08 حضرت نوح علیہ السلام
تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر4
قسط نمبر 8
طوفان کی شدت اور قوم کی تباہی
حضرت نوح علیہ السلام نے سب لوگوں کو کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ اور کشتی کی اوپری منزل کی کھڑکیوں سے کشتی کے باہر دیکھ رہے تھے۔ کشتی کے باہر عذاب کے طوفان میں شدت آنی شروع ہو گئی تھی۔ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ اور زمین میں سے بھی جگہ جگہ سے پانی نکل رہا تھا۔ اور زمین میں سے پانی کے فوارے نکل رہے تھے۔ تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ اور پانی بڑھتا جا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے پانی آپ علیہ السلام کی قوم کے گھروں میں بھرنے لگا۔ تو وہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر اونچی جگہوں کی تلاش میں پہاڑوں کی طرف بھاگنے لگے۔ ادھردھیرے دھیرے کشتی پانی میں تیرنے لگی۔ ذرا ٓپ اس طوفان کا تصور کریں ۔ آسمان سے تیز موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔ پورا آسمان کالے گھنے بادلوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ بجلیاں چمک رہی ہیں۔ تیز آندھیاں چل رہی ہیں۔ زمین سے جگہ جگہ پانی نکل رہا ہے۔ لوگ جان بچانے کے لئے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ کیوں کہ ان کے گھروںمیں پانی بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ سیلاب کی حالت ہوتی جا رہی ہے۔ چاروں طرف پانی ہی پانی دکھائی دینے لگا۔ اور اس پانی میں ایک کشتی تیر رہی ہے۔ دھیرے دھیرے پانی اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ تمام گھر بہہ گئے۔ اب کشتی باقاعدہ پانی پر تیرنے لگی تھی۔ اور پانی بڑھتا جا رہا تھا۔ اور اب پہاڑبھی دھیرے دھیرے ڈوبنے لگے تھے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے تمام کافر حسرت سے پانی کو کشتی کو اور اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں غرق ہو چکی تھیں اور ان پر کھڑے ہوئے لوگ پانی میں بہہ رہے تھے۔ ڈوب رہے تھے چلّا رہے تھے۔ اور بڑے بڑے پہاڑوں پر کھڑے لوگ دہشت اور مایوسی سے انہیں ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔تفسیر معارف القران میں ہے کہ طوفان کا پانی سب سے بڑے پہاڑکی چوٹی سے پندرہ گز اوپر یا چالیس گز اوپر تک تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا غرق ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی۔ اور نوح( علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو جو کنارے پر تھا پکار کر کہا۔ اے میرے پیارے بچے ،ہمارے ساتھ سوار ہو جاﺅ اور کافروں میں شامل نہ رہو۔ اس نے جواب دیا ۔ میں تو کسی بڑے پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح ( علیہ السلا م) نے کہا۔ آج اللہ کے امر (عذاب کے طوفان) سے بچانے والا کوئی نہیں ۔ صرف وہی لوگ بچیں گے چن پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان پانی کی موج آگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا۔ “(سورہ ہود آیت نمبر42اور 43) تفسیر مدارک میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ اس بیٹے کا نام کنعان تھا۔ اور بعض علمائے کرام نے کہا اس کا نام یام تھا۔ اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کا اصلی (سگا) بیٹا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی بیوی کے سابقہ شوہر سے بیٹا تھا۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی امام عطداللہ بن احمد بن محمود نسفی) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا جو بیٹا ڈوب گیا تھا اس کا نام کنعان تھا۔ حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ وہ آپ علیہ السلام کا بیٹا تھا۔ مگر نیت اور عمل میں آپ علیہ السلام کا مخالف تھا۔ (تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
بیٹے کو آخری بار سمجھایا
تفسیر انورالبیان میں ہے کہ کشتی چل رہی ہے۔ پہاڑوں کی طرح موجیں ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا موجوں کے تھپیڑوں سے دوچار ہو رہا ہے۔ قریب ہے کہ ڈوب جائے وہ ان سے علحیدہ تھا ، کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ اور ایمانی اعتبار سے بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے آواز دی۔ اے بیٹے ہمارے ساتھ ہو جا۔ کافروں کے ساتھ نہ ہو۔ اُن کے دین کو چھوڑ دے۔ لیکن وہ نہیں مانا اور کہنے لگا ۔ میں کسی پہاڑ پر ٹھکانہ پکڑ لوں گا۔ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ اس کا خیال تھا کہ جیسے عام طور سے سیلاب آتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی سیلاب ہے۔ پہاڑ پر چڑھ جاﺅں گا تو بچ جاﺅں گا۔ کیوں کہ عام طور سے سیلاب کا پانی پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں جاتا ہے۔ اور چونکہ ایمان نہیں لایا تھا۔ اس لئے یہ بھی نہیں مانتا تھا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ آج وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائیں گے۔ یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ ایک موج آئی اور اسے ڈوبا لے گئی۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر 3مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی) علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے کافر بیٹے کا نام ”یام “( کنعان ) بتاتا جاتا ہے۔ دوسرے بچوں کے نام یوں ہیں۔ سام ، حام ، یافث اور بعض لوگ اسکا نام کنعان بتاتے ہیں۔ بہر حال جو بھی نام ہو وہ کافر تھا اور اس اس کا کردار صحیح نہیں تھا۔ اس نے اپنے والد محترم کے دین کی مخالفت کی تھی۔ اس لئے وہ بھی دوسرے کافروں کی طرح ہلاک ہوا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
بیٹے نے انکار کر دیا
تفسیر جلالین میں ہے کہ آخر کار اپنے ٹھیک وقت پر طوفان کا ظہور ہوا اور حضرت نوح علیہ السلام ان سب کو لے کر سوار ہو گئے جن کو ساتھ لینے کا حکم ہوا تھا۔ سیلاب اور طوفانی ہواﺅں کا یہ عالم تھا کہ پہاڑ جیسی اونچی اونچی موجیں اٹھنے لگیں ۔ اسی میں آپ علیہ السلام کا سوتیلا بیٹا کنعان یاد آیا۔ جوش ِ پدری سے اسے آواز دی۔ مگر وہ آوارہ صحبت میں نالائق ہو چکا تھا۔ اس کی مت ماری گئی تھی۔ اس لئے باپ کی نصیحت و شفقت کو نہیں سمجھا۔ بے بنیاد سہاروں پر کھڑا ہونا چاہا کہ تقدیر الہٰی اور اپنی شامتِ اعمال سے ایک پانی کا ریلہ باپ بیٹے کے درمیان حائل ہو گیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے موجوں کی آغوش کے حوالے کر دیا۔ ( تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلال الدین محلی) تفسیر معارف القران میں ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کے سب اہل و عیال کشتی میں سوار ہو گئے مگر ایک لڑکا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے وہ سوار ہونے سے رہ گیا تو پدرانہ شفقت سے آپ علیہ السلام نے انہیں پکار ا کہ کشتی میں آجاﺅ۔ کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ غرق ہو جاﺅ گے۔ یہ لڑکا دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتا تھا۔ اور حقیقت میں کافر تھا۔ مگر غالباً آپ علیہ السلام کو اس کے کفر کا یقینی علم نہیں تھا۔ اور اگر علم تھا تو بیٹے کو کفر سے توبہ کر کے ایمان لانے کی دعوت کے طور اس کو کشتی پر سوار ہونے اور کافروں کا ساتھ چھوڑنے کی نصیحت فرمائی مگر اس بد بخت نے اس وقت بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا۔ آپ ( علیہ السلام)فکر نہ کریں۔ میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان سے بچ جاﺅں گا۔ آپ علیہ السلام نے پھر نصیحت فرمائی کہ آج کوئی اونچی عمارت یا پہاڑ کسی کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ باپ بیٹے کی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ ایک بڑی موج آئی اور بیٹے کو بہا لے گئی ۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع)
بیٹا طوفان میں غرق ہو گیا
تفسیر طبری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا نام کنعان تھا ۔ اور آپ علیہ السلام کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اے بیٹے، اسلام قبول کر لے اور کشتی میں سوار ہو جا۔ کشتی پر سواری کی دعوت دینا اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا تھی۔ کیوں کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی کافر کشتی میں سوار نہیں ہو سکتا تھا۔ کنعان نے کہا۔ میں نہ اسلام قبول کروں گا اور نہ ہی آپ ( علیہ السلام ) کے ساتھ کشتی پر سوار ہوں گا۔ بلکہ میں پہاڑ کی پناہ لوں گا۔ جو مجھے غرق ہونے سے بچا لے گا۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ اس کا نام ”کنعان “یا ”یام “تھا دوسرے کافر تو جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر رہے تھے اور پانی سے بچاﺅ کرنے کی تدبیروںمیں مشغول تھے۔ مگر وہ دور کھڑا اپنے والد کی کشتی کو دیکھ رہا تھا۔ تو والد کو اس پر ترس آگیا اور بلایا کہ اب بھی مسلمان ہو کر آجا۔ یا اس طرح تھا کہ وہ حضرت علیہ السلام سے الگ ہو کر کھڑ ا تھا جب سب مسلمان اور گھر والے چڑھ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آ تو بھی آجا۔ بعض نے تفسیر کی ہے کہ کنعان کھلا کافر نہیں تھا بلکہ منافق تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اسے کشتی پر سوار ہونے کی دعوت دی۔ یا پھر آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ کافر ہے لیکن بیٹے کی کشمکش کی کیفیت دیکھ کر آپ علیہ السلام نے تبلیغ کی آخری کوشش کی ۔ کہ چونکہ اس وقت تم کافروں سے الگ کھڑے ہو تو دیکھو کافروں کے ساتھ مت ہو جانا۔ بلکہ اسلام قبول کر کے کشتی پر آجاﺅ۔ اتنا زمانہ تو نے کفر میں گزار ا تو اب جسمانی طور سے آخری وقت میں الگ ہوا ہے تو د ل سے بھی الگ ہو جا اور ہمارے ساتھ آجا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)
طوفان عروج پر
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر اللہ کا عذاب آچکا تھا۔ آسمان سے لگاتار موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور زمین سے بھی مسلسل پانی نکل رہا تھا۔ اور کافر اونچے نیچے پہاڑوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ لیکن پانی ہے کہ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اور دھیرے دھیرے کر کے پہاڑ بھی ڈوبتے جا رہے تھے۔ پھر پانی اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ تمام پہاڑ ڈوب گئے تھے۔ یہ سیلابی طوفان پوری دنیا میں آیا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ہاتھوں بنا ہوا خانہ کعبہ بھی بہہ گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ خانہ کعبہ اٹھالیا گیا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ خانہ کعبہ کے چاروں طرف پانی تھا لیکن وہ نہیں ڈوبا تھا۔ کئی کئی سو فٹ موجیں اٹھ رہی تھیں۔ اور ان موجوں پر کشتی تنکے کی طرح ڈول رہی تھی۔ کشتی میں حضرت نوح علیہ السلام دعا فرما رہے تھے۔ اللہ کے نام سے اس ( کشتی) کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب ( اللہ تعالیٰ) ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ علامہ ابن کثیر طوفان کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ چلنے لگی انہیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑ کی مانند ہیں۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر) وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ایسی موسلا دھار بارش برسائی کہ نہ اس سے پہلے برسی ہو گی اور نہ اسکے بعد برسے گی۔ یوں لگتا تھا کہ کسی آسمانی کنویں کا سار ا پانی زمین پر امڈ ا چلا آرہا ہو۔ پھر زمین کو بھی حکم دیا کہ وہ تمام چشموں کا پانی سطح زمین پر انڈیل دے۔ اور سارا پانی خشکی کو سمندر میں تبدیل کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس طوفان کی ہولناکی کا نقشہ کھینچا ہے۔ ترجمہ ” پھر ہم نے کھول دیئے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے ساتھ۔ اور جاری کر دیا ہم نے زمین سے چشموں کو۔ پھر دونوں پانی مل گئے ایک مقصد کے لئے جو پہلے سے مقرر کیا جا چکا تھا۔ اور ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کر دیا۔ “ ( سورہ القمر آیت نمبر42) اور یہ کشتی ہماری حفاظت اور نگرانی میں چل رہی تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور دوسرے کئی علماءنے کہا کہ یہ طوفان قبطی تقویم کے مطابق 13اگست کو آیا تھا۔ مفسرین عظام نے فرمایا۔ طوفان کا پانی سب سے بڑے پہاڑ سے بھی پندرہ گز اوپر چلا گیا تھا۔ دنیا کا کوئی پہاڑ نظر نہیں آرہا تھا۔ سب سے بلند و بالا پہاڑ پانی میں ڈوب گئے تھے۔ بعض علمائے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پانی پہاڑوں سے بھی اسّی80گز بلند تھا اور پوری زمین پر پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا۔ پہاڑ ، میدان ، صحرا ، خشکی و تری چٹیل میدا ن اور شاداب وادیاں سب پر طوفان برپا تھا۔ اور اس طوفان کی ہلاکت خیز یاں عام تھیں۔ روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچ سکا ۔ اگر بچے تو صرف حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار مسلمان بچ سکے۔ باقی سب انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ہلاکت اور بربادی کی نذر ہو گئے۔ حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ زید بن اسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ طوفان سے پہلے پوری دنیا میں انسانوں کی کثرت تھی۔ ہر جگہ انسان ہی انسان آباد تھے۔ اور زمین کا کوئی خطہ یہ علاقہ ایسا نہیں تھا کہ جس پر جابر حاکم اور سلطان نہ ہو۔ ہر طرف آبادی تھی اور انسان انسان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا تھا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
کشتی کا سفر
جب تک زمین پر ایک بھی فرد زندہ رہا ۔ طوفان میں شدت رہی۔ جب تمام کافر ختم ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے طوفان دھیرے دھیرے ختم ہو نے لگا۔ اور پانی دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔ زمین پر پانی اتنا زیادہ تھا کہ چھ مہینے تک کشتی پانی پر تیر تی رہی۔لگ بھگ چھ مہینے بعد کشتی کوہِ جودی پر جا کر رُکی۔ اس دن یوم عاشورہ ( محرم الحرام کی دس تاریخ) تھی۔ اس دن حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ تمام ایمان قبول کرنے والوں نے اورتمام جانوروں نے بھی روزہ رکھا۔ اور طوفان سے بچ جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ طوفان کا قہر جاری تھا اور کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان سفر کر رہی تھی ۔کشتی کی چھت (ہمارے آج کل کے جہازوں کا عرشہ) آپ علیہ السلام نے بہت موٹے تختے کی بنائی تھی۔ اور کشتی میں تین منزل بنائی تھی۔ اور اوپری منزل میں ہر طرف کھڑکیاں بنائی تھیں۔ جن سے وہ لوگ کشتی کے باہر طوفان کی ہیبت ناکی دیکھ رہے۔ موسلا دھار بارش مسلسل ہو رہی تھی۔ اور وہ اتنی تیز اور سخت تھی کہ اگر ہمارا آج کل کا جہاز ہوتا تو مسلسل بارش کی تیزی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اور اس کے عرشے ( یعنی چھت) میں سوراخ ہو جاتے اور وہ ٹوٹ جاتا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اتنی مضبوط چھت بنائی تھی کہ اس خطرناک بارش کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں ابلیس کو دیکھا تو اسے دھکیل دیا۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ آپ علیہ السلام مجھ پر قابو نہیں پا سکتے۔ آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلا م نے فرمایا کہ وہ کشتی میں سب سے پیچھے کشتی کے بانس پر بیٹھ جائے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی میں پتھر کے دو نگینے عطا کئے تھے۔ ان میں سے ایک سفید تھا اور دوسرا سیاہ( کالا ) تھا۔ پس جب وہ شام کرتے تو ایک کی سیاہی دوسرے کی سفیدی پر غالب آجاتی تھی۔ اور جب وہ صبح کرتے تھے تو ایک کی سفیدی دوسرے کی سیاہی پر غالب آجاتی تھی۔ دونوں کا وقت بارہ گھنٹوں کا مقرر تھا۔ آپ علیہ السلام نے کشتی میں اوقات کو بارہ بارہ گھنٹوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ تا کہ اس سے نماز کے اوقات کو پہچانا جا سکے۔ پس کشتی آپ علیہ السلام کے مکان سے چلی۔ یہاں تک کہ وہ دائیں سمت چلتی رہی۔ اور حبشہ تک پہنچ گئی۔ پھر وہاں سے پلٹی اور جدہ کی طرف لوٹ آئی۔ پھر روم کی سمت سفر کرنے لگی۔ اور روم سے بھی آگے نکل گئی۔ پھر ارض مقدس کی وادیوں پر لوٹ کر آئی۔
کوہِ جودی کی انکساری
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو وحی فرمائی تھی کہ کشتی کسی پہاڑ کی چوٹی پر رکے گی۔ اسیلئے سب پہاڑ بلند ہوئے اور ظاہر ہوئے اور اپنی جڑیںزمین نکال لیں۔ اور کوہ جودی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عجز و انکساری پیش کرتا رہا۔ پس کشتی تمام بڑے پہاڑوں کے پاس سے گزرتی رہی۔ اور جب جودی پہاڑ پر پہنچی تو وہاں رک گئی۔ تمام پہاڑوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کی۔ اے ہمارے رب ، بے شک ہم حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے لئے ظاہر ہوئے اور اپنی جڑیں زمین سے نکالی اور جودی سکڑ گیا تھا۔ پھر بھی ان کی کشتی اسی پر رکی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک جو میرے سامنے عاجزی اختیار کرتاہے تو میں اسے بلند کر دیتا ہوں اور جو میرے سامنے بلند ہونے کی کوشش کرتا ہے ( یعنی گھمنڈ اور تکبر کرتا ہے) تو میں اسے ذلیل اور پست کر دیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ کوہِ جودی جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔ پس یوم عاشورہ ( محرم کی دس تاریخ) کو کشتی کوہِ جودی پر رکی۔ (تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
کشتی کی صفائی
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا سفر پانی پر جاری تھی۔ جب کشتی کا سفر شروع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ آج کے دن روز ہ رکھو۔ تم میں سے جو آج کے دن روز رکھے گا اس سے ( دوزخ کی ) آگ ایک سال کی مسافت کے فاصلے پر ہو گی۔ اور جو سات روزے رکھے گا تو اس پر دوزخ( جہنم) کے ساتوں دروازے بند کر دیئے جائیں گے۔ اور جو آٹھ روزہ رکھتے گا تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ اور جو دس روزے رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ۔ مانگ تجھے عطا کیا جائے گا۔ اور جو پندرہ دن کے روزے رکھے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔میں ماضی کے تیرے سب گناہ بخش دیئے اب نئے سرے سے عمل کر۔ اور جس نے اور زیادہ کیا تو اللہ تعالیٰ بھی اضافہ فرمائے گا۔ پس حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں ماہِ رجب، ماہِ شعبان ، ماہِ رمضان ،ماہ شوال ، ماہ ذی القعدہ، ماہ ذی الحجہ ، اورماہِ محرم کے دس روزے رکھے۔ اور دسویں محرم ( یوم عاشورہ ) کو کشتی کوہِ جودی پر رکی تو آپ علیہ السلام کے ساتھ تمام مسلمانوں اور تمام کشتی پر سوار جانوروں نے بھی روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ( تاریخ ابن عساکر ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کشتی میں جانوروں اور انسانوں کے پاخانوں سے گندگی ہونے لگی اور بدبو اٹھنے لگی تو حضرت نوح علیہ السلام نے ہاتھی کی دم کو دبایا تو خنزیر اور خنزیرنی ( سوّر اور سوّرنی) گر پڑے۔ انہوں نے تمام پاخانوں کو کھا کر کشتی کی صفائی کر دی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کے بعد ہاتھی نے چھینک ماری تو اسکی ناک سے خنزیر اور خنزیرنی نکلے۔ کشتی میں چوہوں کا جوڑا بھی سوا ر ہوا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ابلیس شیطان نے خنزیر کی ناک پر ہاتھ پھیرا تو اسے چھینک آئی تو چوہا اور چوہیا نکلے۔ اب صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ چوہے اور چوہیا نے کشتی کی رسیوں کو اور لکڑیوں کو کترنا شروع کر دیا۔ جس سے کشتی میں کمزوری آنے لگی تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ شیر کی ناک پر ہاتھ پھیرو۔ آپ علیہ السلام نے ہاتھ پھیرا تو شیر کو چھینک آئی اور اس کی ناک سے بلّی اور بلّا نکلے۔ جنہوں نے چوہوں کو کھا لیا۔ یا ان کے ڈر سے چوہے دُبک گئے۔ (تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی جلد نمبر5) مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ کشتی میں کسی نے پاخانہ نہیں کیا اور کشتی بالکل صاف ستھری رہی۔ اور بہت سی روایات کہ کتا کیسے پیدا ہوا۔ گدھے کے ساتھ شیطان کیسے کشتی میں گیا۔ خنزیر کیسے پیدا ہوئے۔ شیر کی ناک سے بلی اور بلا پیدا ہوئے اور چوہوں نے شرارت کی وغیرہ ۔ یہ سب بے سند روایات ہیں۔ اور غالباً ان کی بنیاد اسرائیلیوں نے ڈالی ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں