بدھ، 26 اپریل، 2023

07 حضرت لوط علیہ السلام Story of Prophet Loot



 07 حضرت لوط علیہ السلام

سلسلہ نمبر 8

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

اللہ کی مد د

اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں کو بچالیا۔اِس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ترجمہ۔” ہم نے لوط علیہ السلام کو ااور اُن کے گھروالوں کو بچالیا۔ سوائے اُن کی بیوی کے کہ وہ اُن ہی لوگوں میں رہی جن کو عذاب دیا گیاتھا۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیا ءمیں فر مایا۔ تر جمہ ” ہم نے لوط علیہ السلام کو بھی حکم اور علم دیا اور اُسے اُس بستی سے نجات دی ۔جہاں کے لوگ گندے کاموں میں مُبتلا تھے۔ اور وہ تھے بھی بہت بد ترین گنہ گار ۔اور ہم نے لوط علیہ السلام کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔بے شک وہ نیک لوگوں میں سے تھا۔“ (سورہ الابنیا ءآیت نمبر 74 اور 75۔) اللہ تعالیٰ نے سور ہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”(حضرت لوط علیہ السلام نے دعا کی ۔) اے میرے پر وردگار، مجھے اور میر ے گھر انے کو اِس (وبال) سے بچالے جو یہ کررہے ہیں۔ بس ہم نے اُسے اور اُسکے گھر انے والوں کو سب کو بچالیا ۔سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگئی ۔“ (سورہ الشعراءآیت نمبر 69سے 71 تک۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا ، ترجمہ ۔ ”پس ہم نے اُسے اور اُسکے گھر والوں کو سوائے اُسکی بیوی کے سب کو بچالیا۔ اس کا اندازہ تو باقی رہ جانے والوں میں ہم لگاہی چکے تھے۔“(سورہ النمل آیت نمبر 57) اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا ۔” بے شک لوط علیہ السلام پیغمبروں میں سے ہیں ۔ہم نے اُن کو اور اُن کے گھروالوں کو نجات دی۔سوائے اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی ۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 133سے 135 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ترجمہ ۔”پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے اُنھیں نکال لیا۔ اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا۔“ (سورہ الذاریات آیت نمبر 35 اور 36۔) حضرت لوط علیہ السلام کی بستیوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی بارہ میل (یعنی لگ بھگ 25 پچیس کلو میڑ،) کے فاصلے پر تھی ۔اور آپ علیہ السلام فجر طلوع ہونے تک لگ بھگ آدھا راستہ طے کر چکے تھے۔

بیوی عذاب کا شکار ہوگئی

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لیکر تیز ی سے اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رواں دواں تھے۔اور لگ بھگ آدھے سے زیادہ راستہ طے کر چکے تھے کہ فجر طلوع ہوئی اور فرشتوں نے عذاب کی شروعات کردی ۔ سن سے پہلے اِن پانچوں شہروں کو اُٹھا کر پلٹ دیا اور اُن کے اوپر کیمیائی پتھروں کی بارش کر دی ۔یہ بارش اتنی شدید تھی کہ کئی میل دور حضرت لوط علیہ السلام تک پہونچ رہی تھی۔مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام چل پڑے اور بستی سے کافی دور آکر ایک پہاڑی پر بیٹھے تہجد کا وقت تھا اور آپ علیہ السلام اور گھر والے ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔اور بیوی غفلت میں پڑی رہی اُسے اپنی قوم کی فکر تھی۔ جب فجر طلوع ہوئی تو عذاب نازل ہوگیا۔آپ علیہ السلا م اپنے اہل بیت کو لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف چل پڑے ۔ بیوی پیچھے پیچھے قوم کی یادلئے ہوئے آرہی تھی۔ہواﺅں اور پتھروں کی شائیں شائیں برابر آرہی تھی۔ بیوی نے اچانک مڑکر دیکھا اور مرتے ہوﺅں کو دیکھ کر بولی ۔ ہائے میر ی قوم ، بس ایک پتھرآیا اور اُسے لگا اور اُس کا کام تمام ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی حالانکہ چھ میل کے فاصلے پر تھی ، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ سفر آن کی آن میں پورا کرا دیا اور آپ علیہ السلا م خیریت سے چچا کے پاس پہونچ گئے۔ 

قومِ سدوم کی بستیوں کو پلٹ دیا گیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پھر جب ہمارا حُکم (عذاب) آپہونچا۔تو ہم نے اس بستی کو زیر وزبر دیا۔اوپرکا حصّہ نیچے اور نیچے کا اوپرکردیا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 82۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ النجم میں فرمایا ؛ترجمہ”اورموئتفکہ(اُلٹی ہوئی بستیوںیا شہروںکو)اُسی نے اُلٹ دیا۔“(سورہ النجم آیت نمبر 53)اﷲتعالیٰ نے فرشتے یافرشتوں کو حُکم دیاکہ قوم سدوم کے پانچوں شہر یا بستیاں اُٹھا کر پلٹ دی جائیں ، روایات میں جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کے نام آئے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِن دونوں فرشتوں نے قوم سدوم کے علاقے کو پلٹ ہو یا پھر اِن دونوں میں سے کسی ایک فرشتے نے پلٹاہو۔ اب حقیقت کیا ہے اِسکا عِلم صِرف اللہ تعالیٰ کوہی ہے ۔ یہاں ہم دونوں طرح کی روایات پیش کررہے ہیں۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) سے مروی ہے کہ میکائیل علیہ السلام نے اپنا پروں پر قوم سدوم کے گھروں ،سامان ،چوپایوں اور ہر قسم کے سامان کو اُٹھالیا یہاں تک کہ آسمان والوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کے آواز سُنی اور پھر اُنھیں زمین پر پٹک دیا۔ حضرت مجاہد سے دوسر ی روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے دائیں بازو پر اُٹھایا۔ حضرت مجاہد سے تیسری روایت میں ہے کہ جب صبح کا وقت ہو ا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس بستی کو چاروں کو نوں سے اپنے پروں پر اُٹھالیا۔ حضرت مجاہد سے چوتھی روایت میں ہے کہ جبر ائیل علیہ السلام نے اپنے پروں پر ساری بستیوں کو اُٹھالیا اور پھر اتنی اوپر لے گئے کہ پہلے آسمان کے فرشتوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی ۔ پھر اُنھیں نیچے پٹک دیا۔ اور اُن کے بڑے لوگ یعنی سردار پہلے نیچے گرائے گئے ۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے درمیا ن سے بستی کو اُٹھایا اور اتنی اوپر اُٹھایاکہ پہلے آسمان پر رہنے والوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی ۔ پھر اُنھیں ایک دوسرے پر ڈال کر نیچے پٹک دیا۔اُس وقت اس بستی میں چار لاکھ سے زیا دہ افراد تھے۔اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے شہر الخلیل سے عذاب کا یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ زیادہ تر روایات یہ ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام نے اِن شہر وں کو پلٹ دیا۔

بنیادوں سے اُکھاڑکر پلٹ دیاگیا

اللہ تعالیٰ نے جتنا بھیانک عذاب قومِ سدوم(قوم لوط ) کو دیا۔ اُتنا کسی قوم کو نہیں دیا۔ پہلے تو اُنھیں اندھا کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارا تو قوم کے تمام لوگ اندھے ہوگئے اور رات بہت تکلیف سے گذاری کیونکہ ایک روایت میںیہ بھی ہے اُن کی آنکھیں پھوٹ گئیں یا بہہ گئیں یا پھر باہر نکل گئیں ۔ ابھی قوم کے لوگوں کو اِس تکلیف سے راحت نہیں ملی تھی کہ فجر طلوع ہوتے ہی جبرئیل علیہ السلام نے اِن شہروں پر حملہ کیا اور اُنھیں اُن کی بنیادوں سے ہلا دیا۔ پھر اپنا پر ان کے نیچے داخل کیا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام نے جبرئیل علیہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا ہے۔ اُن کے پر اتنے بڑے بڑے ہیں کہ دوپر سے پوری زمین ڈھک جائے گی۔) اور اُنھیں (پانچوں شہروںکو) اور اُن میں موجود ہر شئے کے ساتھ اُٹھالیا۔ اور اتنی اوپر لے گئے کہ پہلے آسمان والوں نے اِن شہروں کے مرغوں کی بانگ اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی ۔ اِسکے بعد اِن تمام شہروں کو پلٹ دیا اور اِتنی تیزی سے لاکر پٹخاکہ وہ پانچوں شہر چار سو 400 میڑ گہرائی میں چلے گئے۔ اور جہاں قوم ِسدوم کے پانچ شہر تھے وہاں چارسو میڑ گہرا گڑھا بن گیا۔ اِن میں سب سے پہلے نیچے گرِے وہ ان کی بالا خانے تھے۔ اور کسی قوم کو وہ عذاب نہیں دیا گیاجو اُنھیں دیاگیا تھا۔پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی آنکھوں کی ضائع کردیا۔ پھر اُن کی بستیوں کو اُلٹا کردیا۔ اور پھر اُن پر آگ سے پکے ہوئے پتھر برسائے ۔ ایک روایت میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے قوم ِسدوم کے شہر وں کے نیچے کی زمین کو اُکھیڑا اور پھر اُسے اُٹھا کر آسمان تک لے گئے او رپھر نیچے پٹک دیا۔ اور پھر اُن پر گندھک اور آگ برسائی ۔ 

قوم سدوم پر پتھروں کی بارش

اللہ تعالیٰ نے سور ہ اعراف میں فرمایا۔ترجمہ۔”اور ہم نے اُن پر کئی طرح کا مینہ (بارش) برسایا۔ پس دیکھو تو سہی اِن مجرموں کا انجام کیساہوا؟“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 84۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”اور اُن پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے اور تمھارے رب کی طرح سے نشان لگے ہوئے تھے۔اور وہ اِن ظالموں سے کچھ بھی دور نہیں تھے۔“(سورہ ھود آیت نمبر 82 اور 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کردیا۔اور ہم نے اُن پر ایک خاص قسم کا مینہ (بارش) برسایا۔ پس بہت ہی بُرا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا۔ اِس واقعہ میں بھی سراسر عبرت ہے۔اوران میں سے اکثر مسلمان نہیں تھے۔ بے شک تمھارارب ہی غلبے والا اور مہربانی والاہے۔“ (سورہ الشعراءآیت نمبر 172سے 175 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ”اور اِن پر ایک (خاص قسم کی )بارش برسادی۔ بس اِن دھمکائے ہوئے لوگوں پر بُری بارش ہوئی۔“ (سور ہ النمل آیت نمبر 58۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ ترجمہ ۔” ( حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ) کہا کہ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو، تمھارا کیا مقصد ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم گنہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ تاکہ ہم اِن پر مٹی کے کنکر برسائیں ۔ جو تمھارے رب کی طرف سے نشان لگائے ہوئے تھے۔ اُن حد سے گذرجانے والوں کے لئے ۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 31 سے 34 تک۔)

قوم سدوم پر کئی طرح کا عذاب

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر کئی طرح کے عذاب آئے ۔ مولانا عاشق الہٰی لکھتے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اللہ کاحکم آگیا۔ جو فرشتے عذاب کے لئے بھیجے گئے تھے اُنھوں نے اِن بستیوں کا تختہ اُٹھا کر پلٹ دیا۔ نیچے کی زمین اوپر اور اوپر کی زمین نیچے ہوگئی ۔ وہ سب لوگ اِس میں دب کر مرگئے ۔اور اللہ تعالیٰ نے اوپر سے پتھر بھی برسادیئے جو کنکرکے پتھر تھے۔ وہ لگاتا ر برس رہے تھے۔ اور ان پرنشان بھی لگے ہوئے تھے۔ بعض علمائے تفسیر نے فرمایا ہے ہر پتھر جس شخص پر پڑتا تھا اُس پراُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا۔ اِسی کو ”مسومة‘ ‘ یعنی نشان لگا ہوا فرمایا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جو لوگ اِس علاقہ میں موجود تھے اُن پر زمین اُلٹنے کا عذاب آیا اور جو اِدھر اُدھر نکلے ہوئے تھے یعنی تجارتی سفروغیرہ تو اُن پر پتھر برسے اوروہ پتھر وں کی بارش سے ہلاک ہوئے ۔ حضرت مجاہد تابعی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا ۔ کیا قوم لوط میں سے کوئی رہ گیا تھا۔ تو اُنھوں نے جواب دیا کوئی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ہاں ایک شخص زندہ بچ گیا تھا۔جو مکہ مکرمہ میں تجارت کے لئے گیا ہو اتھا۔ وہ چالیس دِن کے بعد مکہ مکرمہ سے باہر نکلا تو اُسے بھی پتھر آکرلگا جسکی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا ۔ سورہ حجرمیں زمین کا تختہ الٹنے کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ بھی فرمایا کہ ”سورج نکلتے نکلتے اُنھیں چیخ نے پکڑلیا۔ “ اِس سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر تین طرح کا عذاب آیا۔ پہلے چیخ نے پکڑا پھر زمین کا تختہ پلٹ دیا گیا اور پھر اُن پر پتھر برسائے گئے۔ا

ایٹم بموں جیسے پتھروںکی بارش

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قوم ِسدوم پر کئی طرح کی بارش کی گئی ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سورج نکلنے کے وقت اُن پر عذاب آگیا اور اُن کی بستیاں سدوم سمیت تہہ وبالاہوگئیں ۔عذاب نے اوپر تلے اُنھیں ڈھانک لیا۔آسمان سے پکی ّ مِٹی کے پتھر اُن پر برسنے لگے ۔ جو سخت وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔صحیح بخاری میں ہے کہ سجین اور سجیل دونوں ایک ہی ہیں ۔ منضود سے مراد پے درپے ،تہہ بہ تہہ ، ایک کے بعدایک (یعنی لگاتار)ہیں ۔ اِن پتھروں پر قدرتی طور سے اُن لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اُسی پر گرِتاتھا۔ وہ پتھرطوق کی طرح تھے اور سرُخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ (یعنی آگ میں نکلے ہوئے سرخ سرخ انگاروں کی طرح تھے اور جس پر جہاں پڑتے تھے وہ وہیں سے جلنا اورپگھلنا شروع ہوجاتاتھا۔) یہ اِن (پانچوں شہروں کے ) شہریوں پر بھی برسے اور جولو گ گاﺅں گوٹھ میں تھے اُن پر بھی گرِ ے۔ اِن میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھروں سے ہلاک کر دیا گیا۔ کوئی کھڑا کسی سے باتیں کر رہا تھا کہ وہیں آسمان سے پتھر آیا اوراُسے ہلاک کر گیا ۔غرض یہ کہ اُن میں سے ایک ابھی نہیں بچا۔ مذکو رہے کہ قوم سد وم کی چار بستیاں تھیں اور ہر بستی کی آبادی ایک لاکھ سے ذیادہ تھی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں