اتوار، 30 اپریل، 2023

12 حضرت اسحاق یعقوب، یوسف علیہم السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf


 09 حضرت اسحاق، یعقوب اور یوسف علیہم السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 12

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کیا تم جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ نادانی کی حالت میں کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا۔ ( واقعی) آپ (علیہ السلام ) ہی یوسف ہیں؟جواب دیا کہ ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا ہے۔ اور صبر کرنے والوں اور (گناہوں سے ) پرہیز گاری کرنے والوں کے اجر کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو ہم پر برتری دے دی ہے۔ اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم بہت بڑے خطا کار ہیں۔ جواب دیا۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی تمہیں بخشنے ولا ہے۔ اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر89سے 92تک) حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی یہ عاجزی دیکھی تو ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا۔ آج تم میرے سامنے یہ چند درہم لے کر آئے ہو۔ کیا تمہیں یاد بھی ہے کہ تم لوگوں نے چند درہم کے لئے اپنے چھوٹے بھائی یوسف بن یعقوب کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ آپ علیہ السلام کے بھائی درہم اور یوسف بن یعقوب کا نام سن کر چونک گئے۔ اور حیرانی سے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھنے لگے اور کہا۔ یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے چند درہم میں بیچا تھا یہ بات صرف یوسف (علیہ السلام ) اور ہم جانتے تھے یہ بات آپ علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوئی۔ آپ علیہ السلام کی شکل ہمارے چھوٹے بھائی یوسف بن یعقوب سے ملتی جلتی ہے۔ یہ تو ہم نے پہلی ہی ملاقات میں سمجھ لیا تھا۔ لیکن یہ ہم یقین نہیں کر سکتے کہ جس یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے غلام بنا کر بیچا تھا وہ اتنا بڑا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے؟ سچ بتائیں کیا آپ یوسف(علیہ السلام ) ہیں؟

آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ہے

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کا سوال سن کر مسکرانے لگے اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ہاں میں ہی یوسف (علیہ السلام ) ہوں۔ اور تمام باتیں اپنے بڑے بھائیوں کو بتائیں کہ کس طرح مصر کے بازار میں سب سے مہنگی قیمت میں بیچے گئے۔ کس طرح جیل میں پہنچے اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد بادشاہ کے خواب کی تعبیر کس طرح بتائی او ر کس طرح بادشاہ نے خود آپ علیہ السلام کو بادشاہ بنا دیا اور خود گوشہ نشین ہو گیا۔ اور اس طرح مصر کا اقتدار آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آگیا۔ تمام بھائی حیرانی سے آنکھیں پھاڑے یہ پوری کہانی سنتے رہے۔ تمام باتیں بیان فرمانے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس چھوٹے اور حقیر بھائی کو یہ مقام عطا فرمایا کہ آج تم لوگ اس کے سامنے سوالی بنے کھڑے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ اور بن یامن کو بھی بلایا تو و ہ شاہی لباس پہنے ہوئے آئے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے تمام بھائیوں کو عزت سے بٹھایا۔ تو تمام بھائیوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوہم تمام بھائیوں پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اور آج ہم تمام بھائی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت ہی برا اور غلط سلوک کیا ہے۔ اور بے شک ہم تمام بھائی بہت بڑے خطا واور ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ہے۔ اورمیری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفترت فرمادے اور تمہیں بخش دے۔ اور اللہ تعالیٰ سب مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربانی کرنے والا ہے۔

والد محترم کے لئے قمیص دی

حضرت یوسف علیہ السلام نے تمام بھائیوں کو شاہی مہمان خانے میں عزت سے ٹھہرایا تمام بھائیوں نے آپ علی السلام سے عرض کیا۔ بھائی آپ علیہ السلام سے بچھڑنے کے بعد بھی والد محترم آپ علیہ السلام کو ہی ہر وقت یاد کرتے رہتے تھے۔ وہ زبا ن سے تو کچھ نہیں کہتے تھے لیکن آنکھوں سے ہر وقت آنسو بہتے رہتے تھے اور اس کی وجہ سے ہمارے والد محترم کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام بھی روپڑے۔پھر فرمایا۔ اے میرے پیارے بڑے بھائیو، مجھ پر تو حکومت اور نبوت کی اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ میں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ آپ لوگ میری یہ قمیص لے جائیں اور والد محترم کے چہرۂ مبارک پر ڈال دیں وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور ان کی آنکھوںکی روشنی لوٹ آئے گی۔ اور میری طرف سے ان سے یہ درخواست کریں کہوہ تمام خاندان والوں کو لے کر یہاں آجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” میری(یوسف علیہ السلام )یہ قمیص تم لے جاﺅ اور اسے ہمارے والد محترم کے چہرہ ¿ مبارک پر ڈال دو۔ وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان والوں کو لے کر میرے پاس آجاﺅ۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر93)

مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو شاندار سواریاں دیں اور ان کے ساتھ چل کر خود بھی شہر کے باہر آئے اور بھائیوں کے قافلے کو بڑی محبت سے رخصت کیا۔ جب بھائیوں کا قافلہ گھر کے قریب پہنچنے لگا تو حضرت یعقوب علیہ السلام اچانک خوش ہو گئے اور مسکرانے لگے۔ تمام خاندان والوں نے آپ علیہ السلام کی یہ تبدیلی دیکھی تو حیرت سے وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم لوگ یہ نہ سوچو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ ان کے خاندان والوں نے کہا۔ آ پ علیہ السلام تو یوسف(علیہ السلام )کو اتنا یاد کرتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام کو لگنے لگا ہے کہ صحیح معنوں میں یوسف (علیہ السلام ) یہیں کہیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب یہ قافلہ ( حضرت یوسف علیہ السلام سے ) جدا ہو اتو ان کے والد محترم نے فرمایا۔ اگر تم سٹھیا یا ہوا قرار نہ دو تو میں کہتا ہوں کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم، آپ علیہ السلام اپنے اسی خبط میں مبتلا ہیں۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر94، 95)

آنکھوں کی روشنی واپس آگئی

حضرت یعقوب علیہ السلام آج بہت خوش تھے۔ اور جیسے جیسے قافلہ قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے آپ علیہ السلام کی خوشی اور بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔ بیٹوں کا قافلہ خوشی خوشی گھر پہنچا ۔ اور آپ علیہ السلام کو یہ خوش خبری سنائی کہ ابا جان ، آپ علیہ السلام کا پیارا بیٹا اور ہمارا پیارا بھائی یوسف علیہ السلام زندہ ہے۔ اور آپ علیہ السلام کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ وہ مصر کا بادشاہ ہے۔ اور یہ وہی ہے جس نے بن یامن کو تدبیر سے روک لیا تھا۔ اور بن یامن نے کوئی چوری نہیں کی ہے۔ یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فوراً اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا۔ میں تم سے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ میرے یوسف کو کچھ نہیں ہوا ہو گا۔ اور جب تم نے مجھے بتایا تھا کہ اسے بھیڑیا اٹھا لے گیا ہے تب بھی مجھے پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے یوسف کو محفوظ رکھا ہو گا ۔ لیکن میرے پیارے بیٹو، یوسف کی جدائی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھوںمیں آنسو آجاتے تھے۔ یہ سن کر بیٹوں نے کہا۔ ابا جان، یوسف علیہ السلام نے ان کی یہ قمیص بھیجی ہے اور کہا ہے کہ ابا جان سے میری طرف سے معذرت کرنا کہ نبوت اور حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے میں نہیں آسکا۔ اور کہا ہے کہ میری یہ قمیص ابا جان کے چہرہ مبارک پر ڈال دینا تو ان کی آنکھوں کی روشنی واپس آجائے گی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بے تابی سے اپنے ہاتھوں کو بڑھایا۔ اور فرمایا۔ لاﺅ میرے یوسف کی قمیص، ایک قمیص تم یوسف کی لائے تھے جس نے مجھے غم میں مبتلا کر دیا تھا۔ اب اسی یوسف کی دوسری قمیص سے مجھے خوشیاں مل رہی ہیں اور قمیص لے کر اپنے چہرہ مبارک پر ڈال لی۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی وقت آپ علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی آگئی تو دکھائی دینے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب خوش خبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے چہرہ مبارک پر قمیص ڈالی تو اسی وقت آپ علیہ السلام دیکھنے لگے۔ اور فرمایا۔ میں تم سے یہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر96)

ملک مصر کی طرف روانگی

حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی واپس آگئی اور صاف دکھائی دینے لگا تو تمام بیٹے آپ علیہ السلام کو گھیر کر بیٹھ گئے۔ اور عرض کیا ۔ ابا جان، ہم بہت بڑے گنہ گار ہیں اور ہم سے بہت سی خطائیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام ہمارے لے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں اور خطاﺅں کو معاف فرما دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ضرور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔ پھر بیٹوں نے کہا۔ ابا جان ، ہمارے پیارے بھائی یوسف علیہ السلام نے درخواست کی ہے کہ آپ علیہ السلام پورے خاندان کو لے کر مصر تشریف لائیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام جب اپنے قافلے کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو دیکھا مصر کے باہر ہزاروں سواروں کالشکر موجود ہے۔ در اصل یہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد محترم کے استقبال کے لئے چار ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر ہزاروں مصری سواروںکے ساتھ سینکڑوں ریشمی جھنڈے لہراتے ہوئے مصر کے باہر صحر امیں موجو د تھے۔ ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے یہود ا کا سہار لئے تشریف لا رہے تھے ۔ جب آپ علیہ السلام کی نظر لشکر پر پڑی اور دیکھا کہ زرق و برق لباسوں میں ملبوس ہزاروں سواروں سے صحرا بھرا ہو اہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے یہودا، کیا یہ مصر کا فرعون ہے؟ ( ہم پہلے بھی آپ کو بتا چکے ہیں کہ مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا) تو یہودا نے جواب دیا۔ نہیں ابا جان ، یہ توحضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو آپ علیہ السلام کے استقبال کے لئے آپ علیہ السلام کے پاس آرہے ہیں۔ 

باپ بیٹے کی ملاقات

حضرت یعقوب علیہ السلام حیرانی اور تعجب سے اپنے بیٹے کی شان و شوکت دیکھ رہے تھے۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ذرا ہوا کیطرف دیکھئے آپ علیہ السلام کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے فرشتے (ملائکہ) حاضر ہوئے ہیں۔ یہ فرشتے برسوں سے آپ علیہ السلام کے غم میں شریک تھے۔ اور برسوں سے آپ علیہ السلام کے ساتھ روتے رہے ہیں۔ فرشتوںکی تسبیح سے گھوڑوں کے ہنہنانے سے عجیب کیفیت پید اہو گئی تھی۔ جب دونوں انبیائے کرام علیہم السلام قریب ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام بے قرار ہو کر سلام کرنا چاہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے روک دیا اور عرض کیا۔ آپ علیہ السلام تھوڑا رک جائیں اور اپنے والد محترم علیہ السلام کو پہلے سلام کرنے کا موقع دیں کیوں کہ آپ علیہ السلام کے والد محترم کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ علیہ السلام سے زیادہ ہے اس لئے انہیں زیادہ نیکیاں کمانے کا موقع دیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے آگے بڑھ کر فرمایا۔ تم پرسلام ہو ، اے غم اور دکھ درد کو دور کرنے والے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بہت ہی ادب سے سلام کا جواب دیا اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کو گلے سے لگا لیا۔ اور ان کے ماتھے کو چوم لیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر 

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد محتر م اور تمام مہمانوں کو عزت سے لے کر اپنے محل میں آئے۔ اور اپنے تخت پر دائیں طرف والد محترم کو بٹھایا اور بائیں طرف والدہ محترمہ ( جو آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ راحیل کی بڑی بہن لیا تھیں اور بڑے بھائیوں کی والدہ تھیں۔ بن یامن کی پیدائش کے بعد راحیل کا انتقال ہو گیا تھا) کو بٹھایا۔ اور پھر گیارہ بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا۔ ( پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا) یہ دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام نے والد محترم سے فرمایا۔ ابا جان ، یہ ہے میرے خواب کی تعبیر۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ اور تمام بیٹوں کو بلاکر سب کو گلے لگا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب سارا گھر انہ یوسف ( علیہ السلام ) کے پاس پہنچ گیا تو یوسف( علیہ السلام ) نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا۔ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن و امان کے ساتھ مصر میں آﺅ۔ اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ تب فرمایا۔ ابا جان، یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا۔ جب میں قید خانے (جیل) میں تھا تو مجھے وہاں سے نکالا۔ اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا۔ اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا۔ میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت علم والا اور حکمت والا ہے۔ اے میرے پروردگار ، تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی اور کار ساز ہے۔ تو مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرمااور نیک لوگوں میں رکھنا۔ (سورہ یوسف آیت نمبر99سے101تک) ایک روایت میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر چالیس 40سال بعد ظاہر ہوئی اور ایک روایت میں ہے کہ اسّی80سال بعد ظاہر ہوئی۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام کا وصال

حضرت یعقوب علیہ السلام لگ بھگ چالیس 40سال تک بچھڑے رہنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سے ملے۔ اور پورا خاندان مصر میں آباد ہو گیا۔ پورے مصر میں اس خاندان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس وقت جو فرعون تھا اس کا نام ریان بن ولید تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی تھی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ کچھ عرصے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد مصر کا فرعون قابوس بن مصعب بنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے بھی اسلام کی دعوت دی۔لیکن اس نے قبول نہیں کیا اور کافر ہی رہا۔ (تاریخ طبری جلد نمبر1) لیکن وہ بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام مصر میں اپنے بیٹے کے ساتھ چوبیس24برس تک رہے۔ جب آپ علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو تمام بیٹوں کو جمع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا یعقوب ( علیہ السلام ) کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو فرمایا ۔ کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ (علیہ السلام ) کے معبود کی اور آپ (علیہ السلام ) کے آباﺅ اجداد ابراہیم (علیہ السلام ) اور اسماعیل (علیہ السلام ) اور اسحاق(علیہ السلام ) کے معبود کی۔ جو اکیلا اور واحد ہے۔ اور ہم اسی کے فرماں بردار رہیں گے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر ( 133 جب آپ علیہ السلام نے اپنے آخری وقت میں اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے۔ تو تمام بیٹوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں گے۔ اور اسی کے فرماں بردار رہیں گے۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کا وصال لگ بھگ ایک سو پینتالس145 برس کی عمر میں ہوا۔ اور آپ علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام اس وقت کے ملک کنعان اور حالیہ فلسطین میں لے گئے۔ اور اس کے شہر ” الخلیل“ میں دفن کیا ۔ جسے ”حبرون“ بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا وصال

حضر ت یعقوب علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ تیئیس23سال تک زندہ رہے۔ اس دوران آپ علیہ السلام نے مصر کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے سنبھالا کہ پورا مصر خوش حال ہو گیا۔ جب آپ علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور بھتیجوں کو بلایا۔ اور وصیت فرمائی۔ کہ مجھے مصر میں دفن نہیں کرنا بلکہ ایک تابوت میں رکھ دینا۔ اور جب بنی اسرائیل مصر سے جانے لگیں گے تو میرے تابوت کو لے جائیں گے اور میرے والدین کے ساتھ دفن کرنا۔ ( یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے ۔ انشا اللہ ) حضرت یوسف علیہ السلام کو ملا کر یہ کل بارہ بھائی تھے۔ اور ان بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی۔ اور ان سب کو آگے چل کر بنی اسرائیل کہا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخری وقت یہ دعا مانگی ۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی ۔ اور مجھے خوابو ں کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے۔ تو دنیا اور اخرت میں میرا کام بنانے والا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ، ( آخرت میں ) مجھے مسلمان اٹھانا اور ان کے ساتھ رکھنا جوتیرے مقرّب ( سب سے قریبی) بندے اور تیرے خاص قرب کے لائق ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت کے مطابق ایک سنگ مرمر کے صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں محفوظ کر دیا گیا۔ پہلے آپ علیہ السلام کو دریائے نیل کے داہنی جانب محفوظ کیا گیا تو اس طرف کا علاقہ سر سبز و شاداب ہو گیا۔ اور دوسری طرف کا پانی کم ہو گیا اور ادھر کا علاقہ سوکھ گیا۔ توصندوق نکال کر بائیں جانب محفوظ کر دیا گیا۔ تو بائیں طرف کا علاقہ سر سبز و شاداب ہو گیا۔ اور داہنی طرف پانی کم ہو گیا۔ اور وہ علاقہ سوکھ گیا۔ آخر کار دریائے نیل کے درمیان میں صندوق کو محفوظ کر دیا گیا۔ اور دونوں طرف کے علاقے سر سبز و شاداب ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کا جسم مبارک چار سو سال سے زیادہ عرصے تک دریائے نیل میں محفوظ رہا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو اس صندوق کو بھی ساتھ لے لیا۔ اور اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں ” الخلیل “ میں دفن کر دیا۔

اگلی کتاب

قارئین کرام ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، اور حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب ہم آپ کی خدمت میں انشاءاللہ حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

٭........٭........٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں