10 حضرت صالح علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 10
رجفة ، صیحتہ اور صاعقة کا عذاب
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر رجفة (زلزلہ ) صیحة ( چیخ ) اور صاعقة ( کڑک) کا عذاب بھیجا اور قر آن پاک میں موقع کی مناسبت سے انہیں بیان فرمایا۔ تفسیر انوارالبیان میں لکھا ہے کہ عذاب تو آنا ہی تھا۔ پہلے دن ان کے چہرے پیلے ہو گئے۔ دوسرے دن سرخ ہو گئے اور تیسر ے دن سیاہ ہو گئے۔ اور چوتھے دن عذاب آگیا۔ ( تفسیر ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ تاریخ ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں رجفة فرمایا۔ ترجمہ ” انکو پکڑ لیا سخت زلزلہ نے لہٰذا وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ “ اور سوہ ہود میں صیحة فرمایا۔ ترجمہ ” اور پکڑ لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا ایک بہت شدید چیخ نے ۔ سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے۔ دونوں آیتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ قوم ثمود پر دونوں طرح کا عذاب آیا۔ زلزلہ بھی آیا اور چیخ بھی۔ مفسرین حضرات نے فرمایا کہ زلزلہ نیچے سے آیا۔ اور چیخ کی آواز انہوںنے اوپر سے سنی ۔ اور بعض حضرات نے یوں کہا کہ زلزلہ سے جب زمین پھٹتی ہے تو اس سے آواز نکلتی ہے۔ اور یہ آواز اتنی بھیانک ہوتی ہے کہ سننے والوں کے دل لرز جاتے ہیں اور ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ سورہ حٰم السجدہ میں صاعقة فرمایا ہے۔ ترجمہ ۔” اور ثمود نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو پسند کیا پس ان کو کڑک کے عذاب نے پکڑ لیا “ صاعقہ ایسی سخت آواز کے لئے بولا جاتا ہے جو اوپر سے ( اچانک) سنائی دے۔ امام راغب المفر ذات میں لکھتے ہیں کہ اس سے کبھی آگ پیدا ہوتی ہے کبھی یہ عذاب بن کر آتی ہے اور کبھی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ جو صاعقة لفظ ہے اس سے بعض حضرات نے مطلق عذاب لیا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی تعارض نہیں ہے کہ رجفة ، صیحة ، اور صاعقة تینوں طرح کا عذاب قوم ثمود پر آیا۔
ابو رغال کا انجام
حضرت صالح علیہ السلام نے جب قوم ثمود کو فرمایاکہ اب تین دن دنیا میں مزے اڑا لو۔ پھر اللہ کا عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔ یہ سن کر قوم ثمود کا ایک سردار تیز رفتار سواری لے کر وہاں سے بھاگا اور مکہ مکرمہ میں آگیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ طائف کے لئے ) طائف کی طرف جا رہے تھے تو ہمارا گزر ایک قبر پر سے ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ ابو رغال کی قبر ہے۔ وہ بنو ثقیف کا سردار (بانی) تھا۔ اور اس کا تعلق قوم ثمود سے تھا۔ ( قوم ثمود پر عذاب کے وقت مکہ مکرمہ یعنی حرم شریف میں تھا) حرم پاک یعنی مکہ مکرمہ میں (ہونے) کیوجہ سے اس پر سے اللہ کا عذاب ٹلتا رہا۔ ( کافی عرصے بعد بلکہ برسوں بعد) جب وہ حرم شریف کی حدود سے باہر نکلا تو اسے اسی جگہ اس عذاب نے آکر گھیر لیا جس میں مبتلا ہو کر اس کی قوم ہلاک ہوئی تھی۔ ( اور یہ بھی اسی طرح ہلاک ہو گیا۔)پس اس کو اسی جگہ دفن کر دیا گیا۔ اور اس جگہ کی نشانی کے لئے اس کے ساتھ سونے کا ایک ہار بھی دفن کر دیا تھا۔ اگر تم اس جگہ کو کھودو گے تو وہ ہار تمہیں مل جائے گا۔ ہم نے وہاں کھودا تو ہمیں وہ سونے کا ہار ملا۔( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر، قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر در منشور جلد نمبر3تفسیر انوار البیان ، تفسیر ابن کثیر، تفسری قرطبی، تفسیر جلا لین ، تفسیر معارف القران ، تفسیر نعیمی، تفسیر تبیان القران )
٭ قوم ثمود کا نام و نشان مٹا دیا گیا
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر اپنا عذاب اس طرح بھیجا کہ اس کا ایک ایک فرد ختم ہو گیا اور ان کی نسل ختم ہو گئی۔ اور ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ صرف اللہ تعالیٰ نے عبرت کے لئے اپنی کتاب قرآن پاک میں اس بد بخت قوم کا ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں آخر میں یہی فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ النجم میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اُسی ( اللہ تعالیٰ ) نے عاد اول کو ہلاک کیا۔ اور ثمود کو بھی ( ہلاک کیا اور ان میں سے ) ایک کو بھی باقی نہیں رکھا۔“ ( سورہ النجم آیت نمبر50اور 51)اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ اور ظالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا پھر تو وہ اپنے گھروںمیں اوندھے پڑے رہ گئے۔ ایسے گویا وہ وہاں کبھی آباد ہی نہیں تھے۔ آگاہ رہو کہ قوم ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو، ان ثمودیوں پر پھٹکار ہے۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر67اور 68) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اورعذاب نے انہیں آدبوچا بےشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہیں تھے۔ اور بے شک آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا رب بڑا زبردست مہربان ہے ۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر158اور 159) سورہ النمل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (اب) دیکھ لو اُن کے مکر کا انجام کیسا ہوا ؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کے سب لوگوں کو غارت کر دیا۔ “ (سورہ النمل آیت نمبر51) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود کا نام و نشان مٹا دیا گیاہے۔ اور ان کی نسل ختم کر دی گئی ہے۔ جب کہ قوم عاد اور قوم ثمود کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی سب سے طاقتور ترین اورمضبوط قوم بنایا تھا۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایساتباہ و بربادکیا آج کوئی ان کا نام لینے والا بھی موجود نہیں ہے۔
قوم ثمود کے کھنڈرات
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر اتنا شدید عذاب بھیجا کہ ان کے شاندار محل اور پہاڑوں میں بنائے ہوئے مکانات سب تباہ وبرباد ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کھنڈرات آج بھی ہزاروں سال بعد بھی لوگوں کی عبرت کے لئے باقی رکھے ہیں۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ظلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہوئے ہیں۔ جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں بہت بڑا نشان ( عبرت) ہے۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر52) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے قوم عاد اور قوم ثمود کو بھی غارت کر دیا ۔ جن کے مکانات تمہارے سامنے ظاہر ہیں۔ اور شیطان نے ا نہیں ان کی بد اعمالیاں آراستہ کر کے دکھائی تھیں۔ اور انہیں ( سیدھی) راہ سے روک دیا تھا۔ حالانکہ یہ آنکھوں والے ہوشیار تھے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر38) مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حجرقوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈرات مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں موجود شہر ” العلائ“ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہ راہِ عام ( ہائی وے) پر ملتا ہے۔ اور قافلے اس وادی سے ہو کر گزرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا ہے۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوتے یہاں پہنچے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں۔ جو انہوںنے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار آج بھی اس طرح تازہ ہیں جیسے آج ہی بنائے گئے ہوں۔ ان پہاڑوں کے اندر مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔ ( تفہیم القرآن سورہ الحجر حاشیہ نمبر45) مولانا مودودی سورہ الشعراءکے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ ثمود کی ان عمارتوںمیں سے اب بھی کچھ باقی ہیں۔ جنہیں ۹۵۹۱ءمیں دسمبر میں خود میں نے دےکھا ہے۔ یہ جگہ مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان حجازکے مشہورمقام©©”العلا“ (جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میںوادی القریٰ کا جاتا ہے) سے چند میل کے فاصلے پر شمال کی جا نب واقع ہے۔آج بھی اس جگہ کومقامی باشندے الحجر اور ملائن صالح کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں العلا تو اب بھی اےک نہاےت سر سبز و شاداب وادی ہے۔ جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں۔مگر الحجر کے گرد وپےش بڑی نحوست پائی جاتی ہے۔آبائی برائے نام ہے۔روئےدگی بہت کم ہوتی ہے۔چند کنویں ہیں ۔انھیں میں سے اےک کنویں سے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آرہی ہے۔کہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی اس کنویں سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کے اےک ویران فوجی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے۔ اور بالکل خشک پایا پڑا ہوا ہے۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے توالعلا کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف اےسے پہاڑ پر نظر آئے۔ جو بالکل کھےل کھےل ہو گئے تھے۔ صاف محسوس ہو تا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انھیں سطح زمین سے (یعنی نیچے سے اوپر تک) چوٹی تک جھنجھوڑ کر قاش قاش لر لءرکھ دیا ہے۔اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف العلا سے خےبر کی طرف جاتے ہوئے تقریباً 50میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کی حدود میں 40-30میل اندر تک ملتے چلے گئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور 100میل چوڑا ایک علاقہ تھا جسے ایک عظیم زلزلہ نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ( تفہیم القران سورہ الشعراءحاشیہ نمبر99مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی)
پہاڑوں کو تراشنے کا فن قوم ثمود نے شروع کیا
سورہ الشعراءکا حاشیہ نمبر99جاری ہے۔ مولانا مودودی آگے لکھتے ہیں کہ ثمود کی جو عمارتیں ہم نے الحجر میں دیکھی تھیں۔ اسی طرح کی چند عمارتیں ہم کو خلیج عقبہ کے کنارے مدین کے مقام پر اور اردن کی ریاست پیٹرا ( Petra) کے مقام پر بھی ملیں ۔ خصوصیت کے ساتھ پیٹرا میں ثمود کی عمارات اور نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات پہلو بہ پہلو موجو د ہیں۔ اور ان کی تراش خراش اور طرز تعمیر میں اتنا نمایاں فرق ہے کہ ہر شخص ایک نظر میں دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں نہ تو ایک زمانے کی ہیں اور نہ ہی یہ ایک قوم کا طرز تعمیر ہے۔ انگریز مستشرق ڈائی ( Daughty) قرآن پاک کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کے لئے الحجر کی عمارات کے متعلق دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ثمود کی نہیں بلکہ نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات ہیں لیکن دونوں قوموں کی عمارات کا فرق اتنا واضح ہے کہ ایک اندھا ہی انہیں ایک قوم کی عمارات کہہ سکتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پہاڑ تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنانے کا فن قوم ثمود نے شروع کیا۔ اس کے ہزاروں سال بعد دوسری اور پہلی صدی قبل مسیح میں نبطیوں نے اسے عروج پر پہنچایا اور پھر ایلورا اور اجنٹا میں یہ فن اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ ( یہ یاد رکھیں کہ ایلورا اور اجنٹا کے غار پیٹرا یعنی نبطیوں کے سات سو برس بعد بنائے گئے) ( تفہیم القرآن سورہ الشعراءحاشیہ نمبر99مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی)
رسول اللہ ﷺ نے قوم ثمود کے حالات بیان فرمائے
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں نے اہل حجر ( قوم ثمود کے تباہ شدہ کھنڈرات) کے گھروں میں داخل ہونے کی جلدی کی۔ ( یعنی لشکر کے کچھ لوگ آگے چل رہے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو یہ قوم ثمود کے کھنڈرات دیکھ رہے تھے) جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ نماز کے لئے جمع ہو جاﺅ۔ حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کی مہار پکڑے کھڑے تھے اور فرمارہے تھے کہ تم اس قوم کے گھروں میں کیوں داخل ہو رہے ہو جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ان پر حیران ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والی باتوں سے آگاہ نہ فرماﺅں ؟ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے ایک شخص تمہیں بتائے گا کہ تم سے پہلے کیا ہو چکا ہے۔ اور یہ بھی بتائے گا کہ تمہارے بعد کیا ہوگا۔ پس استقامت اختیار کرو اور رک جاﺅ بے شک اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم عذاب میں مبتلا ہو جاﺅ گے۔ عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو اپنے سے کسی چیز کو دور نہیں کر سکے گی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کی عمریں بہت لمبی یعنی طویل تھیں۔ یہ لوگ مٹی سے گھر بناتے تھے جو ایک شخص کی زندگی ختم ہونے سے پہلے بوسیدہ ہو جاتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر مکانات بنانے شروع کر دیے۔ جب قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے معجزے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا مطالبہ پور ا کرتے ہوئے چٹان سے اونٹنی نکالی۔ آپ علیہ السلام نے انہیں خبر دار کیا کہ کہیں تم اس اونٹنی اور بچہ کو اذیت اور نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرنے لگ جانا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا۔ پھر ( کچھ دنوں بعد) آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ تھوڑی مدت کے بعد تم لوگ اس اونٹنی کا قتل کر دو گے اور یہی بات تم پر عذاب آنے اور تمہاری ہلاکت کا سبب بنے گی۔ اور اس جرم کا ارتکاب ایک گورا چٹا شخص کرے گا۔ اسی لئے قوم ثمود نے اپنے علاقوں میں دایہ بھیجیں جو اس قوم کا بچہ دیکھتیں تو قتل کر دیتیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ ایک طویل مدت تک چلتا رہا۔ ایک پشت گزر گئی اور ان کی جگہ دوسری پشت نے لے لی۔ ایک سردار نے اپنے بیٹے کی شادی دوسرے سردار کی بیٹی سے کر دی۔ ان سے وہ سفاک شخص پیدا ہوا جس نے اونٹنی کو قتل کر دیا تھا۔ اور اس کا نام قدار بن سالف تھا۔ چونکہ اس کے آباﺅ اجداد دونوں طرف سے سردار تھے۔ اس لئے دایہ اسے قتل نہیں کر سکیں۔ اور وہ بچہ بہت تیزی سے پروان چڑھنے لگا۔ وہ بچہ ایک ہفتے میں اتنا بڑا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک مہینے میں بڑے ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ بڑا ہو کر اپنی قوم کا سردار اور قائد بن گیا۔ پس اس کے نفس نے اس برائی پرآمادہ کیا اس کے ساتھ دوسرے آٹھ نوجوان شریک ہو گئے۔ اس فعل کا ارتکاب کرنے والے کل نو( 9) آدمی تھے۔ اور انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات حضرت صالح علیہ السلام کو معلوم ہوئی تو آپ علیہ السلام روتے ہوئے تشریف لائے تو قوم ثمود کے لوگ آپ علیہ السلام سے معذرت کرنے لگے کہ یہ گناہ پوری قوم نے نہیں کیا ہے بلکہ چند نا سمجھ لڑکوں سے یہ غلطی انجانے میں ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اونٹنی کے بچہ کو تلاش کرو تا کہ اس کے ذریعے اس جرم کی تلافی ہو جائے۔ وہ اس بچے کی تلاش میں گئے ۔ بچہ انہیں دیکھتے ہی نزدیک کے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہ زارو قطار رو یا۔ پھر آپ علیہ السلام کی طرف منہ کر کے تین مرتبہ بولا۔ تب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا۔ تین دن اپنے گھروںمیں مزے کر لو۔ پھر عذاب آئے گا اور یہ جھوٹ نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بتا دیا تھا کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے۔ اور ویسا ہی ہوا۔ دوسرے دن ان کے چہروں پر سرخی چھا گئی اور تیسرے دن ان کے چہرے سیاہ ہو گئے۔ جب چوتھا دن آیا تو انہیں ایک شدید تباہ کن کڑک نے آلیا۔ اور وہ منہ کے بل اوندھے گر کر ہلاک ہو گئے۔ یہی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا انجام۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر ۔ قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری)
جہاں عذاب آیا ہے وہاں مت جاﺅ
حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سفر کے دوران مقام حجر میں ایک جگہ پڑاﺅ ڈالا جو قوم ثمود کے تباہ شدہ گھروں کے قریب تھی۔ تو لوگوں نے ان کنوﺅں سے پانی لیا جن سے قوم ثمود کے لوگ پانی پیتے تھے۔ انہوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور سالن پکایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ سالن کی ہندیاں الٹ دو۔ (یعنی سالن پھینک دو) اور گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر اس کنویں پر جا کر رکے جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی۔
(اورا س کا پانی استعمال کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس جگہ جانے سے منع فرمادیا۔ جس جگہ قوم ثمود پر عذاب آیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم بھی اس عذاب کا شکار نہ ہو جاﺅ جس سے ثمود کے لوگ ہلاک ہو ئے تھے۔ اس لئے ان کے گھروں کے اندر مت جاﺅ۔ ( مسند احمد بن حنبل) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ حجر میں فرمایا۔ عذاب شدہ ان لوگوں کے گھروں کے قریب سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہیں آتا تو مت جاﺅ کہ کہیں تمہیں بھی ان جیسا عذاب نہ آجائے۔ ( بخاری اور مسلم نے اسے قدرے مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے۔ )
اگلی کتاب
قارئین کرام حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں