بدھ، 26 اپریل، 2023

08 حضرت لوط علیہ السلام Story of Prophet Loot




 08 حضرت لوط علیہ السلام

سلسلہ نمبر 8

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

موتفکات۔

اللہ تعالیٰ نے اِس بدبخت قوم کی اُلٹی ہوئی بستیوں کو ”مو¿تفکات“اور مو¿تفکہ “فرمایاہے۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔پھر اس عذاب کا واقعہ قرآن پاک میں (اللہ تعالیٰ ) نے اس طرح بیان فرمایاہے۔ کہ جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے اِن بستیوں کے اوپر کا حصّہ نیچے کر دیا اور ان پر ایسے پتھر برسائے جن پر ہر ایک کے نام کی علامت لکھی ہوئی تھی۔روایات میں ہے کہ یہ چار بڑے بڑے شہر تھے جن میں یہ لوگ بستے تھے، انھی بستیوں کو قرآن پاک میں دوسری جگہ ”موتفکات “ کے نام سے فرمایا گیاہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حُکم ہوا تو جبرئیل امین نے اپنا پر اِن سب شہروں کی زمین کے نیچے پہنچا کر سب کو اس طرح اوپر اُٹھا لیا کہ ہر چیز اپنی جگہ پر رہی ۔ پانی کے برتن سے پانی بھی نہیں گرِا۔اور آسما ن کی طرف سے کتوں اور جانوروں اورانسانوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ اِن سب بستیوں کوآسما ن تک سیدھااُٹھانے کے بعد اوندھا کر کے پٹخ دیا گیا جو اِن کے عمل خبیث کے مناسب حال تھا۔ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔کہ پس جب ہمارا عذاب صبح کے مقررہ وقت پر آگیا تو ہم نے اپنی پوری قدرت کا ملہ سے بذریعہ¿ ملائکہ (فرشتوں ) کے ذریعے اِن کو الٹا کر دیا۔ کہ اِس طرح جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر ان پانچ شہروں والے صوبے کواٹھایا اور بلند یوں پر لے جاکر اُلٹا کر نیچے پھینک دیا۔کہ نیچے کی جگہ اوپر اور اوپر کی جگہ نیچے ہوگئی ۔قوم لو ط یعنی قو م سدوم کی تعداد چار لاکھ سے ذیادہ تھی۔ جو قریبی پانچ شہر وں میں آباد تھی۔اس صوبے کا نام ”مو¿تفکات “ تھا۔اِن میں سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔ یہیں حضرت لوط علیہ السلا م رہائش پذیر تھے۔ کوئی بھی ایمان نہیں لایا تو پانچوں بستیاں اُلٹادی گئیں ۔ اور ساتھ ہی ہم نے اِن بستیوں پر پتھر برسائے جو کھردرے تھے ۔ یعنی سارے پتھروں کی حالت کھردری نوک دار تھی۔چکنے اور صاف پتھر نہیں تھے۔ کیونکہ چکنے اور صاف پتھر کی چوٹ سے کم زخم لگتے ہیں ۔ اور برسائے بھی اس طرح پے درپے کہ موسلا ھار بارش کی طرح برسائے ۔اور اللہ کی قدرت دیکھئے کہ اِن پر ہر مجرم کا نام لکھا ہواتھا۔ اور وہ اُسی کو لگتا تھاجس کا نام لکھا ہواتھا۔ اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ پتھر یاوہ عذاب یاوہ پتھروں کی لکھائی آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تھی۔اِن پتھروں سے کوئی کا فر نہیں بچ سکا۔ جو باہر سفر میں تھے اُن کو سفر میں ہی جالگا اور وہیں ہلاک کردیا۔ روایت ہے کہ ایک کافر حرم کعبہ میں چھپ گیا تو اُس کے نام کا پتھر چالیس دن تک زمین اور آسمان کے درمیان لٹکا دیا۔ جب وہ مطمئن ہوکر حرم پاک (مکہ مکرمہ) سے نکلا تو وہ پتھر لگا اور وہ مرگیا۔ 

کیمیائی پتھروں کی بارش

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر پتھروں کی بارش کی۔ وہ کوئی عام پتھر نہیں تھے۔ بلکہ اِن بد بختوں پر اللہ تعالیٰ نے کیمیائی پتھروں کی بارش کی ۔ مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ غالبا ً عذاب ایک سخت زلزلے اور آتش فشانی انفجار کی شکل میں آیا تھا۔ زلزلے نے اِن کی بستیوں کو تل پٹ کردیا اور آتش فشاں مادے کے پھٹنے سے اُن کے اوپر پتھر اﺅ ہوا۔ پکی ہوئی مٹی کے پتھروں سے مُراد شاید وہ متحجرمٹی ہے جو آتش فشانی علاقے میں زیر زمین حرارت اور لاوے کے اثر سے پتھرکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ آج تک بحر لوط کے جنوب اور مشرق کے علاقے میں اِس انفجار کے آثار ہر طرف نمایاںہیں ۔ اور ہر ہر پتھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد کیا ہوا تھا کہ اُسے تباہ کاری کا کیاکام کرنا ہے۔اورکس مجرم پر پڑنا ہے۔ یہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر ممکن ہے کہ شہاب ثاقب کی نوعیت کے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آتش فشانی انفجار کی بدولت زمین سے نکل کر اُڑے ہوں اور پھر اُن پر بارش کی طرح برس گئے ہوں ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سخت آندھی نے پتھراﺅ کیاہو۔ایک ایک پتھر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف سے نشان لگادیا گیا تھا کہ اُسے کس مجرم کی سرکوبی کرنا ہے۔سورہ ھود اور سورہ حجرمیں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی کہ اُن کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ اس سے یہ تصور کیا جاسکتا ہے شدید زلزلے کے اثر سے پورا علاقہ اُلٹ دیا گیا اور جو لوگ زلزلے سے بچ کر بھاگے اُن کو آتش فشاں مادّے کے پتھروں کی بارش نے ختم کردیا۔

قوم سدوم پر چار طرح کا عذاب 

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر چار طرح کا عذاب دیا۔1)اندھے ہونے کا۔2) دہشت ناک چنگھاڑ۔ 3) زلزلے کا۔4) پتھروں کی بارش کا ۔ لیکن اکثر علمائے کرام نے تین طرح کے عذاب کا ذکر کیاہے۔مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے پاس بلالیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اجتماع (قوم ِسدوم ) کی طرف انگلی لہرادی۔اچانک سب اندھے ہوگئے اور تن بدن میں جلن سی پڑگئی ۔ بس پھرکیا تھا ساری شہوت فنا ہوگئی اور چیختے چلاتے پیچھے بھاگے کہ ہائے مرگئے۔ارے یہ مہمان تو جادوگر ہیں ۔یہ عصر اور مغرب کا درمیانی وقت تھا۔رات کو صبح تک جوہوا سوہوا۔ اسکے بعد آگے لکھتے ہیں۔کہ رات بھر یہ لوگ درد اور اندھے پن سے چیختے چلاّتے اور تڑپتے رہے۔فیصلہ کے مطابق فجر کے وقت پہلے چیخ اور انتہائی ڈر اور کٹرک آئی ۔ جس سے مردوں کے پتے پھٹ گئے اور بچے اور جانور اور عورتیں ہلاک ہوگئے ۔ کیونکہ بدکاری کا عذاب صِرف مردوں کو ملنا تھا۔اور کفر کا عذاب عورتوں کو بھی ۔ اُس وقت مشرق سے فجر طلوع ہورہی تھی۔ یہ عذاب طلوع فجر کے وقت سے شروع ہوا اور کی اشراق کے وقت اَسکی انتہائی ہوئی ۔ پھر بنادیا ہم نے اِس پوری بستی کی آبادی کے اوپر کو نیچا یا اسی چیخ کے ذریعے کہ چیخ کی ہولنا کی سے زلزلے کی شکل ہوئی ۔ زمین شدت سے کا نپی اور پھٹ گئی ۔ اور تمام عمارات بڑی بڑی مضبوط پختہ پتھر یلی حویلیاں اور قلعے آن واحد میں زمین بوس ہوگئے ۔ یا چیخ کے بعدقدرتی زلزلہ آیا۔ یا جبرئیل علیہ السلام نے اُتنی زمین کو اُٹھا کر اُلٹا کردے مارا ۔ مگر پہلا قول ذیادہ درست ہے۔اِس لئے کہ ان کے قوم سدوم کے تین بڑے جُرم تھے۔ 1) کفر ۔2)نبی علیہ السلام کی گستاخی ۔3) بد فعلی ۔ اس لئے ترتیب سے ان پر تین عذاب آئے ۔1) دھشت ناک چنگھاڑ۔2)زلزلہ لیکن ابھی مرے نہیں تھے۔3) پتھروں کی بارش اور ہر پتھر پر نام لکھاتھا اُسی کو لگا۔ اور پتھر وہ تھے جو مٹی کو پکاکر پکاکر بنائے گئے تھے۔ اور یہ سب قدرتی تھا۔ یہ بارش بھی قدرتی تھی فرشتوں کے ہاتھوں سے نہیں تھی۔ اگر جبرئیل علیہ السلام بستی کو اُٹھاکر اُلٹا تے تو پھر پتھر برسنے سے پہلے ہی سب مر جاتے اور پتھر اﺅ بیکار ہوجاتا۔اور یہ پتھریلی بارش عام تھی۔ یہاں تک کہ جو جہاں تھا۔ بستی میں یا باہر یا جنگل میں یا سفر میں وہیں جاکر پتھر اُس کو لگا۔ جس پتھر پر حضرت لوط علیہ السلا م کی بیوی کا نام لکھا تھا۔ وہی اُسے جاکر لگا اور ہلاک کردیا۔ چیخ سے بچے ،بوڑھے اور عورتیں مرے ۔زلزلے سے گھر ٹوٹے اور پتھریلی بارش سے بدکارمرے ،اور منٹوں میں تباہی نے نام ونشان مٹاکر عبرت کےلئے نشانی قائم کردی۔

قوم سدوم پر عذاب سائنسی نظر یہ سے۔

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب بھیجا۔ سائنسی نظریہ سے یوں ہوا تھا کہ اُس پورے علاقے پر ایک بہت زبردست زلزلہ آیا۔ اور زلزلہ اِس لئے آیا کہ وہاں اندر جو لاوا بہت زیادہ شدت سے اُبلنے لگا۔ جس سے بہت شدید چنگھاڑ کی آواز پیدا ہوئی اور وہ پورا علاقہ مسلسل لرزنے لگا۔ اِسکے بعد قوم سدوم کی پانچوں بستیاں جس زمین پرتھی وہ زمین پوری طاقت سے زمین سے ٹوٹ کرالگ ہوئی اور بھک سے اُڑگئی ۔اور اُڑ کر خلا ءمیں بہت دور تک گئی ۔پھر زمین کی کشش ثقل نے اُسے دوبارہ اپنی طرف کھنیچ لیا۔ اور جس جگہ سے وہ حصّہ ٹوٹا تھا۔ وہاں شدت سے لاوااُبل رہاتھا اور وہیں کی کشش ثقل سب سے زیادہ تھی ۔ اسی لئے الگ ہوا زمین کا حصّہ پلٹ گیا اور تیزی سے اتنی تیزی سے اُسی جگہ واپس آیا اور ٹکرا یا کہ لاوے کے اندر چار سو میڑ تک دھنس گیا۔اورواپس ہوتے وقت جو لاوے کے فوارے جلتے ہوئے پتھر وں کی شکل میں اُڑرہے تھے۔ وہ بارش کی طرح قوم سدوم پر برس پڑے۔ یہ اِس طرح ہواکہ جب جبرئیل علیہ السلام نے قوم سدوم کے شہروں کے نیچے کی زمین کے نیچے اپنا پر گھُسا نا شروع کیا تو زبردست آواز اور زلزلہ پیدا ہوا۔ اُنھوں نے اُس علاقے کی زمین جتنی لاوے تک تھی ۔ وہ پوری اُکھا ڑلی۔ یعنی اپنا پَر وہاں گُھسا یا جہاں سخت زمین ختم ہوتی ہے اور لاواشروع ہوتاہے۔(زمین کی ساخت کو سمجھنے کے لئے ہمارا سلسلہ نمبر ۱ حضر ت آدم علیہ السلام پڑھیں ) اِس طرح اُس علاقے کی پوری سخت زمین جبرئیل علیہ السلام نے اُکھاڑی اور اوپر (یعنی خلاءمیں ) لیکر چلے تو لاوا پوری شدت سے جوش مار کر وہاں اُچھلنے لگا۔ جس کے نتیجے میں اُس علاقے کی زمین کا بچا کچا حصّہ پک کر پتھروں کی شکل میں اڑا۔ اور جب جبرئیل علیہ السلام نے وہ زمین کا ٹکڑا اُسی جگہ لاکر دھنسا دیا تو اس دوران قوم سدوم پر پتھروں کی بارش نیچے سے ہوئی۔ اور جب وہ حصّہ واپس زمین میں دھنس گیاتو جو بہت ساری مٹی پک کر پتھروں کی شکل میں فضا میں اُڑی تھی۔ وہ پتھروں کی شکل میں اُس علاقے پر اور اُن لوگوں پر برسنے لگی جو اُس علاقے سے دور سفر میں جنگل میں کہیں بھی تھے۔اب حقیقت کیا ہے اِسکا علِم تو صِرف اللہ تعالیٰ کوہی ہے۔ واللہ اعلم ۔ ہم صِرف اتنا کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کو سخت عذاب دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

اللہ کی نشانی۔

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب نازل فرمایا تھا۔اُسے قیامت تک کے لئے لوگوں کے سامنے نشانی بنادی ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ حجر میں حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم کا واقعہ بتانے اور پھر عذاب کی تفصیل بتانے کے بعد فرمایا۔ ترجمہ ۔”بے شک نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے اِس میں (اللہ کے عذاب میں ) بہت سی نشانیاں ہیں۔یہ بستی ایسے راستے پر ہے۔ جو برابر چلتا رہتاہے۔ (یعنی ایساراستہ ہے کہ الگ بھگ ہر علاقے کے لوگ وہاں سے گذرتے رہتے ہیں۔) اور اِس میں ایمان والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔“ (سورہ الحجرآیت نمبر 75سے 77 تک۔) مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حجاز سے شام اور عراق سے مِصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتاہے۔اور عموماًقافلوں کے لوگ تباہی کے اُن آثار کو دیکھتے ہیں جو اِس پورے علاقے میں نمایاں ہیں۔یہ علاقہ بحر لوط (بحیرئہ مردار) کے مشر ق اور جنوب میں واقع ہے۔اور خصوصیت کے ساتھ اِس جنوبی حصّے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اِس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے کہ جس کی نظیرپوری رُوئے زمین پر کہیں اور نہیں دی دیکھی گئی ہے۔بحیرئہ مردار Dead Sea کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران او رسنسان حالت میں پڑا ہوا ہے۔اِس میں کثرت سے پُرانی بستیوں کے آثار ملتے ہیں۔حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سنبھال سکے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اِس علاقے کی آبادی اور خوش حالی کا دور 2300 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دوہزارتین سو سال پہلے ) سے لیکر 1900 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے اُنیس سو سال پہلے) تک رہاہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق مورخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار 2000 قبل میسح کے لگ بھگ زمانے میں گذرے ہیں ۔ اِس لحاظ سے آثار قدیمہ کی شہادت اِس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے عہد (زمانے) ہی میں برباد ہواہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں