1 حضرت نوح علیہ السلام
تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر4
قسط نمبر 1
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا زمانہ
قارئین کرام ، اس سے پہلے آپ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔اب ہم آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتاتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت شیث علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نبی بنایا ۔ حضرت شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل ہوئے۔ ان میں زندگی گزارنے کے اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے احکامات تھے۔ حضرت شیث علیہ السلام کے زمانے میں تمام لوگ مسلمان تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو اپنا نبی بنایا۔ حضر ت ادریس علیہ السلام نے قلم سے لکھنے کا فن شروع کیا۔ ان دونوں انبیاءعلیہم السلام کے بارے میں زیادہ تفصیل سے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا ہے۔ اسی لئے ہم اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ہاں بائیبل ( توریت اور انجیل ) میں تفصیل ملتی ہے۔ لیکن ہم اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اس میں بہت سی خرد برد کر دی ہے۔
دنیا میں بُت پرستی کی شروعات
آج بھی دنیا میں اور خاص طور سے ہندوستان میں بت پرستی کی جاتی ہے۔ ہم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں بت پرستی کی شروعات کیسے ہوئی ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے میں بھی تمام لوگ مسلمان تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بعد بھی کچھ عرصے تک تمام لوگ مسلمان تھے۔ اس زمانے میں کچھ لوگ بہت زیادہ نیک اور متقی تھے۔ ان تمام ہی نیک لوگ جن کا نام ” ود ، سواع ، یغوث، یعوق اور نسر “ تھا۔ یہ بہت ہی نیک تھے۔ اور لوگ ان سے بہت ہی عقیدت رکھتے تھے۔ جب ود کا انتقال ہوا تو ان سے عقیدت رکھنے والوں کے دلوں میں شیطان ابلیس نے وسوسہ ڈالا کہ وہ لوگ اس کی قبر کی زیارت کریں اور اس کا طواف کریں۔ وہ لوگ ود کی قبر کی زیارت کرنے لگے اور طواف کرنے لگے۔ اس کی شہرت دور دور تک پہنچی تو دور دور سے لوگ آنے لگے۔ یہ دیکھ کر ابلیس انسانی صورت میں آیا اور ان سے کہا۔ کیوں نہ میں ان کی شبیہہ بنادوں اور تم لوگ اسے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لو۔ اور اتنی دور زیارت کرنے کی تکلیف سے بچ جاﺅ۔ لوگوں نے کہا ۔ یہ تو اچھی بات ہے۔
پہلا بُت ابلیس شیطان نے بنایا
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور انہوں نے ( حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے) کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑنا۔ اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑنا۔“ ( سورہ نوح آیت نمبر23) ود مسلمان تھا ۔ اور اپنی قوم میں بہت محبوب تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو سر زمین بابُل میں لوگ اس کی قبر کے گرد جمع ہو گئے اور اس کی موت پر اپنے اضطراب اور پریشانی کا اظہار کرنے لگے۔ جب ابلیس شیطان نے ان کی پریشانی اور غم و اندوہ کو دیکھا تو انسانی صورت میں ان کے پاس آیا اور کہا۔ میں اس نیک آدمی سے تمہاری محبت اور عقیدت دیکھ رہا ہوں۔ میں تمہارے لئے یہ کر سکتا ہوں کہ اس کی شکل کا ایک مجسمہ بنا وں ۔ جسے تم اپنی مجلسوں میں رکھو اور اس مجسمے کی وجہ سے اس نیک آدمی کو یاد رکھو۔ انھوں نے جواب دیا ۔ ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ابلیس نے ود کی شکل کا مجسمہ بنا دیا۔ انہوں نے اپنی مجلسوں میں اسے رکھا اور اس کا ذکر کرنے لگے۔ مجلس میں جب بہت زیادہ لوگ جمع ہونے لگے تو بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی مجسمے کی زیارت نہیں کر پاتا تھا۔ اور وہ اپنی محرومی کی شکایت کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر ابلیس شیطان نے ان سے کہا۔ تم کہو تو میں تم میں سے ہر آدمی کے لئے ایک مجسمہ ( بُت ) بنا دوں۔ جسے تم سب اپنے اپنے گھر میں رکھ لو اور جب چاہو اس کی زیارت کر لو اور اسے یاد کرلو۔ لوگوں نے کہا ۔ ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تو ابلیس شیطان نے ہر گھر والے کے لئے ود کی شکل کا مجسمہ بنا دیا۔ جسے سب نے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ اور روزانہ اس کی زیارت کرنے لگے۔ اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔ ان کے بیٹے بچپن سے اس مجسمے سے اپنے والدین کی محبت اور عقیدت دیکھتے رہے۔ اس لئے بڑے ہو کر انہوں نے اور زیادہ عقیدت ان بُتوں ( مجسموں) سے وابستہ کر لی۔ اور ان کی اولاد اپنے والدین سے بھی آگے بڑھ کر ان کی پوجا کرنے لگی۔ پس زمین پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ بُت اور مجسمہ تھا ۔جس کا نام انہوں نے ایک نیک شخص کے نام پر ’ ود‘ رکھا تھا۔
ابلیس شیطان نے سب سے پہلی تصویر بھی بنائی
حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے پانچ بیٹے بہت ہی عبادت گزار تھے۔ پھر ان میں سے ایک کا انتقال ہو گیا لوگ اس پر شدید غم زدہ ہوئے۔ ابلیس شیطان انسانی شکل بنا کر ان کے پاس آیا اورکہا۔ کیا تم اپنے اس ساتھی پر غمزدہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں اس کے بچھڑنے کا شدید غم ہے۔ اس نے کہا۔ اگر تم چاہو تو تمہاری مسجد کے قبلہ رخ پر اس شخص کی تصویر بنا دوں اور جب تم اس تصویر کو دیکھو گے تو اس نیک آدمی کو یاد کر لیا کرو گے۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ تم ہمارے قبلہ رخ پر اس کی تصویر بناﺅ۔ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ میں اسے مسجد کے پچھلے حصے کی دیوار پر بنا دوں گا۔ انہوں نے کہا ۔یہ ٹھیک ہے۔ اور اس نے ان کے لئے اس نیک آدمی کی تصویر بنادی۔ یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ان پانچوں کا انتقال ہو گیا اور ابلیس شیطان نے مسجد کے پچھلے حصے پر ان پانچوں کی تصویریں بنا دیں۔ پھر اس نے کچھ ایسی چیزیں ظاہر کیں کہ لوگوں نے اللہ کی عبادت چھوڑ دی۔ اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مبعو ث فرمایا۔ ( تفسیر دُر منشور جلد نمبر6جلال الدین سیوطی، تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی زمانہ میں نیک لوگوں کی ایک جماعت تھی۔ پھر ان کے بعد جو نسل آئی وہ اسی طرح کرنے لگی جیسے وہ ( نیک لوگ) عبادت کرتے تھے۔ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ اگر تم ان کی تصویریں بنا لو تو تم ان کو دیکھ کر ان کے جیسے نیک اعمال کرتے رہو گے۔ انہوں نے تصویریں بنا لیں ۔ پھر وہ مر گئے۔ اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد جب نئی نسل آئی تو ابلیس نے ان سے کہا۔ بے شک، تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس طرح وہ لوگ اُن کی عبادت کرنے لگے۔
بُت بنانا اور بیچنا ایک منافع بخش کاروبار
اللہ تعالیٰ سے ابلیس شیطان نے قیامت تک کی مہلت مانگی تھی اور قیامت تک انسان کو بہکانے اور دوزخ کی طرف لے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور وہ تب سے ابھی تک مسلسل اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ابلیس شیطان نے ود کی شکل کا ہو بہو بت بنادیا تھا۔ اب لوگ بھی اس بت کو دیکھ کر بت بنانے لگے۔ اسی طرح سواع، یغوث ، یعوق اور نسر کے انتقال کے بعد بھی ان کی تصویریں اور بت بنابنا کر اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ اور زیارت کرنے لگے۔ یہ لوگ ان بتوں اور تصویروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ صرف عقیدت اور محبت کرتے تھے۔ ان کی اولاد نے اپنے الدین کی اتنی عقیدت اور محبت دیکھی تو اور زیادہ عقیدت اور محبت سے ان بتوں اور تصویروں کو ماننے لگے۔ جب ان کی اولاد یعنی نئی نسل جوان ہوئی اور ان کی عقیدت میں اور زیادہ اضافہ ہوا تو ابلیس شیطان ان کے پاس انسانی شکل میں آیا اور انہیں بتایا کہ یہ نیک لوگوں کے بُت آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ اس طرح لوگ ان بتوں سے مانگنے لگے۔ اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ انسانوں میں سے کثیر تعداد دولت کی لالچی ہوتی ہے۔ اس وقت کے دولت کے لالچی لوگوں کے اندر ابلیس شیطان نے وسوسہ پیدا کیا کہ بت بنانا اور بیچنا ایک منافع بخش کاروبار ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں نے علماء( پنڈتوں ) سے مل کر عوام کو اس طرف راغب کیا۔ اور پوری قوم میں ہر علاقے میں مندروں کو بنایا گیا اور اس میں ان پانچوں کے بڑے بڑے بت بنا کر رکھے گئے۔ مندروں اور بتوں کے لئے عوام سے ہی چندے لئے گئے۔ اس طرح بت بنانے والوں اور پنڈتوں اور مندر کی پجاریوں کے ہاتھ میں عوام کی باگ ڈور اور دولت آگئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی سب سے شدید ضرب انہیں لوگوں پر پڑ رہی تھی۔ اسی لئے یہ لوگ آخر تک سب سے شدید مخالف رہے۔
حضرت آدم اور حضرت نوح علیہم السلام کے درمیان کا وقت
حضرت نوح علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے سال بعد پیدا ہوئے ؟ ا س بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں کا فاصلہ ہے۔ ( صحیح ابن حبان حافظ امام ابو حاتم بن حبان ) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا حضرت نوح علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ آپ علیہ السلام نبی تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے کلام کرتے تھے۔ اس شخص نے دوبارہ عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دس قرن کا ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں کا فاصلہ ہے۔ اور اس درمیان جتنے لوگ پیدا ہوئے وہ تمام اسلام پر تھے۔ (صحیح بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ بعض مقتدین کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی وقفہ میں دس نسلیں گزری ہیں۔ اور وہ سب کی سب حق پر تھیں۔ دنیا میں کفر اور شرک حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے شروع ہوا تھا۔ اور سب سے پہلے جو نبی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور توحید کی طرف بلانے کے لئے مبعوث کئے گئے وہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے ایک سو چھبیس 126سال بعد حضرت نوح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ( تاریخ طبری) اہل کتاب کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام ایک سو چھیالیس146سال بعد پیدا ہوئے۔ ( البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک قرن سے مراد سو100سال ہیں۔ (صحیح بخاری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اگر قرن سے مراد انسان کا ایک زمانہ یا نسل یا قوم لی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ترجمہ ” پھر ہم نے پیدا فرمایا اُن کے بعد ایک قوم یا جماعت“(سورہ المومنون) ترجمہ ۔ اور ان کثیرا لتعداد قوموں کو جو ان کے درمیان گزریں۔“ ( سورہ فرقان) ترجمہ ” کتنی قومیں ان سے پہلے تھیں جن کو ہم نے برباد کر دیا۔ ( سورہ مریم) ان تمام آیات طیبات میں قرن سے مراد قوم ، گروہ یا جماعت ہے وقت نہیں ہے۔ اسی طرح اس حدیث مبارک میں بھی قرن سے مراد جماعت لیا گیا ہے۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خیر القرون قرنی۔ ترجمہ ۔ بہترین جماعت میری جماعت ( صحابہ کرام) ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان ہزار وں سال ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام کا شجرہ نسب
حضرت نوح علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام بن لمک( لامک) بن متو شلخ بن خنوخ ( انہیں حضرت ادریس علیہ السلام کہا جاتا ہے) بن یرد بن مہابیل بن قنسین بن انوش بن حضرت شیث علیہ السلام بن حضرت آدم علیہ السلام۔ اہل توریت کے مطابق متو شلخ کی پیدائش اخنوخ ( حضرت ادریس علیہ السلام ) کے گھر میں اس وقت ہوئی جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر چھ سو ستاسی687 سال تھی۔ بڑے ہونے پر اخنوخ نے متوشلخ کو اوامراللہ ( اللہ کے احکامات) پر اپنا نائب بنایا۔ او را سے اور اس کے گھر والوں کو بہت سی نصیحتیں کیں۔ اخنوخ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام کی وفات تین سو پینسٹھ365سال کی عمر میں ہوئی۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ متوشلخ بن اخنوخ نے ایک سو پینتیس135سال کی عمر میں عربا بنت انوشیل سے نکاح کیا۔ عربا سے ایک لڑکا لمک یا لامک بن متو شلخ پیدا ہوا۔ پھر لمک نے ایک سو ستاسی 187برس کی عمر میں تنوس بنت براکیل سے نکاح کیا۔ اور تنو س ہی حضرت نوح علیہ السلام کی والدہ محترمہ ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے والد محترم لمک پانچ سو پچانوے595سال زندہ رہے۔ آخر کار سات سو اسی 780سال کی عمر میں لمک کا انتقال ہوگیا۔ پھر پانچ سو 500برس کی عمر میں حضرت نوح علیہ السلام نے عمذرہ بنت براکیل بن محویل سے نکاح کیا۔ عمذرہ ہی سام ، حام اور یافث کی والدہ ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی خرابیاں
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بعض محققین نے لکھا ہے کہ وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو آج عراق کے نام سے مشہور ہے۔اور اس کی جائے وقوعہ موصل کے نواح میں ہے۔ اور جو روایات کردستان اور آرمینیہ میں زمانہ ¿ قدیم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نو ح علیہ السلام کی کشتی اسی علاقے میں کسی مقام پر ٹھہری تھی۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی) حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی وقت میںایک بادشاہ گزرا تھا۔ جس کا نام جمشید یا جم ایشیذ تھا۔ اس نے چھ سو سال تک حکومت کے اور انسانوںکے چار طبقے بنائے۔ پہلا طبقہ فوج کا ( کھتری) بنایا۔ دوسرا طبقہ علماءو فقہا ( جیسے ہمارے ہندوستان میں پنڈت اور برہمن) کا بنایا۔ تیسرا طبقہ منشیوں اور کلرکوں ( ویش) کا بنایا۔ اور چوتھا طبقہ کسان اور دوسرے فنون ( شودر) کا بنایا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) اس طرح انسان چار طبقوں میں تقسیم ہو گئے۔ اور دھیرے دھیرے علماءو فقہاءیعنی مندروں کے پجاری پنڈت برہمن باقی طبقوں پر حاوی ہو گئے ۔ کیوں کہ ان کے پاس علم تھا۔ اور وہ بتوں یعنی ان کے بنائے ہوئے خداﺅں سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے یہ طبقہ دوسرے تینوں طبقوں پر حاوی ہو گیا۔ یہاں تک کہ حکومت ِ وقت یعنی بادشاہوں کو بھی ان کی مرضی کے مطابق حکومت چلانی پڑتی تھی۔ اور جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو اس کی سب سے زبردست ضرب اسی طبقے پر لگی اور سب سے زیادہ نقصان اسی طبقے کا ہونے والا تھا۔ اسی لئے یہ طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن بن گیا اور اسلام کا سب سے کٹّر مخالف بن گیا۔ اور چونکہ باقی تینوں طبقے اس کے کنٹرول میں تھے اسی لئے اس طبقے نے انہیں بھی اسلام قبول کرنے نہیں دیا۔ اور جن لوگوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا تھا۔ ان پر طرح طرح کی اتنی زیادتیاں کیں کہ باقی قوم کے لوگوں نے کانوں کو ہاتھ لگا لئے اور اسلام قبول کرنے سے انکا ر کر دیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا نام اور عمر
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے اُن لوگوں کی اولاد، جنہیں ہم نے نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ سوار کر دیا تھا۔ وہ ہمارا بڑا شکر گزار بندہ تھا۔ ( سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر3) حضرت نوح علیہ السلام کا اصلی نام شاکر تھا۔ بعض روایات میں سکن آیا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ اصلی نام عبدالغفار تھا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع) حضرت نوح علیہ السلام کا نام شریف یا شاکر یا عبدالغفار ہے۔ اور نوح لقب ہے۔ یہ عجمی نام ہے اور بعض علماءنے فرمایا یہ عربی نام ہے۔ نوحہ بمعنی گریہ وزاری (رونا) سے بنا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان نعیمی ) حضرت نوح علیہ السلام کا نام یا لقب نوح اس لئے پڑا کہ آپ علیہ السلام نے طویل وقت تک اپنی ذات پر نوحہ کیا۔ آپ علیہ السلام کو السکن ( سکن) اس لئے کہا جاتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد لوگوں کو آپ علیہ السلام کے پاس آکر سکون ملتا تھا۔ آپ علیہ السلام کو نوح اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر ساڑھے نو سو برس تک نوحہ کیا۔ وہ اس طرح کہ آپ علیہ السلام انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے اور جب وہ انکار کر تے تھے تو آپ علیہ السلام روتے اور ان پر نوحہ کرتے تھے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) عون بن ابی شذاز کی روایت میں ہے کہ اعلان نبوت کے وقت حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ساڑھے تین سو 350سال تھی۔ اور ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے اور عذاب الہٰی ( طوفان) کے بعد ساڑھے تین سو350سال زندہ رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں