حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 1
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
انسان سے ابلیس شیطان کی مستقل دشمنی
اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت آدم ،حضرت نوح،حضرت ہود،اور حضرت صالح علیہم السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔اب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے حالات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ ابلیس شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تھا۔اور ا تعالیٰ نے اُسے مردود قرار دے کر اپنی بارگاہ سے نکال دیا تھا۔تب سے ابلیس شیطان انسانوں کا دشمن بن گیا،اور اُس کی کوشش یہی رہتی ہے کہ کسی بھی طرح انسان کا اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر اُکسائے۔وہ انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پید کرتا ہے،اور انسان وسوسوں کا شکار ہو کر برائیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔وہ انسان کو برائی میں مبتلا کرتے کرتے اُس مقام تک پہنچا دیتا ہے، جہاں انسان شرک مرنے لگتا ہے۔جیساکہ آپ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں پڑھا کہ قوم ِ نوح آخر تک شرک پر اڑی رہی، اور اﷲ کے عذاب کا شکار ہو گئی۔آپ علیہ السلام کی اولاد میں قوم عاد اور قوم ثمود کا انجام بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کی نسل پوری دنیا میں پھیلی،اور ابلیس شیطان بھی اپنی نسل کے ساتھ پری دنیا میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے تھے۔اور قوموں کو گمراہ کرنے کا کام کر رہا تھا،اور انہیں بت پرستی میں مبتلا کرتا جارہا تھا۔اِن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم بھی تھی،اور یہ لوگ تو چند قدم اور آگے نکل گئے تھے۔اور بتوں کی پوجا کرنے کے ساتھ ساتھ ستاروں،سورج اور چاند کی بھی پوجا کرنے لگے تھے۔اور اِن کے حکمراں اپنے آپ کو نعوذ باﷲ ”خدا “کہلوانے لگے تھے۔
قوم ابراہیم حضرت نوح علیہ السلام کی نسل
اِس سے پہلے حضرت ہود علیہ السلام کے ذکر میں ہم آپ کو تفصیل سے بتا چکے ہیں ،کہ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے پوری دنیا پھیلی،یہاں مختصر میں بتا دیتے ہیں۔تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے سام،حام،یافث کی اولاد پوری دنیا میں پھیلی۔اِن میں نے سام کی اولاد عرب اور اُس کے آس پاس کے علاقوں (جسے ہم آج کل” مڈل ایسٹ“ یعنی”مشرق وسطیٰ“کہتے ہیں)میں بسی تھی۔سام بن نوح کے پانچ بیٹے ارفخشند،لاوذ ،ارم،اشوذ،اور اغلیم تھے،اِن میں سے ارم کا ایک بیٹا عوص ”احقاف “میں جاکر بس گیا۔اور اُس کی اولاد ”قوم عاد“ کہلائی ۔ارم کا دوسرا بیٹا کاثر یا جاثر یا عاثر نام کا تھا،وہ ”حجر“میں جا کر بس گیا تھا،اور اُس کی اولاد”قوم ثمود“کہلائی ۔سام بن نوح کا ایک اور بیٹاارفخشندعراق اور اُس کے آس پاس کے علاقوں میں جا کر بس گیا تھا۔اور ارفخشند کی اولاد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حام کا ایک بیٹا جس کانام ”کنعان“تھا،وہ اُس علاقے میں جا کر بس گیا تھا،جس کا نام آج فلسطین ہے۔فلسطین اور اُس کے آس پاس کا علاقہ اسی کے نام پر ”ملک کنعان“کہلاتا تھا۔بعد میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ”ملک کنعان“کے ٹکڑے کر کے کئی ملکوں میں تقسیم کردیا۔جن میں سے ایک ملک فلسطین ہے،۔اس کے علاوہ ”حام “کا ایک اور بیٹا ”مصرائم“اُس علاقے میں جا کر بس گیا،جس کا نام آج”ملک مصر“ہے۔یہ نام مصرائم کے نام پر ہی رکھا گیا تھا۔ہم نے ملک کنعان اورملک مصر کے بارے میں مختصراًاِس لئے یہاں بتا دیا ہے،کیونکہ آگے جاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں اِس دونوں علاقوں کے نام بھی آئیں گے۔ اور اُس وقت آپ کے ذہن میں اُلجھن پیدا نہ ہو۔
قوم ابراہیم کی حالت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں جاننے سے پہلے ہم آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں کچھ جان لیں تو انشاءاﷲ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت کی اہمیت سمجھنے میں آسانی ہوگی۔مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں۔اِس مقام پر اور قرآن کے دوسرے مقامات پر جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اُن کی قوم کے نزاع کا ذکر آیا ۔اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے مذہبی و تمدنی حالات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔جد ید اثری تحقیقات کے سلسلے میں نہ صرف وہ شہر دریافت ہو گیا ہے، جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔بلکہ دورِ ابراہیمی میں اس کے لوگوں کی جو حالت تھی،اُس پر بھی بہت کچھ روشنی پڑی ہے۔لیونارڈ وولی(lionard woolley )نے اپنی کتاب (Abraham 1935 )ابراہم ۵۳۹۱عیسوی میں اِس تحقیقات کے جو نتائج شائع کئے ہیں۔اُن کا خلاصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔اندازہ کیا گیا کہ ۰۰۱۲قبل مسیح کے زمانے میں،جسے عام طور سے محققین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ تسلیم کرتے ہیں۔شہر ”اُر“ کی آبادی ڈاھائی لاکھ کے قریب تھی،اور بعید نہیں کہ پانچ لاکھ بھی ہو۔”اُر“بڑا صنعتی و تجارتی مرکذ تھا،ایک طرف پامیر اور نیلگری تک سے وہاں مال آتا تھا۔ اور دوسری طرف” اناطولیہ“ تک سے اُس کے تجارتی تعلقات تھے۔جس ریاست کا یہ صدر مقام(راجدھانی)تھا،اُس کی حد ود موجودہ عراق سے شمال میں کچھ کم اور مغرب میں کچھ زیادہ تھی۔ملک کی بیشتر آبادی کا پیشہ صنعت و تجارت تھا۔اُس عہد کی جو تحریرات آثارِ قدیمہ کے کھنڈروں میں دستیاب ہوئی ہیں۔اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی میں اُن لوگوں کا نقطہ¿ نظر خالص مادہ پرستانہ تھا۔دولت کمانا اور زیادہ سے زیادہ آسائش فراہم کرنا اُن کا سب سے بڑا مقصدِ حیات تھا۔
قوم طبقوں میں بٹی ہوئی تھی
حضرت ابراہیم علی السلام کی قوم بھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی طرح طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ابلیس شیطان نے اِس قوم میں بھی انسانوں کے درمیان اونچ نیچ پیدا کر دی تھی۔اِس سے پہلے ہم حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے تھے کہ آج کل ہمارے ہندوستان میں پنڈتوں،پجاریوں اور پروہتوں(سادھوو¿ں)کے کنٹرول میں پوری ہندو قوم ہے،اُسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا حال تھا۔یہی حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا تھا۔مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔قوم میں سود خوری کثرت سے پھیلی ہوئی تھی،سخت کاراباری قسم کے لوگ تھے۔ہر ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا،اور آپس میں مقدمہ بازیاں ہوتی تھیں۔اپنے خداو¿ں سے اُن کی دعائیں زیادہ تر درازی¿ عُمر ،خوش حالی اور کاروبار کی ترقی سے متعلق ہوا کرتی تھی۔آبادی تین طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔(1)عَمیلو۔یہ اونچے طبقے کے لوگ تھے،اِن میں مندروں کے پجاری ،حکومت کے عہدے دار اور فوجی افسران وغیرہ شامل تھے۔(2)مشکینو۔یہ تجارت کرنے والے ،اور صنعت کرنے والے ،زراعت کرنے والے(کسان ) تھے۔(3)اَردو۔یہ اِس قوم میں غلام طبقہ تھا۔اِن میں سے پہلا طبقہ یعنی ”عمیلو“کو خاص امتیازات حاصل تھے۔اُن کے فوجداری اور دیوانی حقوق دوسروں سے مختلف تھے۔اور اِن کی جا ن و مال کی قیمت دوسروں سے بڑھکر تھی۔یہ شہر اور یہ معاشرہ تھا،جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھ کھولی۔اُن کی اور اُن کے خاندان کا جو حال ہمیں تلمود میں ملتا ہے،اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”عمیلو“طبقہ میں پید ہوئے تھے۔اور اُن کا باپ(یا چچا) ریاست کا سب سے بڑا عہدے دار تھا۔
قوم کے ہزاروںبُت یعنی خدا تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم پر ابلیس شیطان کا شکنجہ کتنا سخت تھا،اِس کا اندازہ اِس قوم کے بتوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔”اُر“کتبات میں تقریباًپانچ ہزار خداو¿ں کے نام ملتے ہیں۔ملک کے مختلف شہروں کے الگ الگ خدا تھے،ہر شہر کا ایک محافظ خدا ہوتا تھا۔جو رب البلد ،مہادیو،یا رئیس الآلہہ سمجھا جاتا تھا،اور اُس کا احترام دوسرے معبودوں سے زیادہ ہوتا تھا۔”اُر“ کا رب البلد ”ننار“دیوتا(چاند دیوتا)تھا۔اور اِسی مناسبت سے بعد کے لوگوں نے اِس شہر کا نام ”قمرینہ“بھی لکھا ہے۔دوسرا بڑا شہر ”کرّمہ“تھا،جو بعد میں ”اُر“ کے بجائے مرکذِ سلطنت(راجدھانی)بنایا گیا۔اُس کا البلد”شماش“دیوتا(سورج دیوتا) تھا۔اِن بڑے خداو¿ں کے ماتحت بہت سے چھوٹے خدا بھی تھے،جو زیادہ تر آسمانی تاروں اور سیاروں میں سے کم تر زمین سے منتخب کئے گئے تھے۔اور لوگ اپنی مختلف فروعی ضروریات ان سے متعلق سمجھتے تھے۔اِن آسمانی اور زمینی دیوتاو¿ں اور دیویوں کی شبہیں بتوں کی شکل میں بنالی گئیں تھیں۔اور تمام مراسمِ عبادت انہی کے آگے بجا لائے جاتے تھے۔
قوم کی اخلاقی حالت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی اخلاقی حالت پچھلی گزری تینوں قوم یعنی قوم نوح،قوم عاد،اور قوم ثمود سے زیادہ گھٹیا اور پس ماندہ تھی۔ابلیس شیطان نے اپنے ہرکاروں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں کے ذریعے پوری قوم کو غلاضتوں کے ڈھیر میں ڈال دیا تھا۔اور پنڈت اور پجاری اِس طرح سے بے شمار دولت کما رہے تھے
اور عوام دن بہ دن غریب ہوتی جارہی تھی۔اِس کے ساتھ ساتھ عورت کو کھلونا سمجھ لیا گیا تھا ،اور اُس کی کوئی عزت نہیں تھی۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔”ننار“کا بُت ”اُر“میں سب سے اونچی پہاڑی پر ایک عالیشان عمارت(مندر) میں نصب تھا۔اِسی کے قریب ننار کی بیوی ”نن گل“کا معبد(مندر) تھا۔ننار کے معبد کی شان ایک شاہی محل سرا کے جیسی تھی،اس کی خواب گاہ میں روزآنہ رات کو ایک پجارن جا کر اُس کی دلہن بنتی تھی۔مندر میں کثرت سے عورتیں دیوتا کے نام سے ”وقف“تھیں۔ اور اُن کی حیثیت دیو داسیوں کی طرح تھی،وہ عور ت بہت ”معزز“مانی جاتی تھی،جو خدا کے نام پر اپنی عزت قربان کردے۔کم از کم ایک مرتبہ اپنے آپ کو ”راہ خدا“میں کسی اجنبی کے حوالے کرنا عورت کے لئے ”ذریعہ نجات “خیال کیا جاتا تھا۔اب یہ بیان کرنا ضروری نہیں ہے کہ اِس مذہبی”قحبہ گری“سے مستفید ہونے والے زیادہ تر پجاری حضرات ہی ہوتے تھے۔
مذہبی رہنما حکمرانوں پر حاوی تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی حالت بالکل ویسی تھی،جیسی آج کل ہمارے ہندوستان میں ہندوؤں کی ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔"ننار" محض دیوتا ہی نہیں تھا،بلکہ ملک کا سب سے بڑا زمین دار ،سب سے بڑا تاجر ،سب سے بڑا کارخانہ دار،اور ملک کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا حاکم تھا۔بکثرت باغ اور کھیت ،مکانات اور زمینیں اس کے مندر کے لئے وقف تھیں۔ اتنی تمام جائداد کی آمدنی کے علاوہ کسان، زمیندار،تاجرہر قسم کے غلے(کھانے کا سامان)دودھ ،سون، کپڑا اور دوسری چیزیں مندر میں لا کر چڑھاتے تھے،یعنی نذر کرتے تھے۔جنہیں وصول کرنے کے لئے مندر میں ایک بہت بڑا اسٹاف موجود تھا۔(اِسی طرح آج ہمارے ہندوستان میں بے شمار بُتوں کے منر ہیں،اور دن بہ دن اُن کے پجاری اور اسٹاف اربوں پتی ہوتے جارہے ہیں)بہت سے کارخانے مندر کی طرف سے قائم تھے،اور تجارتی کاروبار بھی بہت بڑے پیمانے پر مندر کی طرف سے ہوتا تھا۔یہ سب کام دیوتا کی طرف سے پجاری ہی انجام دیتے تھے۔اور ملک کی سب سے بڑی عدالت مندر میں ہی تھی،اور پجاری اس کے جج تھے۔اور اُن کے فیصلے ”خدا“کے فیصلے سمجھے جاتے تھے۔خود شاہی خاندان کی حکومت بھی ننار کی محتاج تھی،اصل بادشاہ ننار تھا،اور حکمراں اُس کی طرف سے حکومت کرتا تھا۔اِس تعلق سے بادشاہ بھی خود معبودوں میں شامل ہو جاتا تھا،اور اُس کی بھی معبودوں کی طرح پوجا کی جاتی تھی۔
نمرود
حضرت ابراہیم علیہ لسلام کی قوم کا حکمراں نمرود تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔نمرود لقب تھا(یعنی اُس قوم کے ہر حکمراں کو نمرود کہا جاتا تھا۔جیسے مصریوں کے حکمراں کو فرعون اور رومیوں کے حکمراں کو قیصر اور ہرقل ،فارسیوں کے حکمراں کو کسریٰ کہا جاتا تھا)اور نمرود کا نام زرہی بن طہما سلفان تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔”اُر“کا شاہی خاندان جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں حکمراں تھا،اُس کے بانی ¿اول کا نام”اُرنمو“تھا۔اُس نے سنہ 2300 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 2300 سال پہلے)ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی۔اُس کی حدودِ مملکت مشرق میں سوسہ سے لیکر مغرب میں لبنان تک پھیلی ہوئی تھی۔اُسی سے اِس خاندان کو ”نمو“کا نام ملا۔جو عربی میں جاکر ”نمرود “ہو گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔اکثر قدیم علمائے کرام کا کہنا ہے کہ آپ علیہ السلام نمرود بن کوش کے دورِ حکومت میں پید ہوئے۔اور اکثر مورخین کی رائے یہ ہے کہ نمرود،ازہاق نام کے علاقے کا گورنر تھا۔اور یہ ”بابل“کے آس پاس کا علاقہ ہے۔محمد بن اسحاق رحمتہ ا للہ علیہ کی روایت کے مطابق ”آذر“کوفہ کی بستی ”کوٹی“یاکوثی“کا رہنے والا تھا۔اور یہ علاقہ نمرود کی مشرقی سلطنت کا حصہ تھا۔اور اِسے ہاصر کہا جاتا تھا،اور اُس وقت نمرود کی حکومت زمین کے مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی تھی۔اور ”بابل“پر بھی اُس کی حکومت تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں جب کفرو شرک ظلم و ستم اور فسق و فجور حد سے گزرنے لگا،اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑنے لگی۔تب اللہ تعالیٰ نے اُن پر رحم فرمایا،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان صرف دو رسول حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام آئے۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلا م کومبعوث فرمانے کا ارادہ کیا،اور اُن کا زمانہ قریب آیا تو نمرود کے پاس اُس کے نجومی آئے،اور اُس سے کہا کہ ہمارے علم کے مطابق اِس بستی میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے۔جس کا نام ”ابراہیم“ہو گا۔وہ تمہارے دین سے جدائی اختیار کرے گا،اور تمہارے بتوں کو توڑ ڈالے گا۔وہ فلاں سال کے فلاں مہینے میں پید ہو گا،جب وہ سال آیاجس کے بارے میں نجومیوں نے پیشن گوئی کی تھی۔تو نمرود نے حاملہ عورتوں کو گرفتار کر لیا،البتہ آذر کی بیوی کو گرفتار نہیں کیا۔کیونکہ اُس کے حاملہ ہونے کا پتہ نہیں سکا تھا،کیونکہ اُس کا پیٹ برابر تھا۔اِن گرفتار شدہ عورتوں میں سے جسے بیٹا پیدا ہوتا تھا تو وہ قتل کر دیا جاتا تھا۔جب آپ علیہ السلام کا وقت آیا تو آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ جنگل میں چلی گئیں۔وہاںحضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔اُن والدہ محترمہ نے انہیں وہیں غار میں چھوڑ دیا،وہ بار بار اُس غار میں جاتیں تھیں۔تاکہ بچے کی دیکھ ریکھ کریں۔جب بھی وہ وہاں جاتیں تو دیکھتیں تھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے انگوٹھے کو چوس رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اللہ رعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رزق کا انتظام اُن کے انگوٹھا چوسنے کے ذریعے کیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

.png)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں