اتوار، 30 اپریل، 2023

09 حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf


09 حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 9

بادشاہ سے ملا قا ت

اللہ تعالی نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ترجمہ۔ ”بادشاہ نے کہا ۔ انھےں مےرے پاس لاﺅ کہ میں انھےں اپنے خاص کاموں کےلئے مقرر کرلوں۔ پھر جب آپ سے بات چےت کی تو کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام ہمارے یہاں آج سے عزت والے اور امانت دار ہیں۔ ( حضرت یوسف علیہ السلام نے ) فرماےا۔ آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں۔“ (سورہ یوسف آےت نمبر 54اور55) عزیز مصر حضرت یوسف علیہ السلام کو لے کر دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے اپنے تخت سے اٹھ کر آگے بڑھ کر آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور تمام درباریو ں، وزراءاور امراءنے بھی کھڑے ہو کر آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور بادشاہ آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اپنے تخت تک لایا اور اپنے ساتھ بٹھایا۔ مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر میں امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب بادشاہ کا قاصد جیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس دوبارہ پہنچا اور بادشاہ کا دعوت نامہ دیا تو آپ علیہ السلام نے سب جیل والوں کے لئے دعا کی۔ اور غسل کر کے نئے کپڑے پہنے۔ جب بادشاہ کے دربار میں پہنچے تو یہ دعا کی۔ میری دنیا کے لئے میرا رب ( اللہ ) کافی ہے۔ اور ساری مخلوق کے بدلے میرا رب میرے لئے کافی ہے۔ جو اس کی پناہ میں آگیا وہ بالکل محفوظ ہے۔ اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہے۔ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ 

بادشاہ سے گفتگو

حضرت یوسف علیہ السلام جب دربار میں پہنچے ۔ مولانا مفتی محمد شفیع ، امام بغوی کے حوالے سے آگے لکھتے ہیں ۔ دربار میں پہنچ کر آپ علیہ السلام نے عربی زبان میں سلام ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ فرمایا۔ اور بادشاہ کے لئے عبرانی زبان میں دعا کی ۔ بادشاہ حالانکہ بہت سی زبانیں جانتا تھا مگر عربی اور عبرانی سے واقف نہیں تھا ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے مختلف زبانوں میں گفتگو کی اور اسی زبان میں جواب دیا۔ اور عربی اور عبرانی دو مزید زبانیں اسے بتائیں جن سے بادشاہ واقف نہیں تھا۔ اس واقعہ نے بادشاہ کے دل میں آپ علیہ السلام کی غیر معمولی وقعت پید اکر دی۔ پھر بادشاہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ علیہ السلام مجھے خود اس خواب کی تعبیر بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے پہلے اس کے خواب کی ایسی تفصیلات بتلائیں جوا ب تک بادشاہ نے بھی کسی نے ذکر نہیں کی تھیں۔ پھر تعبیر بتلائی۔ بادشاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ یہ تفصیلات آپ علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوئیں؟ 

بادشاہ نے ملک کا انتظام آپ علیہ السلام کو سونپ دیا

حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتائی۔ مولانا مفتی محمد شفیع ، امام بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے مشورہ طلب کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے تو آپ علیہ السلام نے مشورہ دیا۔ کہ پہلے سات سال سال جن میں خوب بارش ہونے والی ہے ان میں آپ زیادہ سے زیادہ غلّہ کا شت کر ا کے غلّہ اگانے کا انتظام کریں اور سب لوگوں کو ہدایت کریں کہ اپنی اپنی زمینوں میں زیادہ سے زیادہ کاشت کریں اور جتنا غلّہ حاصل ہواس میں سے پانچواں حصہ اپنے پاس ذخیرہ کرتے رہیں۔ اس طرح اہل مصر کے پاس قحط کے سات سال کے لئے بھی ذخیرہ جمع ہو جائے گا۔ اور آپ ان کی طرف سے بے فکر ہوں گے۔ حکومت کو جتنا بھی غلہ سرکاری محصول یا سرکاری زمینوں سے حاصل ہو اس کو باہر کے لوگوں کے لئے محفوظ رکھیں کیوں کہ یہ قحط دور دراز کے علاقوں تک پھیلے گا اور باہر کے لوگ اس وقت آپ کے محتاج ہوں گے۔ اس وقت آپ غلہ دے کر دوسرے انسانوں کی امداد کریں اور قیمت بھی معمولی رکھیں تو سرکاری خزانے میں اتنا مال جمع ہو جائے گا جتنا پہلے کبھی جمع نہیں ہوا ہوگا۔ بادشاہ یہ مشورہ سن کر بہت مسرور او رمطمئن ہوا۔ مگر کہنے لگا اس عظیم منصوبہ کا انتظام کیسے ہو گا اور کون کرے گا؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ملک کے خزانے ( جن میں زمین کی پیداور بھی شامل ہے) آپ میرے سپرد کر دیں میں ان کی حفاظت پوری طرح کر سکتا ہوں۔ اور امانت دار بھی ہوں۔ بادشاہ حالانکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے کمالات کا گرویدہ اور دیانت اور عقل کا مل کا پورا معتقد ہو چکا تھا۔ مگر بالفعل وزارت خزانہ کا منصب آپ علیہ السلام کے سپر د نہیں کیا بلکہ ایک سال تک آپ علیہ السلام کو مہمان بنا کر رکھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران آپ علیہ السلام کے بارے میں مکمل تحقیق ہو جائے کہ آپ علیہ السلام اس منصب کو سنبھال سکتے ہیں یا نہیں ۔پھر ایک سال کے بعد بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو وزیر خزانہ بنانے کےساتھ ساتھ پورے ملک مصر کا مالک بھی بنا دیا اور انتظام آپ علیہ السلام کے سپر د کر دیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ملک مصر کا مالک بنا دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اسی طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کو ملک ( مصر) کا قبضہ دے دیا۔ کہ وہ (ملک مصر میں ) جہاں کہیں چاہیں رہے سہے۔ ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ اور ہم نیک لوگوں کا اجر ( ثواب) ضائع نہیں کرتے ہیں۔ یقینا ایمان والوں اور گناہوں سے پرہیز کرنے والوں کا آخرت کا اجر ( دنیا کے مقابلے میں ) بہت ہ بہتر ہے۔ (سورہ یوسف آیت نمبر56اور 57) مفتی احمد یار خان نعیمی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ روایتوں میں ہے کہ بادشاہ نے عزیز مصر قطفیر کو معزول کر کے حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر بنایا تو اپنا تاج اور اپنا تخت اور اپنی مہر کی انگوٹھی بھی دے دی۔ آپ علیہ السلام نے تاج واپس کر دیا کہ یہ میرا اور میرے آباﺅ اجداد کا لباس نہیں ہے۔ لیکن شاہی تخت پر بیٹھے اور انگوٹھی لے لی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس تخت کے ذریعے میں آپ کی حکومت اور ملک کو مضبوط کروں گا۔ اور انگوٹھی کے ذریعے تمہارے قانون کو لاگو کروں گا۔ بادشاہ نے کہا۔ اے یوسف ( علیہ السلام ) تم قانوناً تو عزیز یعنی وزیر اعظم ہو مگر اصلیت میں ہمارے دلوں کے بادشاہ ہو۔ یہ سب کچھ تمہاری عزت افزائی کےلئے ہے۔ جس دن حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر بنائے گئے اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک ایک روایت کے مطابق تیس30سال تھی۔ اور ایک روایت کے مطابق47 سال تھی۔ اور علمائے کرام کی اکثریت اسی پر ہے۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) یہ کرم نوازیاں حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں اپنی رحمتیں عطا فرماتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ بندہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ہر حال میں ہمارے دروازے پر ہی رہے۔ اور ہم نیک لوگوں کا بدلہ ضائع نہیں کرتے مگر بندے کو چاہئے کہ آخر ت کا طلب گار بنے۔ اور دنیا میں کسی نیکی کا بدلہ نہیں مانگے یہ خسارہ ہے۔ ہاں خود سے مل جائے تو خوب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر ے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ عہدہ اور تخت وغیرہ ایک سال بعد ملا۔ بادشاہ نے تمام خزانے آپ علیہ السلام کے حوالے کر دیئے۔ یہاں تک کہ اپنی خصوصی تلوار بھی دےدی۔ اور تمام دربار ، فوج اور پولس کا مالک بھی بنا دیا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کے انتظامات

حضرت یوسف علیہ السلام نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پانچ کام کئے۔ پہلا کام یہ کہ سارے ملک کے کسانوں کو کھیتی باڑی پر لگا دیا۔ صحرا، میدانی علاقہ ، پہاڑی زمینوں میں گندم کی پیداوار کی طرف متوجہ ہو گئے۔ چھوٹی اور شہری زمینوں میں دوسری ضروریات کی پیداوار ہوتی رہی۔ دوسرا کام یہ کیا کہ تمام معماروں ( مستریوں) کو بڑے بڑے گودام بنانے پر مقرر کر دیا۔ اور فوجیوں اور مزدوروں کو اس کی دیکھ ریکھ اور مزدوری پر لگا دیا۔ تیسرا کام یہ کیا کہ ہر شخص کی خوراک تہائی کر دی۔ زیادہ سے زیادہ غلّہ ، پھل فروٹ، میوے اور زیتون وغیرہ اگا کر وہ سار ا ہی دربار میں لایا جاتا تھا۔ پھر وہاں اس کے تین حصے کئے جاتے تھے۔سب سے بڑا حصہ گوداموں میں جمع کر دیا جاتا تھا۔ اس سے چھوٹا حصہ کنبے یعنی گھرانے یا پریوار کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا۔ ان سالوں میں ہر شخص کو اس کے کام کی مزدوری الگ سے دی جاتی تھی چاہے وہ کسان ہو یا دوسرے کام کرنےوالا ۔ تیسرا سب سے چھوٹا حصہ آئندہ سال بونے کے لئے رکھ لیا جاتا تھا۔ چوتھا کام آپ علیہ السلام نے یہ کیا کہ اہل دربار کو بھی سارے ملک میں مختلف کاموں کی نگرانی پر لگا دیا۔ پانچواں کام یہ کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود ہفتہ وار دورے پر نکلتے۔ اور چھ دن دربار لگاتے۔ آنے جانے والوں کی ملاقات ، مشکلات ، شکایات روئداد ،کارکردگی کا تخمینہ لگایا جاتا تھا۔ غرض یہ کہ عجب رواں دواں ، دوڑ دھوپ کا زمانہ تھا۔ مورخین فرماتے ہیں کہ اتنی مصروفیات کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص ہر کام بہت عشق و محبت سے کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ سات سال کا عرصہ گزر گیا۔ نئے پرانے گودام سب بھر گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ اتنا غلہ اور ضروری سامان جمع ہو گیا جو مصر اور آس پاس کے تمام علاقوں کے لئے سات سال تک بلکہ اس سے زیادہ وقت تک کافی تھا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں بھائی حاضر ہوئے

حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہ نے پورے ملک کا انتظام دے دیا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق اپنی شہزادی کا نکاح بھی آپ علیہ السلام سے کر دیا تھا۔ اور کئی روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ عزیز مصر کے انتقال کے بعد بادشاہ نے زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام سے کر وادیا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پورے ملک کا انتظام ان سات سالوں میں بہت اچھے طریقے سے سنبھال رہے تھے۔ فرعون یعنی بادشاہ کو آپ علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ علیہ السلام پور ے مصر کی عوام کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر تے تھے۔ اور ہر ایک کی دکھ درد میں مدد کرتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت بھی دیتے جاتے تھے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اچھے خاصے لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ اور بہت سے لوگ کفر پر قائم رہے۔ آپ علیہ السلام کے بہترین سلوک کی وجہ سے پورے مصر کی عوام آپ علیہ السلا م کی بے حد عزت کرتی تھی۔ جب قحط کے سات سال شروع ہوئے تو پورے ملک مصر پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا لیکن چونکہ آس پاس کے ملکوں نے کوئی انتظام نہیں کیا تھا اس لئے وہ تمام ممالک قحط کا شکار ہو گئے۔ ان میں ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) بھی تھا۔ جس کی سرحد مصر سے بالکل لگ کر ہے۔ فلسطین میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اور والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام رہتے تھے۔ اور وہ لوگ بھی قحط کا شکار ہو گئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ مصر پر قحط کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ بلکہ اس کے پاس اتنا اناج اور دوسری چیزیں ہیں کہ وہ دوسرے ملک والوں کو فروخت کر رہے ہیں تو آپ علیہ السلام کے بھائی بھی اناج اور کھانے پینے کا سامان خریدنے مصر آئے۔ انہوں نے مصر کے بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا لیکن پہچان نہیں سکے۔ کیوں کہ عمر کے ساتھ ساتھ آپ علیہ السلام کی شکل و صورت اور جسمانی بناوٹ میں بھی بہت فرق ہو چکا تھا۔ حالانکہ آپ علیہ السلام کی شکل دیکھ کر انہیں کچھ شک ہو اکہ اس بادشاہ کی شکل ہمارے بھائی یوسف (علیہ السلام ) سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ یوسف ( علیہ السلام ) کو تو ہم نے غلام بنا کر بیچ ڈالا تھا وہ غلام اتنے بڑے ملک کا حکمراں کیسے بن سکتا ہے؟ اس لئے وہ آپ علیہ السلام کو پہچان نہیں سکے۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے پہچان لیا ۔

بن یامن کو لے کر آنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” یوسف (علیہ السلام )کے بھائی آئے تو آپ علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا۔ اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو نہیں پہچانا۔ جب انہیں ان کا سامان یعنی مال و اسباب دے دیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میرے پاس اپنے بھائی ( بن یامن) کو بھی لے کر آنا جو تمہارے والد محترم کے پاس ہے۔ کیا تم نے دیکھانہیں کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں۔ اور میں بہترین میز بانی کرنے والوں میں سے بھی ہوں۔ پس اگر تم اسے لے کر نہیں آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی بھی سامان نہیں ملے گا۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہیں پھٹکنا۔اور اپنے خدمت گاروں سے فرمایا کہ ان کی رقم ان کے سامان ( بوروں ) میں رکھ دو۔ کہ جب یہ اپنے گھر لوٹ کر جائیں اور رقم کو اپنے سامان میں رکھی ہوئی دیکھیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر58سے 62تک) حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا۔ اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو میرے پاس حاضر کرو۔ جب دسوں بھائی آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حکمراں ہونے کی حیثیت سے ان دسوں بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتادیں کہ پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ کرنے کو بھی منع فرما دیا ہے۔ اس لئے ہم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو بھی کسی بھی قسم کا سجدہ نہیں کر سکتے۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا۔ تم لوگ کہاں سے آئے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ ہم ملک کنعان سے آئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا کیا تم الگ الگ گھر سے آئے ہو؟ یا ایک ہی گھر کے ہوا؟ تو انہوں نے کہا۔ ہم سگے بھائی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تم لوگ صرف دس بھائی ہو یا اور بھی بھائی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہم بارہ بھائی تھے ۔ ایک بھائی یوسف ( علیہ السلام )گم ہو گیا ہے۔ اور سب سے چھوٹا بھائی بن یامن ہمارے والد صاحب کے پاس ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے تم جا کر اناج اور سامان لے لو۔ اور جب اگلی مرتبہ آنا تو اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور لانا تا کہ تمہیں اور زیادہ اناج اور سامان ملے۔ اور دیکھو اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور لانا۔ ورنہ میں تمہیں اناج اور سامان نہیں دوں گا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں