ہفتہ، 29 اپریل، 2023

حضرت اسحاق ،یعقوب،یوسف مکمل Story of Prophet Ishaque, Yaqoob, Yusuf



حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قارئین کرام ، حضرت لوط علیہ السلام کے حالات بیان کرنے کے دوران ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات انشاءاللہ آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی مدد سے ہم اپنا وعدہ پورا کررہے ہیں۔ان تینوں انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات تسلسل سے ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس لئے آپ کو ادھورا پن نہ لگے یہی ذہن میں رکھ کر ان تینوں کے حالات ہم ایک ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

حضرت اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کی بشارت

حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی بشارت کے بارے میں ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام (سلسلہ نمبر 7) اور حضرت لوط علیہ السلام (سلسلہ نمبر8) میں ہم بتا چکے ہیں۔ یہاں ہم صرف قرآن پاک کی آیات پیش کرر ہے ہیں۔ تاکہ ادھورے پن کا احساس نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ہمارے بھےجے ہوئے قاصد ابراہیم( علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لیکر پہونچے اور سلام کیا۔ انھوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغےر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ جب دیکھا کہ وہ لوگ (مہمان)کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں تو دل ہی دل میں پریشان ہوئے۔ انھوں نے کہا۔آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ان کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) جو بےوی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ تو ہم نے (یعنی ہمارے قاصدوں نے) اسے اسحاق( علیہ السلام )اوران کے بعد (ان کے بےٹے) یعقوب (علیہ السلام ) کی بشارت دی۔ وہ کہنے لگی ہائے میری کمبختی ، مجھے اولاد کیسے ہوسکتی ہے جبکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور مےرے شوہر کی عمر مجھ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تو یقینا بڑی عجےب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا۔ تم اللہ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔ بےشک وہ ہی تمام حمد و ثنا کے لائق ہے اور بڑی شان والا ہے۔ “(سورہ ہود آےت نمبر69سے 73تک)اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ۔” انھیں ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا حال سنا دو۔ جب انھوں نے ان کے پاس آکر سلام کیا تو انھوں نے کہا۔ ہمیں تو تم سے خوف آرہا ہے۔ انھوں نے کہا۔ آپ (علیہ السلام ) خوف نہ کھائے ۔ ہم آپ (علیہ السلام ) کو ایک علیم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں ۔ (یعنی علم والے بیٹے کی ) آپ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم بشارت دے رہے ہو۔ یہ بشارت تم کس بنا پر دے رہے ہو؟ انھوں نے کہا۔ ہم آپ (علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) سچی بشارت دے رہے ہیں۔ اور آپ ( علیہ السلام ) مایوس لوگوںمیں شامل نہ ہوں۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا۔ اپنے رب (اللہ تعالیٰ ) کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ اور بہکے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر 51سے 56تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاء میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ ”اور ہم نے اسے اسحاق علیہ السلام عطا فرمایا اور پھر مزید یعقوب علیہ السلام بھی عطا فرمایا۔( سورہ الانبیاء آیت نمبر 72)

حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بیٹے کی بشارت دی اور فرمایا کہ وہ علم والا ہوگا۔ یہ بشارت آپ علیہ السلام کو اس وقت ملی جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بشارت دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا کہ اسکا نام اسحاق علیہ السلام ہوگا۔ یعنی نام بھی اللہ تعالیٰ نے رکھا۔ اور بیٹے کی بشارت کے ساتھ ساتھ پوتے کی بھی بشارت بھی دی اور اسکا نام بھی رکھ دیا کہ اسکا نام یعقوب علیہ السلام ہوگا۔ اور اگلے سال ہی حضرت اسحاق علیہ پیدا ہوئے۔ اور اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر لگ بھگ چودہ برس تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی سارہ رضی اللہ عنما اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ملک کنعان(حالیہ فلسطین) کے ایک شہر”الخلیل“ میں رہائش پذیر تھے۔ الخلیل کو حبرون بھی کہا جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں مقیم رہیں۔ جب حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ تم کسی کنعانی لڑکی سے نکاح مت کرنا۔ بلکہ ہمارے رشتہ دار کی لڑکی سے نکاح کرنا۔ حضرت ابراہم علیہ السلام کے دو بھائی تھے۔ ایک کا نام ہاران اور دوسرے کا نام ناحور تھا۔ ناحور کے بیٹے کا نام بتویل تھا اور بتویل کے بیٹے کانام لابان تھا۔ اور بیٹی کا نام رفقاء تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ رفقاء بنت بتویل سے نکاح کریں۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے والد محترم کے حکم کو پورا کرتے ہوئے رفقاء بنت بتویل سے نکاح کرلیا۔ 


حضرت یعقوب علیہ السلام کی پیدائش 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لگ بھگ تیرہ 13 بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ ان کے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قنطورہ سے نکاح کیا۔ ان سے چھ بیٹے زمران ، یشقان ، مادان ، مدین، شیاق اور شوح پیدا ہوئے۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجور بنت ارہیر سے نکاح کیا۔ اور ان سے پانچ بیٹے ہوئے۔ کیسان ، شورخ ، امیم ، موطان اور نافس پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے والد کے ساتھ الخلیل میں رہے۔ اور باقی بیٹے الگ الگ علاقوں میں آباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی اولاد سے نوازا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کے بیانات کے مطابق حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی رفقاء بنت بتوابیل سے نکاح کیا تو اس وقت ان کی عمر 40چالیس سال تھی۔ اور ان کی بیوی بانجھ تھی۔ لیکن حضرت اسحاق علیہ السلام نے جب اپنی بیوی کے حق میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو اسطرح قبول کیا کہ انھیں جڑواں یعنی ایک ساتھ دو بیٹے عطا فرمائے۔ اسطرح آپ علیہ السلام کو جڑواں بیٹے عیصو اور یعقوب پیدا ہوئے۔ عیصو پہلے پیدا ہوئے پھر یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے پہلے پیدا ہونے والے بیٹے کا عیصو رکھا۔ اور بعد میں پیدا ہونے والے بیٹے کا نام یعقوب رکھا۔ اور یعقوب کے معنی ہے ۔پیچھے آنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسرائیل کا لقب عطا فرمایاتھا۔ اور آپ علیہ السلام کی اولاد بنو اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔

عیص (عیصو) کا نکاح

جب عیص اور حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔ ان کی نوجوانی میں دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلالیا۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور آپ علیہ السلام ملک کنعان میں اپنے والد محترم کے کام (اسلام کی دعوت) کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جبکہ ان کے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی نبوت سے سرفراز فرمادیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ میں نبوت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بیٹے عیص کو پیار سے عیصو کہہ پکارتے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام اکثر دونوں بھائی ایکدوسرے سے ملاقات کرتے تھے۔ جب عیصو جوان ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی سے فرمایا ہے اپنے بڑے بیٹے کا نکاح میری بیٹی سے کردو۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی کے حکم کو پورا کیا۔ اور عیصو کا نکاح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹی بسمہ بنت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کردیا۔ ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا جن کا نام عیصو نے روم رکھا۔اور روم بن عیص کی اولاد بنو اصغر(رومی) کہلائی۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کو نبوت کی بشارت 

حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے عیص(عیصو) کا نکاح اپنے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹی سے کردیا۔ تو اپنے دوسرے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کے نکاح کی فکر ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بےٹے کو حکم دیا کہ وہ کسی کنعانی عورت سے نکاح نہ کریں بلکہ اپنے ماموں لابان بن بتویل یا ناحور کے پاس جائیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے والد کے حکم کو پوراکرنے کےلئے اپنے ماموں کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک جگہ قیام فرمایا ۔ اور ایک پتھر سے ٹیک لگا کر یا تکیہ بنا کر سوگئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا آسمان سے فرشتے نیچے اتر رہے ہیں اور اوپر چڑھ رہے ہیں۔ اور ایک فرشتے نے آکر آپ علیہ السلام کو بشارت دی ۔کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت بھی دی کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے سلسلے کو جاری رکھے گا۔ اس جگہ کا نام حجر اسلئے پڑ گیا تھا۔ بعد میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس جگہ کا نام ایل رکھ دیا۔ جسکے معنی بیت اللہ ہوتا ہے ۔ اور انھوں نے وہاں ایک مسجد تعمیر فرمائی۔ جو آج بیت المقدس کے نام سے مشہور ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا نکاح 

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے ماموں لابان کے پاس حران میں آئے اور انھےں اپنے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کا پیغام دیا۔ تو ان کے ماموں لابان نے ان سے فرمایا ۔ کیا نکاح اور مہر کےلئے تمھارے پاس کچھ مال ہے؟ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے۔ لابان کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی کا نام لیا اور چھوٹی بیٹی کا نام راحیل تھا۔ لیا عام شکل و صورت کی تھی اور نظر بھی کچھ کمزور تھی۔ جبکہ راحیل بہت ہی خوبصورت تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے چھوٹی بیٹی کو پسند کیا۔ لیکن ان کے ماموں لابان نے کہا کہ میں پہلے بڑی بیٹی کا نکاح کروں گا۔ اور اگر تمھیں راحیل سے نکاح کرنا ہے تو اس کی ایک شرط یہ ہے کہ پہلے تمھیں لیا سے نکاح کرنا ہوگا۔ اور اسکا مہر یہ ہوگا کہ تم سات سال میری بکریاں چراﺅ گے۔ اسکے بعد راحیل سے نکاح ہوگا اور اسکا مہر یہ ہوگا کہ تم سات سال اور میری بکریاں چراﺅ گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس شرط کو منظور کرلیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح جائز تھا۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام کے بعد دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح حرام کر دیا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں بھی یہی ہے ۔ ہاں اس بات کی اجازت ہے کہ اگر ایک بہن نکاح میں ہے اور اسکا انتقال ہوگیا تو دوسری بہن سے نکاح کرسکتا ہے۔ 

عیصو رومیوں کے باپ 

حضرت یعقوب علیہ السلام نے وعدہ کے مطابق بکریاں چرائیں اور جب مدت پوری ہوگئی تو آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں کو لیکر گھر واپس جانے کی اجازت اپنے ماموں سے طلب کی ۔ ان کے ماموں لابان نے اپنی دونوں بیٹیوں کی خدمت کےلئے ایک ایک کنیز دی۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو گھوڑے ،اونٹ اور کافی بکریاں دیں۔ ان سب کو لیکر حضرت یعقوب علیہ السلام گھر واپس آئے اور بڑے بھائی نے گرم جوشی سے چھوٹے بھائی کا استقبال کیا۔ اور دونوں بھائی اپنے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ رہنے لگے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر ایک سو ساٹھ 160سال ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلوالیا۔ عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دادی سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے بازو میں اپنے والدِ محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کو الخلیل میں دفن کردیا۔ الخلیل کو حبرون بھی کہا جاتا ہے۔ والد محترم کے انتقال کے بعد عیصو کا دل ملک کنعان سے اچاٹ ہو گیا ۔ اور چھوٹے بھائی کو فلسطین میں چھوڑ کر دوسرے علاقے میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے عیصو کی اولادمیں بہت برکت دی اور ان کی نسل بڑھتے بڑھتے ساحل سمندر اور اسکندریہ کی سرحد تک بلکہ اس سے بھی آگے سمندر پار کر کے روم تک پہنچ گئی۔ اور روم میں خوب پھولی پھلی۔ اسی لئے عیصو کو رومیوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ اور رومی چونکہ بنی اسماعیل ( حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد) اور بنی اسرائیل ( حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ) کے بھائی ہیں۔ اسی لئے انہیں عرب میں عام طور سے بنو اصغر کہا جاتا تھا۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد اور لقب ” اسرائیل“

حضرت یعقوب علیہ السلام کے ماموں لابان نے اپنی بڑی بیٹی لیا کو جو کنیز دی تھی اس کا نام زلفی تھا۔ اور چھوٹی بہن راحیل کو جو کنیزدی تھی اس کا نام بلہی تھا۔ دونوں بہنوں نے اپنی کنیزوں کو حضرت یعقوب علیہ السلام کو ہبہ کر دیا۔ ان کنیزوں سے بھی آپ علیہ السلام کو اولادیں ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کی کئی بیٹیاں تھیں۔ اور بارہ 12بیٹے ہیں۔ ان کے نام روبیل، یہود، شمعون ، لاوی، لیالون، یشحریا یسحر، دان ، یفتامی، جاد، حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہیں۔ ان میں سے حضرت یوسف علیہ السلام علیہ السلام اور بن یامن کی والدہ راحیل ہیں۔ اور باقی دوسرے بیٹے لیا اور دونوں کنیزوں کے بیٹے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی اس عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ” اسرائیل“ کا لقب عطا فرمایا ہے۔ اسرائیل کا معنی ہوتا ہے ۔ بہت زیادہ عبادت گزار بندہ۔ اسی لقب کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد” بنی اسرائیل“ کہلائی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کا بچپن

حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کے دس بھائی بڑے تھے۔ اور صرف بن یامن ان سے چھوٹے تھے۔ تمام بھائیوں میں حضرت یوسف علیہ السلام سب سے خوب صورت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ حسن عطا فرمایا تھا کہ ان سے پہلے کسی کو نہیں عطا فرمایا تھا۔ اور ان کے بعد صرف سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی زیادہ خوب صورت ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات میں سب سے زیادہ خوب صورت بنایا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اور ان کی والدہ راحیل کو اللہ تعالیٰ نے حسن کا ایک بہت بڑا حصہ عطا فرمایا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دودھ پینے کی مدت پوری کر لی تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی تربیت کے لئے اپنی سب سے بڑی بہن کے حوالے کر دیا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام اپنی پھوپھی کی زیر نگرانی پرورش پانے لگے۔ ان کی پھوپھی ان سے بہت زیادہ محبت کرتی تھیں۔ 

پھوپھی نے محبت سے روک لیا

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی بڑی بہن کے پاس پرورش کے لئے بھیج دیا ۔ تا کہ دیہات کی صاف ستھری ہوا میں آپ علیہ السلام بڑے ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی تو اپنے پیارے بھتیجے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئی۔ انہیں اس پیارے بھتیجے سے بہت محبت ہو گئی۔ اور وہ آپ علیہ السلام کا بہت خیال رکھنے لگی۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر مبارک لگ بھگ سات یا آٹھ سال تھی تو حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو لینے کے لئے آئے تو بہن نے کہا بھائی! یہ تو ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے ایک دو ہفتہ رکھوں تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی بہن کی بات مان لی اور واپس چلے گئے۔ 


والد محترم کی خدمت میں

حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی اپنے بھتیجے سے بہت محبت کرتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ کسی بھی تدبیر سے اپنے بھتیجے کو روک لیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ایک کمر بند تھا جو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی کو دیا تھا۔ کیوں کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پہلی اولاد تھیں۔ انہوں نے وہ کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر میں باندھ دیا اوراوپر سے کپڑے پہنا دیئے۔ اس کے بعد گھر میں اعلان کیا کہ میرے والد کا کمر بندگم ہو گیا ہے۔ سب لوگ اسے ڈھونڈ نے لگے۔ ہر فرد کی تلاشی لی گئی تو وہ کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر سے بندھا ہو املا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں یہ قاعدہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز چرائے تو چوری کرنے والا جس کی چیز چوری کرے گا تو وہ اس کا غلام بنا لیا جائے گا۔ اسی قاعدے کی بنا پر آپ علیہ السلام کی پھوپھی نے کہا۔ اب یوسف ( علیہ السلام )پر میرا اختیار ہے۔ جب حضرت یعقوب اپنے بیٹے کو لینے آئے تو بڑی بہن نے تمام واقعہ بتایا تو آپ علیہ السلام مجبور ہو گئے۔ اور خالی ہاتھ واپس چلے گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی کو احساس تھا کہ انہوں نے غلط کام کیا ہے۔ اس لئے جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے تمام رشتہ داروں اور خاندان والوں کو بلایا اور یہ اقرار کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ اور غلطی میری ہے اس کے لئے مجھے معاف کر دیں۔ اور ان کا انتقال ہو گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اس وقت بارہ سال تھی۔ اور آپ علیہ السلام کو ان کے والد محترم یعقوب علیہ السلام اپنے گھر آئے۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو گھر لے آئے ۔ وہ حضرت یوسف علیہ السلام پر بہت توجہ دیتے تھے کیوں کہ لگ بھگ دس سال بعد انہیں بیٹا واپس ملا تھا۔ ا س کے علاوہ آپ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ لیکن اس سے پہلے وہ ان کی آزمائش لے گا۔ لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ آزمائش کس طرح لے گا۔ اسی وجہ سے وہ حضرت یوسف علیہ السلام پر اور زیادہ توجہ دینے لگے۔ اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا تو وہ خواب اپنے والد محترم کو سنایا۔ اللہ تعالیٰ ا س خواب کے بارے میں فرماتا ہے۔ ترجمہ ” جب یوسف (علیہ السلام ) نے اپنے والد محترم سے عرض کیا۔ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر4) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کریم ابن کریم ابن کریم ابن کریم حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ 


سجدہ کرنے والے ستاروں کے نام

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنا خواب بتایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی عالم ( دوسری روایات میں اس کا نام بستانہ بتایا گیا ہے) حاضر ہوااور عرض کی۔ یا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے ان ستاروں کے نام بتائیں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھے تھے کہ وہ انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک اس یہودی عالم کی طرف اٹھایا اور فرمایا۔ اگر میں تمہیں ان ستاروں کے نام بتادوں تو تم اسلام قبول کر لو گے؟ اس نے کہا ۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان ستاروں کے نام حرثان ، الطارق، الذیال ، ذوالکثتان، قابس، دثان، ہودان ، الفیلق، المصبح، الضروح، الفرنیح، الضیا اور النور ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آسمان کے افق میں ان ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا۔ یہ منتشر امر ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو بعد میں جمع فرمائے گا۔ یہودی نے کہا۔ اللہ کی قسم ، ان ستاروں کے واقعی یہی نام ہیں۔ 

 کس عمر میں خواب دیکھا

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب خواب دیکھا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک کیا تھی۔ اس کے بارے میں امام فخر الدین محمد بن عمر رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بچپن میں یہ خواب دیکھا تھا۔ لیکن وہ کون سا معین زمانہ تھا اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے سات سال کی عمر میں خواب دیکھا کہ گیارہ لاٹھیاں ایک دائرہ کی شکل میں زمین میں مرکوز ہیں اور ایک چھوٹی سی لاٹھی نے ان گیارہ بڑی لاٹھیوں کو نگل لیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب اپنے والد محترم کو بتایا تو انہوں نے فرمایا۔ کہ خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا۔ پھر بارہ سال کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پھر یہ خواب اپنے والد محترم کو بتایا تو انہوں نے فرمایا۔ اپنے بھائیوں کو یہ خواب بیان نہیں کرنا۔ ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر کو مکمل ہونے میں چالیس سال کا عرصہ لگا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں اسّی 80سال کا عرصہ لگا۔ 

اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے والد محترم کو اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے جو فرمایا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ترجمہ ” یعقوب ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے میرے پیارے بیٹے اپنے ا س خواب کا ذکر اپنے بھائیوں اسے نہیں کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی فریب کریں۔ اور شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں برگذیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں معاملہ فہمی( خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا۔ اور اپنی نعمت تمہیں بھر پور عطا فرمائے گا۔ اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی عطا فرمائے گا ۔ جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تمہارے دادا اور پر دادا یعنی ابراہیم (علیہ السلام ) اور اسحاق ( علیہ السلام ) کو بھی بھر پور نعمت عطا فرمائی تھی۔ یقینا تمہارا رب بہت بڑے علم والا اور زبردست حکمت والا ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر5اور 6) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عہ فرماتے ہیں کہ گیارہ ستارے حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ اور سورج اور چاند آپ علیہ السلام کے والد اور والدہ ہیں۔ اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ نے حسن کا ثلث ( تیسرا حصہ ) عطا فرمایا تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان ستاروں سے مراد ان کے بھائی اور سورج اور چاند والدین ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نبوت کا انعام عطا فرمائے گا

حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹے کی زبانی خواب کا بیان سن کر سمجھ گئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کواللہ تعالیٰ عروج عطا فرمائے گا۔ اور ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ سجدہ کریں گے۔ یہ لکھنے کے بعد مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی آگے لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ تم یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہیں سنانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس خواب کو سن کر گیارہ کے عدد پر غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ تم کواللہ تعالیٰ عروج عطا فرمائے گا۔ اور وہ لوگ تمہارے مقابلہ میں نیچے رہیں گے۔ اور خواب کی تعبیر سے متاثر ہو کر وہ کوئی ایسی تدبیر نہ کر بیٹھیں جس سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو پہلے تو یہ نصیحت کی کہ تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان مت کرنا۔ اور فرمایا۔ کہ میں سمجھ رہا ہوں اور یقین کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرمالے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمائے گا۔ اور تم پر اپنا انعام پورا کرے گا۔ جس میں نبوت کا عطا فرمانا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ تم پر اور آلِ یعقوب ( بنی اسرائیل کے انبیائے کرام) پر اپنا انعام کامل فرمائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے داد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور تمہارے دادا حضرت اسحاق علیہ السلام پر اپنا انعام کامل فرمایا ہے۔ علامہ ابن کثیر سورہ یوسف کی آیت نمبر6کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلا م کو بتا رہے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں کون سے مرتبے عطا فرمائے گا۔ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی ہے۔ اسی طرح وہ تمہیں بلند مربتہ نبوت بھی عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھر پور نعمت دے گا۔ یعنی نبوت جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی عطا فرما چکا ہے۔ جو تمہارے دادا اور پر دادا تھے اور اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ کہ نبوت کے لائق کون ہے؟

بھائیوں کا حسد

حضرت یعقوب علیہ السلان نے خواب سنا تو سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کےلئے حضرت یوسف علیہ السلام کو چن لیا ہے۔ اسلئے ان پر اور زیادہ توجہ دینے لگے ۔ اس بات کو تمام بھائیوں نے محسوس کرلیا۔ اور انھیں لگا کہ (نعوذباللہ ) ابا جان ہم سے کم اور یوسف (علیہ السلام )سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ابلیس شیطان تو ہمیشہ انسان کی گھات میں لگا ہوا ہے۔ اس نے جب یوسف علیہ السلام کے خلاف تمام بھائیوں کے احساس کو دیکھا تو اسے اور ہوا دینے لگا۔ اور آپ علیہ السلام کے خلاف کے خلاف طرح طرح کے وسوسے ان کے دل و دماغ میں بھرنے لگا اور شیطان اپنی چال میں کامیاب ہونے لگا۔ اور تمام بھائیوں نے مل کر یہ طئے کیا کہ کسی بھی طرح یوسف (علیہ السلام )کو ابا جان سے دور کردیا جائے تو ابا جان پھر ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ترجمہ”یقناً یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کیلئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ جب انھوں نے (آپس میں ) کہا کہ یوسف اور اسکا بھائی (بن یامن) ہمارے مقابلے میں ہمارے والد محترم کو زیادہ پیارے ہیں ۔ جب کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا جان صریح غلطی کررہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام ) کو تو مار ہی ڈالو یا پھر کسی نا معلوم جگہ پر پھینک آﺅ۔ تاکہ ہمارے والد محترم کی توجہ ہماری طرف ہوجائے۔ اسکے بعد ہم نیک بن جائیں گے۔ ان بھائیوں میں سے ایک نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو والد محترم سے دور کرنا چاہتے ہو تو ایسا ہی کرو۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 7سے 11تک) ابلیس شیطان لگاتار حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بہکانے کی کوشش کرتا رہا۔ آخرکار اسے کامیابی ملی اور بھائیوں نے آپ علیہ السلام کے خلاف واضح کاروائی کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ علامہ ابن کثیر نے آیت نمبر 5 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے تاکید کردی کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے نہیں دہرانا۔ کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں سر بلندی عطا فرمائے گا۔ اور بھائی اس سر بلندی کے بارے میں جان کر ابلیس شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے تم سے دشمنی کرنے لگ جائیں گے۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نا معقول حرکت کرنے لگ جائیں گے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف بھائیوں کا مشورہ

سورہ یوسف کی آیت نمبر 9اور10کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پھر آپس میں کہنے لگے کہ ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، یوسف کا پتہ ہی کاٹ دو۔ نہ وہ رہے گا اور نہ ہی ہماری آنکھوں کا کانٹا بنے گا۔ جب ہم ہی ہم نظر آئیں گے تو ابا جا ن کی محبت صرف ہمارے لئے رہے گی۔ اب اسے والد محترم سے دور ہٹانے کی دو سورتیں ہیں۔ یا تو اسے مار ڈالو۔ یا پھر ایسی دور دراز جگہ پر پھینک آﺅ کہ اسکی کوئی خبر ہی نہ مل سکے۔ اور یہ واردات کرکے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ یہ سن کر ایک بھائی نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اسکا نام روبیل تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ یہودا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ شمعون تھا۔ اس نے کہا۔ بھئی یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ اور نا انصافی ہے بے وجہ بے قصور کو صرف عداوت کی وجہ سے ناحق اسکا خون اپنے سر پر لے رہے ہو۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے۔ اور طئے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہہ میں پھینک دیں گے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بیت المقدس کا کنواں تھا۔ انھیں یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ مسافر وہاں سے گزرے اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں ۔ پھر کہاں وہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دے کر کام نکل رہا ہے تو زہر کیوں دیا جائے؟ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپس میں اس موضوع پر بات کررہے تھے کہ یوسف(علیہ السلا م)کے لئے ہما رے والد محترم کی محبت زیادہ ہے اور اس محبت کو ختم کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آرہی ہے تو ابلیس شیطان ایک بوڑھے کی شکل میں ان بھائیوں کے پاس آیا اور بولا کہ میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں۔ یوسف ( علیہ السلام ) چاہتا ہے کہ تمہیں غلام بنا لے۔ اور تمہارے والد محترم بھی تم کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تدبیر یہ ہے کہ اس کو قتل کر دو یا بیابان میں پھینک آﺅ تا کہ درندہ کھا جائے۔ کچھ بھائیوں نے کہا۔ یہ تو گناہِ کبیرہ ہے ۔ تو ان پسند کرنےوالے بھائیوں نے اگلی بات کہی کہ بعد میں نیک بن جانا۔ 

بھائیوں نے والد محترم سے اجازت لی

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا۔ ابا جان ہم بکریاں چرانے اور شکار کرنے جا رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ ہمارے چھوٹے بھائی یوسف ( علیہ السلام )کو بھی بھیج دیں۔ تا کہ اسے بھی لطف آئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بیٹو ، مجھے ڈر ہے کہ تم لوگ شکار اور دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاﺅ گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت کا فائدہ اٹھا کر بھیڑیا ، یوسف ( علیہ السلام ) پر حملہ کر دے۔ یہ سن کر سب بھائی ایک ساتھ کہنے لگے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اور اگر بھیڑیا یوسف ( علیہ السلام )پر حملہ کرے گا تو ہم سب بھائی مل کر اس کی حفاظت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ ابا جان ، آخر آپ علیہ السلام یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے۔ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ کل آپ علیہ السلام ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے) فرمایا۔ اسے تمہارا لے جانا مجھے تو بہت صدمہ دے گا۔ اور مجھے کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی ( طاقتور) جماعت کی موجودگی میں بھیڑیا اگر اسے کھا جائے تو ہم تو بالکل نکمّے ثابت ہوں گے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر11اور 14تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھیڑیے کا خطرہ یا تو اس وجہ سے ہو اکہ ملک کنعان میں بھیڑیوں کی کثرت تھی۔ یا اس وجہ سے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ کسی پہاڑی کے اوپر ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام اس پہاڑی کے دامن میں نیچے ہیں۔ اچانک دس بھیڑیوں نے ان کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کرنا چاہا۔ مگر ایک بھیڑیے ہی نے مدافعت کر کے چھڑا دیا۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین نگل گئی۔ جس کی تعبیر بعد میں یہ ہوئی کہ دس بھیڑیے دس بھائی تھے۔ اور جس بھیڑیئے نے مدافعت کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا وہ بڑا بھائی یہوداہ ( یاروبیل) تھا۔ اور زمین کا نگل جانا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسی خواب کی وجہ سے خود ان کے بھائیوں کی طرف سے انہیں خطرہ تھا۔ لیکن مصلحتاً آپ علیہ السلام نے پوری بات ظاہر نہیں فرمائی۔ 

بھائیوں نے حفاظت کا وعدہ کیا

سورہ یوسف کی آیت نمبر13، 14کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف( علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ سیر کے لئے بھیج دیں جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاﺅ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر خیرکے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی سیرت کی اچھائی کا بیان تھی۔ اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوٰة و سلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے کہ تم اپنی بکریوں کو چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہواور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اسی بات کو انہوں نے لیا ۔ اور دماغ میں بسا لیا۔ کہ یہی عذر ٹھیک رہے گا۔ یوسف ( علیہ السلام ) کو الگ کر کے ابا جان کے سامنے ہی گھڑنت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا جان آپ علیہ السلام یہ کیا سوچ رہے ہیں ہماری جماعت اتنی قوی اور طاقت ور موجود ہے۔ اور اس کے باوجود ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھا جائے؟ بالکل ناممکن ۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر ہم سے بے کار اور نکما اور نقصان والا کوئی نہیں ہوگا۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں کہ بھائیوں نے کہا۔ اے ہمارے والد محترم ہماری باتوں پر اعتماد فرمائیے۔ اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ بھیج دیں گے۔ کل ہماری زمینوں پر کہ وہ جنگلی پھل خوب کھا ئے گا۔ اور اپنی مرضی سے بلا روک ٹوک خوب بھاگے دوڑے گا پر ندوں اور جانوروں کے پیچھے خوش ہوکر ۔ اور کچھ تجربہ اور صحت حاصل کرے گا۔ آپ علیہ السلام ان کے چھوٹے ہونے اور نا تجربہ کار ہونے کی فکرنہ کریں۔ اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور ہم سب بھائی اس کی حفاظت کریں گے۔ 

بھائیوں کا سلوک

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد محترم سے آپ علیہ السلام کی حفاظت کا وعدہ کر کے لے چلے۔ جب سنسان علاقے میں پہنچے تو ایک بھائی نے آپ علیہ السلام کو مارا۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ اور تیرہ یا چودہ سال کی عمر ہو گی۔ بن یامن آپ علیہ السلام سے بھی چھوٹے تھے۔ اسی لئے وہ گھر پر ہی تھے۔ آپ علیہ السلام دوسرے بھائی کے پاس گئے تو اس نے بھی مارا۔ اس طرح آپ علیہ السلام جس بھائی کے پاس جاتے تھے وہ مارتا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔ بھائیوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بات سن کر کہا کہ آپ علیہ السلام کو یہ خوف اور خطرہ بھی عجیب ہے ۔ ہم دس بھائیوں کی قوی جماعت اس کی حفاظت کے لئے موجود ہے۔ اگر ہم سب کے ہوتے ہوئے بھی اس کو بھیڑیا کھا جائے تو ہمار ا وجود ہی بے کار ہو جائے گا۔ اور پھر ہم سے کسی کام کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی پیغمبرانہ شان کی وجہ سے معلوم کرلینے والے خطرے کو اپنی اولاد کے سامنے نہیں کھولا۔ کہ مجھے تو خود تم سے ہی خطرہ ہے۔ اسکی یہ وجہ تھی کہ سب اولاد کی دل شکنی ہوجاتی اور دوسری یہ وجہ تھی کہ ایسا کہنے سے بھائےوں کے دل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف دشمنی اور شدید ہوجاتی ۔ اور اگر اس وقت چھوڑ دےتے تو پھر کسی وقت کسی اور بہانے سے قتل کردیں گے۔ اسی لئے اجازت دے دی مگر بھائےوں سے مکمل عہد و پیمان لیا کہ اسکو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اور بڑے بھائی روبیل یا یہودا کو خصوصیت سے ہدایت دی کہ تم اسکی بھوک پیاس اور دوسری ضرورتوں کی پوری طرح خبر گیری کرنا اور جلدی واپس لانا۔ بھائیوں نے اپنے والد محترم کے سامنے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے کاندھوں پر بٹھالیا۔ اور باری باری سب بھائی اٹھاتے رہے۔ کچھ دور تک حضرت یعقوب علیہ السلام بھی ان کو رخصت کرنے کےلئے ساتھ آئے۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی تاریخی روایات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب یہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تو اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام جس بھائی کے کاندھے پر سوار تھے۔ اس نے آپ علیہ السلام کو زمین پر پٹک دیا ۔ آپ علیہ السلام پیدل چلنے لگے۔ مگر کم عمر تھے اسلئے انھیں بھائیوں کا ساتھ دینے کےلئے دوڑنا پڑ رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے دوسرے بھائی کے پاس گئے اس نے آپ علیہ السلام کو طمانچہ مارا اور دھتکار دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام اپنے ہر بھائی کے پاس جاتے تھے تو مارتا تھا اور کہتا تھا۔ تونے جو گیارہ ستارے اور چاند اور سورج کو اپنے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ان کو پکار وہی تیری مدد کریں گے۔ امام قرطبی نے اسی وجہ سے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ بھائیوں کو کسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کا علم ہوگیا تھا۔ اور وہ خواب ہی بھائیوں کی شدتِ غیظ و غضب کا سبب بنا۔

 کنویں میں پھینک دیا گیا

حضرت یوسف علیہ السلام جس بھائی کے پاس بھی مدد کے لئے جارہے تھے وہ بھائی آپ کو مار رہا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام ادھ مرے ہوگئے تو فرمایا کہ آپ لوگوں نے والد محترم سے جو وعدہ کیا تھا اسے اتنی جلدی بھلا دیا۔ یہ سن کر یہودا یا روبیل کو رحم آیا اور اس نے اپنے بھائیوں کو سمجھاےاکہ اپنے چھوٹے بھائی پر رحم کرو ۔ اور اسے والد محترم کے پاس پہنچادو۔ ہاں اس سے یہ عہد لے لو کہ والد محترم سے ہماری شکایت نہ کرے۔ بھائیوں نے کہا ۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے تو ہم تمھیں بھی قتل کر دیں گے ۔یہودا نے جب تمام بھائیوں کو اتنا سخت دیکھا تو بولا ۔ اگر تم طئے کر چکے ہو تو میری بات سنو اس علاقے میں ایک پرانا کنواں ہے۔ جس میں جھاڑ وغیرہ اگ آئیں ہیں ۔ اور سانپ بچھو اور دوسرے زہریلے جانور اس میں رہتے ہیں۔ تم اسے کنویں میں پھینک دو ۔ اگر کسی سانپ بچھو نے اسے ڈس کر ختم کر دیا تو تمھارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا۔ اور تم اس کا خون بہانے سے بچ جاﺅ گے۔ اور اگر یہ اس کے باوجود بھی زندہ رہا تو شاید کوئی قافلہ یہاں آئے اور اسے نکال لے جائے۔ تو وہ قافلے اسے اپنے ساتھ دوسرے ملک لے جائے گا۔ اور ایسی صورت میں بھی تمھارا مقصد پورا ہوجائے گا۔ تمام بھائی اس بات سے متفق ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص اتار کر آپ علیہ السلام کو کنویں میں پھینک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ والد محترم کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی سب بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو ایذائیں دینی شروع کردی۔ برا بھلا کہنے لگے اور چانٹے(طمانچے) مارنے لگے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے ہوئے اس کنویں کے پاس پہنچے اور کنویں میں پھینکنے کےلئے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پاﺅں باند ھنے لگے ۔ آپ علیہ السلام ایک ایک بھائی کے دامن کو پکڑتے اور ہر بھائی سے رحم کی درخواست کرتے ۔ لیکن ہر بھائی جھڑک دیتا اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا تھا۔ سب نے ملکر مضبوطی سے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پاﺅں باندھے اور کنویں میں لٹکا دیا۔ آپ علیہ السلام نے کنویں کا کنا را ہاتھوں سے پکڑا تو بھائیوں نے انگلی پر مار مار کر اسے بھی چھڑا دیا۔ اور آدھی دور تک رسی لٹکا نے کے بعد رسی کو کاٹ دیا اور ایک دم آپ علیہ السلام کنویں میں نیچے گر گئے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹوں کو رخصت کرنے کے بعد غمزدہ حالت میں واپس ہوئے۔ جے سے ہی والد محترم کی نظروں سے اوجھل ہوئے تو بھائیوں کے تیور بدل گئے ۔ کوئی جھڑکتا،کوئی طعنہ دیتا ، کوئی دھکا دیتا ۔اسی حالت میں اپنی زمینوں پر مقام کسم پر آگئے۔ مگر وہاں نہیں ٹھہرے بلکہ دو تن یا دالتن کے جنگل میں آپ کو گھسیٹ گھسیٹ کر لے آئے۔ وہیں ایک کنواں تھا۔ یہ جگہ حبرون یعنی الخلیل سے چھ کوس کے فاصلے پر اور مصر کی شاہراہ (ہائی وے) کے قریب ہے۔ اسکے بعد آگے لکھتے ہیں ۔ اس مقام پر بھائیوں نے حضرت یوسف کو بے دردی سے مارنا اور دھکے دینا شروع کردیا۔ آپ علیہ السلام ایک ایک بھائی کے پاس جاتے اور وہ مارتا اور دھکے دیتا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے بھائیوں کو والد محترم سے کیا ہوا وعدہ یاد دلایا تو انھوں نے مارنا چھوڑ کر آپ علیہ السلام کو کنویں میں پھینکنے کا ارادہ بنالیا۔ اور اس بات پر متفق ہوگئے۔ بس پھر کیا تھا فوراً آپ علیہ السلام کی قمیص اتار لی اور باندھ کر کنویں میں لٹکا دیا۔ جب آدھا کنواں طئے ہوگیا تو نہایت بے دردی سے رسی کو کاٹ دیا تاکہ کسی پتھر سے ٹکرا کر مر جائے۔ چونکہ کنویں میں اندھیرا تھا اسلئے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ علیہ السلام زندہ ہیں کہ نہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو انھوں نے راستہ میں ان کے ساتھ شدید عداوت کا اظہار کیا ۔ ایک بھائی آپ علیہ السلام کو مارتا تو وہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تو وہ بھی ان کو مارتا پیٹتا اور انھوں نے ان میں سے کسی کو بھی رحم دل نہیں پایا۔ قریب تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قتل کردیتے ۔ اسی وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ۔ اے ابا جان ، کاش آپ علیہ السلام جانتے کہ آپ علیہ السلام کے پیارے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے؟ تب یہودا نے سب بھائیوں سے کہا۔ کیا تم لوگوں نے مجھ سے پکا عہد نہیں کیا تھا کہ تم لوگ اسے قتل نہیں کرو گے۔ تب وہ آپ علیہ السلام کو کنویں پر لے گئے اور ان کوکنویں کی منڈےر پر کھڑا کرکے ان کی قمیص اتاری جس سے ان کا مقصد تھا وہ اس قمیص پر خون لگاکر حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیں گے اور پھر انھیں کنویں میں پھینک دیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی کنویں میں حفاظت

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کرٹھان لیا کہ اسے غیر آباد کنویں کی تہہ میں پھینک دیں ۔ تب ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کی طرف وحی کی کہ یقینا تم انہیں اس ماجرا ( واقعہ) کی خبر اس حال میں دو گے کہ وہ جانتے ہی نہیں ہوں گے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر15) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا تو جبرئیل امین علیہ السلام ان کے پاس آئے او رکہا ۔ اے نوجوان ، تمہیں اس کنویں میں کس نے ڈالا ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بھائیوں نے ۔ جبرئیل علیہ السلام نے وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے والد محترم مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اور میرے بھائی مجھ سے حسدکرتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ کیا تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بات تو میرے اور میرے والد محترم کے رب ( اللہ تعالیٰ) کے سپرد ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ تم یہ دعا کرو۔ ترجمہ ” اے اللہ ،میں تجھ سے تیرے پوشیدہ نام کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے بزرگی اور عزت والے، تو میرے گناہ معاف کر دے۔ مجھ پر رحم فرما اور میرے لئے میرے معاملہ میں کشادگی اور نکلنے کا راستہ بنا دے۔ اور وہاں سے بھی رزق عطا فرما جہاں سے مجھے ملنے کا گمان ہی نہیں ہے۔ “ جب آپ علیہ السلام نے ان کلمات سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی اور نکلنے کا راستہ بنا دیا۔ اور بادشاہِ مصر کے ذریعے آپ علیہ السلام کو رزق عطا فرمایا۔ جہاں سے ملنے کا آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان کلمات کے ساتھ اصرار سے دعا مانگو کیوں کہ یہ چیدہ اور نیک لوگوں کی دعا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کی مدد

حضرت یوسف علیہ السلام کو باندھ کر ان کے بھائیوں نے کنویں میں لٹکا دیا تھا۔ اور آدھے کنویں تک چھوڑنے کے بعد شمعون نے یہ چاہتے ہوئے رسی کو کاٹنا شروع کر دیا کہ آپ علیہ السلام تیزی سے نیچے گریں اور گرتے وقت کنویں کے کسی باہر نکلے ہوئے پتھر سے ٹکر ا کر ( نعوذ باللہ ) مر جائیں۔ ادھر زمین پر شمعون رسی کاٹ رہا تھا ادھر جبرئیل علیہ السلام عرش کے پائے کے پاس تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرے بندے ( یوسف علیہ السلام )کے پاس پہنچو اور اسے سنبھالو۔جبرئیل علیہ السلام تیزی سے ساتوں آسمانوں کو پار کرتے ہوئے زمین پر آئے اور شمعون رسی کاٹ رہا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام کنویں کے اندر پہنچ گئے تھے۔ اور جیسے ہی رسی کٹی فوراً جبرئیل علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سنبھال لیا۔ اور آرام سے ایک پتھر پر بٹھا دیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تھا تب جبرئیل علیہ السلام قمیص لے کر آئے تھے اور آپ علیہ السلام کو پہنا دی تھی۔ وہ قمیص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رہی۔ پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کے پاس رہی۔ اس کے بعد جب یہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملی تو آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں اس قمیص کو ایک تعویز میں ڈال کر پہنا دیا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں سے وہ قمیص نکال کر پہنا دی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ علیہ السلام زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔ انہوں نے اوپر سے آپ علیہ السلام کو آواز لگائی تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا اور فرمایا۔ ہر میت کی کوئی نہ کوئی وصیت ہوتی ہے۔ میری وصیت سن لو۔ بھائیوں نے کہا۔ وہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ جب کسی نو عمر لڑکے کو دیکھنا تو میری بے چارگی اور اپنے ظلم کو یاد کرلینا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ اے یوسف علیہ السلام ، اپنے بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور دعا میں مشغول ہو جاﺅ۔ پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کو دعا بتائی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے حضرت یوسف علیہ السلام نے اس طرح دعا مانگی۔ اے اللہ ، اے ہر اجنبی کے مونس، اے ہر تنہا کے ساتھی، اے ہر خوف زدہ کے ملجا، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے ہر سر گوشی کو جاننے والے، اے ہر شکوہ کی انتہا اور اے ہر اجتماع کے حاضر ، اے زندہ ، ا ے زندہ رکھنے والے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی امید میرے دل میں ڈال دے۔ یہاں تک کہ میرے نزدیک تیرے سوا نہ کوئی غم ہو اور نہ ہی کوئی مصروفیت رہے۔ اور میرے لئے میر ے معاملہ میں وسعت اور نکلنے کی راہ پیدا فرما دے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ فرشتوں نے یہ دعا سن کہا۔ اے اللہ تعالیٰ، ہم دعا اور آواز سن رہے ہیں۔ آواز تو نو عمر لڑکے کی ہے۔ اور دعا نبی کی ہے۔ امام ضحاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام کنویں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا ۔ کیا میں آپ علیہ السلام کو ایسے کلمات سکھا دوں جن کو اگر آپ علیہ السلام دہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہیں کنویں سے نکال لے گا؟ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان الفاظ میں دعا مانگی۔ اے ہر مصنوع کو بنانے والے، اے ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرنےوالے۔ اے ہر راز کے شاہد ، اے ہر اجتماع کے حاضر ، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے ہر اجنبی کے دوست اور اے ہر تنہا کے مونس ، میرے لئے کشادگی اور امید کو لادے۔ اور اپنی امید میرے دل میں پیدا فرما دے۔ یہاں تک کہ تیرے سوا میں کسی کی امید نہ کروں۔ حضرت یوسف علیہ السلام اس دعا کو بار بار ساری رات دہراتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس دن صبح آپ علیہ السلام کو کنویں سے نکالا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام تین دن کنویں میں رہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ” اور عشاءکے وقت (وہ سب) اپنے والد محترم کے پاس روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ۔ ابا جان، ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے تھے اور یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ پس اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ علیہ السلام تو ہماری بات کو ( سچ) نہیں مانیں گے۔ چاہے ہم سچ ہی کہہ رہے ہوں۔ اور یوسف (علیہ السلام )کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا (کسی جانور کا )خون لگا کر لے آئے۔ والد محترم نے فرمایا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے۔ اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں سے اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔“ (سورہ یوسف آیت نمبر16سے 18) حضرت یعقوب علیہ السلام کو جب ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب سنایا تھا جب ہی آپ علیہ السلام سمجھ گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو بہت بڑے کام کے لئے چن لیا ہے۔ اور وہ کام سونپنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کے بیٹے کی آزمائش لے گا۔ اور تکلیف دہ حالات میں مبتلا کر کے تجربہ حاصل کرنے کا موقعہ دے گا۔ اسی لئے جب دوسرے بیٹوں نے لے جانے کی فرمائش کی توآپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ ان کی اور ان کے بیٹے کی آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ اسی لئے جب بیٹوں نے آکر بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا تو آپ علیہ السلام نے ان کی بات کا یقین نہیں کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ علیہ السلام کی قمیص خون میں لت پت لا کر اپنے والد محترم کو دی جس پر جانور کا خون لگا ہوا تھا۔ کس جانو ر کا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ بکرے کا خون تھا۔ کچھ میں ہے کہ بھیڑ کا خون تھا اور کچھ میں ہے کہ ہرن کا خون تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ برادران یوسف نے جب اپنے والد محترم کو بھائی کی قمیص دی تو انہوں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا کہ قمیص صحیح سلامت ہے تو فرمایا۔ یہ بڑا مہربان بھیڑیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دی گئی تو وہ قمیص پھٹی ہوئی نہیں تھی۔ آپ علیہ السلام نے قمیص دیکھ کر فرمایا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو اگر اسے بھیڑیا کھا لیتا تو یہ قمیص پھٹی ہوئی ہوتی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قمیص کو الٹ پلٹ کر نے کے بعد آپ علیہ السلا م نے خون کے داغ تو دیکھے لیکن قمیص بالکل صحیح سلامت تھی۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے بیٹو، اللہ کی قسم میں نے ایساسمجھدار اور حلیم بھیڑیا نہیں دیکھا کہ اس نے میرے بیٹے کو کھا لیا اور قمیص کو صحیح سلامت رکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ یہ کیسا بھیڑیا ہے قمیص پر رحم کر دیا اور میرے بیٹے پر رحم نہیں کیا۔ جب آپ علیہ السلام نے یہ فرمایا تو بیٹوں نے کہا ۔ آپ علیہ السلام تو ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے چاہے ہم سچ ہی کیوں نہ بول رہے ہوں۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ دل تو قبول نہیں کرتا پھربھی تمہاری بات پر یقین کرتا ہوں اور اپنے بیٹے کے بچھڑنے پر صبر کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتاہوں کہ وہ مجھے صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قافلے والوں نے کنویں سے نکالا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ ترجمہ” اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی لانے والے کو ( اسی کنویں پر ) بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ ( تو دیکھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اسے پکڑے ہوئے ہیں) کہنے لگا واہ واہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک نو عمر لڑکا ہے۔ انہوں نے اسے مالِ تجارت قرار دے کر چھپا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وہ کر رہے تھے۔ اور انہوں نے اسے بہت ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ دیا۔ وہ تو یوسف (علیہ السلام )کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے۔ (سورہ یوسف آیت نمبر19اور 20)حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں کے اندر تھے اور اللہ تعالیٰ انہیں سمجھا رہے تھے کہ تمہارے بھائیوں کو یہ شعور ( احساس) ہی نہیں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ یہ سلوک کر کے کتنی بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ بہر حال ایک وقت ایسا آئے گا جب تم ان کے اوپر حاوی ہو گے اور انہیں احساس کراﺅ گے۔ اسی دوران مدین کا ایک قافلہ بھٹک کر اس کنویں کے پاس پہنچ گیا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طرف جا رہا تھا وہ راستہ بھول گئے اور اس کنویں کے قریب آکر پڑاﺅ ڈال دیا۔ یہ کنواں آبادی سے دور چرواہوں اور مسافروں کے لئے تھا۔ اس کا پانی نمکین تھا لیکن جب حضرت یوسف علیہ السلا م کو اس میں ڈالا گیا تو وہ پانی میٹھا ہو گیا۔ جب قافلے والے وہاں اترے تو انہوں نے ایک شخص کو پانی لانے کے لئے کنویں پر بھیجا۔ وہ دمدین کا باشندہ تھا۔ اور اس کا نام مالک بن وعسر تھا۔ اس نے پانی نکالنے کے لئے ڈول کو کنویں میں ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلا م رسی پکڑ کر اوپر آگئے۔ آپ علیہ السلام اتنے حسین تھے کہ پانی نکالنے والا سکتہ کے عالم میں آپ علیہ السلام کو کچھ دیر دیکھتا رہا۔ پھر اس نے خوشی سے چلاتے ہوئے قافلے والوں کو خوش خبری دی کہ اس کنویں سے انتہائی خوب صورت دل موہ لینے والا نو عمر لڑکا نکلا ہے۔ 

بھائیوں نے کوڑیوں کے دام میں بیچ دیا

حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں کے باہر نکل آئے۔ آپ علیہ السلام اس کنویں میں تین دن رہے۔ حضر ت مجاہد( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں سے باہرآئے تو وہ کنواں رونے لگا۔تمام قافلے والے مالک بن وعر کی آواز سن کر دوڑتے ہوئے آئے اور حیرانی سے اس خوبصورت لڑکے کو دیکھنے لگے۔ اور اس کی خوب صورتی کودیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ لڑکا یقینا کسی بہت اچھے خاندان کا ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کو اپنے قافلے میں لے کر آئے اور سب لوگ خدمت کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی آس پاس بکریاں چراتے رہتے تھے۔ جب ان بھائیوں نے قافلے والوں کو دیکھا تو ان کے پاس آئے۔ اور وہاں دیکھا کہ قافلے والے حضرت یوسف علیہ السلا م کو کنویں سے نکال کر ان کی خدمت کر رہے ہیں تو انہیں بڑا غصہ آیا۔ اور انہوں نے قافلے والوں سے کہا کہ یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ قافلے والوں نے کہا۔ ٹھیک ہے ہم نے اس کے اوپر جوخرچ کیا ہے وہ دے دو اور اسے لے جاﺅ۔ لیکن برداران یوسف تو انہیں واپس گھر نہیں لے جانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے تمام بھائیوں نے کہا۔ یہ بار بار بھاگ جاتا ہے اس لےے ہم اسے رکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہاں تم قیمت دے کر اسے خرید سکتے ہو۔ اور حضرت یوسف علیہ السلا م کو عبرانی زبان میں دھمکی دی کہ اگر اصلیت بتاﺅ گے تو ہم تمہیں اس بار واقعی قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد قافلے والے مول بھاﺅ کرنے لگے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ لوگ ہر قیمت پر اسے بیچ دیں گے۔ اس لئے بہت ہی کم قیمت لگائی۔ آخر سودا طے ہو گیا۔ ایک روایت کے مطابق 18درہم یا پھر 20درہم یا پھر 22درہم یا پھر 40درہم پر سود ا طے ہوا۔ اور قافلے والوں نے آپ علیہ السلام کو خرید لیا۔ اس کے بعد ان کے بھائیوں نے قافلے والوں سے کہا اسے اچھی طرح باندھ کر رکھنا کیوں کہ یہ بار بار بھاگ جاتا ہے۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بازار میں 

حضرت یوسف علیہ السلا م کے بھائیوں کے کہنے پر قافلے والوں نے آپ علیہ السلام کو راستے بھر باندھ کر رکھا اور مصر لے کر آئے۔ اور مصر کے بازار میں بیچنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں انسانوں کو خریدنے اور بیچنے کا رواج تھا۔ لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ کسی علاقے کا حکمراں دوسرے علاقے پر قبضہ کر کے اس علاقے کے مرد وں ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا کرتا تھا۔ یا ڈاکو کسی قافلے پر اچانک حملہ کر کے قافلے والوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اور بازار میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس طرح ان کی پوری زندگی غلامی میں گزر جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر رحم فرمایا۔ اورتمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرنے کے لئے اپنے آخری رسول اور انبیائے کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی کالے کوکسی گورے پر فضیلت نہیں ہے۔ اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے۔ کوئی کسی سے اونچا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کسی سے نیچا ہے۔ بلکہ تمام انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ اونچا ہے جو متقی ( گناہوں سے بچنے والا) اور نیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مساوات ( برابری) کا پیغام ہی نہیں دیا بلکہ اس پر خود بھی عمل کیا اور بہت سے غلاموں کو آزاد فرمایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہزاروں غلاموں کو آزاد کیا۔ اور غلامی کا نظام ہی ختم کر دیا۔ اس کا اثرپوری دنیا پر پڑا۔ اور اتنا شدید پڑا کہ یہودیوں ، عیسائیوں اور کافروں بلکہ پوری دنیا کی ہر قوم نے اسے اپنالیا۔ اور دھیرے دھیرے غلام بنا نے کا رواج ہی ختم ہو گیا۔ اور تمام انسان برابر سمجھے جانے لگے۔ ہم نے ایسے ہی دور میں آنکھ کھولی ہے ۔ اسی لئے ہمیں غلامی اور غلاموں کی زندگی کی تکلیفوں کا اتنا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ ہاں اگرہم تاریخ کا مطالعہ بغور کریں تو بہت حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں

حسنِ یوسف علیہ السلام کی شہرت

اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلا م کو نو عمری میں غلام بنا کر مصر کے بازار میں لایا گیا اور بیچنے کے لئے کھڑا کردیاگیا۔ آپ علیہ السلام بہت حسین تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات میں سب سے خوبصورت بنایا ہے۔ اور آپ حضرت یوسف علیہ السلا م کے بعد حضرت یوسف علیہ السلا م سب سے خوبصورت ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے خوبصورتی کا ذکر صرف مصر کے بازار میں ہی نہیں بلکہ پورے مصر میں ہونے لگا۔ اور اس بے انتہا خوبصورت غلام کو دیکھنے کےلئے پورا مصر امڈ پڑا۔ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ قافلہ مصر پہونچا اور مالک بن دعر نے جن غلاموں کو فروخت کرنا تھا۔ انھیں دریائے نیل میں غسل کرایا ۔ اور صاف ستھرے کپڑے پہنائے۔ سب سے آخر میں حضرت یوسف علیہ السلا م کو غسل کراکر جب خوبصورت کپڑے پہنائے تو آپ علیہ السلام کے حسن کا یہ عالم تھا کہ مالک بن دعر میں دیکھنے کی تاب نہیں رہی۔ اور بازار مصر میں تو آپ علیہ السلا م کو نظر بھر دیکھنے کےلئے لوگ امڈ پڑے ۔ لوگ خریدنے نہیں بلکہ دیکھنے آرہے تھے۔شام تک پورے مصر میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایک بے انتہا خوب صورت غلام لایا گیا ہے۔ وہ اتنا خوبصورت ہے کہ بس اسے دیکھتے ہی رہو۔ یہاں تک کہ بازار مصر مین دوسری صبح کے وقت تک عجیب آب و تاب سے حسن جہاں تاب جلوہ افروز ہوا۔ مصر میں پہلے ہی شہرت ہوچکی تھی کہ عظیم غلام بکنے کےلئے آیا ہے۔ مالک بن دعر مسرور تھا کہ آج اسکے نام کے ڈنکے مصر کے گلی کوچوں میں بج رہے ہیں۔ سودا حضرت یوسف علیہ السلا م کا ہونا تھا اور قسمت مالک بن دعر کی کھلی تھی۔

حسن یوسف علیہ السلا م کو دیکھنے کیلئے قیمت

حضرت یوسف علیہ السلا م کی خوبصورتی کی دھوم پورے مصر میں مچی ہوئی تھی۔ مفتی احمد یارخان نعیمی آگے لکھتے ہیں ۔ صبح کے وقت سب لوگ مالک بن دعر کے گھر کے دروازے پر آگئے۔ ہزاروں آدمیوں کے ہجوم کو دیکھ کر وہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور بولا۔ اے لوگو، تم کیا چاہتے ہو؟ سب نے کہا جو غلام تو لاےا وہ ہم کو بھی دکھا دے۔ صرف ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مالک بن دعر کے مشیر نے اسے مشورہ دیا کہ غلام کے دیدار کو روکنے کےلئے اور جمگھٹے کو بھگانے کےلئے غلام کو دیکھنے پر ایک آدمی پر ایک دینار ادا کرنا مقرر کردو۔ پھر کوئی بھی دیکھنے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ مالک بن دعر نے اعلان کردیا کہ غلام کو دیکھنے والے کو ایک دینار ادا کرنے ہوں گے۔ یہ سن کر غریب لوگ مایوس لوٹ گئے۔ کیونکہ دو سو درہم کا ایک دینار ہوتا ہے۔ اور امیر متوسط لوگ ایک دینار ادا کرکے حضرت یوسف علیہ السلا م کا دیدار کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ شام تک 6 لاکھ دینار جمع ہوگئے۔ جبکہ مالک بن دعر نے آپ علیہ السلا م کو بیس20،بائیس 22، یا چالیس40درہم میں خریدا تھا۔ دوسرے دن مالک بن دعر نے اعلان کیا کہ اس حسین غلام کو جو دیکھنا چاہتا ہے وہ دو دینار ادا کرے۔ پورا دن لوگوں کا مجمع لگا رہا۔ اور شام تک لاکھوں دینار جمع ہوگئے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مخلوق کو دیکھنے کایہ حال ہے تو خالق کو دیکھنے کا کیا حال ہوگا؟

عزیزِ مصر نے خریدا

حضرت یوسف علیہ السلا م کے چرچے مصر کے گھر گھر میں ہونے لگے تھے۔ جسے دیکھوں اس حسین غلام کے بارے میں بات کررہا تھا۔ عزیزِ مصر نے بھی آپ علیہ السلا م کے بارے میں سنا تو دل نے چاہا کہ اک نظر دیکھ لیا جائے۔ عزیز مصر وزیر خزانہ تھا۔ امام عبدالرحمٰن بن عبداللہ سہیلی فرماتے ہیں۔ اسکا نام قطفیر تھا۔ اور امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ اس کا نام اطفیر بن روحب تھا۔ اسکی بیوی کا نام راعیل تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کا نام زلیخا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے حضرت یوسف علیہ السلا م کو خریداتھا۔ وہ مصر کے بادشاہ کا وزیر قطفیر تھا۔ اور مصر کا بادشاہ ریان بن ولید تھا۔اور یہ بھی کہا کہ اسکا نام ولید بن ریان تھا۔ اور یہی قول رائج ہے۔ وہ قوم عمالقہ سے تھا۔ مفتی احمد یارخان آگے لکھتے ہیں ۔ لوگ مسلسل آپ علیہ السلام کا دیدار کرنے آرہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار کرنے والے تین قسم کے تھے۔ پہلی قسم کے لوگ مست وار تھے دوسری قسم کے لوگ حیرت زدہ تھے اور تیسری قسم مجنونوں کی تھی۔ لوگوں کا عجب حال تھا کہ دیدار کرنے کےلئے دوڑے آتے تھے مگر واپس جانے کی ہمت نہیں پاتے تھے۔ اگلی صبح اعلان ہوا کہ اس غلام کی نیلامی جمعہ کے دن ہو گی۔ جو سب سے زیادہ قیمت لگائے وہی خرید سکے گا۔ مصرکے تمام تاجر اور دولت مند لوگ نیلامی میں آئے ۔ ان میں عزیز مصر بھی تھا۔ مالک بن دعر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو شاہانہ قیمتی لباس اور تاج پہنا کر ایک اونچی مسند پر بٹھا یا ہوا تھا۔ اس نے جب آپ علیہ السلام کا دیدار کیا تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے شفقت پیدا کردی ۔ اور اس کے اندر باپ کی محبت جاگ اٹھی ۔ اور اس نے دل ہی دل میں طئے کرلیا کہ میں اس حسین لڑکے کو ہر قیمت پر خریدوں گا اور بیٹا بناﺅں گا۔ ( عزیز مصر بے اولاد تھا)۔ لوگ بڑھ بڑھ کر بولی لگا رہے تھے۔ لیکن عزیز مصر سب سے بڑھ کر بولی لگا رہا تھا۔ آخر کار دوسرے تمام لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ اور اس نے آپ علیہ السلام کو اس کے وزن کے برابر سونا اورچاندی اور ہیرے اور یاقوت اور ریشم اور عنبر اور کافور دیکر خریدلیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے مصر میں قدم جمادئیے

حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر خرید کر اپنے گھر میں لے آیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں سورہ یوسف میں فرماےا۔ ترجمہ” مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا ۔ اسے بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ رکھو۔ بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا پھر ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف (علیہ السلام ) کا قدم جمادیا۔ تاکہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا علم سکھا دیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادے پر غالب ہے اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔( سورہ یوسف آیت نمبر 21) عزیز مصر کی بیوی کا نام ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں راعیل یا زلیخا تھا۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا نام راعیل اور لقب زلیخا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام عزیزمصر کے گھر میں رہنے لگے۔ اور وہ دونوں آپ علیہ السلام کو بہت عزت و احترام سے رکھتے تھے۔ اور اپنے گھر کے ایک فرد کی طرح پیش آتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مورودی لکھتے ہیں کہ بائبل میں اس شخص کانام فوطیفار لکھا ہے۔ قرآن پاک میں اسے عزیز کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اور ایک دوسرے موقع پر (جب حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کا انتظام سنبھالاتب بھی ) یہی لقب حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر میں کوئی بڑے عہدے دار یا صاحب منصب تھا۔ بائبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ شاہی جلو داروں (باڈی گارڈوں ) کا افسر تھا۔ اور علامہ محمد بن جریز طبری حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شاہی خزانے کا افسر تھا۔ تلمود کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اٹھارہ 18سال کی تھی۔ اور فوطیفار ان کی شاندار شخصیت کو دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا یہ لڑکا غلام نہیں ہے۔ بلکہ کسی بڑے شریف خاندان کا چشم و چراغ ہے جسے حالات کی گردش یہاں کھینچ لائی۔ اسی لئے جب وہ انھیں خرید رہا تھا تو اس نے سوداگروں سے کہہ دیا تھا کہ یہ تو غلام معلوم نہیں ہوتا ہے ۔ مجھے شبہ ہے کہ تم اسے کہیں سے چرا کر لائے ہو اسی بنا پر فوطیفار نے ان سے غلاموں کا سا برتاﺅ نہیں کیا بلکہ انھیں اپنے گھر اور اپنی کل املاک (جاگیر اور جائداد) کا مختار بنا دیا۔ بائبل کا بیان ہے کہ” اس نے اپنا سب کچھ یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں میں دے دیا اور سوائے روٹی کے جسے وہ کھالیتا تھا اسے اپنے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ 

اللہ تعالیٰ نے تربیت کا انتظام کیا

سورہ یوسف کی آیت نمبر21کی تفہیم میں مولانا مودودی آگے لکھتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام کی تربیت اس وقت تک صحرا میں نیم خانہ بدوشی اور گلہ بانی کے ماحول میں ہوئی تھی۔ ملک کنعان اور شمال عرب کے علاقے میں اس وقت تک نہ تو کوئی منظم ریاست تھی اور نہ ہی تمدن و تہذیب نے کوئی بڑی ترقی نہیں کی تھی۔ کچھ آزاد قبائل تھے جو وقتا فوقتا ہجرت کرتے رہتے تھے۔ اور بعض قبائل نے مختلف علاقوںمیں مستقل سکونت اختیار کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستیں لیں تھی۔ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو جو تعلیم و تربیت ملی تھی اس میں بدویانہ ( دیہاتی) زندگی کے محاسن اور خانوادہ ابراہیمی کی خدا پرستی اور دینداری کے عناصر تو ضرور شامل تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس وقت کے سب سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ ملک یعنی مصر میں ان سے جو کام لینا چاہتا تھا اور اس کے لئے جس واقفیت جس تجربے اور جس بصیرت کی ضرورت تھی اس کی نشو و نما کا کوئی موقع بدوی زندگی میں نہیں تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ انتظام فرمایا کہ انھیں سلطنت کے سب سے بڑے عہدے دار کے یہاں پہنچا دیا۔ اور اسنے (عزیز مصر) نے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر انھیں اپنے گھر کا اور اپنی جاگیر کا مختار کل بنادیا۔ اسطرح یہ موقع پیدا ہوگیا کہ ان کی وہ تمام قابلیتیں پوری طرح نشونما پاسکیں جو اب تک بروے کار نہیں آئی تھیں اور انھیں جاگیر کے انتظام سے وہ تجربہ حاصل ہوجائے جو آئندہ ایک بڑی سلطنت کا نظم نسق چلانے کےلئے درکار تھا۔ اس مضمون کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔

زلیخا کا اظہار محبت

حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ تیرہ یا چودہ برس کی عمر میں مصر پہونچے ۔ اور لگ بھگ بارہ یا تیرہ برس عزیز مصر کے یہاں رہنے کے بعد آپ علیہ السلام کی عمر پچیس یا چھبیس برس کی ہوئی تو یہ واقعہ پیش آیا جس کا ہم ذکر کرنے والے ہیں۔ اتنے برسوں تک ساتھ رہنے سے زلیخا آپ علیہ السلام سے محبت کرنے لگی تھی۔ ایک روز عزیز مصر گھر پر نہیں تھا۔ تو زلیخا نے تمام دروازے بند کرلئے اور آپ علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرنے لگی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تو میرے محسن (احسان کرنے والے) کی بیوی ہے۔ اور میں اپنے محسن کے ساتھ احسان فراموشی اور بے ایمانی نہیں کروں گا۔ اور تم جس چیز کی دعوت دے رہی ہو اس سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ” اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف(علیہ السلام ) تھے۔ اس نے یوسف (علیہ السلام ) کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاﺅ۔ یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ وہ میرا رب ہے مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے ۔ بے انصافی کر نے والوں کا بھلا نہیں ہوتا۔ ( سورہ یوسف آےت نمبر 23 ) مولانا محمد آصف قاسمی اس آیت کی تفسےر میں لکھتے ہیں ۔ عزیز مصر نہایت محبت اور احترام سے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے گھر لے آیا۔ اور ان سے غلاموں جیسا معاملہ کرنے کی بجائے گھر کے ایک فرد کی طرح ہر ایک آرام کا خیال رکھنے لگا۔ جب یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے گھر میں آئے تھے اس وقت بعض روایات کے مطابق ان کی عمر سات آٹھ سال کی تھی ۔ لیکن کچھ سال ہی میں وہ ایک خوبصورت ترین نوجوان بن کر ابھرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جتنا بھی حسن پیدا کیا اس میں سے آدھا حسن حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمایا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام جوان ہوتے گئے ۔ اور جمال اور خوبصورتی نکھرتی گئی۔ عزیز مصر کی بیوی ( بعض روایات کے مطابق) جس کا نام زلیخا آتا ہے۔ وہ اس بھر پور اور شرم و حیا کے پیکر جوان پر مر مٹی اور اس نے نفس کے غلبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ ایک دن اس نے اپنے خصوصی کمرے میں حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ دروزے بند کرلئے۔ اپنے اس بت پر جس کو وہ اپنا معبود کہتی تھی اس پر کپڑا ڈال کر اپنے بے تابی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی۔ اے یوسف (علیہ السلام ) میرے قریب آﺅ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسکی نیت بھانپتے ہوئے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میری مربی یعنی عزیز مصر نے مجھے عزت کا ٹھکانہ دیا ہے۔ میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ احسان فراموشی کروں۔ 

اللہ کا احسان

حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے اکسایا ۔مولانا لقمان سلفی لکھتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ عزیز مصر کے گھر میں جو کچھ پیش آیا اسے بیان کیا جارہا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ علیہ السلام کے ساتھ فعل بد کا مطالبہ کیا ۔ اور اس عورتکے نام کی صراحت اسلئے نہیں کی گئی تاکہ اسکا راز افشانہ ہوجائے۔ اور عزیز مصر کی بےوی کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کو گناہ پر اس عورت نے اکسایا جس کے گھر میں وہ رہتے تھے۔ تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے وہ کتنی مشکل گھڑی تھی۔ اور وہ عفت اورپاک دامنی کی کس بلندی کو چھو رہے تھے۔ کہ اس گھر میں رہنے کی وجہ سے زلیخا کا بار بار سامنا ہوتا رہا ہوگا اور وہ اپنے حس و جمال کا مظاہرہ کرتی رہی ہوگی۔ تاکہ انھیں اپنے ذات میں دلچسپی لےنے پر اکسائے۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام پر ان تمام ہتھکنڈوں کا رائی کے دانہ کے برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ایسا کرنے سے پہلے شدت خوف اور غایت ِاحتیاط کی وجہ سے سب دروازے بند کردئیے۔ تاکہ وہاں تک پہنچنے کا گمان بھی نہ ہوسکے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی یہ بھی دلیل ہے کہ زلیخا نے انسانوں سے خوف کھانے کا ایک بھی عذر باقی نہیں رکھا تھا۔ اسکے باوجود ان کے دل میں گناہ کا خیال تک نہیں گذرا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسکے جواب میں فرمایا۔ کہ میں اس دعوت یا گناہ سے بچنے کجےلئے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اسلئے کہ یہ تو زنا، جرم عظیم، امانت میں خیانت اور احسان فراموشی ہے۔ اور اسے اس گناہ عظیم سے باز رکھنے کےلئے اڈ خیانت کی شدید ترین قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھیں معلوم ہے کہ مجھے کس خیانت پر ابھار رہی ہو؟ وہ عزیز مصر ہے جس نے ہر طرح سے میرا خیال کیا ہے۔ تو اب میرے لئے یہ کس طرح مناسب ہے کہ میں اسکی عزت سے کھیلوں ۔ ایک دوسری تفسیر یہ بھی بیان کی گئی کہ ” اِنّہُ“ کی ضمیر اللہ کے لئے ہے۔ یعنی میرا رب اللہ تعالیٰ نے تو مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ مجھے نئی زندگی دی ہے۔ اور عزیز مصر کے پاس پہونچاکر میری پریشانیوں کو دور کیا ہے۔ اب اگر میں نے تمھاری بات مانی تو میں ظالم بن جاﺅں گا۔ اور ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتاہے۔ 

 قمیص کا پھٹنا

حضرت یوسف علیہ السلام اتنا فرمانے کے بعد تیز تیز قدم سے دروازے کی طرف جانے لگے۔ تا کہ دروازہ کھول کہ با ہرنکل جایں۔آپ علیہ السلام کے پیچھے پیچھے زلیخا آنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑکر روکنے کی کو شش کرنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ اور تیزی سے دروازے کی طرف دوڑنے لگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑنے لگی۔ اور آپ علی السلام کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو بھاگتے ہوئے آپ علیہ السلام نے پھر اسکا ہاتھ جھٹکا۔ تو اس کے ہاتھ میں آپ علیہ السلام کی قمیص کا کونہ آگیا۔ اب حالت یہ ہو گئی تھی کہ حضرت یو سف علیہ السلام آگے آگے دوڑ رہے تھے اور ان کی قمیص کا کونہ زلیخا مضبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اور روک نہیں پا رہی تھی۔ اور قمیص کومضبوطی سے پکڑے رہنے کی وجہ سے دوڑتی جا رہی تھی۔آپ علیہ السلام نے بھاگتے بھاگتے ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ پر مارا۔ تاکہ قمیص چھوٹ جائے۔ آپ علیہ السلام کے ہاتھ مارتے ہی قمیص پھٹ گئی۔ اور اسکا ٹکڑا زلیخا کے ہاتھوں میں رہ گیا۔آپ علیہ السلام اسی حالت میں دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچے۔ اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ” دونوں (آگے پیچھے) دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پیچھے کی طرف کھینچ کر پھاڑ ڈالی“(سورة یوسف آیت نمبر 25)

عزیز مصر کا دیکھنا اور زلیخا کا الزام

اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں ترجمہ”اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا تو وہ کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے تو بس اسکی یہی سزا ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا کوئی اور دردناک سزا دی جائے“ (سورة یوسف آیت نمبر25)حضرت یوسف علیہ السلام تیزی سے دوڑتے ہوئے دروازے تک پہونچے اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا اور با ہر نکلنے کی کوشش کی لیکن عزیز مصر کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئے۔ عزیز مصر کسی کام سے اسی طرف آرہا تھا۔ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ بھی رک گیا۔ وہ عورت کے کسی رشتہ دار سے باتیں کرتا آرہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور حضرت یوسف علیہ السلام بد حواس حالت میں نظر آئے کہ بال بکھرے ہوئے ہیں۔ چہرہ اور پورا بدن پسینے میں شرابور ہے اور سانس دھونکنی کی طرح چل رہی ہے۔ ابھی عزیز مصر اور اس کا ساتھی حیرانی سے آپ علیہ السلام کی حالت پر غور ہی کررہے تھے کہ پیچھے سے زلیخا دوڑتی ہوئی باہر آئی اور وہ ان دونوں کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئی۔ اس کے ہاتھ میں آپ علیہ السلام کی قمیص کا ٹکڑا تھا۔ کچھ سیکنڈ تو وہ حیرانی اور پریشانی کا شکار رہی ۔ لیکن پھر فوراً اس نے اپنے شوہر سے کہا۔ تمھاری غیر موجودگی میں اس نے میری عزت پر حملہ کیاہے اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اب یا تو اسے قید کرہ یا پھر درد ناک سزا دو۔ حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے اس عورت کو دیکھنے لگے۔ 

یہ عورت جھوٹ کہہ رہی ہے

حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے اس عورت کو دیکھ رہے تھے ۔ اور وہ بڑی صفائی سے اپنے گناہ کا الزام آپ علیہ السلام پر ڈال رہی تھی۔ اپنے شوہر اور رشتہ دار کو دیکھ کر وہ رونے لگی اور روتے روتے بتانے لگی۔ کہ کس طرح اس نے مجھ پر حملہ کیا ہے اور میں بچنے کی کوشش کررہی تھی۔ اور اسی چھےنا جھپٹی میں اس کی قمیص کا یہ ٹکڑا پھٹ کر میرے ہاتھ میں آگیا ہے اور وہ ٹکڑا اپنے شوہر کو دے دیا۔ اور کہا کہ اب تم ہی فیصلہ کرو کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ جیل میں ڈالنا ہے یا پھر کوئی اور درد ناک سزا دینا ہے۔ اور شوہر کے کاندھے پر سر رکھ کر سسکنے لگی۔ حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے آنکھیں پھیلائے اس عورت کے مکر و فریب کو دیکھ رہے تھے۔ اور پریشان ہورہے تھے۔ جب وہ عورت خاموش ہوئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ عورت جھوٹ کہہ رہی ہے۔ میں نے اس عورت کی عزت پر حملہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ یہ خود مجھے گناہ کرنے کی دعوت دے رہی تھی ۔ اور مجھے بہلا پھسلا رہی تھی۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرماےا۔ترجمہ۔ ” یوسف (علیہ السلام ) نے فرماےا ۔ یہ عورت مجھے بہلا پھسلا رہی تھی۔ “( سورہ یوسف آیت نمبر 26 ) حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دیکھا کہ یہ عورت خود گناہ کی دعوت دےکر مجھ پر الزام لگا رہی ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس نے خود مجھے گناہ کی دعوت دی تھی لیکن میں نے انکار کردیا ۔ اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا تو یہ مجھے پیچھے کی طرف سے پکڑنے کی کوشش کرنے لگی تو میں دروازے کی طرف دوڑنے لگا۔ اس نے پیچھے سے میری قمیص پکڑ کر روکنے کی کوشش کی تو میری قمیص پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی۔ یہ سن کر زلیخا نے کہا ۔ یہ قمیص کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں اسلئے ہے کہ میں اسکے حملے کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور پیچھے ڈھکیل رہی تھی تو قمیص پھٹ کر میرے ہاتھ میں آگئی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ہیں

اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” اور عورت کے قبیلے کے ایک شخص نے کہا۔ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ عورت سچ کہہ رہی ہے اور یوسف (علیہ السلام نعوذ باللہ ) جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے۔ اور یوسف ( علیہ السلام ) سچ بولنے والوں میں سے ہیں۔ اور جب کہ دیکھا کہ قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے اور بے شک تم عورتیں بڑی گہری چال چلتی ہو۔( سورہ یوسف آیت نمبر 26سے 29تک ) عزیز مصر حیران و پریشان سا کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سچاہے؟ اور کون جھوٹا ہے؟ ایسے وقت میں جو اسکے ساتھ اسکا دوست اور اسکی عورت کا رشتہ دار تھا۔ وہ آگے بڑھا ۔ اسکے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔کہ وہ دودھ پیتا بچہ تھا۔ یا پھر اسی عورت کا کوئی رشتہ دار اور سمجھ دار آدمی تھا۔ اب حقیقت کیا ہے اسکا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ خیر تو وہ آگے بڑھا اور بولا کہ تمھاری بیوی کہتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام ) نے اس پر حملہ کیا تھا اور وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہہ رہی تو یوسف (علیہ السلام )کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہوگی۔ اور یوسف (علیہ السلام ) کہتا ہے کہ اس عورت نے اسے گناہ کرنے کی دعوت دی تو یہ جان بچا کر بھاگا تو اس عورت نے اسے پیچھے پکڑنے کی کوشش کی ۔ اگر یوسف( علیہ السلام ) سچا ہے تو اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوگی۔ جب قمیص کا وہ ٹکڑا عورت کے ہاتھ میں تھا اسے قمیص سے ملاکر دیکھا گےا تومعلوم ہوا کہ یہ ٹکڑا پیچھے کے حصے کا ہے۔ اور قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر اس شخص نے عزیز مصر سے کہا یوسف (علیہ السلام ) سچا ہے اور یہ عورت جھوٹی ہے۔ اور عزیز مصر نے اپنے بیوی سے کہا۔ اری او بدبخت ، یوسف (علیہ السلام ) تو معصوم ہے اور تو نے اسے اتنے بڑے الزام میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ آئندہ اس معصوم پر کوئی الزام نہیں لگانا۔ اور گھر کی بات ہے اسے گھر ہی میں دفن کردو۔ اور یوسف (علیہ السلام ) کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ اور اس سے معافی مانگو۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا۔ بیٹے اسے معاف کردو اور اس بات کو یہیں ختم کردو۔

شہر کی عورتوں میں چرچا

حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر نے کہا کہ گھر کی بات ہے اسے یہیں پر ختم کردو۔ آپ علیہ السلام نے کسی کو کچھ نہیں کہا اور بات وہیں ختم کردی ۔ لیکن یہ بات کسی نہ کسی طرح شہر کی عورتوں کو معلوم ہوگئی ۔ اور عورتوں میں اسی بات کو لےکر چرچا ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ۔’ ’اور شہر کی عورتوں میں (چرچا) ہونے لگی کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان ) کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اسکے دل میں یوسف (علیہ السلام ) کی محبت بیٹھ گئی ہے۔ ہمارے خیال میں تو وہ کھلی گمراہی میں پڑ گئی ہے۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر 30) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر نے تو معاملہ وقتی طور پر رفع دفع کردیا تھا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ اس قصے کو یہیں تک رہنے دینا آگے مت بڑھانا۔ لیکن خبر کسی نہ کسی طرح شہر کی عورتوں کو پہنچ گئی اور وہ آپس میں چرچا کرنے لگی کہ دیکھو عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوا۔ بڑے گھر کی عورت ہے لیکن اپنے غلام کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے پھسلا رہی ہے۔ غلام اسلئے کہا کہ اس کا شوہر حضرت یوسف علیہ السلام کو خرید کر لایا تھا۔ اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ اول تو یہ عورت شوہر والی تھی۔ اسے اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف مائل ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر مائل بھی ہوئی تو کس پر؟ جو اس کے برابر کا نہیں تھا۔ نہ تو عمر میں برابر اور نہ ہی مرتبہ میں برابر دونوں میں اگر کوئی برابری بھی ہوتی تو ایک بات تھی ۔ بس جی ایک غلام کی محبت تو بری طرح اس کے دل میں گھر کر گئی ہے۔اس محبت نے یہ بات سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ مین کس سے لگ رہی ہوں۔اور کس کی طرف مائل ہورہی ہوں۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ صاف غلطی کررہی ہے۔

عورتوں کو حسن یوسف کے دیدار کی تمنا

سورہ یوسف کی آیت نمبر 30کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ کہ اس داستان محبت کی خبر شہر بھر میں ہوگئی ۔ چرچے ہونے لگے۔ چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب وحقارت سے اس قصے کو دہرایا کہ دیکھو وزیر کی بیوی ہے۔ اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے ۔ اور اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ وہ عورتیں کہتی ہیں کہ عزیز کی بیوی بہت غلط کام کر رہی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی پتہ چل گیا تھا۔ یہاں لفظ مکر اسلئے بولا گیا ہے کہ بقول بعض علمائے کرام یہ خود ان عورتوں کا (عزیز کی بیوی کو بد نام کرنا )ایک مکر تھا۔دراصل وہ حسن یوسف کے دیدار میں مری جارہی تھیں۔ اور یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ چھپانے کے باوجود درباری لوگوں کی عورتوں میں پھیل گیا۔ ان عورتوں نے عزیز کی بیوی کو لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ پانچ عورتیں عزیز مصر کے قریبی افسروں کی بیویاں تھیں۔ یہ عورتیں آپس میں کہنے لگی کہ دیکھو کیسی حیرت کی اور افسوس کی بات ہے کہ عزیز کی بیوی اتنے بڑے مرتبے پر ہوتے ہوئی اپنے نوجوان غلام پر فریفتہ ہوکر اس سے اپنا مطلب کرنا چاہتی ہے۔ ہم تو اس کو بڑی گمراہی پر سمجھتے ہیں۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کو زلیخا کا غلام یا تو اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ شوہر کی چیز کوبھی عادةً بیوی کی چیز کہاہے۔ اور یا اسلئے کہ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے شوہر سے بطور ہبہ اور تحفہ لیا تھا۔ 

زلیخا نے عورتوں کو دعوت دی

حضرت یوسف علیہ السلام کو جب مصر لایا گیا تو آپ علیہ السلام کے دیدار کے لئے مردوں نے اپنی جیبےں خالی کردی۔ یہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں ۔ مردوں نے حسن یوسف کا دیدار کرلیا تھا ۔ مگر عورتیں محروم رہ گئی تھیں۔ اور پورے مصر میں ایک ایک فرد کی زبان پر آپ علیہ السلام کی خوبصورتی کے تذکرے تھے ۔ حالانکہ آپ علیہ السلام کو مصر میں آئے لگ بھگ بارہ سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ لیکن پھر بھی آپ علیہ السلام کو دیکھنے کی تمنا لوگ رکھتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی تھیں جو زلیخا پر طعن کررہی تھیں۔ زلیخا نے شاہی دعوت کا اہتمام کیا اور ان عورتوں کو دعوت دی۔ تمام عورتیں حاضر ہوگئےں۔ وہب کہتے ہیں کہ زلیخا نے ایک پر تکلف شاہی کھا نا تیار کرایا۔ اور چالیس عورتوں کو مدعو کیا جنھوں نے طعنہ دیا تھا۔ اور ان کےلئے مخملی مسندیں بچھا دیں۔ اور گاﺅ تکیے لگادئیے۔ امام بغوی فرماتے ہیں عزیز مصر کی بیوی نے رنگ برنگے پھلوں اور کھانوں سے دسترخوان کو چن دیا۔ اور گاﺅ تکیے لگا دئیے۔ پھر عورتوں کی دعوت کی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی۔ اور پھر اس میں اس نے اپنی معذوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے یہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل اور بیٹھک درست کرلی۔ جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کےلئے ایک ایک تیز چاقو سب کےلئے رکھ دیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اپنا راز دار بنا یا تھا۔ اور یہ بتایا کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کرتی ہے۔ لیکن جب ان عورتوں نے اس کا راز فاش کردیا تو یہ ان کی بد عہدی اور مکر تھا۔ ان عورتوں نے اس کی غیبت کی تھی اور یہ غیبت مکر کے مشابہ تھی۔ عزیز مصر کی بیوی نے جب یہ سنا کہ یہ عورتیں اسکی حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کی وجہ سے اسکو ملامت کررہی ہیں۔ تو اس نے اپنے عذر کو ظاہر کر نے کا ارادہ کیا۔ اس نے ان عورتوں کو بلا یا اور ان کی مجلس منعقد کی ۔ 

عورتوں نے بے خودی میں اپنی انگلیوں کوکاٹ لیا 

زلیخا نے ان عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لئے گاﺅ تکیے لگوا دئیے۔ اور پھل فروٹ اور میوے وغیرہ رکھ دئیے۔ وہ عورتیں آئیں اور گاﺅ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ اور باتیں کرنے لگیں زلیخا بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کررہی تھی۔ تمام عورتیں باتیں کرتی جارہی تھی اور پھل کاٹ کاٹ کر کھاتی بھی جارہی تھیں۔ اچانک زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو آواز لگائی اور بلایا۔آپ علیہ السلام اندر داخل ہوئے اور تمام عورتوں نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئیں۔ ایسا حسن انھوں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ اور وہ سب عورتیں آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسی بے خود ہوئی کہ انھوں نے پھلوں کی بجائے اپنے انگلیوں کو کاٹ لیا اور انھیں احساس ہی نہیں ہوا کہ ان کی انگلیاں کٹ چکی ہیں۔ وہ تو بے خودی میں اللہ تعالیٰ کے اس حسین شاہکار کو بس تکے جارہی تھیں۔ زلیخا نے آپ علیہ السلام سے کچھ باتیں کی اور انھیں واپس بھیج دیا۔ جب آپ علیہ السلام دوسرے کمرے میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے تو تمام عورتیں چونکیں اور تب انھیں تکلیف کا احساس ہواتو اپنی انگلیوں کی طرف متوجہ ہوئیں تو خون دیکھ کر ان کی چینخیں نکل گئیں۔ اور تمام عورتیں جلدی جلدی خون کو روکنے اور پٹی باندھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ زلیخا بیٹھی انھیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” اس نے (زلیخا نے) جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انھیں بلوا بھیجا اور انکے لئے ایک مجلس مرتب کی۔ اور ان میں سے ہر ایک چھری دی۔ اور کہا اے یوسف (علیہ السلام ) ان کے سامنے چلے آﺅ۔ ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لےے اور زبان سے نکل گیا ”ماشَا اللہ“یہ انسان تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو یقیناکوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر 31)۔

اتنا حسین انسان نہیں ہوسکتا 

سورہ یوسف کی آیت نمبر 31کی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے عورتوں کو اترنج(لیموں) اور شہد دیا تو وہ چھری سے اترنج کانٹنے لگیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے بلایا۔ آپ علیہ السلام مجلس میں پہونچے تو تمام عورتیں آپ علیہ السلام کی حسن عظمت کی قائل ہوگئیں اور ایسی مسحور ہوئیں کہ اپنے ہاتھوں کو چھری سے کانٹنے لگیں اور ان کے ہاتھوں میں اترنج تھا اور وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی تھیں اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ اترنج کاٹ رہی ہیں حسنِ یوسف کو دیکھ کر انکی عقلیں ضائع ہوگئی اور انھوں نے کہا ۔ مَاشَااللہ، یہ انسان نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اترنج کا پھل دیا اور ہر ایک کو چھری بھی دی ۔ جب انھوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو حسنِ یوسف کی عظمت کی قائل ہوگئیں اور اپنے ہاتھ کاٹنے لگیں اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ اترنج کا پھل کاٹ رہی ہیں۔ امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ اس عورت نے اپنے منتظم سے کہا کہ یوسف علیہ السلام کو سفید لباس پہنا کر ان عورتوں کے پاس لاﺅ۔ کیونکہ سفید لباس میں یہ مزید خوبصورت اور نکھرا ہوا لگتا ہے۔ اس نے عورتوں کے سامنے آپ علیہ السلام کو پیش کیا اس وقت وہ پھل کاٹ رہی تھیں۔ جب انھوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو ایسی مدہوش ہوئیں کہ پھل کاٹنے کی بجائے اپنے ہاتھوں کو کاٹنے لگیں۔ اور ایک ٹک آپ علیہ السلام کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر زلیخا نے آپ علیہ السلام کو جانے کا اشارہ کیا تو آپ علیہ السلام واپس چلے گئے۔ تو وہ پیچھے سے آپ علیہ السلام کو دیکھتی رہیں اور جب نظروں سے اوجھل ہوگئے تو ہاتھوں میں تکلیف محسوس ہوئی تو وہ چونکیں تب عزیز کی بیوی نے کہا ۔ ایک مرتبہ دیکھنے میں تمھارا یہ حال ہے وہ تو ہر وقت میرے سامنے رہتا ہے۔ تب ان عورتوں نے کہا۔ مَا شَا اللہ یہ انسان نہیں ہوسکتا یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔

یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے

سورہ یوسف آیت نمبر 31کی تفسیر میں مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ زلیخا نے اپنی ملازماﺅں اور لونڈیوں کے ذریعے نہایت عمدہ طریقے سے دعوت گاہ کو سجایا حالانکہ وہ عورتیں اتنی اہمیت اور عزت افزائی کے لائق نہیں تھیں۔ مگر جسکا دیدار کرانا تھا جس کی شان کی دھاک بٹھانی تھی ۔ وہ بہت عظیم تھا۔ ایک لونڈی نے کہا۔ وہ عورتیں تیری غیبت کررہی ہیں تو پھر تو انکا اتنا احترام کیوں کررہی ہے ؟ زلیخا نے کہا ۔ میں تلوار کی مار نہیں مارنا چاہتی بلکہ حسنِ یوسف کا دیدار کراکے انھیں تڑپانا چاہتی ہوں ۔ اور سب عورتوں کو دعوت کے لئے بلایا۔ اور ہر عورت کو چھری دی ۔ یہ کل چالیس عورتیں تھیں۔ ان میں وہ پانچ عورتیں بھی تھیں۔( جن کا پہلے ذکر آچکا ہے۔)زلیخا نے کھانے کی اجازت دی سب نے ایک پھل اٹھایا۔ اور حسب عادت کاٹنے لگیں۔ اسی وقت زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ آپ علیہ السلام آئے اور جب ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو دنگ رہ گئیں اور پھل کاٹتے کاٹتے مد ہوش ہوگئیں اور اسی مدہوشی میں انھیں احساس نہیں ہوا کہ پھل کٹ جانے کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی ہیں۔ پہلے کھال کٹی ، پھر گوشت کٹا اور بعض کی تو ہڈی تک کٹ گئی۔ زلیخا نے آپ علیہ السلام کو جانے کا اشارہ کیا اور آپ علیہ السلام چلے گئے۔ تب وہ عورتیں ہوش میں آئیں اور درد محسوس ہوا اور پتہ لگا کہ پلک جھپکنے میں کیا ہوگیا زلیخا نے کہا ۔ دیکھ لیا تم نے تو وہ بولیں۔ یہ انسان نہیں لگتا بلکہ یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان عورتوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ 

زلیخا کی دھمکی

حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر نے درخواست کی تھی کہ میری بیوی کو معاف کردو۔ اور اپنی بیوی سے کہا تھاکہ اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہونچانا۔ لیکن زلیخا کے دل و دماغ پر شیطان سوار تھا۔ اسلئے وہ آپ علیہ السلام کو مجبور کرنے لگی۔ جب ان عورتوں نے اپنے ہاتھوں میں پٹیاں باندھ لی تو زلیخا نے ان سے کہا ، تم نے اسے دیکھ لیا نا کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔ اور تم لوگ مجھے ملامت کررہی ہو۔ اب میں تم سے کہتی ہوں پچھلی مرتبہ تو یہ بچ گیا ۔ لیکن اب اگر یہ میری بات نہیں مانے گا تو یا تو میں اسکی بے عزتی کردوں گی یا پھر قید خانے میں ڈالوا دوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” اس وقت عزیز کی بیوی نے کہا ۔ یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنہ دے رہی تھیں۔ حالانکہ میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا ۔ اور جو کچھ میں کہہ رہی ہوں اگر یہ نہیں کرے گا تو یقیناً قید کردیا جائے گا۔ اور بے شک اسے میں بے عزت کروں گی ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 32) ۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے کہا۔ واقعی میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے اسے پھسلایا تھا لیکن یہ بچ گیا۔ اس طرح اس نے اس بات کا اقرار کر لیا جسکا وہ اپنے شو ہر کے سا منے انکار کر چکی تھی۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کی بے قصوری بھی ظاہر کر دی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی یہ پھندے سے نکلا نہیں ہے۔ میرا تقاضا برابر جاری رہے گا۔ اگر اس نے میری بات نہیں مانی اور میرے حکم پر عمل نہیں کیا تو ضرور جیل میں بھیج دیا جائے گا۔ یا پھر ضرور بالضروراسے ذلت اٹھانی پڑے گی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔وہ عورت بولی دیکھ لو یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے برا بھلا کہتی تھیں۔ اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ پاک صاف رہا۔ اور آئندہ میرا کہنا نہیں مانے گاتو بے شک جیل خانے میں جائے گا اور بے عزت بھی ہو گا۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں زلیخا نے ان عورتوں سے کہا یہی وہ پیکر ِ حسن ہے۔ جس کے بارے میں تم عورتیں مجھے کوستی تھیں۔اور جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ تمام عورتیں حسن ِیوسف سے مسحور ہو گئی ہیں ۔اور اسے معذور سمجھنے لگی ہیں۔ تو اس نے اپنا دل کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ ہاں ،میں نے اسے ورغلا یا تھا۔ لیکن اس نے قطعی طور پر انکار کر دیا۔اور ذرا سی بھی لچک نہیں دکھائی ہے۔ اس کے بعد اس نے شرم و حیاءکی چادر ایک طرف پھینک دی۔ اور عشق و سرمتی کی آخری حدوں کو چھوتی ہوئی بولی میرا اس سے جو مطالبہ ہے اگر اس نے پورا نہیں کیا تو اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اور اسے ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زلیخا نے جس ارادے کا اظہار کیاتھا۔اس میں وہ عورتیں بھی اس کا ساتھ دینے لگیں۔ اور آپ علیہ السلام کو سمجھانے لگیں۔ اور مجبور کرنے لگیں کہ زلیخا کی بات مان لو۔ لیکن آپ علیہ السلام نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ عورتیں تو چلی گئیں لیکن زلیخا کھل کر دشمنی کرنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام کو اپنی حرکتوں سے گناہ کرنے کی طرف مائل کرنے لگیں۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اس گناہ اور اس عورت سے بچا لے۔اس عورت کی دعوت قبول کرنے سے زیادہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں قید خانے یا جیل میں چلا جاﺅں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا،ترجمہ’’ حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے رب،جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس کے مقابلے میں مجھے قید خانہ پسند ہے۔ اگر تو نے ان کا فریب مجھ سے دور نہیں کیا تو کہیں ایسا نا ہو جائے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاﺅں اور نادانوں میں سے ہو جاﺅں۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی۔ اور ان عورتوں کے داﺅ پیچ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام سے پھیر دیئے۔ یقینا وہ (اللہ تعالیٰ) سننے والا ہے۔ جاننے والا ہے ۔پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد انھیں یہی مصلحت معلوم ہوئی۔کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کچھ مدت کے لیے قید خانے میں رکھیں۔ (سورة یوسف آیت نمبر33 سے 35 تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اس عورت نے جب یہ دےکھا کہ مےرا راز ان عورتوں پر فاش ہو ہی چکا ہے۔ اس لیے وہ ان عورتوں کے سامنے ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگی۔ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس وقت یہ سب عورتیں بھی حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگیں کہ یہ عورت تمہاری محسن ہے اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ دیکھا عورتیں بھی زلیخا کی موافقت اور تائید کر رہی ہیں ۔اور ان کے مکر و فریب سے بچنے کی کوئی ظاہری تدبیر نہیں رہی۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ اور دعا کی کہ ،اے میرے رب! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں اس سے تو زیادہ مجھے جیل خانہ پسند ہے۔

قید خانے (جیل)میں

سورة یوسف کی آیت نمبر 33 سے35 تک کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننی پڑے گی۔ اگر اس نے میری بات نہیں مانی تومیں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی۔ حضرت یوسف علیہ السلام زلیخا اور بیگماتِ مصر کی بے تکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا اے اللہ تعالیٰ،یہ عورتیں مجھے اپنی ہوس اور خواہش پر قربان کرنا چاہتیں ہیں۔مجھے ان کی جھوٹی خواہشوں اور پرفریب حرکتوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ تعالیٰ،مجھے ان عورتوں کی خواہشات اور مکر و فریب سے محفوظ فرما دے۔ مجھے جیل جانا پسند ہے۔ لیکن کسی گناہ کے تصور سے بھی کانپ اٹھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا قبول کر لی۔ ادھر اسباب یہ ہوئے کہ عزیز مصر اس بات سے سخت پریشان تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے شک بے قصور ہیں۔ اور ان کا کردار ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔لیکن اس واقعہ کی اتنی شہرت ہو چکی تھی کہ گھر گھر میں اس کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ اس واقعہ پر خاموشی اختیار کی جائے یا اس واقعہ کا انکار کر کے لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ ایسا سب کچھ نہیں ہے جیسا لوگ کہ رہے ہیں۔ پہلی صورت میں دشواری یہ تھی کہ خاموش رہنے سے اس بات کے ختم ہونے کاکوئی امکان نہیں تھا۔ دوسری صورت کا حل یہی تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کر دیا جائے تاکہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں۔اور شاہی خاندان کا وقار بھی بچ جائے اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس زلیخا کا کوئی قصور نہیں ہے۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔آپ علیہ السلام نے قید خانے میں ایسی اعلیٰ سیرت و کردار کا مظاہرہ کیا کہ ہر شخص آپ علیہ السلام کا گرویدہ ہوگیا۔ قید خانے کے داروغہ نے قید خانے کے سارے اہم معاملات آپ علیہ السلام کے حوالے کردئیے۔ اور قید خانے کے ذمہ داروں اور تمام قیدیوں کو اس بات کا پورا یقین ہوگیا تھا کہ آپ علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بلکہ زبردستی قید خانے میں ڈالا گیا ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی عجیب شان ہے کہ وہ آزاد ہوں یا قید میں ہر حال میں اپنی سیرت و کردار کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ اسی لئے ہر قیدی کے دل میں آپ علیہ السلام کے علم و فضل اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نقش جمتا چلا گیا ۔ اور وہی قید خانہ حضرت یوسف علیہ السلام کےلئے عزت و سر بلندی اور لوگوں کی محبت کا مرکز بن گیا۔ 

قید خانے میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے

حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زلیخا نے دعویٰ کیا تھا کہ میں پھر سے کوشش کروں گی اور اگر اس نے میری نہیں مانی تو میں اسے قید کروادوں گی جہاں یہ گھٹ گھٹ کر مرجائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام سے زلیخا نے اپنی مرضی منوانے کی کوشش کرتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام کو راضی کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس طرح دو برس گزر گئے اور آپ علیہ السلام نے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ اور اس کےلئے آپ علیہ السلام کو بہت زبردست جدو جہد کرنی پڑ کررہی تھی۔ ادھر زلیخا بھی اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے جھنجھلا گئی تھی۔ اور عزیز مصر سے بار بار شکایت کرنے لگی اور زور دینے لگی کہ یوسف (علیہ السلام ) کو قید خانے میں ڈال دو۔ (تاکہ قید کی سختےوں کو برداشت نہ کرسکے اورمےری بات مان لے)۔ عزیز مصر ٹالتا رہا۔ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے خود عزیز مصر سے کہا کہ مجھے قید خانے میں ہی ڈال دو۔ یہ میرے لئے اس کام سے اچھا رہے گا جس کی طرف یہ عورت بلا رہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود عزیز مصر کا دل نہیں چاہا کہ اتنے معصوم جوان کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اس کام کی بجائے قید خانہ پسند ہے جس کام کی طرف یہ عورت بلا رہی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور عزیز مصر کے دل کو اس طرف مائل کردیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو قید خا نے میں ڈال دے۔آخر کار اس نے آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال ہی دیا۔ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالا گیا۔تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ ایک روایت میں 27 سال اور دوسری روایت میں 28 سال یا30 سال اور تیسری روایت میں 33 سال کی عمر بھی آئی ہے۔ آپ علیہ السلام کی غور و فکر کی عمر شروع ہو چکی تھی۔ اور اس کے لئے تنہائی کی ضرورت تھی۔ جو آپ علیہ السلام کو جیل میں میسر آئی تھی۔ کئی روایات کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ بارہ سال تک قید خانے میں رہے۔ اور اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر مبارک 40 سال ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا۔اور آپ علیہ السلام نے جیل ہی میں اسلام کی دعوت دینی شروع کردی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزہ،خوابوں کی تعبیر

حضرت یوسف علیہ السلام کو بے گناہی کے باوجود نا معلوم مدت کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ اس دوران آپ علیہ السلام کا قیدی ساتھیوں کے ساتھ طرز عمل نہایت اعلیٰ اور بے مثال تھا۔ آپ علیہ السلام تمام قیدیوں کی مزاج پرسی کرتے تھے۔ اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے تھے۔ کسی کو پریشان حال دیکھتے تو تسلی دیتے تھے۔اور صبر و تحمل کی تلقین فرماتے۔آپ علیہ السلام کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ نہایت دوستانہ ہوتا ۔ جس کی وجہ سے تمام قیدیوں میں آپ علیہ السلام کی عزت اور احترام اور ان کے علم اور تقویٰ کا بہترین اثر مرتب ہونا شروع ہوگیا۔اللہ تعا لی نے قید خا نے میں ہی آپ علیہ السلا م کو نبوت عطا فر ما ئی ۔اور آپ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپ علیہ السلا م خوابو ں کی تعبیر باکل صحیح بتاتے تھے۔ پھر جب ا للہ تعا لی نے آ پ علیہ السلام کو قید خانے سے نکالنے کا ارادہ فرمایاتو ویسے ہی حالات پیدا کر دیے۔اب جو بھی قیدی آپ علیہ السلام کو اپنا خواب بیان کرتا تھا تو آپ علیہ السلام اسے اسکے خواب کی تعبیر بتا دیا کرتے تھے۔اور ویسا ہی ہوا کرتا تھا۔دھیرے دھیرے پوری جیل کے قیدیوں کو یہ بات معلوم ہو گئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام خواب کی با لکل صحیح تعبیر بتاتے ہیں۔

تمام لوگ آپ علیہ السلام سے محبت کرنے لگے

حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کے بارے میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔وہب اور دیگر لو گوں نے کہا ۔حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کرکے قید خانے کی طرف ایک خچر یا گدھے پر سوار کرکے لا یا گیا۔اور ایک کہنے والا یہ کہتا جاتا تھا کہ یہ سزا ہے اس کی، جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی ہے۔ اور آپ علیہ السلام فرما رہے تھے یہ آگ کے لباس ، تارکول(ڈامر) کی قمیص، پیپ کے پینے اور زقوم (تھوہڑ)کھا نے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ (کیو نکہ اگر میں اس عورت کی بات مان لیتا تو یہ سب مجھے ملتا)جب حضرت یوسف علیہ السلام قید خانہ پہونچے تو آپ علیہ السلام نے اس میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جن کی امیدیں بھی ختم ہو چکی تھیں۔اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہو چکی تھی۔تو آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا ۔صبر کرو اور خوش رہو تمییں اس پر اجر ملے گا ۔تو انھوں نے کہا ،اے جوان،تیری گفتگو کتنی خوبصورت ہے۔ہمیں تیرے پڑوس کی وجہ سے برکتیں نصیب ہوئیں۔اے نو جوان ،تم کون ہو؟آپ علیہ السلام نے فرمایا۔میں یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہوں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے شوہر کو کہا کہ اس عبرانی غلام نے مجھے رسوا کیا ہے۔میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے قید کر دیں۔ تو اس نے آپ علیہ السلام کو قید کر دیا۔ قید خانے میں آپ علیہ السلام پریشان حال کو دلاسہ دلاتے ،بیمار کی عیادت کرتے، زخمی کا علاج کرتے، ساری رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عبادت کرتے اور روتے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ قید خانے کی دیواریں اور چھتیں بھی اور دروازے بھی رونے لگتے۔ آپ علیہ السلام کے سبب قید خانے کو پاکیزگی حاصل ہوئی۔ اور قیدی آپ علیہ السلام سے مانوس ہو گئے۔ یہ صورتِ حال ہو گئی تھی کہ جب کو ئی آدمی قید خانے سے نکلتا تو واپس لوٹ آتا۔ اور قید خانے میں آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھتا تھا۔ قید خانے کے انچارج یعنی جیلرنے آپ علیہ السلام سے محبت کرتے ہوئے اسے آپ علیہ السلام کے لئے وسیع کر دیا تھا۔ پھر آپ علیہ السلام سے کہا،اے یوسف (علیہ السلام)میں آپ کے ساتھ اتنی محبت کرتا ہوں جتنی کسی اور چیز سے نہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں تیری محبت سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ اس نے کہا، ایسا کیوں؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا۔ میرے والدِ محترم کی محبت کی وجہ سے بھائیوں نے مجھے بیچ ڈالا۔اور میری مالکن نے میرے ساتھ محبت کی تو میرے اوپر یہ مصیبت آئی۔ جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔

قید خانے میں دو قیدی آئے:

اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا،ترجمہ”اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہاکہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے ہو ئے دیکھا۔اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں نے اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہو ئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں۔ ہمیں آپ اسکی تعبیر بتائے۔ہمیں تو آپ (علیہ السلام )خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں (سورة یوسف آیت نمبر 36)امام قرطبی لکھتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام قید میں تھے کہ بادشاہ اپنے نانبائی(باورچی)اور اپنے ساقی(شراب بنا کر پلانے والے) سے ناراض ہو گیا۔اس کا سبب یہ تھا کہ باد شاہ نے لوگوں کے درمیان اتنا لمبا عرصہ گزارا کہ وہ لوگ (درباری اور وزرا وغیرہ)اس سے تنگ آ گئے۔اور انھوں نے خباز(باورچی یعنی روٹی پکانے والے) اور ساقی کے ذریعے سازش کی۔ کہ وہ دونوں کھانے میں اور شراب میں زہر ملا دیں۔خباز نے ان کی بات مان لی اور ساقی نے انکار کر دیا۔ ساقی بادشاہ کے پاس گیا اور اسے اس بات کی خبر دی تو بادشاہ نے دونوں کو قید کرنے کا حکم جاری کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ خباز نے کھانے میں زہر ملا دیا جب کھانا پیش کیا گیا تو ساقی نے کہا ۔اے بادشاہ سلامت،کھانا نہیں کھائیے اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ خباز نے کہا ،اے بادشاہ سلامت شراب نہیں پینا اس میں زہر ملا ہوا ہے۔بادشاہ نے ساقی سے کہا کہ شراب پیﺅ اس نے شراب پی لی اور شراب نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔پھر بادشاہ نے خباز سے کہا کہ کھانا کھاﺅ۔اس نے کھانے سے انکار کر دیا۔کھا نا ایک جانور کو کھلایا گیا۔وہ اسی جگہ مر گیا تو بادشاہ نے دونوں کو قید کردیا اور قید خانے میں وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ ساقی کا نام منجا اور باورچی کا نام مجلث تھا۔ امام ابن جریر طبری فرماتے ہیں کہ ساقی کا نام نبو تھا۔

قیدیوں کے خواب

جب یہ دونوں قیدی جیل میں آئے تو انھیں معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام قیدیوں میں بہت مقبول ہیں اور ہر ایک کی مدد کرتے ہیں اور یہ دیکھا کہ قیدیوں سے لیکر تمام جیل منتظمین یہاں تک کہ جیلر بھی آپ علیہ السلام سے محبت کرتا ہے تو انھیں بڑی حیرانی ہوئی ۔ اسکے علاوہ قیدیوں نے بتایا کہ آپ علیہ السلام خوابوں کی سچی تعبیر بتاتے ہیں ۔ یہ سن کر ان دونوں نے آپس میں کہا کہ آﺅ ہم اس عبرانی قیدی کا تجربہ کریں ۔ پھر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنا اپنا خواب سناےا اور اسکی تعبیر پو چھی۔ ساقی نے کہا۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بادشاہ کےلئے انگور نچوڑ رہا ہوں۔ اور خباز یعنی باورچی نے کہا ۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹیاں اٹھائے جارہاہوں اور پرندے اس میں سے نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کہا کہ ہمارا گمان ہے کہ آپ (علیہ السلام ) نیک اور اچھے لوگوں میں سے ہیں۔ اس دونوں نے جو خواب سنائے وہ سچے تھے یا جھوٹے اس بارے میں تین قول ہیں ۔ (1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے صرف تجربہ کے طور پر سوال کیا تھا۔ (2) امام مجاہد اور امام محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ ان دونوں نے سچا خواب بیان کیا تھا اور ان دونوں نے واقعی خواب دیکھا تھا۔ (3) امام ابو مجلز کہتے ہیں کہ خباز یعنی باورچی نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا۔ اور ساقی نے سچا خواب بیان کیا تھا۔ 

قیدیوں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ ترجمہ ”یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا ۔ تمھیں جو کھانا دیا جاتا ہے ۔ اسکے تمھارے پاس پہونچنے سے پہلے ہی میں تمھیں اسکی تعبیر بتلادوں گا ۔ یہ سب اس علم کی بدولت جو مجھے میرے رب نے سکھایا۔ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا (یعنی ان لوگوں کے مذہب سے بےزاری کا اظہار کرتا ہوں) جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔ میں اپنے باپ دادا کے دین کا پابند ہوں یعنی ابراہیم و اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام ) کے دین کا ۔ ہمارے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ ہم پر اور تمام لوگوں پر اللہ کا یہ خاص فضل ہے۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں اے میرے قید خانے کے ساتھیوں کیا متفرق کئی ایک پرورگاد بہتر ہیں؟ یا صرف ایک اللہ جو زبردست طاقتور ہے اور قہر والا بھی ہے ۔ اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کررہے ہو۔ وہ سب نام ہی نام ہیں۔ جو تم نے اور تمھارے باپ داداﺅں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ۔ فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اسکے (اللہ کے) کسی اور کی عبادت مت کرو یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 37سے 40تک) ۔

قید خانے میں پہلی تقریر 

سورہ یوسف کی ان آیات کی تفسیر میں مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو ان دونوں کے خواب میں تعبیر کا فوراً پتا لگ گیا تھا کہ ایک بچنے والا ہے اور ایک مرنے والا ہے۔ اسلئے آپ علیہ السلام نے چاہا کہ پہلے ان کو اسلام تبلیغ کردینا چاہئے تاکہ خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ ان کو ہدایت اور راہ راست پر لانے کا حق بھی ادا ہوجائے ۔ اسلئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دوپہر کا کھانا آنے سے پہلے میں تمھیں تمھارے خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہوں ۔ دونوں قیدیوں کو سخت تعجب ہوا اور انھوں نے پوچھا اے ،یوسف (علیہ السلام )کیا تم جادوگر ہو؟ تم آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ نہیں۔ پھر ان دونوں نے پوچھا۔ کیا تم کاہن ہو یا نجومی ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ( اسی دوران پورے جیل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام ان دونوں قیدیوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے ہیں ۔ یہ سن کر تمام قیدی آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھ گئے ۔ حتیٰ کے جیل کے افسران اور جیلر بھی آپ علیہ السلام کی باتوں کو توجہ سے سننے لگے)۔ وہ دونوں قیدی حیرانی سے بولے پھر تمھیں خوابوں کی تعبیر کا علم کس نے سکھایا ہے ؟ جواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ علم مجھے میرے رب نے سکھایا ہے ۔ قیدیوں نے پوچھا ۔ آپ علیہ السلام کا رب کون ہے ؟ آپ علیہ السلام نے فرماےا میرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ جو میرا اور تمھارا سب کا خالق ہے ۔ اور مجھ کو یہ علم اسلئے سکھایا کہ میں نے شروع سے ہی تمھارے دین کو چھوڑے رکھا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا دین جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کے کافر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں ۔ یہ تھی وہ پہلی تقرےر جو آپ علیہ السلام نے جیل کی کوٹھری میں نہایت مشرکانہ ماحول میں کی۔ یہاں سے آپ علیہ السلام کی تبلیغ نبوت شروع ہوتی ہے۔ روایت ہے کہ سارے قیدی اور جیل کا عملہ (افسران) جمع ہوگئے تھے ۔ 

قید خانے میں اعلان نبوت 

سورہ یوسف کی ان آیات کی تفسیر میں مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام سے جب دونوں قیدیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں کھانا آنے سے پہلے تمھارے خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ لیکن اس سے پہلے تم مجھے پہچانو۔ کہ میں کون ہوں؟ عالم ، مبلغ اور داعی کا کام یہی ہے کہ وہ اپنی دعوت کے کام کےلئے طریقے سوچتا رہتا ہے ۔ اور راستہ نکالے اور ایسے موقع پر تو خاص طور سے موقع نکل آتا ہے جب کسی بے راہ کو مبلغ اور داعی کی ضرورت پڑ جائے ۔ جب وہ اپنی حاجت لیکر آئے تو اس کو غنےمت جانے اور پہلے اپنی دعوت والی بات کہے ۔آپ علیہ السلام نے اس پر عمل کیا اور موقع مناسب جان کر توحید کی تبلیغ فرمادی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اول تو اپنا تعارف کرایا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کو نہیں مانتے اور آخرت کے منکر ہیں بلکہ میں اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام اور دادا محترم اسحاق علیہ السلام اور پردادا محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں۔ جو موحد اور توحید کے داعی تھے اور شرک سے بہت دور تھے۔ اور ساتھ ہی شرک کی برائی عقلی طور پر بھی بیان فرمائی کہ ہمیں یہ کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو اللہ کا شریک بنائیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو پیداکیا ہے۔ اور وہی رازق اور مالک ہے۔ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ تو پھر یہ کون سی عقلمندی ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کی جائے۔ مزیدفرمایا کہ یہ جو اللہ نے ہمیں عقیدہ توحید کی نعمت سے نوازا ہے اور جو کچھ علم عطا فرمایا ہے یہ اللہ کا فضل ہے۔ اور ہم پر ہی نہیں سب پر بھی اس کا فضل ہے۔ ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نعمت عطا فرمائی ہو اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہو۔ لیکن بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔ شرک کی مزید قباحت اور مذمت بیان کرتے ہوئے خود انہیں پر ایک سوال ڈال دیا اور عقلی طور پر انہیں فکر مند بنا دیا۔ تا کہ وہ غور کریں کہ ہم جو شرک پر لگے ہوئے ہیں یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے جیل کے ساتھیو، تم ہی بتاﺅ کہ یہ جو تم نے بہت سے معبود جدا جد ا تجویز کر رکھے ہیں ان سب کی عبادت کرنا ٹھیک ہے یا معبودِ حقیقی کی جو وحدہ لا شریک ہے۔ مزید فرمایا کہ تمہارے جو معبود ہیں یہ صرف نام ہی نام ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ 

خواب کی تعبیر بتائی

اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا،ترجمہ”(حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا) اے میرے قد خانے کے رفیقو،تم دو نوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پرمقرر ہو جائے گا۔لیکن دوسرے کو پھانسی دی جائے گی۔اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھا ئیں گے۔تم دونوں جسکے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اسکا فیصلہ کر دیا گیا۔اور جس کی نسبت یوسف علیہ السلام کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے چھوٹ جائے گا۔ اس سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے میرا ذکر بھی کر دینا پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ اور یوسف علیہ السلام نے کئی سال قید خانے میں کاٹے۔ ( سورہ یوسف ، آیت نمبر41اور 42) حضرت یوسف علیہ السلام ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے ۔ اسی دوران کھانا آگیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کھانا کھاﺅ اور خود بھی کھانے لگے۔ اس کے بعد انہیں خواب کی تعبیر بتائی کہ پہلے شخص سے فرمایا۔ تم جو انگور نچوڑ رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس الزام سے باعزت بری ہو جاﺅ گے اور بادشاہ کے خاص ساقی بنو گے۔ اور دوسرے شخص سے فرمایا۔ تمہارے خواب کی یہ تعبیر ہے کہ تم پر جو الزام لگا ہے وہ سچ ثابت ہو گا اور تمہیں پھانسی ہو جائے گی۔ اور پرندے تمہارے مردہ جسم کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ ایک کو پھانسی ہو گئی اور دوسرے کو باعزت بری کر دیا گیا۔ جب وہ جانے لگا تو آپ علیہ السلا م نے اس سے فرمایا ۔ جب تم بادشاہ کے ساقی بن جانا تو اس سے میرا ذکر کرنا۔ لیکن ابلیس شیطان نے اسے بھلا دیا۔ اور کافی عرصہ گزر گیا۔ اس دوران وہ شخص بادشاہ کا خاص ساقی بنا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ان دونوں نے خواب نہیں دیکھے تھے بلکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے علم کا تجربہ کرنے کے لئے یہ خواب بنا کر پیش کئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے انہیں خواب کی تعبیر بتائی تو انہوں نے کہا ہم نے خواب نہیں دیکھے تھے یہ تو صرف دل لگی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی جیسا میں نے بتایا ہے ویسا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ اٹل ہو چکا ہے۔ 

تعبیر بتانے کے بعد کتنا عرصہ جیل میں رہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے ساقی سے فرمایا تھا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کرنا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر رحم فرمائے اگر وہ یہ بات نہ فرماتے تو اتنا عرصہ جیل میں نہیں رہتے۔جتنا وہ رہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف پر رحم فرمائے۔ اگر وہ یہ بات نہ فرماتے تو اتنا زیادہ عرصہ قید خانے میں نہیں رہتے۔ جتنا وہ رہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ( خوابوں کی تعبےر بتانے کے بعد) حضرت یوسف علیہ السلام سات سال تک جیل میں رہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام بارہ سال جیل میں رہے۔ پانچ سال خوابوں کی تعبیر بتانے سے پہلے اور سات سال خوابوں کی تعبیر بتانے کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت(سورہ یوسف آیت نمبر 42) میں ”بِضعَ سِنِین “ یعنی کئی سال فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرماےا کہ ’بضع‘ کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے ۔

مصر کے بادشاہ (فرعون ) کا خواب

اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں بتاچکے ہیں کہ مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مصر کے بادشاہوں کا ایک خاندان گذرا ہے جس نے فرعون لقب اختیار کیا تھا۔ اور اس خاندان کو فراعنہ مصر کہا جاتا ہے۔ اسلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں جو بادشاہ تھا اس کا لقب فرعون لیکن نام دوسرا تھا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام دوسرا تھا ۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام کچھ اور تھا۔ روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کے زمانے کے بادشاہو ں (فرعونوں ) نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کے دوران جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہائی کا ارادہ فرمایا تو بادشاہ کو خواب دکھلایا۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ترجمہ۔ ” بادشاہ نے کہا ۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی پتلی لاغر گائیں کھارہی ہیں۔ اور سات ہری ہری بالیاں ہیں اور دوسری سات بالکل خشک بالیاں ہیں۔ اے درباریوں ، اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہوتو میرے اس خواب کی تعبیر بتاﺅ۔ انھوں نے (درباریوں اور نجومیوں نے) جواب دیا کہ اڑتے اڑتے پریشان خواب ہیں ۔ اور ایسے شوریدہ پریشان خوابوں کی تعبیر ہم نہیں بتا سکتے ہیں ۔ ( سور ہ یوسف آیت نمبر 43اور44)

قید خانے سے رہائی کا وقت آگیا

حضرت یوسف علیہ السلام کی قید خانے سے رہائی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ خواب دکھلایا۔ ان دو آیات کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی آزادی قریب آئی تو بادشاہ نے خواب دیکھا۔ جبرئیل امین علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی قیدخانے میں حاضر ہوئے۔ اور سلام کیا ۔ اور آزادی کی خوشخبری سنائی۔ اور عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو قید سے نکالنے والا ہے اور آپ علیہ السلام کو اقتدار دےدے گا۔ اور بادشاہ اور تمام وزراءکو آپ علیہ السلام کا اطا عت گذار اور فر ماں بردار بنا ئے گا۔اور آپ علیہ السلام کے بھا ئیوں پر کلمہ علیا عطا فر مائے گا اور یہ اس خوا ب کی وجہ سے ہو گا جو با دشاہ نے دیکھا ہے۔وہ خواب مصر کے بادشا ہ ریان بن ولیدنے دیکھا کہ خشک نہر سے سات موٹی گائیں نکلیں۔ اور ان کے پیچھے سات دبلی پتلی گائے، اور کمزور گائیں نکلیں اور دبلی پتلی گائیوں نے موٹی تازی گائیوں پر حملہ کر دیا اور سینگوں کو چھوڑ کر سب کچھ کھا گئیں۔ اور سات ہرے بھرے سر سبز و شاداب خوشے (گچھے ) دیکھے۔ ان پر سات خشک خوشے حملہ آور ہوئے اور ہرے بھرے خوشوں کو کھا گئے۔ پھر بھی وہ خشک رہے۔ اسی طرح موٹی گائیوں کو کھانے کے بعد بھی وہ گائیں دبلی پتلی ہی رہیں۔ خواب نے بادشاہ کو پریشان کیا تو اس نے علماءکو ، جادوگروں کو ، نجومیوں کو اور کاہنوں کو بلایااور ان کے سامنے اپنا خواب بیان کیا۔ 

 کوئی خواب کی تعبیر نہیں بتا سکا

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون یعنی باد شاہ نے جو خواب دیکھا تھا ۔ وہ اس نے اپنے تمام علماء، نجومیوں ، کاہنوں ، جادوگروں اور خواب کی تعبیر بتانے والوں کو جمع کرکے سنایا تو سب لوگ اس خواب کو سن کر پریشان ہوگئے ۔ اور کسی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ تمام لوگوں نے کہا۔ کہ یہ کوئی مربوط خواب نہیں ہے بلکہ چند پریشان اور منتشر خیالات ہیں۔ لیکن بادشاہ کو اطمینان نہیں ہوا اور وہ بری طرح پریشان ہوگیا۔ اس نے پورے مصر میں اعلان کردیا کہ جو بھی اس خواب کی تعبیر بتائے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ پوری سلطنت میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ کہ ایک خواب نے بادشاہ کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ اور بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اس کی نیند اڑ چکی تھی۔ اور وہ ہر وقت پریشان اور سوچوں میں گم رہنے لگا تھا۔ اور وہ اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا اتنے بڑے ملک میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو میرے خواب کی صحیح تعبیر بتا سکے۔ 

خواب کی تعبیر بتانے والا یا د آگیا

حضرت یوسف علیہ السلام اور جیل کے قیدیوں کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ بادشاہ ایک خواب کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ ادھر بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اسے نہ تو کھانے پینے کا ہوش تھا اور نہ ہی سو سکتا تھا۔ وہ اپنی خواب گاہ (بیڈ روم) میں تھا۔ اس نے ساقی کو بلاکر جام بنانے کا حکم دیا اور سوچوں میں گم ہوگیا۔ ساقی نے شراب کا جام بنایا اور بادشاہ کی خدمت میں لیکر حاضر ہوگیا۔ بادشاہ کی توجہ اس کی طرف نہیں تھی وہ کچھ دیر تک جام لیکر کھڑا بادشاہ کو دیکھتا رہا لیکن وہ مسلسل سوچوں میں گم رہا تو ساقی نے اسے مخاطب کیا۔ بادشاہ چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوا اور جام لے لیا۔ ساقی نے ادب سے عرض کیا ۔باد شاہ سلامت کیا بات ہے ؟ آپ کچھ پریشان دکھائی سے رہے ہیں۔ بادشاہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور کہا ۔ جس مسئلے کی وجہ سے میں پریشان ہوں اس مسئلے کو تم حل نہیں کرسکتے ۔ ساقی نے عاجزی سے عرض کیا۔ بادشاہ سلامت کچھ بتائیں تو سہی۔ بادشاہ نے اسے غور سے کچھ دیر دیکھااور کہا۔ میں نے ایک خواب دیکھا ہے بڑے بڑے علماء، نجومی ، کاہن اور خوابوں کی تعبیر بتانے والے اس خواب کی تعبیر نہیں بتا سکے ہیں۔ اور میں اس خواب کو لیکر بہت پریشان ہوں۔ اچانک ساقی کو حضرت یوسف علیہ السلام یاد آگئے۔ اور اس نے اپنے ہاتھ کو ملتے ہوئے کہا ۔ اوہو بڑے افسوس کی بات ہے میں اس نیک قیدی کو بھول گیا۔ پھر اس نے بے تابی سے کہا۔ بادشاہ سلامت ، ایک شخص ہے جو اس خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتا دے گا۔ بادشاہ نے جلدی سے ساقی کا ہاتھ پکڑا اور بولا ۔ مجھے بتاﺅ وہ شخص کون ہے میں اسے سونے چاندی اور جواہرات میں تول دوں گا۔ ساقی نے کہا ۔وہ ایک قیدی ہے آپ مجھے اجازت دیں میں اس قیدی سے خواب کی تعبیر پوچھ کرآﺅں۔ بادشاہ نے بے تابی سے کہا۔ جلدی جاﺅ ، یہ تمھارا اور اس شخص کا مجھ پر احسان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے (کا فی )مدت بعد یاد آگیا اور کہنے لگا۔ میں آپ کو اسکی تعبیر بتلادوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے“۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر 45)۔

 خواب کی تعبیر بتائی

وہ ساقی بادشاہ سے اجا زت لیکر جلدی جلدی قید خانے میں آیا اور تمام باتیں آپ علیہ السلام کو بتائیں ۔ آپ علیہ السلام مسکراتے ہوئے یہ سب سن رہے تھے۔ تمام باتیں سن کر آپ علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی۔ جو اس نے بادشاہ کو آکر بتائی۔ بادشاہ تعبیر سن کر اور پریشان ہوگیا اور ساقی سے کہا۔ اس تعبیر بتانے والے کو میرے پاس لیکر آﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں یہ واقعہ اس طرح بیان فرمایا ۔ ترجمہ ۔” (ساقی نے قید خانے میں کہا) اے یوسف ، اے بڑے سچے یوسف (علیہ السلام ) ، آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے۔ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں ۔ اور سات بالکل ہرے بھرے اور سر سبز خوشے ہیں اور سات بالکل خشک خوشے ہیں ۔ تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں اور وہ سب (حقیقت) جان لیں۔ یوسف (علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ تم سات سال حسب عادت پے در پے غلہ بویا کرنا ۔ اور فصل کاٹ کر ان کو بالیوں سمیت ہی رہنے دینا۔ صرف اپنے کھانے کےلئے تھوڑی سے مقدار نکال لینا۔ اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے۔ وہ اس غلے کو کھا جائیں گے۔ جو تم نے ذخیرہ کرکے جمع کرکے رکھا ہوگا۔ اس کے بعد جو سال آئے گا۔ اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرئہ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے۔ بادشاہ نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو میرے پاس لے آﺅ“۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 46سے50تک) ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب سن کر اسکی تعبیر بھی بتائی اور اسکا حل بھی بتایا ۔ کہ سات سال تک اناج بہت زیادہ پیدا ہوگا تو تم اناج خوب اگانا اور صرف ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرنا باقی محفوظ کرکے زخیرہ کرلینا ۔ ان سات سالوں کے بعد اگلے سات سال سخت قحط کے آئیں گے۔ اور اناج بالکل پیدا نہیں ہوگا۔تو قحط کے ان سات سالوں میں تمھارا زخیرہ کیا ہوا اناج کام آئے گا۔ ساقی نے بادشاہ کے پاس آکر خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ خوب ڈر گیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ یوسف (علیہ السلام ) نے اس کا حل بھی بتایا ہے کیا؟ تو ساقی نے کہا ۔ ہاں اور آپ علیہ السلام نے جو حل بتایا تھا وہ بادشاہ کو بتادیا۔ بادشاہ حل سن کر حیران رہ گےااور بولا۔ اتنا عقل مند آدمی قید خانے میں کیا کر رہا ہے۔ جاﺅ اسے ہمارے پاس لیکر آﺅ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ خواب کی تعبیر معلوم کرکے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقتِ حال سے مطلع کیا ۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بڑے ہی عالم و فاضل شخص ہیں۔ خوابوں کی تعبیروں کو تو بتانے میں آپ علیہ السلام ماہر ہیں ہی ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے ، حسن تدبیر والے ، خلق اللہ کا بھلا چاہنے والے اور بے طمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ وہ خود آپ علیہ السلام سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاﺅ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانے سے آزاد کرکے میرے پاس لے آﺅ۔ 

ان عورتوں کا کیا حال ہے؟

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔” بادشاہ نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو میرے پاس لاﺅ ۔ جب قاصد یوسف (علیہ السلام ) کے پاس پہونچا تو انھوں نے فرمایا۔ اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاﺅ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ انکے مکر وفریب کو (صحیح طور پر) جاننے والا میرا پرور دگار (اللہ تعالیٰ ) ہی ہے۔ “( سورہ یوسف آیت نمبر 50)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر رحم فر مائے۔ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلیم تھے۔ اگر میں قید خانے ہوتا تو بلاوا آتے ہی نکل پڑتا۔ (تفسیر طبری جلد 12سورہ یوسف ، صحیح بخاری صحیح مسلم )۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر تعجب ہوا ۔ اللہ ان کو اپنی عافیت میں رکھے۔ جب ان کو خواب کی تعبیر کے بلایا گیا اگر میں ہوتا تو ایسا نہیں کرتا اور فوراً نکل آتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور حلم پر تعجب ہوا۔ اللہ ان کو اپنے عافیت میں رکھے۔ قاصد ان کے پاس آیا کہ وہ قید سے باہر آجائیں لیکن وہ نہیں آئے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے عذر کی خبر دی۔ اگر میں ہوتا تو باہر آجاتا ۔ لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنا پسند کیا۔ مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔قاصد نے جب حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ کہا کہ بادشاہ آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس وقت تک جیل سے نہیں نکلوں گا جب تک یہ بات صاف نہ ہوجا ئے کہ مجھے جس واقعہ کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا ہے اس واقعہ میں قصور کس کا ہے؟ اور قاصد سے فرمایا کہ تم واپس جاﺅ اور بادشاہ سے کہو کہ وہ ان عورتوں کی تحقیق کرے جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ اور ان سے دریافت کرے کہ میں قصور وار تھا کہ عزیز مصر کی بیوی قصور وار تھی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت ہونا

حضرت یوسف علیہ السلام کا پیغام لیکر قاصد باد شاہ کی پاس پہونچا اور تمام حالات بتائے تو بادشاہ نے تحقیق شروع کی کہ کس نے آپ علیہ السلام کو جیل میں ڈالا تو عزیز مصر نے کہا کہ میں نے ڈالا ہے۔ اور اس کی وجہ میری بیوی ہے اور اپنی بیوی اور ان عورتوں کے ہاتھ کاٹنے لینے کا واقعہ بیان کیا۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ عزیز مصر کی بیوی اور ان عورتوں کو حاضر کیا جائے۔ جب وہ سب دربا ر میں حاضر ہوگئے تو بادشاہ نے ان سے پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” بادشاہ نے پوچھا۔ اے عورتو، اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے؟ جب تم داﺅ فریب کرکے یوسف (علیہ السلام ) کو بہکانا چاہتی تھیں۔ انھوں نے جواب دیا۔ مَاشَااللہ! ہم نے یوسف (علیہ السلام )میں کو برائی نہیں پائی ہے۔ پھر تو عزیز مصر کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات کھل کر سامنے آہی چکی ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے ہی اسے ورغلایا تھا۔ اسے برائی کی طرف ۔ اور یقیناً وہ سچے لوگوں میں سے ہیں۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 51) بادشاہ کے دربار میں جب تمام عورتیں اور عزیز مصر کی بیوی حاضر ہوگئی تو تب تک بادشاہ سچائی کا پتہ لگا چکا تھا۔ اس نے ان عورتوں کو ڈانٹ کر کہا کہ سچ بتاﺅ قصور کس کا ہے؟ تو ان عورتوں نے کہا سچائی یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ، معصوم ، نیک اور فرشتہ صفت ہیں۔ اسی عورت نے انھیں بہکانے کی کوشش کی تھی۔ اور ہم نے اس عورت کا ساتھ دیا تھا۔ بادشاہ نے ڈانٹ کر زلیخا سے کہا تو سچ سچ بتا۔ زلیخا نے کہا اب بات کھل کر سامنے آچکی ہے تو میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے حضرت یوسف (علیہ السلام ) کو بہکا نے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یوسف بہت ہی نیک بندہ اور معصوم ہے۔ وہ بالکل میرے بہکاوے میں نہیں آیا جب میں نے دیکھا کہ یہ میری بات نہیں مان رہا ہے تو میں نے اپنے شوہر عزیز مصر کو مجبور کیا کہ وہ یوسف (علیہ السلام ) پر جھوٹا الزام لگا کر جیل میں ڈال دے۔ وہ بے قصور ہیں۔ 

قید خانے سے رہائی

حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ثابت ہوگئے ۔ تو بادشاہ نے کہا۔کہ اب تو یوسف علیہ السلام قید خا نے سے باہر آ سکتے ہیں۔ عزیز مصر خود خوش خبری لےکر آپ علیہ السلا م کے پا س قید خا نے میں پہو نچا اور تما م با تیں بتا کر مبا رکبا د دی ۔ آ پ علیہ السلا م نے فر ما یا ۔ میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ سچ لو گو ں کے سا منے آ جا ئے اور آ پ کے دل میں یہ شک نہ رہے۔کہ میں نے آپ کے ساتھ کو ئی خیانت کی ہے۔اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ترجمہ”(حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا)یہ میں نے اس لئے کیا کہ( عزیز مصر)جان لے کہ میں اس کے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ دغا بازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا۔“ (سو ر ہ یوسف آیت نمبر52 ) عزیز مصر نے آپ علیہ السلام کو گلے سے لگایا اوراپنی بیوی کی حر کتوں کی معا فی ما نگی۔اور آپ علیہ السلا م سے عرض کیا کہ بادشاہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ علیہ السلا م کو لےکردربار میں ان کے سا منے آﺅں۔ براہ کر م جلدی چلئے۔ باد شاہ آپ علیہ السلام سے ملنے کے لئے بے چین ہیں۔اور وہ آپ علیہ السلام کو اپنا مشیر بنانا چاہتے ہیں۔ 

بادشاہ سے ملا قا ت

اللہ تعالی نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ترجمہ۔ ”بادشاہ نے کہا ۔ انھےں مےرے پاس لاﺅ کہ میں انھےں اپنے خاص کاموں کےلئے مقرر کرلوں۔ پھر جب آپ سے بات چےت کی تو کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام ہمارے یہاں آج سے عزت والے اور امانت دار ہیں۔ ( حضرت یوسف علیہ السلام نے ) فرماےا۔ آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں۔“ (سورہ یوسف آےت نمبر 54اور55) عزیز مصر حضرت یوسف علیہ السلام کو لے کر دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے اپنے تخت سے اٹھ کر آگے بڑھ کر آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور تمام درباریو ں، وزراءاور امراءنے بھی کھڑے ہو کر آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور بادشاہ آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اپنے تخت تک لایا اور اپنے ساتھ بٹھایا۔ مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر میں امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب بادشاہ کا قاصد جیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس دوبارہ پہنچا اور بادشاہ کا دعوت نامہ دیا تو آپ علیہ السلام نے سب جیل والوں کے لئے دعا کی۔ اور غسل کر کے نئے کپڑے پہنے۔ جب بادشاہ کے دربار میں پہنچے تو یہ دعا کی۔ میری دنیا کے لئے میرا رب ( اللہ ) کافی ہے۔ اور ساری مخلوق کے بدلے میرا رب میرے لئے کافی ہے۔ جو اس کی پناہ میں آگیا وہ بالکل محفوظ ہے۔ اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہے۔ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ 

بادشاہ سے گفتگو

حضرت یوسف علیہ السلام جب دربار میں پہنچے ۔ مولانا مفتی محمد شفیع ، امام بغوی کے حوالے سے آگے لکھتے ہیں ۔ دربار میں پہنچ کر آپ علیہ السلام نے عربی زبان میں سلام ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ فرمایا۔ اور بادشاہ کے لئے عبرانی زبان میں دعا کی ۔ بادشاہ حالانکہ بہت سی زبانیں جانتا تھا مگر عربی اور عبرانی سے واقف نہیں تھا ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے مختلف زبانوں میں گفتگو کی اور اسی زبان میں جواب دیا۔ اور عربی اور عبرانی دو مزید زبانیں اسے بتائیں جن سے بادشاہ واقف نہیں تھا۔ اس واقعہ نے بادشاہ کے دل میں آپ علیہ السلام کی غیر معمولی وقعت پید اکر دی۔ پھر بادشاہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ علیہ السلام مجھے خود اس خواب کی تعبیر بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے پہلے اس کے خواب کی ایسی تفصیلات بتلائیں جوا ب تک بادشاہ نے بھی کسی نے ذکر نہیں کی تھیں۔ پھر تعبیر بتلائی۔ بادشاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ یہ تفصیلات آپ علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوئیں؟ 

بادشاہ نے ملک کا انتظام آپ علیہ السلام کو سونپ دیا

حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتائی۔ مولانا مفتی محمد شفیع ، امام بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے مشورہ طلب کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے تو آپ علیہ السلام نے مشورہ دیا۔ کہ پہلے سات سال سال جن میں خوب بارش ہونے والی ہے ان میں آپ زیادہ سے زیادہ غلّہ کا شت کر ا کے غلّہ اگانے کا انتظام کریں اور سب لوگوں کو ہدایت کریں کہ اپنی اپنی زمینوں میں زیادہ سے زیادہ کاشت کریں اور جتنا غلّہ حاصل ہواس میں سے پانچواں حصہ اپنے پاس ذخیرہ کرتے رہیں۔ اس طرح اہل مصر کے پاس قحط کے سات سال کے لئے بھی ذخیرہ جمع ہو جائے گا۔ اور آپ ان کی طرف سے بے فکر ہوں گے۔ حکومت کو جتنا بھی غلہ سرکاری محصول یا سرکاری زمینوں سے حاصل ہو اس کو باہر کے لوگوں کے لئے محفوظ رکھیں کیوں کہ یہ قحط دور دراز کے علاقوں تک پھیلے گا اور باہر کے لوگ اس وقت آپ کے محتاج ہوں گے۔ اس وقت آپ غلہ دے کر دوسرے انسانوں کی امداد کریں اور قیمت بھی معمولی رکھیں تو سرکاری خزانے میں اتنا مال جمع ہو جائے گا جتنا پہلے کبھی جمع نہیں ہوا ہوگا۔ بادشاہ یہ مشورہ سن کر بہت مسرور او رمطمئن ہوا۔ مگر کہنے لگا اس عظیم منصوبہ کا انتظام کیسے ہو گا اور کون کرے گا؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ملک کے خزانے ( جن میں زمین کی پیداور بھی شامل ہے) آپ میرے سپرد کر دیں میں ان کی حفاظت پوری طرح کر سکتا ہوں۔ اور امانت دار بھی ہوں۔ بادشاہ حالانکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے کمالات کا گرویدہ اور دیانت اور عقل کا مل کا پورا معتقد ہو چکا تھا۔ مگر بالفعل وزارت خزانہ کا منصب آپ علیہ السلام کے سپر د نہیں کیا بلکہ ایک سال تک آپ علیہ السلام کو مہمان بنا کر رکھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران آپ علیہ السلام کے بارے میں مکمل تحقیق ہو جائے کہ آپ علیہ السلام اس منصب کو سنبھال سکتے ہیں یا نہیں ۔پھر ایک سال کے بعد بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو وزیر خزانہ بنانے کےساتھ ساتھ پورے ملک مصر کا مالک بھی بنا دیا اور انتظام آپ علیہ السلام کے سپر د کر دیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ملک مصر کا مالک بنا دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اسی طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کو ملک ( مصر) کا قبضہ دے دیا۔ کہ وہ (ملک مصر میں ) جہاں کہیں چاہیں رہے سہے۔ ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ اور ہم نیک لوگوں کا اجر ( ثواب) ضائع نہیں کرتے ہیں۔ یقینا ایمان والوں اور گناہوں سے پرہیز کرنے والوں کا آخرت کا اجر ( دنیا کے مقابلے میں ) بہت ہ بہتر ہے۔ (سورہ یوسف آیت نمبر56اور 57) مفتی احمد یار خان نعیمی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ روایتوں میں ہے کہ بادشاہ نے عزیز مصر قطفیر کو معزول کر کے حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر بنایا تو اپنا تاج اور اپنا تخت اور اپنی مہر کی انگوٹھی بھی دے دی۔ آپ علیہ السلام نے تاج واپس کر دیا کہ یہ میرا اور میرے آباﺅ اجداد کا لباس نہیں ہے۔ لیکن شاہی تخت پر بیٹھے اور انگوٹھی لے لی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس تخت کے ذریعے میں آپ کی حکومت اور ملک کو مضبوط کروں گا۔ اور انگوٹھی کے ذریعے تمہارے قانون کو لاگو کروں گا۔ بادشاہ نے کہا۔ اے یوسف ( علیہ السلام ) تم قانوناً تو عزیز یعنی وزیر اعظم ہو مگر اصلیت میں ہمارے دلوں کے بادشاہ ہو۔ یہ سب کچھ تمہاری عزت افزائی کےلئے ہے۔ جس دن حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر بنائے گئے اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک ایک روایت کے مطابق تیس30سال تھی۔ اور ایک روایت کے مطابق47 سال تھی۔ اور علمائے کرام کی اکثریت اسی پر ہے۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) یہ کرم نوازیاں حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں اپنی رحمتیں عطا فرماتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ بندہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ہر حال میں ہمارے دروازے پر ہی رہے۔ اور ہم نیک لوگوں کا بدلہ ضائع نہیں کرتے مگر بندے کو چاہئے کہ آخر ت کا طلب گار بنے۔ اور دنیا میں کسی نیکی کا بدلہ نہیں مانگے یہ خسارہ ہے۔ ہاں خود سے مل جائے تو خوب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر ے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ عہدہ اور تخت وغیرہ ایک سال بعد ملا۔ بادشاہ نے تمام خزانے آپ علیہ السلام کے حوالے کر دیئے۔ یہاں تک کہ اپنی خصوصی تلوار بھی دےدی۔ اور تمام دربار ، فوج اور پولس کا مالک بھی بنا دیا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کے انتظامات

حضرت یوسف علیہ السلام نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پانچ کام کئے۔ پہلا کام یہ کہ سارے ملک کے کسانوں کو کھیتی باڑی پر لگا دیا۔ صحرا، میدانی علاقہ ، پہاڑی زمینوں میں گندم کی پیداوار کی طرف متوجہ ہو گئے۔ چھوٹی اور شہری زمینوں میں دوسری ضروریات کی پیداوار ہوتی رہی۔ دوسرا کام یہ کیا کہ تمام معماروں ( مستریوں) کو بڑے بڑے گودام بنانے پر مقرر کر دیا۔ اور فوجیوں اور مزدوروں کو اس کی دیکھ ریکھ اور مزدوری پر لگا دیا۔ تیسرا کام یہ کیا کہ ہر شخص کی خوراک تہائی کر دی۔ زیادہ سے زیادہ غلّہ ، پھل فروٹ، میوے اور زیتون وغیرہ اگا کر وہ سار ا ہی دربار میں لایا جاتا تھا۔ پھر وہاں اس کے تین حصے کئے جاتے تھے۔سب سے بڑا حصہ گوداموں میں جمع کر دیا جاتا تھا۔ اس سے چھوٹا حصہ کنبے یعنی گھرانے یا پریوار کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا۔ ان سالوں میں ہر شخص کو اس کے کام کی مزدوری الگ سے دی جاتی تھی چاہے وہ کسان ہو یا دوسرے کام کرنےوالا ۔ تیسرا سب سے چھوٹا حصہ آئندہ سال بونے کے لئے رکھ لیا جاتا تھا۔ چوتھا کام آپ علیہ السلام نے یہ کیا کہ اہل دربار کو بھی سارے ملک میں مختلف کاموں کی نگرانی پر لگا دیا۔ پانچواں کام یہ کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود ہفتہ وار دورے پر نکلتے۔ اور چھ دن دربار لگاتے۔ آنے جانے والوں کی ملاقات ، مشکلات ، شکایات روئداد ،کارکردگی کا تخمینہ لگایا جاتا تھا۔ غرض یہ کہ عجب رواں دواں ، دوڑ دھوپ کا زمانہ تھا۔ مورخین فرماتے ہیں کہ اتنی مصروفیات کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص ہر کام بہت عشق و محبت سے کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ سات سال کا عرصہ گزر گیا۔ نئے پرانے گودام سب بھر گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ اتنا غلہ اور ضروری سامان جمع ہو گیا جو مصر اور آس پاس کے تمام علاقوں کے لئے سات سال تک بلکہ اس سے زیادہ وقت تک کافی تھا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں بھائی حاضر ہوئے

حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہ نے پورے ملک کا انتظام دے دیا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق اپنی شہزادی کا نکاح بھی آپ علیہ السلام سے کر دیا تھا۔ اور کئی روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ عزیز مصر کے انتقال کے بعد بادشاہ نے زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام سے کر وادیا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پورے ملک کا انتظام ان سات سالوں میں بہت اچھے طریقے سے سنبھال رہے تھے۔ فرعون یعنی بادشاہ کو آپ علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ علیہ السلام پور ے مصر کی عوام کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر تے تھے۔ اور ہر ایک کی دکھ درد میں مدد کرتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت بھی دیتے جاتے تھے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اچھے خاصے لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ اور بہت سے لوگ کفر پر قائم رہے۔ آپ علیہ السلام کے بہترین سلوک کی وجہ سے پورے مصر کی عوام آپ علیہ السلا م کی بے حد عزت کرتی تھی۔ جب قحط کے سات سال شروع ہوئے تو پورے ملک مصر پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا لیکن چونکہ آس پاس کے ملکوں نے کوئی انتظام نہیں کیا تھا اس لئے وہ تمام ممالک قحط کا شکار ہو گئے۔ ان میں ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) بھی تھا۔ جس کی سرحد مصر سے بالکل لگ کر ہے۔ فلسطین میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اور والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام رہتے تھے۔ اور وہ لوگ بھی قحط کا شکار ہو گئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ مصر پر قحط کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ بلکہ اس کے پاس اتنا اناج اور دوسری چیزیں ہیں کہ وہ دوسرے ملک والوں کو فروخت کر رہے ہیں تو آپ علیہ السلام کے بھائی بھی اناج اور کھانے پینے کا سامان خریدنے مصر آئے۔ انہوں نے مصر کے بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا لیکن پہچان نہیں سکے۔ کیوں کہ عمر کے ساتھ ساتھ آپ علیہ السلام کی شکل و صورت اور جسمانی بناوٹ میں بھی بہت فرق ہو چکا تھا۔ حالانکہ آپ علیہ السلام کی شکل دیکھ کر انہیں کچھ شک ہو اکہ اس بادشاہ کی شکل ہمارے بھائی یوسف (علیہ السلام ) سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ یوسف ( علیہ السلام ) کو تو ہم نے غلام بنا کر بیچ ڈالا تھا وہ غلام اتنے بڑے ملک کا حکمراں کیسے بن سکتا ہے؟ اس لئے وہ آپ علیہ السلام کو پہچان نہیں سکے۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے پہچان لیا ۔

بن یامن کو لے کر آنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” یوسف (علیہ السلام )کے بھائی آئے تو آپ علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا۔ اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو نہیں پہچانا۔ جب انہیں ان کا سامان یعنی مال و اسباب دے دیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میرے پاس اپنے بھائی ( بن یامن) کو بھی لے کر آنا جو تمہارے والد محترم کے پاس ہے۔ کیا تم نے دیکھانہیں کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں۔ اور میں بہترین میز بانی کرنے والوں میں سے بھی ہوں۔ پس اگر تم اسے لے کر نہیں آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی بھی سامان نہیں ملے گا۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہیں پھٹکنا۔اور اپنے خدمت گاروں سے فرمایا کہ ان کی رقم ان کے سامان ( بوروں ) میں رکھ دو۔ کہ جب یہ اپنے گھر لوٹ کر جائیں اور رقم کو اپنے سامان میں رکھی ہوئی دیکھیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر58سے 62تک) حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا۔ اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو میرے پاس حاضر کرو۔ جب دسوں بھائی آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حکمراں ہونے کی حیثیت سے ان دسوں بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتادیں کہ پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ کرنے کو بھی منع فرما دیا ہے۔ اس لئے ہم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو بھی کسی بھی قسم کا سجدہ نہیں کر سکتے۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا۔ تم لوگ کہاں سے آئے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ ہم ملک کنعان سے آئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا کیا تم الگ الگ گھر سے آئے ہو؟ یا ایک ہی گھر کے ہوا؟ تو انہوں نے کہا۔ ہم سگے بھائی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تم لوگ صرف دس بھائی ہو یا اور بھی بھائی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہم بارہ بھائی تھے ۔ ایک بھائی یوسف ( علیہ السلام )گم ہو گیا ہے۔ اور سب سے چھوٹا بھائی بن یامن ہمارے والد صاحب کے پاس ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے تم جا کر اناج اور سامان لے لو۔ اور جب اگلی مرتبہ آنا تو اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور لانا تا کہ تمہیں اور زیادہ اناج اور سامان ملے۔ اور دیکھو اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور لانا۔ ورنہ میں تمہیں اناج اور سامان نہیں دوں گا۔

بیٹے کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی حالت

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سوچا تھا کہ اگر ہم حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے والد محترم سے دور کر دیں گے تو ان کی توجہ ہماری طرف ہو جائے گی اور وہ ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے الٹ ہو گیا ۔کہ حضرت یعقوب علیہ السلام پہلے تو مسکراتے تھے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام سے جدائی کے بعد تو آپ علیہ السلام نے مسکرانا بھی چھوڑ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ اپنا زیادہ وقت اسلام کی تعلیم لوگوں کو دینے میں اور عبادت میں گزارنے لگے۔ ہر وقت خاموش اور اداس رہنے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد ہر وقت دل میں رہتی تھی اور اکثر ٹھنڈی آہیں بھرتے اور آنکھوں میں آنسو ہر وقت رہتے تھے۔ اور نہ چاہتے ہوئے تھی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی بینائی چلی گئی تھی اور نابینا(اندھے )ہو گئے تھے۔ تمام بیٹے آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر کڑھتے رہتے تھے۔ اور پچھتاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے کہ ہم نے اپنے والد محترم اور اپنے بھائی میں جدائی ڈال کر دونوں پر بہت ظلم کیا ہے۔ اور ہم ظالموں میں سے ہیں۔ اپنے والد محترم کو سمجھاتے کہ اس طرح تو آپ علیہ السلام اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام صرف خاموش رہتے تھے اور کسی سے شکوہ شکایت بھی نہیں کرتے تھے۔

بن یامن کو ساتھ میں بھیجنے کی درخواست

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے وعدہ کیا کہ ہم اگلی مرتبہ ضرور اپنے چھوٹے بھائی بن یامن کو لے کر آئیں گے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ان کو اناج دے دو اور سامان دے دو۔ اور خاموشی سے ان کے سامان میں ان کے پیسے بھی رکھ دو۔ نوکروں نے ایسا ہی کیا۔ واپسی میں راستے بھر وہ عزیز مصر یعنی مصر کے بادشاہ کے بارے میں باتیں کرتے رہے اور اس کی تعریفیں کرتے رہے۔ جب والد محترم کی خدمت میں واپس آئے ان سے بھی مصر کے حکمراں کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ وہ بہت مہربان شخص ہے۔ ہم نے بتایاکہ ہمارا یک اور بھائی ہے۔ اور وہ ہمارے والد محترم کے پاس ہے تو اس نے کہا۔ جب اگلی مرتبہ آﺅ تو اسے بھی ساتھ لے آنا اس طرح تمہیں زیادہ اناج مل جائے گا۔ اور یہ بھی کہا کہ اگر بھائی کو نہیں لاﺅ گے تو تمہیں بھی اناج اور دوسری چیزیں نہیں ملیں گی ۔ اسی لئے اباجان بن یامن کو اگلی مرتبہ ہمارے ساتھ بھیج دینا۔ ہم تمام بڑے بھائی مل کر اپنے چھوٹے بھائی کی حفاظت کریں گے اور اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ بیٹوں کی یہ بات سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ اس سے پہلے میں نے یوسف ( علیہ السلام ) کے بارے میں تم تمام بھائیوں پر اعتماد کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اس سے نہیں مل سکا ہوں۔ اس کے بارے میں تو میں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا ۔ اچھا ہم اپنے والد محترم کو اس کے بارے میں سمجھائیں گے اور ( لانے کی ) پوری کوشش کریں گے۔ ( حضرت یوسف علیہ السلام نے ) اپنے خدمتگاروں سے فرمایا۔ ان کے روپے ان کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب گھر لوٹ کر واپس جائیں تو اپنی رقم کو پہچان کر بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں ۔ جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد محترم کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ ہم سے غلہ کا پیمانہ ( اناج اور سامان ) روک لیا گیا ہے۔ اب آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ ہمارے بھائی ( بن یامن) کو بھیج دیں۔ تا کہ ہم پیمانہ بھر کر غلہ لا سکیں۔ ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی ( یوسف علیہ السلام ) کے بارے میں تھا۔ بس اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر61سے 64تک)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے پختہ وعدہ لیا

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایاتھا کہ مجھے شک ہے کہ جس طرح تم حضرت یوسف علیہ السلام کی حفاظت نہیں کر سکے تھے اسی طرح بن یامن کی بھی حفاظت نہیں کر سکو گے۔ تمام بیٹے یہ سن کر خاموش ہو گئے اور خاموشی سے سامان کے بورے کھولنے لگے۔ جب انہوں نے سامان کھولا تو دیکھا کہ سامان کے اندر ان کی رقم رکھی ہوئی ہے۔ تو یہ دیکھ کر تمام بھائیوں نے جلدی سے کہا۔ دیکھئے ابا جان ، وہ حکمراں اتنا اچھا ہے کہ اس نے ہمارے پیسے ( رقم ) بھی واپس کر دیئے۔ اس نے ہمیں سختی سے کہا تھا کہ اس مرتبہ تو تمہارے والد محترم اور بھائی کا حصہ دے رہا ہوں لیکن اگلی مرتبہ تم اپنے بھائی کو لے کر آﺅ گے تو تمہارے والد محترم کا حصہ بھی دوں گا۔ اور اگر نہیں لائے تو تمہیں بھی سامان نہیں ملے گا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا۔ جب تک تم تمام بھائی اس بات کا پختہ ( پکّا) وعدہ نہیں کرو گے تب تک میں بن یامن کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ اور یہ وعدہ تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کرو۔ تمام بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر پختہ وعدہ کیا کہ ہم ہر حال میں بن یامن کی حفاظت کریں گے تب آپ علیہ السلام نے ان کے ساتھ بن یامن کو جانے کی اجازت دے دی ۔ اور فرمایا۔ اے میرے بیٹو ، تم تمام بھائی مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہیں ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تا کہ تمہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اتنا کہنے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ اور میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور یہ تو میں صرف اپنے اطمینان کے لئے کہہ رہا ہوں۔ بہر حال وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اس میں اپنا سرمایہ ( رقم ) موجو د پایا جو انہیں واپس کر دیا گیاتھا۔ کہنے لگے، اے ابا جان ، ہمیں اور کیا چاہیے ، دیکھئے تو ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کے لئے او ر رسد لادیں گے۔ اور اپنے بھائی کو اپنی نگرانی میں رکھیں گے۔ اور ایک اونٹ کا پیمانہ زیادہ لائیں گے۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ میں اسے اس وقت تک ہرگز ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر مجھے قول و قرار نہ دے دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صور ت کے تم سب گرفتار کر لئے جاﺅ۔ جب انہوں نے پکا قول وقرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہے۔ اور ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ اے میرے بچو، تم سب ایک دروازے سے نہیں جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ اور حکم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اور میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے۔ اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ جب وہ انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا گئے کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر فرمادی ہے وہ اس سے انہیں ذرا بھی بچالے۔ مگر یعقوب کے دل میں ایک خیال ( پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کرلیا۔ بے شک وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر65سے 68تک)

حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن کی ملاقات

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا کہ شہر میں الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں ہر شہر کے باہر چاروں طرف ایک بہت اونچی دیوار بنائی جاتی تھی۔ اور اس دیوار میں جگہ جگہ ضرورت کے مطابق اونچے اونچے دروازے ( گیٹ) بنا ئے جاتے تھے۔ اس دیوار کو شہر پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ جب دوسرے شہروالے ان پر حملہ کرتے تھے تو تمام دروازے بند کر دیئے جاتے تھے ۔ اور ان دروازوں کے اوپر بنی چوکیوں اور اس دیوار پر کھڑے ہو کر یا اس دیوار کے پیچھے چھپ کر اس حملے کا مقابلہ کیا جاتا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے سوچا کہ تمام بھائی ایک ساتھ ایک دروازے سے داخل ہوں گے تو کوئی اتنے بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر دشمنی کرنے لگے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے بیٹوں کو الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم دیا۔ اور بیٹوں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بن یامن کو روکنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ اور بن یامن کو روک لیا گیا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ میرے تمام بھائی بن یامن کو لے کر آئے ہیں تو ااپ علیہ السلام نے انہیں شاہی محل میں دعوت دی۔ اس اس کے بعد شاہی محل میں ہی رات گزارنے کی اجازت بھی دے دی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بن یامن جو حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی ہیں، انہیں لے کر آپ علیہ السلام کے بھائی جب مصر پہنچے تو آپ علیہ السلام نے انہیں سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا۔ بڑی عزت و تکریم دی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا۔ اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیر ابھائی یوسف ( علیہ السلام ) ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے۔ اب تمہیں چاہیے کہ بھائیوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا رنج نہ کروا ور حقیقت کو بھی ان پر ابھی نہیں کھولو۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔ 

اس وقت کا ملک مصر

حضرت یعقوب علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق تمام بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہوئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ مصر آج ایک ملک کا نام ہے۔ جو بہت ہی بڑا ہے۔ لیکن یہی مصر اسی جگہ اس وقت صرف ایک قلعہ نما شہر تھا۔ اور اس کے چاردروازے تھے جو بالکل ہی جدا جدا مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں تھے۔ اور چار سمتوں کے لوگ اپنے اپنے دروازوں سے آیا کرتے تھے۔ کنعان کا راستہ جنوب کے دروازے پر تھا۔ اس کے مشرقی جانب ایک بہت بڑا محلہ ممفس کے نام سے تھا۔ آج کل اسی جگہ ایک بستی آباد ہے جس کا نام منف ہے۔ محض اس وقت دارا لخلافہ ( راجدھانی) تھا۔ یہیں پر بادشاہ کا محل اور دربار اور عدالت وغیرہ تھے۔ اس جگہ تمام شاہی عملے کے مکانات تھے۔ اس کی جیل شہر کے مغربی سمت دوسرے کنارے پر تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مصر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ اس کے کئی دروازے ہیں۔آپ علیہ السلام کے الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کے حکم کی اصل حکمت تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ مگر مفسرین نے تین وجہ بتائی ہے۔ جن میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تین تین کی تعداد میں جب دسوں بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے تو بن یامن اکیلے کنعانی دروازے سے داخل ہوں گے۔ اور کنعانی دروازہ شاہی محل کے قریب ہے۔ اس لئے بن یامن کی حضرت یوسف علیہ السلام سے پہلے ملاقات ہو جائے گی۔ 

بن یامن نے بھائی کو پہچان لیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” یہ سب جب یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا۔ میں تیرا بھائی ( یوسف علیہ السلام ) ہوں پس جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس کا رنج نہ کر۔ ( سورہ ےوسف آےت نمبر 69 ) مفتی احمد ےا رخان نعےمی لکھتے ہیںکہ جب تما م بھائی مصرمےں داخل ہو نے لگے تو تین تین کی تعداد میںہوکر الگ الگ دروازوں کی طرف چلے گئے اور بن یامن اکیلے کنعانی دروازوں کے پاس رہ گئے۔ شام کا وقت تھا بن یامن اکیلے شہر میں داخل ہوئے اور اپنے بڑے بھائی حضر ت یوسف علیہ السلام کو یاد کرکے رونے لگے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اتفاقاً ادھر سے گزر رہے تھے کیوں کہ ان کا محل قریب ہی تھا تو انہوں نے ایک اکیلے شخص کو روتے ہوئے دیکھا تو رک گئے اور رونے کی وجہ پوچھی تو بن یامن نے کہا اپنے بڑے بھائی یوسف بن یعقوب کو یاد کر کے رو رہا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے نام پوچھا تو بن یامن بتایا اس وقت آپ علیہ السلام نے اپنے آپ پر ضبط کیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ اس کے دس بھائیوں کو لے کر شاہی محل آﺅ۔ سپاہیوں نے تمام بھائیوں کو شاہی محل میں حاضر کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے دعوت کا انتظام ( یعنی رات کے کھانے کا ) کیا ہوا تھا۔ سب دو دو کرکے بیٹھ گئے اور بن یامن اکیلے رہ گئے تو رونے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہا کہ میرے بڑے بھائی یوسف بن یعقوب ہوتے تو میرے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تمہارا بڑا بھائی بن کر تمہارے ساتھ کھانے پر بیٹھتا ہوں۔ جب آپ علیہ السلام اپنے بھائی کے بالکل سامنے بیٹھے اور بن یامن نے قریب سے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے بن یامن ، کھانا کھاﺅ۔ مجھ کو کیا دیکھے جا رہے ہو؟ بھائی نے عرض کیا۔ اے عزیز مصر ، اے بادشاہ، اے محسن ، مجھے آپ کا چہرہ اپنے بھائی یوسف بن یعقوب سے ملتا جلتا نظر آرہا ہے اس لئے مجھے جی بھر کر دیکھ لینے دیجئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام تڑپ گئے لیکن ضبط کیا اور فرمایا۔ اے بن یامن کھانا کھاﺅ۔ 

میں آپ کے ساتھ مصر میں رہوں گا

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ پر ضبط کر لیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی آگے لکھتے ہیں ۔ کھانے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت آہستہ سے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی کہ اے اللہ تعالیٰ، ان دکھوں اور غموں والی جدائی کو ختم فرما دے۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر القا فرمایا کہ اے یوسف صابروں کے سردار ، تمہاری دعا قبول ہوئی ہے۔ جدائی ختم ، اپنے آپ کو صرف اپنے بھائی پر ابھی ظاہر کرو۔ اور دوسروں کو نہیں بتانا۔ رات کو بھی ایک ایک کمرے میں دو دو بھائی سونے کے لئے چلے گئے۔ بن یامن اکیلے رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میرے کمرے میں آرام کرو۔ جب کمرے میں دونوں بھائی اکیلے ہوئے تب آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں ہی تمہارا بچھڑا ہوا بھائی یوسف بن یعقوب علیہ السلام ہوں۔ بن یامن کو یہ سنتے ہی خوشی کے مارے سکتہ ہو گیا اور کچھ دیر ایک ٹک بڑے بھائی کو دیکھتے رہے۔ پھر اچانک تیزی سے آگے بڑھے اور گلے لگ کر رونے لگے۔ پھر بڑے بھائی سے کہا۔ بھائی میں اب آپ کے ساتھ یہیں مصر میں رہوں گا۔ اور ان بھائیوں کے ساتھ نہیں جاﺅں گا۔ کیوں کہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ مصر کا بادشاہ مجھ پر خصوصی مہربانی کر رہا ہے۔ اس لئے مجھ سے حسد کر تے ہوئے راستے میں نقصان پہنچائیں گے۔ مگر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی اس راز کو راز ہی رہنے دو اور بھائیوں کے ساتھ واپس جاﺅ۔ لیکن بن یامن بڑے بھائی سے ضد کرنے لگے۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے میں کوئی تدبیر کرتا ہوں یا پھر اللہ تعالیٰ کوئی راستہ نکال دے۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر اکتالیس 41سال تھی۔ اور بن یامن کی عمر 37سال تھی۔ 

اللہ کے حکم سے حضرت یوسف علیہ السلام کی تدبیر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب انہیں ان کاسامان ٹھیک ٹھاک کر کے دیا تو اپنے بھائی کے سامان میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا۔ اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو ۔ انہوں نے ان کی طرف منہ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے؟ جو اب دیا کہ شاہی پیالہ گم ہو گیا ہو۔ جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ جتنا سامان سنبھال سکے اتنا دیا جائے گا۔ اس وعدے کی میں ضمانت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ، تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ اور نہ ہی ہم چور ہیں ۔ انہوں نے کہا۔ اچھا اگر تم جھوٹے ہو تو چور کی سزا کیا ہے؟ جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں گم شدہ چیز پائی جائے وہی اس کا بدلہ ہے۔ ہم تو ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پس یوسف ( علیہ السلام ) نے ان کے سامان کی تلاشی لینی شروع کر دی۔ اور اپنے بھائی کے سامان میں سے شاہی پیالہ نکالا۔ ہم نے یوسف (علیہ السلام ) کے لئے اسی طرح تدبیر کی ۔اس بادشاہ کے قانون کی روسے یہ اپنے بھائی کو نہیں روک سکتے تھے۔ مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو۔ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں۔ ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر70سے 76تک)

بھائیوں کو غلطی کا احساس کرانا ہے

حضرت یوسف علیہ السلام رات بھر اپنے بھائی بن یامن سے بات کرتے رہے اور گھر کے حالات معلوم کرتے رہے۔ بن یامن نے بتایا کہ بھائی آپ سے بچھڑنے کے بعد والد محترم نے مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔ اور ہر وقت خاموش اور سوچ میں گم رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے آپ علیہ السلام کی جدائی کا غم انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہر وقت ان کی آنکھوں سے آنسو بہتر رہتے ہیں۔ زبان سے تو وہ کچھ نہیں کہتے لیکن ان کا غم صاف دکھائی دیتا ہے۔ ہم سب بھائی انہیں سمجھانے اور ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ فرماتے ہیں کہ میں توصرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے صبر جمیل عطا فرمائے۔ بھائی ، مسلسل لگاتار آنسو بہنے کی وجہ سے والد محترم کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی سے تمام حالات سنتے رہے اور روتے رہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب بھائیوں کو ان کی غلطی کا احساس کرانا چاہیئے۔ بن یامن نے کہا بھائی، میں ان کے ساتھ جانا نہیں چاہتا ہوں بلکہ آپ علیہ السلام کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی اپنے بھائی کو روکنا چاہتے تھے لیکن کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے تدبیر ان کے اوپر القا فرمائی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بھائی، مصر کے قانون کے مطابق تو میں تمہیں روک نہیں سکتا ہوں۔ ہاں ہمارے پر دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق روک سکتا ہوں۔ اور کل میں اسی تدبیر پر عمل کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام نے بن یامن کے سامان میں شاہی پیالہ رکھ دیا۔

شاہی پیالہ گم ہو گیا ہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے صبح اپنے تمام بھائیوں کو ان کے سامان کے ساتھ شاہی محل سے رخصت کیا۔ ابھی ان لوگوں کا قافلہ مصر سے باہر نکل کر صحرا میں کچھ ہی دو رگیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے سپاہیوں کے ساتھ گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے اور قافلے کو روک لیا۔ سپاہیوں کے افسر نے کہا کہ شاہی پیالہ گم ہو گیا ہے۔ اس لئے تمہارے سامان کی تلاشی لینی ہو گی۔ آپ علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، ہم نہ تو چور ہیں اور نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم میں سے کوئی چور نکلا تو تمہاری شریعت میں چو ر کیا سزا ہے؟ بھائیوں نے کہا ہماری شریعت میں یہ قانون ہے کہ جس کی چیز جو شخص چرائے گا تو اگر چوری ثابت ہو گئی تو وہ شخص اس کا غلام بنا لیا جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک تلاشی دے دو۔ تلاشی کے دوران بن یامن کے سامان سے شاہی پیالہ نکل آیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تمہاری شریعت کے قانون کے مطابق بن یامن میرا غلام ہے اور میں اسے اپنے پاس رکھتا ہوں۔

بن یامن نے بھائیوں کا ظلم یاد دلایا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا ۔ اگر اس نے چوری کی ہے ( تو یہ تعجب کی کوئی بات نہیں ہے ) اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔ یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے دل میں بات رکھ لی اور ان کے سامنے بالکل ظاہر نہیں کیا کہ تم بدتر جگہ میں ہو اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر77) جب بن یامن کے سامان سے شاہی پیالہ بر آمد ہوا تو تمام بھائیوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کے بڑے بھائی ( یعنی حضرت یوسف علیہ السلام ) نے بھی چوری کی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا بچپن میں آپ علیہ السلام کی بوا (پھوپھی ) نے آپ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھنے کے لئے حضرت یوسف علیہ السلام پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اور بعد میں پورے خاندان کو جمع کر کے یہ بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ اس وقت یہ تمام بڑے بھائی بھی موجود تھے۔ اور جانتے تھے کہ آپ علیہ السلام بے قصور ہیں۔ لیکن یہاں وہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو عزت دار ظاہر کرنے کے لئے آپ علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا رہے تھے۔ اتنا بڑا الزام سن کر حضرت یوسف علیہ السلام تو ضبط کر گئے لیکن بن یامن سے یہ الزام برداشت نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بن یامن کو تمام حالات بتا دیئے تھے کہ بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ اسی لئے بن یامن سے برداشت نہیں ہو سکا اور انہوں نے تمام بھائیوں سے کہا۔ تم یوسف ( علیہ السلام ) کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو جب کہ وہ بے قصور ہیں۔ اور یہ تم بھی جانتے ہو۔ اور تم لوگوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اسے ذرا یاد کرو۔ یہ سن کر تمام بھائی شرمندہ ہو گئے اور خاموش ہو گئے۔

بن یامن کو روک لیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ اے عزیزمصر اس کے والد محترم بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے میں ہم میں سے کسی کو لے لیجئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بہت ہی نیک انسان ہیں۔ یوسف ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کہ ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد تو ہم یقینا نا انصافی کرنے والے ہو جائیں گے۔ جب یہ اس سے مایوس ہو گئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد محترم نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پختہ قول و قرار لیا ہے۔ اور اس سے پہلے تم یوسف ( علیہ السلام )کے بارے میں کوتاہی کر چکے ہو۔ پس میں تو اس سر زمین سے نہیں ٹلوں گا۔ جب تک کہ والد صاحب مجھے اجازت نہیں دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم سب والد محترم کی خدمت میں واپس جاﺅ اور کہو کہ ابا جان ، آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے۔ اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم آپ جانتے ہیں۔ ہم کچھ غیب کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ آپ ( علیہ السلام ) اس شہر کے لوگوں سے دریافت فرمالیں جہاں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ۔ اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر78سے 80تک)

بڑا بھائی مصر میں رک گیا

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب ان سے فرمایا کہ بن یامن کو میرے پاس چھوڑ دو تو تمام بھائی آپ علیہ السلام کی خوشامد کرنے لگے اور کہا کہ ہمارے والد صاحب بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ۔ اور ایک بیٹے کی جدائی کا غم پہلے ہی برداشت کر رہے ہیں۔ اگر آپ (علیہ السلام ) اسے بھی روک لیں گے تو یہ ہمارے والد کے لئے ناقابل برداشت ہو گا اور ہم پختہ وعدہ کر کے آئے ہیں کہ ہم بن یامن کو لے کر آئیں گے۔ آپ اسے بھیج دیں اور ہم میں سے کسی بھائی کو رکھ لیں۔ آپ علیہ السلام نے تمام باتیں سن کر فرمایا۔ تمہیں بن یامن کو ہی چھوڑنا پڑے گا۔ اور اب تم جاﺅ اور اپنے والد کو سمجھاﺅ۔ اور اگر میں اس کے علاوہ کسی اور کو روکوں گا تو یہ نا انصافی ہو گی۔ بھائیوں نے بہت منت سماجت کی لیکن آپ علیہ السلام بن یامن کو روکنے کے فیصلے پر قائم رہے۔ آخر کار آپ علیہ السلام بن یامن کو لے کر چلے گئے۔ اور تمام بھائی آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کیا کریں۔ اور قافلے والے بھی رک گئے اور وہیں پڑاﺅ ڈال دیا۔ سب سے بڑے بھائی روبیل نے کہا۔ تم سب لوگ جانتے ہو کہ ہم نے اللہ کے نام سے اپنے والد محترم سے پختہ وعدہ( عہد ) کیا تھا کہ ہم کسی بھی صور ت میں بن یامن کو واپس لے کر آئیں گے۔ اور تم سب جانتے ہو کہ اس سے پہلے ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کے متعلق ابا جان سے وعدہ کیا تھا اور توڑ دیا تھا۔ اور اب تو میں ابا جان کا سامنا نہیں کر سکتا۔ تم لوگ قافلے والوں کے ساتھ واپس جاﺅ اور ابا جان کو بتاﺅ کہ بن یامن کو کس طرح گرفتار کیا گیا ہے۔ اور میں یہاں رک کر بن یامن کی رہائی کی کوشش کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کوئی راستہ نکال دے کہ میں بن یامن کو لے کر آﺅں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ یہ تو نہیں ، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔ پس اب صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے۔ وہ ہی علم والا اور حکمت والا ہے پھر ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا۔ ہائے یوسف ، ان کی آنکھیں رنج و غم کی وجہ سے سفید ہو چکی تھیں۔ اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔ بیٹوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، آپ علیہ السلام ہمیشہ یوسف کو ہی یاد کر تے رہیں گے۔ یہاں تک کہ گھل جائیں یا ختم ہو جائیں۔ انہوں نے فرمایا۔ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر83سے 86تک) حضرت یوسف علیہ السلام کا سب سے بڑا بھائی روبیل مصر میں ہی رک گیا تھا۔ اور باقی تمام بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں واپس آئے اور آپ علیہ السلام کو بن یامن کی گرفتاری کا پورا واقعہ بیان کیا اور کہا۔ ہمارا بڑا بھائی وہیں مصر میں رک کر اسے رہا کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرا دل قبول نہیں کر تا کہ بن یامن ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ اور میں یہ بات مان ہی نہیں سکتا بہر حال میں صبر کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے کوئی بہتر راستہ نکال دے اور پھر ہم سب کو ایک ساتھ کر دے۔ آپ علیہ السلام کو پہلے ہی سے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کا صدمہ تھا اس پر بن یامن کی جدائی نے دہرا صدمہ پہنچا دیا۔ آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر تمام بیٹوں کو صدمہ ہوتا۔ اور انہوں نے کہا ابا جان آپ اس طرح ہر وقت غمزدہ رہیں گے تو ہمیں ڈر ہے کہ آپ علیہ السلام کو کچھ ہو گیا تو ہم کیا کریں گے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تواپنے بچوں کو یاد کرتا ہوں۔

بیٹو ں کو پھر سے مصر بھیجا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا) میرے پیارے بچو، تم جاﺅ اور یوسف کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو۔ اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہو جاﺅ۔ اور رب کی رحمت سے تو وہی نا امید ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ یوسف(علیہ السلام )کے پاس پہنچے او رکہنے لگے کہ اے عزیز، ہم اور ہمارے خاندان کو دکھ پہنچا ہے۔ اور ہم حقیر پونجی لائے ہیں۔ پس آپ ہمیں پورے غلہ کا ناپ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے۔ اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر87اور 88) حضرت یعقوب علیہ السلام کی حالات دیکھ کر تمام بھائیوں کو بھی افسوس اور صدمہ ہونے لگا تھا۔ اور انہیں احساس بہت شدید ہو رہا تھا کہ ہم نے والد محترم سے یوسف ( علیہ السلام ) کو جد ا کر کے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ وہ اپنے والد محترم کو سمجھانے لگے کہ ابا جان، اپنے آپ کو سنبھالئے ۔ آپ علیہ السلام تو یوسف کے غم میں گھل گھل کر اپنی جان دے دیں گے۔ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ابھی یوسف ( علیہ السلام ) کو لے کر آجاتے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بچو، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ امید رکھو، اور تم لوگ پھر مصر جاﺅ اور ابن یامن اور یوسف کو تلاش کرو۔ اللہ تعالیٰ سے مجھے یہ پوری امید ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہم سب کو ملا دے گا۔ تمام بھائی مصر آئے اور بڑے بھائی سے ملاقات کی اور بتایا کہ والد محترم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ہمارے خاندان کے لئے رسد بھی ختم ہونے والی ہے۔ اور اب تو ہمارے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے خاندان کے لئے رسد خرید سکیں۔ ہم عزیز مصر کے پاس چل کر درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس تھوڑی سے پونجی کو لے ہمیں پورا سامان دے دے۔ انہوں نے روبیل سے بن یامن کی رہائی کے باے میں پوچھا تو اس نے کہا۔ میں پوری کوشش کررہا ہوں ، لیکن کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ چلو ہم ایک مرتبہ پھر عزیز مصر کے پاس چلتے ہیں اور اس سے رحم کی درخواست کرتے ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں رحم ڈال دے۔

بھائیوں کی عاجزی

حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ اپنے آپ کو بھائیوں پر ظاہر کردیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ تمام بھائیوں کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہو رہا ہے۔ اور وہ بری طرح پچھتا رہے ہیں ۔اور چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح ہمیں بن یامن اور یوسف ( علیہ السلام ) مل جائیں۔ اور تمہارے والد محترم نے اس امید میں انہیں بھیجا ہے کہ تم ضرور انہیں مل جاﺅ گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ اور بھائیوں کا انتظار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی حاضر ہوئے ۔ ان کی حالت دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھر آیا لیکن ضبط کئے بیٹھے رہے۔ بھائیوں نے کہا۔ اے بادشاہ ، اے عزیز مصر ، ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔ اور ہم لوگ بہت تکلیف میں ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ بہت ہی رحمد دل ہیں۔ اور لوگوں کے ساتھ سچی ہمدردی کرتے ہیں۔ ہمارے اوپر رحم فرمائیے۔ اور یہ تھوڑے سے درہم لے کر چاہے خیرات ہی سمجھ کر ہمیں پورا سامان دے دیں اور ہمارے بھائی کو ہمیں واپس دے دیں۔ تا کہ ہم اپنے والد محترم کی تکلیف کو کچھ کم کر نے میں ان کی مدد کر یں۔ اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہتر بدلہ عطا فرمائے۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کیا تم جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ نادانی کی حالت میں کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا۔ ( واقعی) آپ (علیہ السلام ) ہی یوسف ہیں؟جواب دیا کہ ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا ہے۔ اور صبر کرنے والوں اور (گناہوں سے ) پرہیز گاری کرنے والوں کے اجر کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو ہم پر برتری دے دی ہے۔ اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم بہت بڑے خطا کار ہیں۔ جواب دیا۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی تمہیں بخشنے ولا ہے۔ اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر89سے 92تک) حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی یہ عاجزی دیکھی تو ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا۔ آج تم میرے سامنے یہ چند درہم لے کر آئے ہو۔ کیا تمہیں یاد بھی ہے کہ تم لوگوں نے چند درہم کے لئے اپنے چھوٹے بھائی یوسف بن یعقوب کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ آپ علیہ السلام کے بھائی درہم اور یوسف بن یعقوب کا نام سن کر چونک گئے۔ اور حیرانی سے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھنے لگے اور کہا۔ یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے چند درہم میں بیچا تھا یہ بات صرف یوسف (علیہ السلام ) اور ہم جانتے تھے یہ بات آپ علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوئی۔ آپ علیہ السلام کی شکل ہمارے چھوٹے بھائی یوسف بن یعقوب سے ملتی جلتی ہے۔ یہ تو ہم نے پہلی ہی ملاقات میں سمجھ لیا تھا۔ لیکن یہ ہم یقین نہیں کر سکتے کہ جس یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے غلام بنا کر بیچا تھا وہ اتنا بڑا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے؟ سچ بتائیں کیا آپ یوسف(علیہ السلام ) ہیں؟

آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ہے

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کا سوال سن کر مسکرانے لگے اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ہاں میں ہی یوسف (علیہ السلام ) ہوں۔ اور تمام باتیں اپنے بڑے بھائیوں کو بتائیں کہ کس طرح مصر کے بازار میں سب سے مہنگی قیمت میں بیچے گئے۔ کس طرح جیل میں پہنچے اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد بادشاہ کے خواب کی تعبیر کس طرح بتائی او ر کس طرح بادشاہ نے خود آپ علیہ السلام کو بادشاہ بنا دیا اور خود گوشہ نشین ہو گیا۔ اور اس طرح مصر کا اقتدار آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آگیا۔ تمام بھائی حیرانی سے آنکھیں پھاڑے یہ پوری کہانی سنتے رہے۔ تمام باتیں بیان فرمانے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس چھوٹے اور حقیر بھائی کو یہ مقام عطا فرمایا کہ آج تم لوگ اس کے سامنے سوالی بنے کھڑے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ اور بن یامن کو بھی بلایا تو و ہ شاہی لباس پہنے ہوئے آئے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے تمام بھائیوں کو عزت سے بٹھایا۔ تو تمام بھائیوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوہم تمام بھائیوں پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اور آج ہم تمام بھائی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت ہی برا اور غلط سلوک کیا ہے۔ اور بے شک ہم تمام بھائی بہت بڑے خطا واور ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ہے۔ اورمیری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفترت فرمادے اور تمہیں بخش دے۔ اور اللہ تعالیٰ سب مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربانی کرنے والا ہے۔

والد محترم کے لئے قمیص دی

حضرت یوسف علیہ السلام نے تمام بھائیوں کو شاہی مہمان خانے میں عزت سے ٹھہرایا تمام بھائیوں نے آپ علی السلام سے عرض کیا۔ بھائی آپ علیہ السلام سے بچھڑنے کے بعد بھی والد محترم آپ علیہ السلام کو ہی ہر وقت یاد کرتے رہتے تھے۔ وہ زبا ن سے تو کچھ نہیں کہتے تھے لیکن آنکھوں سے ہر وقت آنسو بہتے رہتے تھے اور اس کی وجہ سے ہمارے والد محترم کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام بھی روپڑے۔پھر فرمایا۔ اے میرے پیارے بڑے بھائیو، مجھ پر تو حکومت اور نبوت کی اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ میں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ آپ لوگ میری یہ قمیص لے جائیں اور والد محترم کے چہرۂ مبارک پر ڈال دیں وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور ان کی آنکھوںکی روشنی لوٹ آئے گی۔ اور میری طرف سے ان سے یہ درخواست کریں کہوہ تمام خاندان والوں کو لے کر یہاں آجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” میری(یوسف علیہ السلام )یہ قمیص تم لے جاﺅ اور اسے ہمارے والد محترم کے چہرہ ¿ مبارک پر ڈال دو۔ وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان والوں کو لے کر میرے پاس آجاﺅ۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر93)

مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو شاندار سواریاں دیں اور ان کے ساتھ چل کر خود بھی شہر کے باہر آئے اور بھائیوں کے قافلے کو بڑی محبت سے رخصت کیا۔ جب بھائیوں کا قافلہ گھر کے قریب پہنچنے لگا تو حضرت یعقوب علیہ السلام اچانک خوش ہو گئے اور مسکرانے لگے۔ تمام خاندان والوں نے آپ علیہ السلام کی یہ تبدیلی دیکھی تو حیرت سے وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم لوگ یہ نہ سوچو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ ان کے خاندان والوں نے کہا۔ آ پ علیہ السلام تو یوسف(علیہ السلام )کو اتنا یاد کرتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام کو لگنے لگا ہے کہ صحیح معنوں میں یوسف (علیہ السلام ) یہیں کہیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب یہ قافلہ ( حضرت یوسف علیہ السلام سے ) جدا ہو اتو ان کے والد محترم نے فرمایا۔ اگر تم سٹھیا یا ہوا قرار نہ دو تو میں کہتا ہوں کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم، آپ علیہ السلام اپنے اسی خبط میں مبتلا ہیں۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر94، 95)

آنکھوں کی روشنی واپس آگئی

حضرت یعقوب علیہ السلام آج بہت خوش تھے۔ اور جیسے جیسے قافلہ قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے آپ علیہ السلام کی خوشی اور بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔ بیٹوں کا قافلہ خوشی خوشی گھر پہنچا ۔ اور آپ علیہ السلام کو یہ خوش خبری سنائی کہ ابا جان ، آپ علیہ السلام کا پیارا بیٹا اور ہمارا پیارا بھائی یوسف علیہ السلام زندہ ہے۔ اور آپ علیہ السلام کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ وہ مصر کا بادشاہ ہے۔ اور یہ وہی ہے جس نے بن یامن کو تدبیر سے روک لیا تھا۔ اور بن یامن نے کوئی چوری نہیں کی ہے۔ یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فوراً اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا۔ میں تم سے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ میرے یوسف کو کچھ نہیں ہوا ہو گا۔ اور جب تم نے مجھے بتایا تھا کہ اسے بھیڑیا اٹھا لے گیا ہے تب بھی مجھے پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے یوسف کو محفوظ رکھا ہو گا ۔ لیکن میرے پیارے بیٹو، یوسف کی جدائی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھوںمیں آنسو آجاتے تھے۔ یہ سن کر بیٹوں نے کہا۔ ابا جان، یوسف علیہ السلام نے ان کی یہ قمیص بھیجی ہے اور کہا ہے کہ ابا جان سے میری طرف سے معذرت کرنا کہ نبوت اور حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے میں نہیں آسکا۔ اور کہا ہے کہ میری یہ قمیص ابا جان کے چہرہ مبارک پر ڈال دینا تو ان کی آنکھوں کی روشنی واپس آجائے گی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بے تابی سے اپنے ہاتھوں کو بڑھایا۔ اور فرمایا۔ لاﺅ میرے یوسف کی قمیص، ایک قمیص تم یوسف کی لائے تھے جس نے مجھے غم میں مبتلا کر دیا تھا۔ اب اسی یوسف کی دوسری قمیص سے مجھے خوشیاں مل رہی ہیں اور قمیص لے کر اپنے چہرہ مبارک پر ڈال لی۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی وقت آپ علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی آگئی تو دکھائی دینے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب خوش خبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے چہرہ مبارک پر قمیص ڈالی تو اسی وقت آپ علیہ السلام دیکھنے لگے۔ اور فرمایا۔ میں تم سے یہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر96)

ملک مصر کی طرف روانگی

حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی واپس آگئی اور صاف دکھائی دینے لگا تو تمام بیٹے آپ علیہ السلام کو گھیر کر بیٹھ گئے۔ اور عرض کیا ۔ ابا جان، ہم بہت بڑے گنہ گار ہیں اور ہم سے بہت سی خطائیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام ہمارے لے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں اور خطاﺅں کو معاف فرما دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ضرور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔ پھر بیٹوں نے کہا۔ ابا جان ، ہمارے پیارے بھائی یوسف علیہ السلام نے درخواست کی ہے کہ آپ علیہ السلام پورے خاندان کو لے کر مصر تشریف لائیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام جب اپنے قافلے کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو دیکھا مصر کے باہر ہزاروں سواروں کالشکر موجود ہے۔ در اصل یہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد محترم کے استقبال کے لئے چار ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر ہزاروں مصری سواروںکے ساتھ سینکڑوں ریشمی جھنڈے لہراتے ہوئے مصر کے باہر صحر امیں موجو د تھے۔ ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے یہود ا کا سہار لئے تشریف لا رہے تھے ۔ جب آپ علیہ السلام کی نظر لشکر پر پڑی اور دیکھا کہ زرق و برق لباسوں میں ملبوس ہزاروں سواروں سے صحرا بھرا ہو اہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے یہودا، کیا یہ مصر کا فرعون ہے؟ ( ہم پہلے بھی آپ کو بتا چکے ہیں کہ مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا) تو یہودا نے جواب دیا۔ نہیں ابا جان ، یہ توحضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو آپ علیہ السلام کے استقبال کے لئے آپ علیہ السلام کے پاس آرہے ہیں۔ 

باپ بیٹے کی ملاقات

حضرت یعقوب علیہ السلام حیرانی اور تعجب سے اپنے بیٹے کی شان و شوکت دیکھ رہے تھے۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ذرا ہوا کیطرف دیکھئے آپ علیہ السلام کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے فرشتے (ملائکہ) حاضر ہوئے ہیں۔ یہ فرشتے برسوں سے آپ علیہ السلام کے غم میں شریک تھے۔ اور برسوں سے آپ علیہ السلام کے ساتھ روتے رہے ہیں۔ فرشتوںکی تسبیح سے گھوڑوں کے ہنہنانے سے عجیب کیفیت پید اہو گئی تھی۔ جب دونوں انبیائے کرام علیہم السلام قریب ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام بے قرار ہو کر سلام کرنا چاہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے روک دیا اور عرض کیا۔ آپ علیہ السلام تھوڑا رک جائیں اور اپنے والد محترم علیہ السلام کو پہلے سلام کرنے کا موقع دیں کیوں کہ آپ علیہ السلام کے والد محترم کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ علیہ السلام سے زیادہ ہے اس لئے انہیں زیادہ نیکیاں کمانے کا موقع دیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے آگے بڑھ کر فرمایا۔ تم پرسلام ہو ، اے غم اور دکھ درد کو دور کرنے والے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بہت ہی ادب سے سلام کا جواب دیا اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کو گلے سے لگا لیا۔ اور ان کے ماتھے کو چوم لیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر 

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد محتر م اور تمام مہمانوں کو عزت سے لے کر اپنے محل میں آئے۔ اور اپنے تخت پر دائیں طرف والد محترم کو بٹھایا اور بائیں طرف والدہ محترمہ ( جو آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ راحیل کی بڑی بہن لیا تھیں اور بڑے بھائیوں کی والدہ تھیں۔ بن یامن کی پیدائش کے بعد راحیل کا انتقال ہو گیا تھا) کو بٹھایا۔ اور پھر گیارہ بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا۔ ( پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا) یہ دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام نے والد محترم سے فرمایا۔ ابا جان ، یہ ہے میرے خواب کی تعبیر۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ اور تمام بیٹوں کو بلاکر سب کو گلے لگا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب سارا گھر انہ یوسف ( علیہ السلام ) کے پاس پہنچ گیا تو یوسف( علیہ السلام ) نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا۔ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن و امان کے ساتھ مصر میں آﺅ۔ اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ تب فرمایا۔ ابا جان، یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا۔ جب میں قید خانے (جیل) میں تھا تو مجھے وہاں سے نکالا۔ اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا۔ اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا۔ میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت علم والا اور حکمت والا ہے۔ اے میرے پروردگار ، تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی اور کار ساز ہے۔ تو مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرمااور نیک لوگوں میں رکھنا۔ (سورہ یوسف آیت نمبر99سے101تک) ایک روایت میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر چالیس 40سال بعد ظاہر ہوئی اور ایک روایت میں ہے کہ اسّی80سال بعد ظاہر ہوئی۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام کا وصال

حضرت یعقوب علیہ السلام لگ بھگ چالیس 40سال تک بچھڑے رہنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سے ملے۔ اور پورا خاندان مصر میں آباد ہو گیا۔ پورے مصر میں اس خاندان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس وقت جو فرعون تھا اس کا نام ریان بن ولید تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی تھی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ کچھ عرصے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد مصر کا فرعون قابوس بن مصعب بنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے بھی اسلام کی دعوت دی۔لیکن اس نے قبول نہیں کیا اور کافر ہی رہا۔ (تاریخ طبری جلد نمبر1) لیکن وہ بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام مصر میں اپنے بیٹے کے ساتھ چوبیس24برس تک رہے۔ جب آپ علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو تمام بیٹوں کو جمع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا یعقوب ( علیہ السلام ) کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو فرمایا ۔ کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ (علیہ السلام ) کے معبود کی اور آپ (علیہ السلام ) کے آباﺅ اجداد ابراہیم (علیہ السلام ) اور اسماعیل (علیہ السلام ) اور اسحاق(علیہ السلام ) کے معبود کی۔ جو اکیلا اور واحد ہے۔ اور ہم اسی کے فرماں بردار رہیں گے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر ( 133 جب آپ علیہ السلام نے اپنے آخری وقت میں اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے۔ تو تمام بیٹوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں گے۔ اور اسی کے فرماں بردار رہیں گے۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کا وصال لگ بھگ ایک سو پینتالس145 برس کی عمر میں ہوا۔ اور آپ علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام اس وقت کے ملک کنعان اور حالیہ فلسطین میں لے گئے۔ اور اس کے شہر ” الخلیل“ میں دفن کیا ۔ جسے ”حبرون“ بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا وصال

حضر ت یعقوب علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ تیئیس23سال تک زندہ رہے۔ اس دوران آپ علیہ السلام نے مصر کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے سنبھالا کہ پورا مصر خوش حال ہو گیا۔ جب آپ علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور بھتیجوں کو بلایا۔ اور وصیت فرمائی۔ کہ مجھے مصر میں دفن نہیں کرنا بلکہ ایک تابوت میں رکھ دینا۔ اور جب بنی اسرائیل مصر سے جانے لگیں گے تو میرے تابوت کو لے جائیں گے اور میرے والدین کے ساتھ دفن کرنا۔ ( یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے ۔ انشا اللہ ) حضرت یوسف علیہ السلام کو ملا کر یہ کل بارہ بھائی تھے۔ اور ان بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی۔ اور ان سب کو آگے چل کر بنی اسرائیل کہا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخری وقت یہ دعا مانگی ۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی ۔ اور مجھے خوابو ں کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے۔ تو دنیا اور اخرت میں میرا کام بنانے والا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ، ( آخرت میں ) مجھے مسلمان اٹھانا اور ان کے ساتھ رکھنا جوتیرے مقرّب ( سب سے قریبی) بندے اور تیرے خاص قرب کے لائق ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت کے مطابق ایک سنگ مرمر کے صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں محفوظ کر دیا گیا۔ پہلے آپ علیہ السلام کو دریائے نیل کے داہنی جانب محفوظ کیا گیا تو اس طرف کا علاقہ سر سبز و شاداب ہو گیا۔ اور دوسری طرف کا پانی کم ہو گیا اور ادھر کا علاقہ سوکھ گیا۔ توصندوق نکال کر بائیں جانب محفوظ کر دیا گیا۔ تو بائیں طرف کا علاقہ سر سبز و شاداب ہو گیا۔ اور داہنی طرف پانی کم ہو گیا۔ اور وہ علاقہ سوکھ گیا۔ آخر کار دریائے نیل کے درمیان میں صندوق کو محفوظ کر دیا گیا۔ اور دونوں طرف کے علاقے سر سبز و شاداب ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کا جسم مبارک چار سو سال سے زیادہ عرصے تک دریائے نیل میں محفوظ رہا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو اس صندوق کو بھی ساتھ لے لیا۔ اور اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں ” الخلیل “ میں دفن کر دیا۔

اگلی کتاب

قارئین کرام ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، اور حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب ہم آپ کی خدمت میں انشاءاللہ حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

  ٭........٭........٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں