے ہیں،یہ جبرئیل ،میکائیل ،اور عزرائیل علیہم السلام تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ بارہ فرشتے تھے۔محمد بن کعب فرماتے ہیں۔یہ آٹھ فرشتے تھے۔امام ضحاک فرماتے ہیں،یہ نو فرشتے تھے۔امام ماوردی فرماتے ہیں ،یہ چار فرشتے تھے۔امام ابن جوزی فرماتے ہیں ،وہ گیارہ فرشتے تھے،جو نہایت خوب صورت اور روشن چہروں والے نوجوانوں کی شکلوں میں تھے۔

اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار

حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے۔جب انہوں نے چند نوجوانوں کو آتے دیکھا تو جلدی سے اُن کے لئے کھانا تیار کیا۔اور انہیں عزت سے بٹھا یا،انہوں نے سلام کیاتو انہیں سلام کا جواب دیا۔اور اُن کی خدمت میں کھانا پیش کیا،لیکن وہ مہمان خاموش بیٹھے رہے تو آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ کھانا کھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اِس کا”ثمن“(قیمت)ادا کریں گے۔اور بغیر قیمت ادا کرے ہم نہیں کھائیں گے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!”ثمن“(قیمت) ادا کرو،اور کھاو¿۔“انہوں نے پوچھا ؛”اِس کھانے کی قیمت کیا ہے؟“تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانے سے پہلے بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم پڑھو،اور کھانا کھانے کے بعد ”الحمد اﷲ“پڑھو۔یہی اِس کا ”ثمن“یعنی قیمت ہے۔یہ سن کر تمام فرشتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے ۔جبرئیل اور میکائیل علیہم السلام نے کچھ دیر ایک دوسرے کا منہ دیکھا،پھر بولے؛”اِسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنا ”خلیل“بنایا ہے۔اور آپ علیہ السلام اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار ہیں۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اصرار کیا ؛”ٹھیک ہے !اب آپ لوگ کھانا شروع کریں۔“لیکن اِس کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،بلکہ خاموش بیٹھے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھتے رہے تو آپ علیہ السلام کو کچھ خوف محسوس ہواکہ کہیں یہ دشمن تو نہیں ہیں؟

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں