بدھ، 26 اپریل، 2023

09 حضرت لوط علیہ السلام Story of Prophet Loot



 09 حضرت لوط علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 8

قسط نمبر 9

عذاب کا علاقہ ایمان والوں کے لئے عبرت کی جگہ۔

اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے کہ اِس میں (قوم سدوم کے شہروں میں ) ایمان والوں کے لئے نشانی ہے۔ اِس علاقے کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سر سبز وشاداب حصّہ وہ تھاجسے بائیبل میں ”سدیم کی وادی“ کہا گیا ہے۔جسکے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ وہ اس سے پیشترکہ خدا وند نے سدوم اور عمورہ کو تباہ کیا۔خداوند کے باغ (عدن) اور مِصر کے مانند خوب سیراب تھی۔(کتاب پیدائش باب نمبر 13 آیت نمبر 10۔) موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ سدوم کی وادی اب بحیرئہ مُردار کے اندر غرق ہے ۔اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔قدیم زمانے میں بحیرئہ مُردار اتناوسیع نہیں تھا جتنا اب ہے شرق اُردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا ساجنریرہ نما”اللّسان “ پایا جاتاہے۔ قدیم زمانے میں بس یہی پانی کی آخری سرحد تھا۔اس کے نیچے کا حصّہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے۔پہلے ایک سر سبزوادی کی شکل میں آباد تھا، اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوط کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ ،آدمہ ،صبویم اور ضفرواقع تھے ۔دوہزار قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں الگ زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرئہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھاگیا۔آج بھی یہ بحیر ے کا سب سے زیادہ اُتھلا حصّہ ہے۔مگر رومی عہدمیں یہ اِتنا اُتھلا نہیں تھا۔اور لوگ اللسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں گزر جاتے تھے۔اِس وقت بھی یعنی آج بھی جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظرآتے ہیں ۔ بلکہ یہ شبہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی کے اندر کچھ عمارات کے کھنڈر ڈوبے ہوئے ہیں۔بائیبل اور قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتو ہے کہ اس علاقے میں جگہ جگہ نقطہ (پٹرولی) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے۔اور بعض جگہ زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی ہے۔اب بھی وہاں زیر زمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتاہے۔طبقات الارضی مشاہدات سے اندازہ کیاگیاہے۔ کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرولی ، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اُٹھے ۔ اور سارا علاقہ بھک سے اُڑگیا تھا۔بائیبل کا بیان ہے کہ اِس تباہی کی اطلاع پاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام جب حبرون ( الخلیل ) سے اِس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے اِس طرح دھواں اُٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں اُٹھتا ہے۔

عقل والوں کے لئے عبرت کی نشانی۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت میں حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم اور اُس پر عذاب کے واقعہ کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا۔ ترجمہ۔ ”یقینا ہم نے اِس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنادیا اُن لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر۵۳۔) مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس کُھلی (صریح) نشانی سے مراد بحیر ئہ مُردار ہے ۔جسے بحیر لوط بھی کہا جا تا ہے ۔قرآن پاک میں متعدومقامات پر کفّا رمکہ کو (خصوصی طور سے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوںکو عمومی طورسے) خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اِس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا ہے۔ اُسکی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام (ہائی وے) پر موجود ہے۔ جسے تم ملک شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب اور روز دیکھتے ہو۔ موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرئہ مردار کا جنوبی حصّہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا ہے۔ اور اِسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکذی شہر سدوم واقع تھا۔ اِس حصّے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثارا ب بھی پائے جاتے ہیں۔حال ہی میں جدید آلات غوطہ خوری کی مدد سے یہ کوشش شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ پانی میں نیچے جاکر اِن آثار کی جستجوکریں ۔ لیکن ابھی تک اِن کو ششوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ اورا نشااللہ کوئی بھی اِس بارے میں جان نہیں پائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب کے وقت ایسی کیمیائی بارش برسائی تھی کہ اُسکی وجہ سے بحر مردار کا پانی ایسا ہوگیا ہے کہ اُس پانی میں کوئی ڈوب ہی نہیں سکتا۔ چاہے اُسے تیرنا آتا ہو یا نہیں آتا ہو۔اور کوئی بھی اِس پانی میں نیچے جانے کی کوشش کرے گا یا کرتاہے تو وہ پانی اُسے اوپر پھینک دیتا ہے۔

ہم جنس پرست کے لئے آج بھی اللہ کا عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم اور اُن کے بُرے فعل ہم جنس پر ستی اور اُن پر عذاب کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اور سورہ ھود میں تو سب بیان فرمانے کے بعد فرمایا ترجمہ۔ ”اور وہ اِن ظالموں سے دور نہیں ہیں۔“ (سور ہ ھود آیت نمبر 83۔) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ آیت کے آخر میں قومِ لوط کا عذاب ذکر کرنے کے بعد موجودہ اقوام دنیا کو متنبہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ پتھراﺅ کا عذاب آج بھی ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ جو لوگ اُس قوم (قوم سدوم ) کے طرح ظلم وحیائی پر جمے رہیں گے وہ اپنے آپ کو اُس عذاب سے دُور نہیں سمجھیں ۔ آج بھی یہ عذاب آسکتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں بھی کچھ لوگ وہ عمل کریں گے جو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کرتی تھی۔ جب ایسا ہونے لگے تو انتظار کرو کہ اُن پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم لوط پر آیا تھا۔ اسکے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم !وہ عذاب اب بھی کچھ دور نہیں ہے ۔اگر ظالم ،ظلم و بد کاری سے باز نہیں آئے تو اب بھی اُس طرح کا عذاب آ سکتا ہے۔یہ کفار توآپ صلی اﷲ وعلیہ وسلم کے طفیل بچے ہوئے ہیں ۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔دِن اور رات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ حتیٰ کہ اس اُمت کے مرد ،مردوں کی پشت کو حلال کرلیں گے جیسا کہ اُنھوں نے عورتوں کی پشت کو حلال کرلیا۔ پھر اُمت کے لوگوں پر پتھروں کی بارش ہوگی ۔یہاں یہ بات ذہین میں رکھیں کہ یہودی اور عیسائی اور کافر بلکہ تمام انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں۔ ہاں اُمت مسلمہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کہ وہ ہمیں اِس لعنتی عمل سے بچائے۔

ہم جنس پرست آدمی کی سزا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ اُنھوں نے عرب کے نواح میں ایک آدمی کو ہم جنس پرستی کرتے ہوئے پایا ہے۔ اور اُنھوں نے اِس پر شواہدقائم کردئیے ۔تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ تو حضر ت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ سوائے ایک اُمت کے کسی اور اُمت نے اِس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُس ایک اُمت کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اُسے آپ سب جانتے ہیں،میری رائے یہ ہے کہ اُسے آگ میں جلا دیا جائے۔اور تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم بھی اِس بات پر متفق ہو گئے کہ اُس آدمی کو جلادیا جائے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اُسے آگ میں جلادیں۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِحکومت میں ہم جنس پرستوں کو جلا دیا تھا۔ پھر ہشام بن عبدالملک نے بھی ہم جنس پر ستوں کو جلانے کی سزا دی۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ آدمی جسے تم پاﺅ کہ وہ قوم سدوم کے جیسا عمل کررہاہے۔یعنی اگر کسی کو ہم جنسی کرتے ہوئے دیکھوتو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ہم جنس پر ست کی یعنی ہم جنسی کرنے والے کی سزا کیا ہے۔؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اسے شہر یا گاﺅں کی سب سے اونچی عمارت پر کھڑا کرکے (لوگوں کو ) دکھایا جائے ۔ اور اوندھاکر کے وہا ں سے نیچے پھینک دیا جائے ۔ پھر اُس پر پتھر برسائے جائیں ۔ حضرت یزید بن قیس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم جنس پرست کو رجم کیا ہے۔(یعنی زمین آدھا گاڑکر پتھر مار مار کر قتل کردیا۔) حضرت امام ابن شہاب رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ ہم جنسی کرنے والے کو رجم کیا جائے ۔ چاہے وہ محصن ہو یا نہ ہو ۔ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے لئے مناسب ہوتا کہ اُسے دوبارہ رجم کیا جائے تو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم جنسی کرنے والے کو دوباررجم کیا جاتا۔ 

ہم جنس پرست پر اللہ کا غضب 

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” چا ر قسم کے لوگ اپنی صبح بھی اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کی حالت میں کرتے ہیں۔(یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ناراض رہتاہے۔) اور اپنی شام بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں کرتے ہیں۔“ عرض کیا گیا۔ یارسول اللہ صلی علیہ وسلم وہ چار قِسم کے لوگ کون ہیں؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” پہلی قِسم اُن مردوں کی ہے۔ جو عورتوں کی مشابہت اختیا ر کرتے ہیں ۔دوسری قِسم اُن عورتوں کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔تیسری قِسم اُن مردوں اور عورتوں کی ہے جو چوپایو ں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہیں۔ اور چوتھی قِسم اُن مردوں اور عورتوں کی ہے جو ہم جنسی کرتے ہیں۔ “

آج کے زمانے کے ہم جنس پرست۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں ایمان کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ پوری اُمت مسلمہ کو ہم جنسی کی لعنت سے بچائے ۔ آمین ۔ آج کے زمانے میں دنیا کا کنٹرول یہوویوں (اسرائیل ) اور عیسائیوں (امریکہ) کے ہاتھ میں ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی موت ہو چکی ہے، اور امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور لگ بھگ پورے یورپ میں خاندانی رشتے تباہ ہو چکے ہیں۔ اِن میں آسڑیلیا اور اسرائیل بھی شامل ہے۔ اِن ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی حق دیا جارہا ہے۔اُن کی تہذیب مرچُکی ہے اور اُ ن کے اخلاق کاجنازہ نکل رہا ہے۔اور وہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا اُن کی طرح جانور بن جائے ۔افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہندوستان میں بھی اُن کی تقلید کی جارہی ہے۔ اور ابھی حال ہی میں کلکتہ میں ہم جنس پرستوں نے ہم جنسی کو قانونی اجازت دینے کی مانگ کی تھی ۔ ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دنیا والوں کو اِس لعنتی عمل کے نقصانات بتائیں اور اِس سے بچانے کی کوشش کریں ۔اللہ تعالیٰ سے ہی دُعا ہے کہ اُمت مِسلمہ کی نوجوان نسل اِسکے نقصانات کو سمجھے اور دوسروں کو بھی سمجھائے۔

حضرت لوط علیہ السلام کا وصال۔

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھروالوں کو لیکر اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فلسطین میں الخلیل میں چلے گئے ۔ اور بقیہ زندگی وہیں گذاری یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو اپنی جو ارِرحمت میں بُلا لیا۔ 

اگلی کتاب

قارئین کرام ،حضرت لوط علیہ السلام کو ذکر مکمل ہوا۔

 اب انشااللہ آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حلات پیش کریں گے۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں