حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام 10
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 10
بیٹے کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی حالت
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سوچا تھا کہ اگر ہم حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے والد محترم سے دور کر دیں گے تو ان کی توجہ ہماری طرف ہو جائے گی اور وہ ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے الٹ ہو گیا ۔کہ حضرت یعقوب علیہ السلام پہلے تو مسکراتے تھے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام سے جدائی کے بعد تو آپ علیہ السلام نے مسکرانا بھی چھوڑ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ اپنا زیادہ وقت اسلام کی تعلیم لوگوں کو دینے میں اور عبادت میں گزارنے لگے۔ ہر وقت خاموش اور اداس رہنے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد ہر وقت دل میں رہتی تھی اور اکثر ٹھنڈی آہیں بھرتے اور آنکھوں میں آنسو ہر وقت رہتے تھے۔ اور نہ چاہتے ہوئے تھی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی بینائی چلی گئی تھی اور نابینا(اندھے )ہو گئے تھے۔ تمام بیٹے آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر کڑھتے رہتے تھے۔ اور پچھتاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے کہ ہم نے اپنے والد محترم اور اپنے بھائی میں جدائی ڈال کر دونوں پر بہت ظلم کیا ہے۔ اور ہم ظالموں میں سے ہیں۔ اپنے والد محترم کو سمجھاتے کہ اس طرح تو آپ علیہ السلام اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام صرف خاموش رہتے تھے اور کسی سے شکوہ شکایت بھی نہیں کرتے تھے۔
بن یامن کو ساتھ میں بھیجنے کی درخواست
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے وعدہ کیا کہ ہم اگلی مرتبہ ضرور اپنے چھوٹے بھائی بن یامن کو لے کر آئیں گے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ان کو اناج دے دو اور سامان دے دو۔ اور خاموشی سے ان کے سامان میں ان کے پیسے بھی رکھ دو۔ نوکروں نے ایسا ہی کیا۔ واپسی میں راستے بھر وہ عزیز مصر یعنی مصر کے بادشاہ کے بارے میں باتیں کرتے رہے اور اس کی تعریفیں کرتے رہے۔ جب والد محترم کی خدمت میں واپس آئے ان سے بھی مصر کے حکمراں کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ وہ بہت مہربان شخص ہے۔ ہم نے بتایاکہ ہمارا یک اور بھائی ہے۔ اور وہ ہمارے والد محترم کے پاس ہے تو اس نے کہا۔ جب اگلی مرتبہ آﺅ تو اسے بھی ساتھ لے آنا اس طرح تمہیں زیادہ اناج مل جائے گا۔ اور یہ بھی کہا کہ اگر بھائی کو نہیں لاﺅ گے تو تمہیں بھی اناج اور دوسری چیزیں نہیں ملیں گی ۔ اسی لئے اباجان بن یامن کو اگلی مرتبہ ہمارے ساتھ بھیج دینا۔ ہم تمام بڑے بھائی مل کر اپنے چھوٹے بھائی کی حفاظت کریں گے اور اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ بیٹوں کی یہ بات سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ اس سے پہلے میں نے یوسف ( علیہ السلام ) کے بارے میں تم تمام بھائیوں پر اعتماد کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اس سے نہیں مل سکا ہوں۔ اس کے بارے میں تو میں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا ۔ اچھا ہم اپنے والد محترم کو اس کے بارے میں سمجھائیں گے اور ( لانے کی ) پوری کوشش کریں گے۔ ( حضرت یوسف علیہ السلام نے ) اپنے خدمتگاروں سے فرمایا۔ ان کے روپے ان کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب گھر لوٹ کر واپس جائیں تو اپنی رقم کو پہچان کر بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں ۔ جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد محترم کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ ہم سے غلہ کا پیمانہ ( اناج اور سامان ) روک لیا گیا ہے۔ اب آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ ہمارے بھائی ( بن یامن) کو بھیج دیں۔ تا کہ ہم پیمانہ بھر کر غلہ لا سکیں۔ ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی ( یوسف علیہ السلام ) کے بارے میں تھا۔ بس اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر61سے 64تک)
حضرت یعقوب علیہ السلام نے پختہ وعدہ لیا
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایاتھا کہ مجھے شک ہے کہ جس طرح تم حضرت یوسف علیہ السلام کی حفاظت نہیں کر سکے تھے اسی طرح بن یامن کی بھی حفاظت نہیں کر سکو گے۔ تمام بیٹے یہ سن کر خاموش ہو گئے اور خاموشی سے سامان کے بورے کھولنے لگے۔ جب انہوں نے سامان کھولا تو دیکھا کہ سامان کے اندر ان کی رقم رکھی ہوئی ہے۔ تو یہ دیکھ کر تمام بھائیوں نے جلدی سے کہا۔ دیکھئے ابا جان ، وہ حکمراں اتنا اچھا ہے کہ اس نے ہمارے پیسے ( رقم ) بھی واپس کر دیئے۔ اس نے ہمیں سختی سے کہا تھا کہ اس مرتبہ تو تمہارے والد محترم اور بھائی کا حصہ دے رہا ہوں لیکن اگلی مرتبہ تم اپنے بھائی کو لے کر آﺅ گے تو تمہارے والد محترم کا حصہ بھی دوں گا۔ اور اگر نہیں لائے تو تمہیں بھی سامان نہیں ملے گا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا۔ جب تک تم تمام بھائی اس بات کا پختہ ( پکّا) وعدہ نہیں کرو گے تب تک میں بن یامن کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ اور یہ وعدہ تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کرو۔ تمام بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر پختہ وعدہ کیا کہ ہم ہر حال میں بن یامن کی حفاظت کریں گے تب آپ علیہ السلام نے ان کے ساتھ بن یامن کو جانے کی اجازت دے دی ۔ اور فرمایا۔ اے میرے بیٹو ، تم تمام بھائی مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہیں ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تا کہ تمہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اتنا کہنے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ اور میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور یہ تو میں صرف اپنے اطمینان کے لئے کہہ رہا ہوں۔ بہر حال وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اس میں اپنا سرمایہ ( رقم ) موجو د پایا جو انہیں واپس کر دیا گیاتھا۔ کہنے لگے، اے ابا جان ، ہمیں اور کیا چاہیے ، دیکھئے تو ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کے لئے او ر رسد لادیں گے۔ اور اپنے بھائی کو اپنی نگرانی میں رکھیں گے۔ اور ایک اونٹ کا پیمانہ زیادہ لائیں گے۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ میں اسے اس وقت تک ہرگز ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر مجھے قول و قرار نہ دے دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صور ت کے تم سب گرفتار کر لئے جاﺅ۔ جب انہوں نے پکا قول وقرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہے۔ اور ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ اے میرے بچو، تم سب ایک دروازے سے نہیں جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ اور حکم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اور میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے۔ اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ جب وہ انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا گئے کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر فرمادی ہے وہ اس سے انہیں ذرا بھی بچالے۔ مگر یعقوب کے دل میں ایک خیال ( پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کرلیا۔ بے شک وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر65سے 68تک)
حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن کی ملاقات
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا کہ شہر میں الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں ہر شہر کے باہر چاروں طرف ایک بہت اونچی دیوار بنائی جاتی تھی۔ اور اس دیوار میں جگہ جگہ ضرورت کے مطابق اونچے اونچے دروازے ( گیٹ) بنا ئے جاتے تھے۔ اس دیوار کو شہر پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ جب دوسرے شہروالے ان پر حملہ کرتے تھے تو تمام دروازے بند کر دیئے جاتے تھے ۔ اور ان دروازوں کے اوپر بنی چوکیوں اور اس دیوار پر کھڑے ہو کر یا اس دیوار کے پیچھے چھپ کر اس حملے کا مقابلہ کیا جاتا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے سوچا کہ تمام بھائی ایک ساتھ ایک دروازے سے داخل ہوں گے تو کوئی اتنے بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر دشمنی کرنے لگے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے بیٹوں کو الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم دیا۔ اور بیٹوں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بن یامن کو روکنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ اور بن یامن کو روک لیا گیا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ میرے تمام بھائی بن یامن کو لے کر آئے ہیں تو ااپ علیہ السلام نے انہیں شاہی محل میں دعوت دی۔ اس اس کے بعد شاہی محل میں ہی رات گزارنے کی اجازت بھی دے دی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بن یامن جو حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی ہیں، انہیں لے کر آپ علیہ السلام کے بھائی جب مصر پہنچے تو آپ علیہ السلام نے انہیں سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا۔ بڑی عزت و تکریم دی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا۔ اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیر ابھائی یوسف ( علیہ السلام ) ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے۔ اب تمہیں چاہیے کہ بھائیوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا رنج نہ کروا ور حقیقت کو بھی ان پر ابھی نہیں کھولو۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔
اس وقت کا ملک مصر
حضرت یعقوب علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق تمام بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہوئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ مصر آج ایک ملک کا نام ہے۔ جو بہت ہی بڑا ہے۔ لیکن یہی مصر اسی جگہ اس وقت صرف ایک قلعہ نما شہر تھا۔ اور اس کے چاردروازے تھے جو بالکل ہی جدا جدا مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں تھے۔ اور چار سمتوں کے لوگ اپنے اپنے دروازوں سے آیا کرتے تھے۔ کنعان کا راستہ جنوب کے دروازے پر تھا۔ اس کے مشرقی جانب ایک بہت بڑا محلہ ممفس کے نام سے تھا۔ آج کل اسی جگہ ایک بستی آباد ہے جس کا نام منف ہے۔ محض اس وقت دارا لخلافہ ( راجدھانی) تھا۔ یہیں پر بادشاہ کا محل اور دربار اور عدالت وغیرہ تھے۔ اس جگہ تمام شاہی عملے کے مکانات تھے۔ اس کی جیل شہر کے مغربی سمت دوسرے کنارے پر تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مصر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ اس کے کئی دروازے ہیں۔آپ علیہ السلام کے الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کے حکم کی اصل حکمت تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ مگر مفسرین نے تین وجہ بتائی ہے۔ جن میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تین تین کی تعداد میں جب دسوں بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے تو بن یامن اکیلے کنعانی دروازے سے داخل ہوں گے۔ اور کنعانی دروازہ شاہی محل کے قریب ہے۔ اس لئے بن یامن کی حضرت یوسف علیہ السلام سے پہلے ملاقات ہو جائے گی۔
بن یامن نے بھائی کو پہچان لیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” یہ سب جب یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا۔ میں تیرا بھائی ( یوسف علیہ السلام ) ہوں پس جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس کا رنج نہ کر۔ ( سورہ ےوسف آےت نمبر 69 ) مفتی احمد ےا رخان نعےمی لکھتے ہیںکہ جب تما م بھائی مصرمےں داخل ہو نے لگے تو تین تین کی تعداد میںہوکر الگ الگ دروازوں کی طرف چلے گئے اور بن یامن اکیلے کنعانی دروازوں کے پاس رہ گئے۔ شام کا وقت تھا بن یامن اکیلے شہر میں داخل ہوئے اور اپنے بڑے بھائی حضر ت یوسف علیہ السلام کو یاد کرکے رونے لگے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اتفاقاً ادھر سے گزر رہے تھے کیوں کہ ان کا محل قریب ہی تھا تو انہوں نے ایک اکیلے شخص کو روتے ہوئے دیکھا تو رک گئے اور رونے کی وجہ پوچھی تو بن یامن نے کہا اپنے بڑے بھائی یوسف بن یعقوب کو یاد کر کے رو رہا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے نام پوچھا تو بن یامن بتایا اس وقت آپ علیہ السلام نے اپنے آپ پر ضبط کیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ اس کے دس بھائیوں کو لے کر شاہی محل آﺅ۔ سپاہیوں نے تمام بھائیوں کو شاہی محل میں حاضر کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے دعوت کا انتظام ( یعنی رات کے کھانے کا ) کیا ہوا تھا۔ سب دو دو کرکے بیٹھ گئے اور بن یامن اکیلے رہ گئے تو رونے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہا کہ میرے بڑے بھائی یوسف بن یعقوب ہوتے تو میرے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تمہارا بڑا بھائی بن کر تمہارے ساتھ کھانے پر بیٹھتا ہوں۔ جب آپ علیہ السلام اپنے بھائی کے بالکل سامنے بیٹھے اور بن یامن نے قریب سے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے بن یامن ، کھانا کھاﺅ۔ مجھ کو کیا دیکھے جا رہے ہو؟ بھائی نے عرض کیا۔ اے عزیز مصر ، اے بادشاہ، اے محسن ، مجھے آپ کا چہرہ اپنے بھائی یوسف بن یعقوب سے ملتا جلتا نظر آرہا ہے اس لئے مجھے جی بھر کر دیکھ لینے دیجئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام تڑپ گئے لیکن ضبط کیا اور فرمایا۔ اے بن یامن کھانا کھاﺅ۔
میں آپ کے ساتھ مصر میں رہوں گا
حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ پر ضبط کر لیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی آگے لکھتے ہیں ۔ کھانے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت آہستہ سے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی کہ اے اللہ تعالیٰ، ان دکھوں اور غموں والی جدائی کو ختم فرما دے۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر القا فرمایا کہ اے یوسف صابروں کے سردار ، تمہاری دعا قبول ہوئی ہے۔ جدائی ختم ، اپنے آپ کو صرف اپنے بھائی پر ابھی ظاہر کرو۔ اور دوسروں کو نہیں بتانا۔ رات کو بھی ایک ایک کمرے میں دو دو بھائی سونے کے لئے چلے گئے۔ بن یامن اکیلے رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میرے کمرے میں آرام کرو۔ جب کمرے میں دونوں بھائی اکیلے ہوئے تب آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں ہی تمہارا بچھڑا ہوا بھائی یوسف بن یعقوب علیہ السلام ہوں۔ بن یامن کو یہ سنتے ہی خوشی کے مارے سکتہ ہو گیا اور کچھ دیر ایک ٹک بڑے بھائی کو دیکھتے رہے۔ پھر اچانک تیزی سے آگے بڑھے اور گلے لگ کر رونے لگے۔ پھر بڑے بھائی سے کہا۔ بھائی میں اب آپ کے ساتھ یہیں مصر میں رہوں گا۔ اور ان بھائیوں کے ساتھ نہیں جاﺅں گا۔ کیوں کہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ مصر کا بادشاہ مجھ پر خصوصی مہربانی کر رہا ہے۔ اس لئے مجھ سے حسد کر تے ہوئے راستے میں نقصان پہنچائیں گے۔ مگر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی اس راز کو راز ہی رہنے دو اور بھائیوں کے ساتھ واپس جاﺅ۔ لیکن بن یامن بڑے بھائی سے ضد کرنے لگے۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے میں کوئی تدبیر کرتا ہوں یا پھر اللہ تعالیٰ کوئی راستہ نکال دے۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر اکتالیس 41سال تھی۔ اور بن یامن کی عمر 37سال تھی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں