اتوار، 30 اپریل، 2023

07 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob Yusuf



 07 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہم السلام

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 7

تمام لوگ آپ علیہ السلام سے محبت کرنے لگے

حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کے بارے میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔وہب اور دیگر لو گوں نے کہا ۔حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کرکے قید خانے کی طرف ایک خچر یا گدھے پر سوار کرکے لا یا گیا۔اور ایک کہنے والا یہ کہتا جاتا تھا کہ یہ سزا ہے اس کی، جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی ہے۔ اور آپ علیہ السلام فرما رہے تھے یہ آگ کے لباس ، تارکول(ڈامر) کی قمیص، پیپ کے پینے اور زقوم (تھوہڑ)کھا نے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ (کیو نکہ اگر میں اس عورت کی بات مان لیتا تو یہ سب مجھے ملتا)جب حضرت یوسف علیہ السلام قید خانہ پہونچے تو آپ علیہ السلام نے اس میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جن کی امیدیں بھی ختم ہو چکی تھیں۔اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہو چکی تھی۔تو آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا ۔صبر کرو اور خوش رہو تمییں اس پر اجر ملے گا ۔تو انھوں نے کہا ،اے جوان،تیری گفتگو کتنی خوبصورت ہے۔ہمیں تیرے پڑوس کی وجہ سے برکتیں نصیب ہوئیں۔اے نو جوان ،تم کون ہو؟آپ علیہ السلام نے فرمایا۔میں یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہوں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے شوہر کو کہا کہ اس عبرانی غلام نے مجھے رسوا کیا ہے۔میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے قید کر دیں۔ تو اس نے آپ علیہ السلام کو قید کر دیا۔ قید خانے میں آپ علیہ السلام پریشان حال کو دلاسہ دلاتے ،بیمار کی عیادت کرتے، زخمی کا علاج کرتے، ساری رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عبادت کرتے اور روتے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ قید خانے کی دیواریں اور چھتیں بھی اور دروازے بھی رونے لگتے۔ آپ علیہ السلام کے سبب قید خانے کو پاکیزگی حاصل ہوئی۔ اور قیدی آپ علیہ السلام سے مانوس ہو گئے۔ یہ صورتِ حال ہو گئی تھی کہ جب کو ئی آدمی قید خانے سے نکلتا تو واپس لوٹ آتا۔ اور قید خانے میں آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھتا تھا۔ قید خانے کے انچارج یعنی جیلرنے آپ علیہ السلام سے محبت کرتے ہوئے اسے آپ علیہ السلام کے لئے وسیع کر دیا تھا۔ پھر آپ علیہ السلام سے کہا،اے یوسف (علیہ السلام)میں آپ کے ساتھ اتنی محبت کرتا ہوں جتنی کسی اور چیز سے نہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں تیری محبت سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ اس نے کہا، ایسا کیوں؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا۔ میرے والدِ محترم کی محبت کی وجہ سے بھائیوں نے مجھے بیچ ڈالا۔اور میری مالکن نے میرے ساتھ محبت کی تو میرے اوپر یہ مصیبت آئی۔ جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔

قید خانے میں دو قیدی آئے:

اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا،ترجمہ”اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہاکہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے ہو ئے دیکھا۔اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں نے اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہو ئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں۔ ہمیں آپ اسکی تعبیر بتائے۔ہمیں تو آپ (علیہ السلام )خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں (سورة یوسف آیت نمبر 36)امام قرطبی لکھتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام قید میں تھے کہ بادشاہ اپنے نانبائی(باورچی)اور اپنے ساقی(شراب بنا کر پلانے والے) سے ناراض ہو گیا۔اس کا سبب یہ تھا کہ باد شاہ نے لوگوں کے درمیان اتنا لمبا عرصہ گزارا کہ وہ لوگ (درباری اور وزرا وغیرہ)اس سے تنگ آ گئے۔اور انھوں نے خباز(باورچی یعنی روٹی پکانے والے) اور ساقی کے ذریعے سازش کی۔ کہ وہ دونوں کھانے میں اور شراب میں زہر ملا دیں۔خباز نے ان کی بات مان لی اور ساقی نے انکار کر دیا۔ ساقی بادشاہ کے پاس گیا اور اسے اس بات کی خبر دی تو بادشاہ نے دونوں کو قید کرنے کا حکم جاری کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ خباز نے کھانے میں زہر ملا دیا جب کھانا پیش کیا گیا تو ساقی نے کہا ۔اے بادشاہ سلامت،کھانا نہیں کھائیے اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ خباز نے کہا ،اے بادشاہ سلامت شراب نہیں پینا اس میں زہر ملا ہوا ہے۔بادشاہ نے ساقی سے کہا کہ شراب پیﺅ اس نے شراب پی لی اور شراب نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔پھر بادشاہ نے خباز سے کہا کہ کھانا کھاﺅ۔اس نے کھانے سے انکار کر دیا۔کھا نا ایک جانور کو کھلایا گیا۔وہ اسی جگہ مر گیا تو بادشاہ نے دونوں کو قید کردیا اور قید خانے میں وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ ساقی کا نام منجا اور باورچی کا نام مجلث تھا۔ امام ابن جریر طبری فرماتے ہیں کہ ساقی کا نام نبو تھا۔

قیدیوں کے خواب

جب یہ دونوں قیدی جیل میں آئے تو انھیں معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام قیدیوں میں بہت مقبول ہیں اور ہر ایک کی مدد کرتے ہیں اور یہ دیکھا کہ قیدیوں سے لیکر تمام جیل منتظمین یہاں تک کہ جیلر بھی آپ علیہ السلام سے محبت کرتا ہے تو انھیں بڑی حیرانی ہوئی ۔ اسکے علاوہ قیدیوں نے بتایا کہ آپ علیہ السلام خوابوں کی سچی تعبیر بتاتے ہیں ۔ یہ سن کر ان دونوں نے آپس میں کہا کہ آﺅ ہم اس عبرانی قیدی کا تجربہ کریں ۔ پھر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنا اپنا خواب سناےا اور اسکی تعبیر پو چھی۔ ساقی نے کہا۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بادشاہ کےلئے انگور نچوڑ رہا ہوں۔ اور خباز یعنی باورچی نے کہا ۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹیاں اٹھائے جارہاہوں اور پرندے اس میں سے نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کہا کہ ہمارا گمان ہے کہ آپ (علیہ السلام ) نیک اور اچھے لوگوں میں سے ہیں۔ اس دونوں نے جو خواب سنائے وہ سچے تھے یا جھوٹے اس بارے میں تین قول ہیں ۔ (1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے صرف تجربہ کے طور پر سوال کیا تھا۔ (2) امام مجاہد اور امام محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ ان دونوں نے سچا خواب بیان کیا تھا اور ان دونوں نے واقعی خواب دیکھا تھا۔ (3) امام ابو مجلز کہتے ہیں کہ خباز یعنی باورچی نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا۔ اور ساقی نے سچا خواب بیان کیا تھا۔ 

قیدیوں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ ترجمہ ”یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا ۔ تمھیں جو کھانا دیا جاتا ہے ۔ اسکے تمھارے پاس پہونچنے سے پہلے ہی میں تمھیں اسکی تعبیر بتلادوں گا ۔ یہ سب اس علم کی بدولت جو مجھے میرے رب نے سکھایا۔ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا (یعنی ان لوگوں کے مذہب سے بےزاری کا اظہار کرتا ہوں) جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔ میں اپنے باپ دادا کے دین کا پابند ہوں یعنی ابراہیم و اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام ) کے دین کا ۔ ہمارے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ ہم پر اور تمام لوگوں پر اللہ کا یہ خاص فضل ہے۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں اے میرے قید خانے کے ساتھیوں کیا متفرق کئی ایک پرورگاد بہتر ہیں؟ یا صرف ایک اللہ جو زبردست طاقتور ہے اور قہر والا بھی ہے ۔ اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کررہے ہو۔ وہ سب نام ہی نام ہیں۔ جو تم نے اور تمھارے باپ داداﺅں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ۔ فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اسکے (اللہ کے) کسی اور کی عبادت مت کرو یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 37سے 40تک) ۔

قید خانے میں پہلی تقریر 

سورہ یوسف کی ان آیات کی تفسیر میں مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو ان دونوں کے خواب میں تعبیر کا فوراً پتا لگ گیا تھا کہ ایک بچنے والا ہے اور ایک مرنے والا ہے۔ اسلئے آپ علیہ السلام نے چاہا کہ پہلے ان کو اسلام تبلیغ کردینا چاہئے تاکہ خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ ان کو ہدایت اور راہ راست پر لانے کا حق بھی ادا ہوجائے ۔ اسلئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دوپہر کا کھانا آنے سے پہلے میں تمھیں تمھارے خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہوں ۔ دونوں قیدیوں کو سخت تعجب ہوا اور انھوں نے پوچھا اے ،یوسف (علیہ السلام )کیا تم جادوگر ہو؟ تم آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ نہیں۔ پھر ان دونوں نے پوچھا۔ کیا تم کاہن ہو یا نجومی ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ( اسی دوران پورے جیل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام ان دونوں قیدیوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے ہیں ۔ یہ سن کر تمام قیدی آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھ گئے ۔ حتیٰ کے جیل کے افسران اور جیلر بھی آپ علیہ السلام کی باتوں کو توجہ سے سننے لگے)۔ وہ دونوں قیدی حیرانی سے بولے پھر تمھیں خوابوں کی تعبیر کا علم کس نے سکھایا ہے ؟ جواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ علم مجھے میرے رب نے سکھایا ہے ۔ قیدیوں نے پوچھا ۔ آپ علیہ السلام کا رب کون ہے ؟ آپ علیہ السلام نے فرماےا میرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ جو میرا اور تمھارا سب کا خالق ہے ۔ اور مجھ کو یہ علم اسلئے سکھایا کہ میں نے شروع سے ہی تمھارے دین کو چھوڑے رکھا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا دین جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کے کافر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں ۔ یہ تھی وہ پہلی تقرےر جو آپ علیہ السلام نے جیل کی کوٹھری میں نہایت مشرکانہ ماحول میں کی۔ یہاں سے آپ علیہ السلام کی تبلیغ نبوت شروع ہوتی ہے۔ روایت ہے کہ سارے قیدی اور جیل کا عملہ (افسران) جمع ہوگئے تھے ۔ 

قید خانے میں اعلان نبوت 

سورہ یوسف کی ان آیات کی تفسیر میں مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام سے جب دونوں قیدیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں کھانا آنے سے پہلے تمھارے خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ لیکن اس سے پہلے تم مجھے پہچانو۔ کہ میں کون ہوں؟ عالم ، مبلغ اور داعی کا کام یہی ہے کہ وہ اپنی دعوت کے کام کےلئے طریقے سوچتا رہتا ہے ۔ اور راستہ نکالے اور ایسے موقع پر تو خاص طور سے موقع نکل آتا ہے جب کسی بے راہ کو مبلغ اور داعی کی ضرورت پڑ جائے ۔ جب وہ اپنی حاجت لیکر آئے تو اس کو غنےمت جانے اور پہلے اپنی دعوت والی بات کہے ۔آپ علیہ السلام نے اس پر عمل کیا اور موقع مناسب جان کر توحید کی تبلیغ فرمادی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اول تو اپنا تعارف کرایا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کو نہیں مانتے اور آخرت کے منکر ہیں بلکہ میں اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام اور دادا محترم اسحاق علیہ السلام اور پردادا محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں۔ جو موحد اور توحید کے داعی تھے اور شرک سے بہت دور تھے۔ اور ساتھ ہی شرک کی برائی عقلی طور پر بھی بیان فرمائی کہ ہمیں یہ کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو اللہ کا شریک بنائیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو پیداکیا ہے۔ اور وہی رازق اور مالک ہے۔ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ تو پھر یہ کون سی عقلمندی ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کی جائے۔ مزیدفرمایا کہ یہ جو اللہ نے ہمیں عقیدہ توحید کی نعمت سے نوازا ہے اور جو کچھ علم عطا فرمایا ہے یہ اللہ کا فضل ہے۔ اور ہم پر ہی نہیں سب پر بھی اس کا فضل ہے۔ ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نعمت عطا فرمائی ہو اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہو۔ لیکن بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔ شرک کی مزید قباحت اور مذمت بیان کرتے ہوئے خود انہیں پر ایک سوال ڈال دیا اور عقلی طور پر انہیں فکر مند بنا دیا۔ تا کہ وہ غور کریں کہ ہم جو شرک پر لگے ہوئے ہیں یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے جیل کے ساتھیو، تم ہی بتاﺅ کہ یہ جو تم نے بہت سے معبود جدا جد ا تجویز کر رکھے ہیں ان سب کی عبادت کرنا ٹھیک ہے یا معبودِ حقیقی کی جو وحدہ لا شریک ہے۔ مزید فرمایا کہ تمہارے جو معبود ہیں یہ صرف نام ہی نام ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ 

خواب کی تعبیر بتائی

اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا،ترجمہ”(حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا) اے میرے قد خانے کے رفیقو،تم دو نوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پرمقرر ہو جائے گا۔لیکن دوسرے کو پھانسی دی جائے گی۔اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھا ئیں گے۔تم دونوں جسکے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اسکا فیصلہ کر دیا گیا۔اور جس کی نسبت یوسف علیہ السلام کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے چھوٹ جائے گا۔ اس سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے میرا ذکر بھی کر دینا پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ اور یوسف علیہ السلام نے کئی سال قید خانے میں کاٹے۔ ( سورہ یوسف ، آیت نمبر41اور 42) حضرت یوسف علیہ السلام ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے ۔ اسی دوران کھانا آگیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کھانا کھاﺅ اور خود بھی کھانے لگے۔ اس کے بعد انہیں خواب کی تعبیر بتائی کہ پہلے شخص سے فرمایا۔ تم جو انگور نچوڑ رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس الزام سے باعزت بری ہو جاﺅ گے اور بادشاہ کے خاص ساقی بنو گے۔ اور دوسرے شخص سے فرمایا۔ تمہارے خواب کی یہ تعبیر ہے کہ تم پر جو الزام لگا ہے وہ سچ ثابت ہو گا اور تمہیں پھانسی ہو جائے گی۔ اور پرندے تمہارے مردہ جسم کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ ایک کو پھانسی ہو گئی اور دوسرے کو باعزت بری کر دیا گیا۔ جب وہ جانے لگا تو آپ علیہ السلا م نے اس سے فرمایا ۔ جب تم بادشاہ کے ساقی بن جانا تو اس سے میرا ذکر کرنا۔ لیکن ابلیس شیطان نے اسے بھلا دیا۔ اور کافی عرصہ گزر گیا۔ اس دوران وہ شخص بادشاہ کا خاص ساقی بنا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ان دونوں نے خواب نہیں دیکھے تھے بلکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے علم کا تجربہ کرنے کے لئے یہ خواب بنا کر پیش کئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے انہیں خواب کی تعبیر بتائی تو انہوں نے کہا ہم نے خواب نہیں دیکھے تھے یہ تو صرف دل لگی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی جیسا میں نے بتایا ہے ویسا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ اٹل ہو چکا ہے۔ 

خوابوں کی تعبیر بتانے کے بعد کتنا عرصہ جیل میں رہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے ساقی سے فرمایا تھا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کرنا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر رحم فرمائے اگر وہ یہ بات نہ فرماتے تو اتنا عرصہ جیل میں نہیں رہتے۔جتنا وہ رہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف پر رحم فرمائے۔ اگر وہ یہ بات نہ فرماتے تو اتنا زیادہ عرصہ قید خانے میں نہیں رہتے۔ جتنا وہ رہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ( خوابوں کی تعبےر بتانے کے بعد) حضرت یوسف علیہ السلام سات سال تک جیل میں رہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام بارہ سال جیل میں رہے۔ پانچ سال خوابوں کی تعبیر بتانے سے پہلے اور سات سال خوابوں کی تعبیر بتانے کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت(سورہ یوسف آیت نمبر 42) میں ”بِضعَ سِنِین “ یعنی کئی سال فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرماےا کہ ’بضع‘ کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں