08 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 8
مصر کے بادشاہ (فرعون ) کا خواب
اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں بتاچکے ہیں کہ مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مصر کے بادشاہوں کا ایک خاندان گذرا ہے جس نے فرعون لقب اختیار کیا تھا۔ اور اس خاندان کو فراعنہ مصر کہا جاتا ہے۔ اسلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں جو بادشاہ تھا اس کا لقب فرعون لیکن نام دوسرا تھا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام دوسرا تھا ۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام کچھ اور تھا۔ روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کے زمانے کے بادشاہو ں (فرعونوں ) نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کے دوران جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہائی کا ارادہ فرمایا تو بادشاہ کو خواب دکھلایا۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ترجمہ۔ ” بادشاہ نے کہا ۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی پتلی لاغر گائیں کھارہی ہیں۔ اور سات ہری ہری بالیاں ہیں اور دوسری سات بالکل خشک بالیاں ہیں۔ اے درباریوں ، اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہوتو میرے اس خواب کی تعبیر بتاﺅ۔ انھوں نے (درباریوں اور نجومیوں نے) جواب دیا کہ اڑتے اڑتے پریشان خواب ہیں ۔ اور ایسے شوریدہ پریشان خوابوں کی تعبیر ہم نہیں بتا سکتے ہیں ۔ ( سور ہ یوسف آیت نمبر 43اور44)
قید خانے سے رہائی کا وقت آگیا
حضرت یوسف علیہ السلام کی قید خانے سے رہائی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ خواب دکھلایا۔ ان دو آیات کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی آزادی قریب آئی تو بادشاہ نے خواب دیکھا۔ جبرئیل امین علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی قیدخانے میں حاضر ہوئے۔ اور سلام کیا ۔ اور آزادی کی خوشخبری سنائی۔ اور عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو قید سے نکالنے والا ہے اور آپ علیہ السلام کو اقتدار دےدے گا۔ اور بادشاہ اور تمام وزراءکو آپ علیہ السلام کا اطا عت گذار اور فر ماں بردار بنا ئے گا۔اور آپ علیہ السلام کے بھا ئیوں پر کلمہ علیا عطا فر مائے گا اور یہ اس خوا ب کی وجہ سے ہو گا جو با دشاہ نے دیکھا ہے۔وہ خواب مصر کے بادشا ہ ریان بن ولیدنے دیکھا کہ خشک نہر سے سات موٹی گائیں نکلیں۔ اور ان کے پیچھے سات دبلی پتلی گائے، اور کمزور گائیں نکلیں اور دبلی پتلی گائیوں نے موٹی تازی گائیوں پر حملہ کر دیا اور سینگوں کو چھوڑ کر سب کچھ کھا گئیں۔ اور سات ہرے بھرے سر سبز و شاداب خوشے (گچھے ) دیکھے۔ ان پر سات خشک خوشے حملہ آور ہوئے اور ہرے بھرے خوشوں کو کھا گئے۔ پھر بھی وہ خشک رہے۔ اسی طرح موٹی گائیوں کو کھانے کے بعد بھی وہ گائیں دبلی پتلی ہی رہیں۔ خواب نے بادشاہ کو پریشان کیا تو اس نے علماءکو ، جادوگروں کو ، نجومیوں کو اور کاہنوں کو بلایااور ان کے سامنے اپنا خواب بیان کیا۔
کوئی خواب کی تعبیر نہیں بتا سکا
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون یعنی باد شاہ نے جو خواب دیکھا تھا ۔ وہ اس نے اپنے تمام علماء، نجومیوں ، کاہنوں ، جادوگروں اور خواب کی تعبیر بتانے والوں کو جمع کرکے سنایا تو سب لوگ اس خواب کو سن کر پریشان ہوگئے ۔ اور کسی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ تمام لوگوں نے کہا۔ کہ یہ کوئی مربوط خواب نہیں ہے بلکہ چند پریشان اور منتشر خیالات ہیں۔ لیکن بادشاہ کو اطمینان نہیں ہوا اور وہ بری طرح پریشان ہوگیا۔ اس نے پورے مصر میں اعلان کردیا کہ جو بھی اس خواب کی تعبیر بتائے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ پوری سلطنت میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ کہ ایک خواب نے بادشاہ کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ اور بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اس کی نیند اڑ چکی تھی۔ اور وہ ہر وقت پریشان اور سوچوں میں گم رہنے لگا تھا۔ اور وہ اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا اتنے بڑے ملک میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو میرے خواب کی صحیح تعبیر بتا سکے۔
خواب کی تعبیر بتانے والا یا د آگیا
حضرت یوسف علیہ السلام اور جیل کے قیدیوں کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ بادشاہ ایک خواب کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ ادھر بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اسے نہ تو کھانے پینے کا ہوش تھا اور نہ ہی سو سکتا تھا۔ وہ اپنی خواب گاہ (بیڈ روم) میں تھا۔ اس نے ساقی کو بلاکر جام بنانے کا حکم دیا اور سوچوں میں گم ہوگیا۔ ساقی نے شراب کا جام بنایا اور بادشاہ کی خدمت میں لیکر حاضر ہوگیا۔ بادشاہ کی توجہ اس کی طرف نہیں تھی وہ کچھ دیر تک جام لیکر کھڑا بادشاہ کو دیکھتا رہا لیکن وہ مسلسل سوچوں میں گم رہا تو ساقی نے اسے مخاطب کیا۔ بادشاہ چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوا اور جام لے لیا۔ ساقی نے ادب سے عرض کیا ۔باد شاہ سلامت کیا بات ہے ؟ آپ کچھ پریشان دکھائی سے رہے ہیں۔ بادشاہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور کہا ۔ جس مسئلے کی وجہ سے میں پریشان ہوں اس مسئلے کو تم حل نہیں کرسکتے ۔ ساقی نے عاجزی سے عرض کیا۔ بادشاہ سلامت کچھ بتائیں تو سہی۔ بادشاہ نے اسے غور سے کچھ دیر دیکھااور کہا۔ میں نے ایک خواب دیکھا ہے بڑے بڑے علماء، نجومی ، کاہن اور خوابوں کی تعبیر بتانے والے اس خواب کی تعبیر نہیں بتا سکے ہیں۔ اور میں اس خواب کو لیکر بہت پریشان ہوں۔ اچانک ساقی کو حضرت یوسف علیہ السلام یاد آگئے۔ اور اس نے اپنے ہاتھ کو ملتے ہوئے کہا ۔ اوہو بڑے افسوس کی بات ہے میں اس نیک قیدی کو بھول گیا۔ پھر اس نے بے تابی سے کہا۔ بادشاہ سلامت ، ایک شخص ہے جو اس خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتا دے گا۔ بادشاہ نے جلدی سے ساقی کا ہاتھ پکڑا اور بولا ۔ مجھے بتاﺅ وہ شخص کون ہے میں اسے سونے چاندی اور جواہرات میں تول دوں گا۔ ساقی نے کہا ۔وہ ایک قیدی ہے آپ مجھے اجازت دیں میں اس قیدی سے خواب کی تعبیر پوچھ کرآﺅں۔ بادشاہ نے بے تابی سے کہا۔ جلدی جاﺅ ، یہ تمھارا اور اس شخص کا مجھ پر احسان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے (کا فی )مدت بعد یاد آگیا اور کہنے لگا۔ میں آپ کو اسکی تعبیر بتلادوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے“۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر 45)۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی
وہ ساقی بادشاہ سے اجا زت لیکر جلدی جلدی قید خانے میں آیا اور تمام باتیں آپ علیہ السلام کو بتائیں ۔ آپ علیہ السلام مسکراتے ہوئے یہ سب سن رہے تھے۔ تمام باتیں سن کر آپ علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی۔ جو اس نے بادشاہ کو آکر بتائی۔ بادشاہ تعبیر سن کر اور پریشان ہوگیا اور ساقی سے کہا۔ اس تعبیر بتانے والے کو میرے پاس لیکر آﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں یہ واقعہ اس طرح بیان فرمایا ۔ ترجمہ ۔” (ساقی نے قید خانے میں کہا) اے یوسف ، اے بڑے سچے یوسف (علیہ السلام ) ، آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے۔ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں ۔ اور سات بالکل ہرے بھرے اور سر سبز خوشے ہیں اور سات بالکل خشک خوشے ہیں ۔ تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں اور وہ سب (حقیقت) جان لیں۔ یوسف (علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ تم سات سال حسب عادت پے در پے غلہ بویا کرنا ۔ اور فصل کاٹ کر ان کو بالیوں سمیت ہی رہنے دینا۔ صرف اپنے کھانے کےلئے تھوڑی سے مقدار نکال لینا۔ اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے۔ وہ اس غلے کو کھا جائیں گے۔ جو تم نے ذخیرہ کرکے جمع کرکے رکھا ہوگا۔ اس کے بعد جو سال آئے گا۔ اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرئہ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے۔ بادشاہ نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو میرے پاس لے آﺅ“۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 46سے50تک) ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب سن کر اسکی تعبیر بھی بتائی اور اسکا حل بھی بتایا ۔ کہ سات سال تک اناج بہت زیادہ پیدا ہوگا تو تم اناج خوب اگانا اور صرف ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرنا باقی محفوظ کرکے زخیرہ کرلینا ۔ ان سات سالوں کے بعد اگلے سات سال سخت قحط کے آئیں گے۔ اور اناج بالکل پیدا نہیں ہوگا۔تو قحط کے ان سات سالوں میں تمھارا زخیرہ کیا ہوا اناج کام آئے گا۔ ساقی نے بادشاہ کے پاس آکر خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ خوب ڈر گیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ یوسف (علیہ السلام ) نے اس کا حل بھی بتایا ہے کیا؟ تو ساقی نے کہا ۔ ہاں اور آپ علیہ السلام نے جو حل بتایا تھا وہ بادشاہ کو بتادیا۔ بادشاہ حل سن کر حیران رہ گےااور بولا۔ اتنا عقل مند آدمی قید خانے میں کیا کر رہا ہے۔ جاﺅ اسے ہمارے پاس لیکر آﺅ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ خواب کی تعبیر معلوم کرکے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقتِ حال سے مطلع کیا ۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بڑے ہی عالم و فاضل شخص ہیں۔ خوابوں کی تعبیروں کو تو بتانے میں آپ علیہ السلام ماہر ہیں ہی ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے ، حسن تدبیر والے ، خلق اللہ کا بھلا چاہنے والے اور بے طمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ وہ خود آپ علیہ السلام سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاﺅ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانے سے آزاد کرکے میرے پاس لے آﺅ۔
ان عورتوں کا کیا حال ہے؟
اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔” بادشاہ نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو میرے پاس لاﺅ ۔ جب قاصد یوسف (علیہ السلام ) کے پاس پہونچا تو انھوں نے فرمایا۔ اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاﺅ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ انکے مکر وفریب کو (صحیح طور پر) جاننے والا میرا پرور دگار (اللہ تعالیٰ ) ہی ہے۔ “( سورہ یوسف آیت نمبر 50)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر رحم فر مائے۔ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلیم تھے۔ اگر میں قید خانے ہوتا تو بلاوا آتے ہی نکل پڑتا۔ (تفسیر طبری جلد 12سورہ یوسف ، صحیح بخاری صحیح مسلم )۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر تعجب ہوا ۔ اللہ ان کو اپنی عافیت میں رکھے۔ جب ان کو خواب کی تعبیر کے بلایا گیا اگر میں ہوتا تو ایسا نہیں کرتا اور فوراً نکل آتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور حلم پر تعجب ہوا۔ اللہ ان کو اپنے عافیت میں رکھے۔ قاصد ان کے پاس آیا کہ وہ قید سے باہر آجائیں لیکن وہ نہیں آئے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے عذر کی خبر دی۔ اگر میں ہوتا تو باہر آجاتا ۔ لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنا پسند کیا۔ مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔قاصد نے جب حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ کہا کہ بادشاہ آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس وقت تک جیل سے نہیں نکلوں گا جب تک یہ بات صاف نہ ہوجا ئے کہ مجھے جس واقعہ کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا ہے اس واقعہ میں قصور کس کا ہے؟ اور قاصد سے فرمایا کہ تم واپس جاﺅ اور بادشاہ سے کہو کہ وہ ان عورتوں کی تحقیق کرے جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ اور ان سے دریافت کرے کہ میں قصور وار تھا کہ عزیز مصر کی بیوی قصور وار تھی۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت ہونا
حضرت یوسف علیہ السلام کا پیغام لیکر قاصد باد شاہ کی پاس پہونچا اور تمام حالات بتائے تو بادشاہ نے تحقیق شروع کی کہ کس نے آپ علیہ السلام کو جیل میں ڈالا تو عزیز مصر نے کہا کہ میں نے ڈالا ہے۔ اور اس کی وجہ میری بیوی ہے اور اپنی بیوی اور ان عورتوں کے ہاتھ کاٹنے لینے کا واقعہ بیان کیا۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ عزیز مصر کی بیوی اور ان عورتوں کو حاضر کیا جائے۔ جب وہ سب دربا ر میں حاضر ہوگئے تو بادشاہ نے ان سے پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” بادشاہ نے پوچھا۔ اے عورتو، اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے؟ جب تم داﺅ فریب کرکے یوسف (علیہ السلام ) کو بہکانا چاہتی تھیں۔ انھوں نے جواب دیا۔ مَاشَااللہ! ہم نے یوسف (علیہ السلام )میں کو برائی نہیں پائی ہے۔ پھر تو عزیز مصر کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات کھل کر سامنے آہی چکی ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے ہی اسے ورغلایا تھا۔ اسے برائی کی طرف ۔ اور یقیناً وہ سچے لوگوں میں سے ہیں۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 51) بادشاہ کے دربار میں جب تمام عورتیں اور عزیز مصر کی بیوی حاضر ہوگئی تو تب تک بادشاہ سچائی کا پتہ لگا چکا تھا۔ اس نے ان عورتوں کو ڈانٹ کر کہا کہ سچ بتاﺅ قصور کس کا ہے؟ تو ان عورتوں نے کہا سچائی یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ، معصوم ، نیک اور فرشتہ صفت ہیں۔ اسی عورت نے انھیں بہکانے کی کوشش کی تھی۔ اور ہم نے اس عورت کا ساتھ دیا تھا۔ بادشاہ نے ڈانٹ کر زلیخا سے کہا تو سچ سچ بتا۔ زلیخا نے کہا اب بات کھل کر سامنے آچکی ہے تو میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے حضرت یوسف (علیہ السلام ) کو بہکا نے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یوسف بہت ہی نیک بندہ اور معصوم ہے۔ وہ بالکل میرے بہکاوے میں نہیں آیا جب میں نے دیکھا کہ یہ میری بات نہیں مان رہا ہے تو میں نے اپنے شوہر عزیز مصر کو مجبور کیا کہ وہ یوسف (علیہ السلام ) پر جھوٹا الزام لگا کر جیل میں ڈال دے۔ وہ بے قصور ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی قید خانے سے رہائی
حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ثابت ہوگئے ۔ تو بادشاہ نے کہا۔کہ اب تو یوسف علیہ السلام قید خا نے سے باہر آ سکتے ہیں۔ عزیز مصر خود خوش خبری لےکر آپ علیہ السلا م کے پا س قید خا نے میں پہو نچا اور تما م با تیں بتا کر مبا رکبا د دی ۔ آ پ علیہ السلا م نے فر ما یا ۔ میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ سچ لو گو ں کے سا منے آ جا ئے اور آ پ کے دل میں یہ شک نہ رہے۔کہ میں نے آپ کے ساتھ کو ئی خیانت کی ہے۔اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ترجمہ”(حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا)یہ میں نے اس لئے کیا کہ( عزیز مصر)جان لے کہ میں اس کے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ دغا بازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا۔“ (سو ر ہ یوسف آیت نمبر52 ) عزیز مصر نے آپ علیہ السلام کو گلے سے لگایا اوراپنی بیوی کی حر کتوں کی معا فی ما نگی۔اور آپ علیہ السلا م سے عرض کیا کہ بادشاہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ علیہ السلا م کو لےکردربار میں ان کے سا منے آﺅں۔ براہ کر م جلدی چلئے۔ باد شاہ آپ علیہ السلام سے ملنے کے لئے بے چین ہیں۔اور وہ آپ علیہ السلام کو اپنا مشیر بنانا چاہتے ہیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں