حضرت ہود علیہ السلام
سلسلہ نمبر05
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 1
قوم عاد
اس سے پہلے ہم حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے تفصیلی حالات آپ سے بیان کر چکے ہیں۔ آئیے اب آپ کو حضرت ہود علیہ السلام کے کچھ تفصیلی حالات بتاتے ہیں۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا نام عاد ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ آپ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں یہ پڑھا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے دنیا نئے سرے سے آباد ہوئی تھی۔ اور ایک بیٹے سام بن نوح کی اولاد عرب اور آس پاس کے علاقے میں بس گئی تھی۔ ان میں سے سام کا ایک پوتا جس کا نام عوص تھا وہ احقاف میں رہنے لگا۔ احقاف ریتیلے پہاڑوں کا علاقہ ہے۔ جسے ” الشحر“ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کی جس وادی میں عوص رہنے لگا تھا۔ اس کا نام ”مغیث “ ہے۔ عوص کے بہت سے بیٹے تھے۔ ان تمام بیٹوں سے بہت سے بیٹے پیدا ہوئے۔ اور آبادی بڑھتی چلی گئی۔ عوص کے بیٹوںمیں سے ایک بیٹا بہت مشہور ہوا۔ اس کا نام ” عاد “ تھا۔ اور اسی کے نام پر اس کی قوم کا نام ”قوم عاد “ کہلانے لگا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد
آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد کے بارے میں مختصرا ً بتا دیں کہ کس طرح آپ علیہ السلام کی اولاد دنیا میں پھیلی اور کس کی نسل کہاں بس گئی تا کہ آگے کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام کے تین مسلمان بیٹے سام، حام، اور یافث طوفان کے وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ اور ان تینوں کی ہی اولاد پوری دنیا میں پھیلی ۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام کو ”آدم ثانی“ بھی کہا جاتا ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری نے باب احادیث مرفوعہ میں نقل کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ سام ابو العرب یعنی عربوں کے باپ، یافث ابو الروم یعنی رومیوں کے باپ اور حام ابو الحبش یعنی حبشیوں کے باپ ہیں اور بعض روایات میں یوں مذکور ہے کہ سام ابو العرب ، ابو الفارس اور ابو لروم یعنی عربوں کے باپ، فارسیوں کے باپ اور رومیوں کے باپ ہیں۔ اور یافث ابو لترک ، ابو الصقالیہ اور ابو یاجوج و ماجوج سوڈانیوں کے باپ اور بربروں کے باپ ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا جسے عرب یام کہتے ہیں۔ وہ طوفان میں غرق ہو گیا تھا۔ اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ علیہ السلام کے ان ہی تینوں بیٹوں سے دنیا آباد ہوئی۔ سام بن نوح کے پانچ بیٹے ارفخشند ، لاوز ، ارم، اشوز ااور غلیم تھے۔ انمیں سے ارم بن سام کے چھ بیٹے عبیل ، عبد ضخیم، عوص، کاثر یا جاثر، ماش ( مشیخ) اور حول تھے۔ ان میں سے عوص احقاف میں رہنے لگا تھا۔ اور عوص کا بیٹا عاد تھا۔ اور اس کے بھائی کا ثر یا جاثر کا بیٹا ثمود تھا۔ یافث کی اولاد ترکی ، جرمنی ، چین ، روس ، جاپان، اور فرانس میں آباد ہوئے۔ حام کی اولاد سے سوڈان ، ہند ، سندھ،قبط اور کنعان ہیں۔ توریت میں ہے کہ حام کے چار بیٹے مصر ( مصرائم) کنعان ، کوش اور قوط تھے۔ اس کی اولاد مصر ، بیت المقدس ، سوڈان، افریقہ ، ہند یعنی ہندوستان اور سندھ یعنی ابھی کا پاکستان میں آباد ہوئے۔ ( تاریخ ابن خلدون جلد نمبر 1علامہ عبدالرحمن بن خلدون)
حضرت ہود علیہ السلام کا شجرہ نسب
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کا ایک بیٹاارم بن سام ہے۔ ارم بن سام کا بیٹا عوص بن ارم ہے۔ اور عوص بن ارم کا ایک بیٹا عاد بن عوص ہے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام سام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام ارفخشند کی اولاد میں سے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام عاد بن عوص بن ارم کی اولاد میں سے ہیں۔ ہم دونوں سلسلہ نسب یہاں پیش کر دیتے ہیں۔ حضرت ہود علیہ السلام بن عابر بن شالخ بن ارفخشند بن سام بن حضڑت نوح علیہ السلام ۔ اور دوسرا حضرت ہود علیہ السلام بن عبداللہ بن رباح جارود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام ہے۔ اکثر علمائے کرام دوسرے سلسلہ نسب کو درست مانتے ہیں۔ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کا تعلق عاد بن عوص بن ارم بن سام قبیلہ سے ہے۔ یہ لوگ عرب تھے اور احقاف میں رہائش پذیر تھے۔ یہ علاقہ ریتیلے پہاڑوں کا ہے۔ اور یمن میں عمان اور حضر موت کے درمیان پڑتا ہے۔ یہ سمندر سے بہت قریب ہے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کے لوگ بہت ہی لمبے قد کے اور طاقتور تھے۔ اور محل بنا کر رہتے تھے۔ ان کے محل اتنے اونچے ہوتے تھے کہ ان کو سنبھالنے کےلئے انہیں لمبے لمبے ستون بنانے پڑتے تھے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعمادالدین ابن کثیر)
عرب قوم سے انبیاءاور رسول
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ایک طویل حدیث بیان فرمائی ۔ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاءو مرسلین کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا۔ انبیائے کرام میں سے چار کا تعلق عرب قوم سے ہے۔ ( ۱) حضرت ہود علیہ السلام (۲) حضرت صالح علیہ السلام (۳) حضرت شعیب علیہ السلام اور (۴) اے ابو ذر تیرے رسول اللہ علیہ وسلم ۔ سب سے پہلے عربی زبان میں کس نے بات کی۔ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کے والد نے عربی میں سب سے پہلے بات کی۔ لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی ہے۔ واللہ اعلم ۔ (قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) علامہ محمد بن جریر طبری روایت کرتے ہیں کہ عاد ، ثمود ، عبیل، طم، جدلیس ، امیم، اور عملیق کو اللہ تعالیٰ عربی زبان سکھلائی ہے ۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری تاریخ ابن خلدون جلد نمبر1علامہ عبدالرحمن بن خلدون)
عرب عاربہ ( بادیہ) اور عرب مستعربہ
عرب عاربہ ( بادیہ) یعنی عرب کے اصل باشندے ہیں۔ اور عرب مستعربہ یعنی وہ باشندے جو باہر سے آکر عربوں میں ضم ہو گئے اور عرب ہو گئے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری روایت کرتے ہیں کہ عاد ثمود ، عبیل ، طم، جدلیس ، امیم ، اور عملیق کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان سکھلائی۔ یہی لوگ عرب عاربہ کہلاتے ہیں۔ اور کبھی یقطن کو بھی عربِ عاربہ کہا جاتا تھا۔ اور عرب عاربہ کو عرب بادیہ بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا وجود اب کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔ وہ سب کے سب ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب جو عرب ہیں وہ عربِ مستعربہ کہلاتے ہیں۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری جلد نمبر1علامہ محمد بن جریر طبری، تاریخ ابن خلدون علامہ عبدالرحمن بن خلدون)علامہ ابنکثیر لکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے پہلے جتنے عرب تھے انہیں عرب ِ عاربہ ( عرب کے اصل باشندے کہا جاتا ہے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کو عرب مستعربہ ( غیر عرب قوم جو عربوں میں ضم ہو گئی) کہا جاتا ہے۔ عربِ عاربہ میں کئی قبائل کے نام آتے ہیں۔ مثلاً عاد ، ثمود، جرہم، طسم، جدلیس ، امیم، مدین، عمالق ( عمالیق) ،جاسم ، قحطان، بنو یقطن اور عبیل وغیرہ ۔ عرب مستعربہ کا تعلق حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہے۔ اور آپ علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی۔ انہوں نے یہ زبان قبیلہ جرہم سے سیکھی تھی۔ جو حرمِ پاک ( مدینہ منورہ) میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے رہنے لگے تھے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر)
قومِ عاد کا علاقہ
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کے ایک بیٹے کا نام ارم ہے۔ ارم کے ایک بیٹے کا نام عوص ہے اور عوص کے ایک بیٹے کا نام عاد ہے۔ عاد اور ارم کے نام پر عاد کی اولاد یا اس کے قبیلے کا نام عادِ ارم ہے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے عرب کا جو بادشاہ ہوا وہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔ اس کی قوم ارضِ احقاف میں یمن و عمان اور حضرموت کے درمیان رہتی تھی۔ عاد کی ایک ہزار بیویاں تھیں۔ اور چار ہزار بیٹے تھے۔ اس نے بارہ سو 1200سال کی عمر پائی۔ امام بیہقی روایت کرتے ہیں کہ عاد کی عمر تین سو برس تھی۔ تاریخ مسعودی میں ہے کہ عوص بن ارم نے تین سو برس حکومت کی۔ اس کے بعد عاد بن عوص نے حکومت کی۔ (تاریخ ابن خلدون جلد نمبر1علامہ عبد الرحمن بن خلدون) یمامہ ، عمان، بحرین، حضر موت اور مغربی یمن کے بیچ میں صحرائے اعظم ”الدہنا یا ” الربع الخالی “کے نام سے واقع ہے۔ وہ الاحقاف ہے۔ یہ بہت بڑا ریگستان ہے۔ ہر چند کہ یہ ُفی الحال آبادی کے قابل نہیں ہے۔ لیکن اس کے اطراف میں (ابھی بھی) کہیں کہیں آبادی کے لائق تھوڑی زمین ہے۔ خصوصاً اس حصہ میں جو حضرت موت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ اس وقت وہ بھی آباد نہیں ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں اسی حضر موت اور نجران کے درمیانی حصہ میں عادِ ارم کا مشہور قبیلہ آیا تھا۔ ( تفسیر تبیان القران جلد نمبر 4علامہ غلام رسول سعید)
قوم عاد سب سے طاقتور قوم تھی
آج یہ علاقہ بالکل ویران پڑا ہوا ہے۔ لیکن جس وقت یہاں قومِ عاد آباد تھی تو یہ ایسا بھیانک ریگستان نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی ہرا بھرا خوب صورت علاقہ تھا۔ جہاں ہر طرف ندیاں، نہریں( نالے )اور چشمے بہتے تھے۔ عذاب کے بعد یہ علاقہ ایک بھیانک ریگستان میں تبدیل ہو گیا۔ قوم عاد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت لمبے چوڑے تھے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یعنی سارے انسانوں میں تم کو ( یعنی قوم عادکو ) بہت قد آور بنایا۔ تمہاری جسامت کو پھیلادیا۔ اسی لئے ان کا سب سے پستہ قد ( سب سے ناٹا) آدمی کا قد ساٹھ گز کا تھا۔ اور دراز قد آدمی کا قد سو فٹ تھا۔ ان کا سر بڑے خیمے کے برابر تھا۔ ان کی آنکھ اتنی بڑی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی ایک آنکھ کے حلقے میں جانور گھر بنا تے تھے۔ ( تفسیر کبیر، تفسیر خازن ، تفسیر روح البیان ، تفسیر روح المعانی، تفسیر مدارک، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی) مولانا مودودی تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں ۔ قومِ نوح کی تباہی کے بعد دنیا میں جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہی ( قوم عاد ) تھی۔ ترجمہ ۔ یاد کرو ( اللہ کے اس فضل و انعام کو کہ ) نوح ( علیہ السلام) کی قوم کے بعداس نے تمہیں خلیفہ بنایا۔ (سورہ الاعراف آیت نمبر69) جسمانی طور سے یہ ( قوم عاد ) بڑے تنو مند ( لمبے چوڑے) اور زور آور ( طاقت ور ) لوگ تھے۔ ترجمہ اور تمہیں جسمانی ساخت میں خوب تنو مند ( طاقت اور قوت والا) کیا ( سورہ الاعراف آیت نمبر69اور اپنے دور میںیہ بے نظیر قوم تھی۔ کوئی دوسری قوم اس سے ٹکرکی نہیں تھی۔ ترجمہ ۔ جس کی مانند ملکوں میں کوئی قوم پیدا نہیں پیدا کی گئی۔ ( سورہ الفجر آیت نمبر8) اس کا ( قوم عاد کا ) تمدن بڑا شاندار تھا۔ اونچے اونچے ستونوںکی بلند و بالا عمارتیں بنانا س قوم( کی خصوصیت تھی۔ جس کے لئے وہ اس وقت کی دنیا میں مشہور تھی۔ ترجمہ تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے کیا کہاستونوں والے عاد ارم کے ساتھ ( سورہ الفجر آیت نمبر6اور 7) اس کی مادی ترقی اور جسمانی زور آوری نے ان کو سخت متکبر بنا دیا تھا۔ اور انہیں اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا۔ ترجمہ ، رہے عاد تو انہوں نے زمین میں حق کی راہ سے ہٹ کر تکبر کی روش اختیار کی اور کہنے لگے کہ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور ( طاقتور) ( سورہ حم السجدہ آیت نمبر15)ا ن کا سیاسی نظام چند بڑے بڑے جباروں کے ہاتھ میں تھا۔ جن کے آگے کوئی دم نہیں مار سکتا تھا۔ ترجمہ اور انہوں نے ہر جبار دشمن حق کے حکم کی پیروی کی ۔ (سورہ ہود اآیت نمبر59تفہیم القران سورہ الشعرا حاشیہ نمبر82
اللہ تعالیٰ نے ہر نعمتیں عطا کی تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر اپنی خصوصی مہربانیاں کی تھیں۔ انہیں بہت لمبے چوڑے صحت مند اور طاقتور بنایا تھا۔ ان کے علاقے میں ندیوں، نہروں اور چشموں کو پیدا فرمایا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ علاقہ بہت ہی برا بھرا اور سر سبز تھا۔ اور اسی وجہ سے اس علاقے میں اناج ، پھل فروٹ اور میوے وغیرہ بے حساب پیدا ہوتے تھے۔ اور ان تجارت کر کے قوم عاد خوب منافع کماتی تھی۔ اور قوم کا ہر فردامیر ہو گیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ بڑے بڑے اور اونچے اونچے محلات بنانے لگے۔ عاد کے چار ہزار بیتے تھے اور ہر بیٹے کا اپنا ایک محل تھا۔ پھر ان کے بیٹوں کے محلات تھے۔ اس طرح یہ قوم بہت ہی عیش و آرام کی زندگی کی بسر کر رہی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر نعمت عطا فرئی تھی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں