حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 10
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
مقام ابراہیم
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بتائی ہوئی حدود پر بنیادیں کھودنی شروع کر دیں،اور دیواریں بنانی شروع کر دیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام گارہ بناتے تھے، حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔اور دونوں حضرات علیہم السلام ملکر دیواریں اُٹھاتے جاتے تھے۔جب دیواریں قد کے برابر ہوگئیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے ایسا پتھر لاو¿،جس پر کھڑے ہو کر میں اوپر کی دیواریں بنا سکوں۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ڈھونڈتے ہوئے گئے،اور ایک پتھر اُٹھا کر لے آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پتھر کوضرورت کے مطابق کھسکا کھسکا کرخانہ¿ کعبہ کی دیواریں بنا رہے تھے۔اور ضرورت کے مطابق یہ پتھر اونچا اور نیچا ہو جاتا تھا۔یہ”مقام ابراہیم“تھا۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت سے اُتارا گیا ہے۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس کا نور ختم کردیا ہے،اگر یہ نور ختم نہیں کیا جاتا تو زمین و آسمان کے درمیان ہر شئے کو روشن کر دیتا۔حضرت سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“کو اﷲ تعالیٰ نے نرم کر دیا تھا،اور رحمت بنایا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پر کھڑے ہو کر خانۂ کعبہ کی دیوار بناتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔”مقام ابراہیم “پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان بن گئے تھے۔حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہ (جلیل القدر تابعی )فرماتے ہیں کہ لوگوں کو”مقام ابراہیم“کے پاس نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے،اُسے چھونے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ہمیں بعض لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ”مقام ابراہیم“پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایڑی اور انگلیوں کے نشان دیکھے ہیں۔لیکن اِس اُمت کے لوگوں نے اُسے چھو چھو کر اِن نشانات کو مٹا دیا ہے۔(اِس لئے اب بڑی مشکل سے ایک پیر کا نشان دکھائی دیتا ہے)
حجراسود
حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے تو آپ علیہ السلام کے ایک ہاتھ میں پتھر (حجر ِاسود)تھا۔اور دوسرے ہاتھ میں جنت کے پتے(شاخیں) تھیں۔آپ علیہ السلام نے پتے ہندوستان میں بکھیر دیئے ۔جو خوشبو اور پھل پھول اور ہریالی ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے،وہ اِسی کا فیضان ہے۔اور پتھر سفید یاقوت تھا،اور حضرت آدم علیہ السلام رات کے اندھیرے میں اِس پتھر کی روشنی سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے کرتے اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج حجر اسود نصب(لگا ہوا) ہے۔تو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا؛”بیٹے ذرا کوئی اچھا سا پتھر لاو¿ جسے یہاں رکھا جائے۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑ پر سے ایک پتھر اُٹھا کر لائے تو والد محترم کو پسند نہیں آیا۔بیٹے بار بار پتھر لاتے رہے،لیکن والد محترم کو کوپسند نہیں آرہے تھے۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ایسے پتھر کی تلاش میں نکل گئے،جو والد محترم کو پسند آجائے۔کافی دیر بعد واپس آئے تو اِس دوران جبرئیل علیہ السلام ہندوستان سے وہ پتھر لے آئے تھے،جو جنت سے حضرت آدم علیہ السلام لیکر آئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُسے نصب کر دیا تھا،حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!یہ پتھر کون لایا ہے؟“حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسکرانے لگے، اور مسکراتے ہوئے فرمایا؛”وہ یہ پتھر لایا ہے،جو تم سے زیادہ چست اور مستعد ہے۔“
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کے خانۂ کعبہ کی بناوٹ
حضرت ابراہیم اور حضر ت اسماعیل علیہم السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا۔اُس کی اونچائی نو ہاتھ رکھی،حجر اسود سے رُکن شامی تک کی لمبائی بتیس(32)ہاتھ رکھی۔رکن شامی سے مغربی رکن تک کی چوڑائی تیئس(23)ہاتھ رکھی،اور مغربی رکن سے رکن یمانی تک کی لمبائی اکتیس(31)ہاتھ رکھی۔اور رکن یمانی سے حجر اسود تک کی چوڑائی بیس (20)ہاتھ رکھی۔اِس طرح خانہ¿ کعبہ ایک سمت بتیس(32)ہاتھ،دوسری سمت تیئس(23)ہاتھ،تیسری سمت اکتیس(31)ہاتھ،اور چوتھی سمت بیس ہاتھ(20)تھا۔خانۂ کعبہ کو”کعبہ“اِس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اسے” مکعب نما“ بنایا تھا۔جسے لگ بھگ دو ہزار سال بعد قریش نے توڑ کر ”مربع نما“بنا دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کے دو دروازے بنائے،جوزمین کے برابر رکھے۔اور چھت نہیں ڈالی تھی،یعنی وہ اوپر سے کھلا ہوا تھا۔اندر آپ علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود دیا تھا،اِس میں خانہ¿ کعبہ کے لئے جو ہدیے اور تحفے آتے تھے وہ ڈالے جاتے تھے۔آپ علیہ السلام نے خانہ¿ کعبہ کی لمبائی سے لگ کر ایک باڑ بنائی ،جس کے اوپر کیکر کی شاخوںکا چھپر بنایاتھا۔یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا باڑہ تھااور اِس میں بکریاں رکھی جاتیں تھیں۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر بنایا تھا،اور فرمایا؛”یہ مکعب نما یعنی مکعب کی شکل کا ہے۔اِس لئے اِس کو ”کعبہ“کہتے ہیں۔“ اور فرمایا؛’[حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھت نہیں بنائی تھی،اور اِس کی تعمیر میں مٹی استعمال نہیں کی تھی،بکہ پتھر استعمال کئے تھے۔
تعمیر کے وقت دعا
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے جارہے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگتے جارہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”ابراہیم(علیہ السلام )اور اسماعیل(علیہ السلام)خانہ ¿ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اُٹھاتے جارہے تھے،اور کہتے جارہے تھے۔کہ اے ہمارے رب!تُو ہم سے(اِس عمل کو) قبول فرما۔بے شک تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔اے ہمارے رب !ہمیں اپنا فرمانبردار ّمسلمان) بنالے،اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو فرمانبردار (مسلمان)رکھ۔اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا،اور ہماری توبہ قبول فرما،بے شک تُو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اے ہمارے رب اِن میں انہیں میں سے ایک رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) بھیج،جو اِن کے سامنے تیری آیتیں پڑھے۔اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے،اور انہیں پاک کرے۔بے شک تُو ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 127 سے 129 تک)اِن آیات کی تفسیر میں تفسیر انوارالبیان میں لکھا ہے کہ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اﷲ کے دو پیارے،اﷲ کے دونوں رسول خلیلاﷲ علیہ السلام،اور ذبیح اﷲ علیہ السلام ،اﷲ کے حکم سے اﷲ کا گھر بنا رہے ہیں۔اُن کے خلوص اور اخلاص پر ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے۔پھر بھی یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے اِس عمل کو قبول فرمایئے۔اِس سے معلوم ہوا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے لئے کسی بھی کام میں کتنے ہی مخلص ہوں،اور کتناہی نیک اور صالح عمل کریں۔پھر بھی ہمیں اِس بات کا ڈر ہونا چاہیئے کہ پتہ نہیںہمارا یہ خلوص بھرا عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول بھی ہو گا یا نہیں ہوگا۔اِس لئے ہمیں نیک اعمال کرتے رہنا چاہیئے،اور اِس کی قبولیت کی دعا اﷲ تعالیٰ سے کرتے رہنا چاہیئے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے دعا
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اِن آیات میں جو دعائیں مانگیںہیں۔اُن کے بارے میں اِن آیات کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام اپنی دعا میں کہہ رہے ہی کہ ہمیں مسلمان بنالے یعنی ”مخلص“بنا لے،”مطیع“بنالے۔موجود ہر شر سے بچا،ریا کاری سے محفوظ رکھ،اور خشوع و خضوع عطا فرما۔حضرت سلام بن ابی مطیع فرماتے ہیں۔مسلمان تو وہ تھے ہی،لیکن اسلام پر ثابت قدمی مانگ رہے ہیں۔جس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؛”میں نے تمہاری دعا قبول کی“پھر اپنی اولاد کے لئے بھی یہی دعا کرتے ہیں،تو اﷲ تعالیٰ نے وہ بھی قبول فرما لی۔بنی اسرائیل بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں،اور عرب بھی۔(یعنی بن اسماعیل بھی)۔اِس کے بعد کی دعا میں دونوں رسول علیہم السلام عرض کرتے ہیں کہ اِن میں (بنی اسماعیل میں) ایک رسول بھیج۔اور اِس رسول اے مُراد ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ تو اﷲ تعالیٰ یہ دعا بھی قبول فرمائی،لیکن اِس سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت ِخاص(یعنی صرف عربوں یا بن اسماعیل کے لئے)نہیں ہوتی ۔بلکہ عرب و عجم(یعنی بنی اسرائیل اور ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے)سب کے لئے عام ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کہدو کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں۔اِس کے بعد آیت نمبر129 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اہل حرم (مکۂ مکرمہ والوں)کے لئے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام (حضرت اسماعیل علیہ السلام)کی اولاد میں سے ہی رسول اِن میں آئے،اور یہ دعا بھی پوری ہوئی۔مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ”خاتم النبین“اُس وقت سے ہوں ،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام بھی مٹی کی صورت میں تھے۔(یعنی اُن کی پیدائش سے بھی پہلے)میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی” دعا “ہوں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ”بشارت “ہوں۔اور اپنی والدہ کا خواب ہوں ۔انبیائے کرام علیہم السلام کی والدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔“حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتایئے۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میرے لئے دعا کی۔اور میرے بارے میں خوش خبری حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔اور میری والدہ نے دیکھا کہ اُن کے اندر سے ایک نور نکلا،جس نے ملک شام (اُس وقت فلسطین،اُردن اور لبنان سب ملک شام کہلاتا تھا)کے محلات چمکا دیئے۔مطلب یہ کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی سے مشہور ہو گیا تھا۔اور لوگ کہتے تھے کہ سیدہ آمنہ سے کوئی بہت بڑاشخص پیدا ہوگا۔بنی اسرائیل سے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم کرنے والے اُن کے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے(یعنی تقریر کرتے)ہوئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا صاف نام لیا اور فرمایا؛”اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اﷲ تعالیٰ کا رسول ہوں،مجھ سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں،اور میرے بعد آنے والے رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم)کی تمہیں بشارت دیتا ہوں ،جن کا نام ”احمد“(صلی اﷲ علیہ وسلم) ہے۔
توریت میں رسول اﷲ صلی ا ﷲعلیہ وسلم کا ذکراور نام
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینۂ منورہ پہنچے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا ،وہ حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ ہیں۔یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے،اور توریت کو پڑھتے رہتے تھے۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے اپنے دو بھتیجوں سلمہ اور مہاجر کو اسلام کی دعوت دی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں فرمایا؛”یقینا تم جانتے ہو کہ اﷲ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک رسول(صلی اﷲ علیہ وسل) مبعوث فرمانے والا ہوں۔جس کا نام”احمد“ہوگا۔پس جو اُس (صلی اﷲ علیہ وسلم ) پر ایمان لائے گا،وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔اور جو ایمان نہیں لائے گا، وہ ملعون ہوگا۔‘ یہ سن کر سلمہ نے تو اسلام قبول کر لیا، لیکن مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔تو اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 127 سے 130 تک نازل فرمائی۔آیت نمبر 126 سے 129 کا ترجمہ ہم پہلے پیش کرچکے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 130 میں فرمایا؛”اب ابراہیم(علیہ السلام) کے دین(اسلام) سے وہی منہ پھیرے گا،جو بے وقوف ہوگا۔ہم نے تو اُسے(حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)دنیا میں بھی بزرگی عطا فرمائی ہے،اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں ہوگا۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 130)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کا بنی اسماعیل میں آنا
سورہ البقرہ کی آیت نمبر 124 میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی باتوں(کلمات) میں آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردکھایاتو اﷲ نے فرمایا؛میں تمہیں لوگوں کا امام بناے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے عرض کیا)کیایہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے؟تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔“اِس آیت کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم!آپ صلی سﷲ علیہ وسلم اِن یہود ونصاریٰ کو بلکہ تمام دنیا کے کافروں کو بتا دیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا آقا اور پیشوا سمجھتے ہیں کہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ پر نہیں ہو۔وہ تو ہمارے فرمانبردار بندے تھے۔ہم نے اُن کو کئی باتوں میں آزمایا،اور وہ سچے نکلے۔بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے قربانی کر دی،ستارہ پرستوں کی محبت توڑنے بلکہ وطن چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے ویسا ہی کر دکھایا۔اور سب کو چھوڑ کر ملک شام(اُس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا)میں جابسے۔ریگستان ِ عرب کو بسانے اور خانہ¿ کعبہ بنانے کا حکم دیا تو فوراً اپنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسا دیا۔ایمان پر رہ کر نمرود کی آگ میں جانا منظور کیا،اِس کے عالوہ بہت سے احکام نماز، ذکوٰة،ظاہری باطنی طہارت،ختنہ وغیرہ سب پوری طرح سے بجا لائے۔اِس کے صلہ میں ہم نے اُن سے کہا کہ ہم تم کو تمام لوگوں کا امام بنانے والے ہیں۔کہ تمام دینوں میں تمہارا چرچا رہے گا،انبیائے کرام علیہم السلام تمہاری اولاد میں ہوں گے۔قیامت تک تمہارے بنائے کعبہ کا حج ہوتا رہے گا،دور اور قریب سے اُس کی طرف گردنیں جھکتی رہیں گی۔لوگ تمہاری اور تمہارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور تمہاری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی نقل کر کے حاجی بنیں گے۔نبیٔ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت اپنی نمازوں میں اور خطبوں میں اُس محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تم پر بھی درود بھیجا کرے گی۔قیامت میں تمہاری پیشوائی(امامت) ظاہر ہوگی۔“تو انہوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میری اولاد میں بھی بابرکت لوگ پیدا کرنا،تاکہ تیری فرماں برداری ہمیشہ میری نسل میں رہے۔“ہم نے اُن کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا؛”اچھا تم سے وعدہ کرتے ہیں،لیکن اِس اقرار اور وعدہ میں تمہاری وہ اولاد شامل نہیں ہوگی،جو بد کار ہوگی۔اُن کو یہ برکت نصیب نہیں ہو گی۔لہٰذا اے اسرائیلیو!(بنی اسرائیل یا یہودیو)تم پر لازم ہے کہ اپنے جد امجد(حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی پیروی کرو۔اور اِن نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاو¿،جن کے لئے انہوں نے(حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے)دعائیں مانگیں تھیں۔اور یہ مت سمجھو کہ نبوت بنی اسحاق (بنی اسرائیل) کے لئے خاص ہے۔بنی اسماعیل بھی اُنہی کی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔اور وہ بھی اِس وعدہ میں شامل ہیں۔یعنی نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے آجانے کے بعد جو لوگ اُن پر ایمان لائیں گے،وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کے حقدار ہوں گے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں