جمعہ، 7 اپریل، 2023

07 حضرت نوح علیہ السلام Story of Nooh AS



07 حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 7

تنور سے پانی نکلنے لگا

تفسیر قرطبی میں ہے کہ امام قرطبی نے روایات کو درج کیا ہے اس میں سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ وہ تنور تھا جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ یہ تنور پتھر سے بنا ہوا تھا۔ اور یہ حضرة حوا رضی اللہ عنہا کے استعمال میں تھا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس ( نسل در نسل) پہنچا۔ آپ علیہ السلام کو کہا گیا کہ جب تنور سے آگ کے بجائے پانی نکلتا دیکھیں تو مسلمانوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے تنور سے پانی جاری فرمایا تو سب سے پہلے آپ علیہ السلام کی بیوی کو پتہ چلا تو انھوں نے اپنے شوہر سے عرض کیا کہ تنور سے پانی نکل رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے رب کا وعدہ آگیاہے جو سچا ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (تفسیر الجامع الاحکام القران تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر نعیمی میں تنور کے بارے میں ہے کہ جمہور صحابہ کا قو ل یہی ہے کہ روٹیوں کا تنور تھا۔ صبح کی روٹیاں پک رہی تھیں کہ آگ بجھنے کی آواز آئی۔ لوگ حیران ہو گئے ۔ تیزی سے چشمہ پھوٹا اور تنور بھرنا شروع ہو گیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ہانڈی کی طرح پانی تنور سے اُبل رہا ہے۔ سارے علاقوں میں آناً فاناً یہ خبر پھیل گئی لیکن کافروں کو پھر بھی ہوش نہیں آیا۔ اور تماشہ دیکھنے کے لئے تنور کے پاس آتے تھے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)

طوفان کی شروعات اور کشتی میں سوار ہونا

جب اللہ تعالیٰ نے طوفان کی شکل میں اپنا عذاب بھیجا تو سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کے تنور سے آگ بجھ گئی۔ اور پانی نکلنا شروع ہو گیا۔ آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ طوفان کی شروعات ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فوراً اپنے گھر والوں کو لیا۔ ان میں آپ علیہ السلام کے تین بیٹے اور تین بہوﺅیں خود آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی وہ بیوی جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی اور ایک بیٹا کشتی پر سوار نہیں ہوئے اور بدستور کفر پر اڑے رہے۔ اور مذاق اڑاتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنے تینوں بیٹوں اور تینوں بہوﺅں اور اپنی بیوی کو لے کر کشتی میں سوار ہو گئے۔ اور تمام جانوروں کے ایک ایک جوڑے اور تمام پرندوں کے ایک ایک جوڑے اور تمام اسلام قبول کرنے والوں کو کشتی میں سوار کر لیا۔ ان کی تعداد لگ بھگ ستر70یا بہتر72تھی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام کے گھر کے افراد ملا کر لگ بھگ اسّی80افراد تھے۔ طوفان کی شروعات دھیرے دھیرے ہوئی۔ سب سے پہلے آپ علیہ السلام کے تنور سے پانی نکلا تو اس وقت اور کہیں پانی کا اور آسمان پر بادل کا نام و نشان نہیں تھا۔ اور کافروں کو اندازہ نہیں تھا کہ طوفان کی شروعات ہو چکی ہے۔ وہ تو حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوںاور جانوروں اور پرندوں کے کشتی میں سوار ہونے کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور مذاق اڑا رہے تھے۔ اس کے بعد کوفہ کے تنور سے پانی نکلا تو لوگوں کو ایک عجوبہ لگا اور لوگ اسے دیکھنے جانے لگے۔ ادھر آپ علیہ السلام سب کو کشتی میں سوار کرنے اور ان کی جگہ مقرر کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ تفسیر نعیمی میں ہے کہ جب تمام انسان سوار ہو گئے تو دوسرے تمام جانداروں کی سواری کا وقت آیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ جو تیری منشا میں حیوان ہیں اُن کو بھیج دے۔ تو درندے ، چرندے اور پرندے ہر قسم کا ایک ایک جوڑا دوڑتا ہوا آگیا۔ ان میں کیڑے مکوڑے شامل نہیں تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام جلد ی جلدی جانوروں کو پکڑتے دایاں ہاتھ بڑھاتے تو نر جانور آتا اور بایا ں ہاتھ بڑھاتے تو مادہ جانور آتی۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، ان کو خوراک عطا فرما۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کشتی کے سوار اتنے عرصہ بغیر خوراک کے ہماری قدرت سے زندہ رہی رہیں گے۔ لہٰذا کسی انسان ، حیوان کو اتنا عرصہ نہ بھوک لگی اور نہ بول و براز ( پیشاب پاخانہ) ہوا۔ کشتی بالکل پاک صاف رہی۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ جب گدھے کو سوار کرنے لگے تو گدھے کی دم شیطان نے پکڑ لی۔جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اسے ڈنڈے مارے پھر بھی وہ آگے نہیں بڑھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ملعون آگے بڑھ جا چاہے تیرے ساتھ شیطان ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح ابلیس شیطان بھی کشتی میں آگیا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں ہے کہ جب قوم کی ہلاکت کا حکم آگیا اور پانی پوری شدت کے ساتھ ابلنے لگا توا للہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر پائے جانے والے تمام جانوروں اور چڑیوں وغیرہ کے جوڑے رکھ لو۔ اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے ان رشتہ داروں کو سوار کر لو جو ایمان لائے ہیں۔

کافر بیوی اور بیٹا سوار نہیں ہوئے

حضرت قتادہ اور علامہ محمد بن جریر طبری کے قول کے مطابق ان کی تعداد آٹھ تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام ، اُن کی بیوی، اُن کے تین بیٹے اور اُن کی بیویاں ۔ یہ کل آٹھ لوگ ہوئے۔ ( اور ساتھ میں لگ بھگ بہتر72مسلمان تھے) حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان اور اس کی ماں ( حضرت نوح علیہ السلام کی دوسری بیوی) اُم کنعان ( نام واعلہ یا والعہ) مومن نہیں تھے۔ اسی لئے ان کے ساتھ کشتی پر سوار نہیں ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق( کشتی پر مسلمانوں ) کی تعداد اسّی80تھی۔ ان میں حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی ، تین بیٹے، سام ، حام اور یافث اور ان تینوں کی بیویاں تھیں۔ انہیں مسلمانوں میں جُرہم نام کا ایک شخص بھی تھا۔ جس کے نام پر قبیلہ جُرہم مشہور ہوا جو سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں آباد ہو گیا تھا۔ ( تفسیر تیسرّ الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی) تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کنیز کو فرمایا تھا کہ جب تیری تنور سے پانی نکلنے لگے تو مجھے خبر کر دینا۔ پس جب وہ آخری روٹی سے فارغ ہو ئی تو تنور میں سے پانی نکلنے لگا۔ وہ بھاگتے ہوئے آئی اور آپ علیہ السلام کو خبر دی۔ پس آپ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر کشتی پر سوار ہو گئے۔ ( تفسیر درِّ منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)

دنیا میں بخار کی شروعات

حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں جانوروں کے جوڑے چڑھا رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی قوم کشتی کے چاروںطرف جمع ہو کر تماشہ دیکھ رہی تھی اور مذاق اڑارہی تھی۔ کیوں کہ آسمان پر بادل نہیں تھے اور سورج چمک رہا تھا۔ اور زمین پر بھی پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ کافروں کے ساتھ آپ علیہ السلام کی کافرہ بیوی واعلہ یا والعہ اور کافر بیٹا یام( توریت میں اس کا نام کنعان لکھا ہے) بھی تھے اور مذاق اڑا رہے تھے۔ تفسیر در المنشور میںہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام نے شیر کو کشتی میں سوار کیا تو عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، بے شک وہ تو مجھ سے کھانے کا سوال کرے گا۔ میں اسے کہاں سے کھلاﺅں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک میں اسے کھانے سے روکوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے شیر پر بخار مسلط کر دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام مینڈھا اس کے پاس لاتے اور فرماتے تو گھوم وہ کھا لے گا تو شیر جواباً کہتا۔ آہ ،ہائے افسوس ، حضرت نوح علیہ السلام کے لئے بکری کو کشتی میں داخل کرنا مشکل ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسے دُم سے پکڑ کر دھکیلا تو اس کی دم ٹوٹ کر چھوٹی ہو گئی۔ اور اس کی شرم گاہ ظاہر ہوگئی۔ جب بھیڑ کی باری آئی تو وہ اندر داخل ہو گئی اور آپ علیہ السلام نے اس کی دم آہستہ سے ہاتھ رکھ کر دھکیلا تو اس نے اس کی شرم گاہ کوڈھانپ لیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے جوڑوں کو رکھنے کا حکم دیا تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، شیر گائے کو کھا جائے گا بھیڑ یا بکری اور بھیڑ کو کھا جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ میں ان کے درمیان اتنی اُلفت اور محبت پیدا کر دوں گا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام جانوروں کو کشتی پر چڑھا رہے تھے کہ بچھو ایک پاﺅں پر چلتا ہوا آیا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ، مجھے بھی اپنے ساتھ کشتی میں سوار کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ، میں تجھے سوار نہیں کروں گا کیوں کہ تو لوگوں کو ڈستا ہے۔ اس نے کہا آپ علیہ السلام مجھے سوار کر لیجئے اور آپ علیہ السلام سے میر اوعدہ رہا جو رات میں درود پڑھے گا میں اسے نہیں کاٹوں گا۔ ( تاریخ ابن عسا کر امام ابن عسا کر) حضرت نوح علیہ السلام کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شیر کو کس طرح سوار کرائیں تو اللہ تعالیٰ نے اس پر بخار مسلط کر دیا۔ تو آپ علیہ السلام نے اسے اٹھایا اور کشتی میں داخل کر دیا۔ اور یہ پہلا بخار ہے جو زمین والوں کو آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں شیر اور ہاتھی کو کیسے سوار کروں تو اللہ تعالیٰ نے شیر اور ہاتھی پر بخار مسلط کر دیا۔ تو آپ علیہ السلام نے انہیں آرام سے کشتی پر چڑھا لیا۔ ( تفسیر دُر منشور جلد نمبر 3امام جلال الدین سیوطی تفسیر ابن کثیر)

بچوں پر طوفان نہیں آیا

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر طوفان کا عذاب آیا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی قوم میں کوئی بچہ نہیں تھا۔ بلکہ سب کی عمر چالیس 40سال سے زیادہ تھی۔ تفسیر در منشور میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طوفان سے چالیس سال پہلے آپ علیہ السلام کی قوم کے مردوں اور عورتوں کو بانجھ کر دیا تھا۔ اس طرح طوفان کے آنے سے چالیس سال پہلے ہی آپ علیہ السلام کی قوم میں بچوں کی پیدائش بندہو گئی تھی۔ اور اس وقت جو بچے تھے وہ طوفان آنے کے وقت چالیس سال سے زیادہ کے ہو چکے تھے۔ اور سب کو اچھی خاصی سمجھ تھی۔ اور پوری قوم میں کوئی بھی چالیس سال سے کم عمر کا نہیں تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی اُن پر حُجت قائم ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے طوفان بھیج دیا۔ ( تاریخ ابن عسا کر امام ابن عسا کر ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ) حضرت ضحاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بچوں کو ان کے والدین کے ساتھ غرق کر دیا۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ( تفسیر طبری) کیوں کہ طوفان آنے کے وقت آپ علیہ السلام کی قوم میں ایک بھی بچہ نہیں تھا۔ بلکہ سب کی عمر چالیس 40سال سے زیادہ تھی۔

ابلیس شیطان دھوکے سے کشتی میں آگیا

حضرت نوح علیہ السلام تمام حیوانات اور چوپائیوں کو کشتی میں سوار کر رہے تھے۔ جب گدھا داخل ہونے لگا تو ابلیس شیطان نے اس کی دم پکڑ لی اور گدھا رُک گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس کے دونوں کان پکڑ کر اندر کھینچنا چاہا تو وہ وہیں رکا رہا۔ کیوں کہ ابلیس اسے پیچھے کھینچ رہا تھا۔ کافی کوشش کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ شیطان اندر داخل ہو جا۔ یہ سنتے ہی ابلیس شیطان نے دُم کھینچنا بند کر دیا اور گدھا اندر داخل ہو ا تو اس کے ساتھ ابلیس شیطان بھی اندر داخل ہو گیا۔ جب کشتی کے سب دروازے آپ علیہ السلام نے بند کر دیئے اور کشتی چلنے لگی تو ابلیس شیطان کشتی کے پچھلے حصے پر بیٹھ کر گنگنانے لگا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے گنگناہٹ کی آواز سنی تو وہاں پہنچے اور ابلیس شیطان کو دیکھ کر فرمایا۔ تو ہلاک ہو جائے تجھے اجازت کس نے دی ؟ اس نے کہا۔ آپ علیہ السلام نے اجازت دی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں نے کب اجازت دی؟ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ جب آپ علیہ السلام نے گدھے سے کہا تھا کہ اے شیطان داخل ہو جا تو میں داخل ہو گیا۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ سب سے آخر میں گدھا سوار ہونے لگا تو ابلیس شیطان اس کی دم سے لٹک گیا۔ گدھے کے دو پاﺅں اندر آگئے۔ اور جب اس نے پچھلے پاﺅں کو اٹھانا چاہا تو انہیں اٹھا سکا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو جلدی تھی کیوں کہ دھیرے دھیرے طوفان بڑھ رہا تھا۔ آخر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آج تیرے ساتھ شیطان ہو تب بھی اندر آجا تو گدھا اندر آگیا۔ اور اس کے ساتھ شیطان بھی تھا۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر)

حیوانات کے ساتھ نباتات کو بھی کشتی میں رکھا

اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ایک دن میں بنایا۔ اور سائنس کے مطابق زمین کی تخلیق ہزاروں سال میں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہاں ایک دن تمہار ے یہاں کے ہزار سال سے زیادہ کا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک دن میں نباتات زمین پر اگائے۔ یعنی ہزاروں سال میں۔ طوفانِ نوح پوری دنیا میں آیا اور تمام نباتا ت بھی تباہ ہو گئے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انسانوں اورجانوروں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ نباتات کے بھی جوڑے حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں رکھ لیں۔ تفسیر ابن کثیر میں کہ حضرت نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ کشتی میں جاندار مخلوق میں سے ایک ایک جوڑ رکھ لو۔ اور کہا گیا ہے کہ غیر جاندار مخلوق کے لئے بھی یہی حکم تھا۔ جیسے نباتات ۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام نے تمام درختوں، پیڑوں ، پودوں یعنی ہر قسم کے نباتات کے جوڑے کشتی میں رکھ لئے۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں ساری دنیا کے جاندار نہیں رکھے گئے تھے بلکہ صرف خشکی کے جانداروں کے صرف ایک ایک جوڑے رکھے گئے۔ اور پانی کے تمام جانداروں کو نہیں رکھا گیا تھا کیوں کہ وہ پانی کے طوفان میں آسانی سے رہ سکتے تھے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان جانداروں کے جوڑوں کو کشتی میں سوار کیا جو بچے یا انڈے دیتے تھے۔ اورجو مٹی سے پیدا ہوتے تھے انہیں سوار نہیں کیا جیسے پسو اورمچھر وغیرہ ( تفسیر بغوی، تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی)

کشتی میں سواری کی دعا

حضرت نوح علیہ السلام جلدی جلدی کشتی میں انسانوں ، جانوروں اوردوسرے جانداروں اور نباتا ت کو سوار کر رہے تھے کیوں کہ دھیرے دھیرے زمین و آسمان کے کناروں سے ہر طرف سے سیاہ بادل امڈتے دکھائی دے رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام فرماتے جا رہے تھے کہ تم اس پر سوار ہو جاﺅ۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے اس کا چلنا اور رکنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور نوح ( علیہ السلام ) نے کہا ۔ اس میں سوار ہو جاﺅ۔ اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب بخشنے ولا مہربان ہے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر41) تفسیر مدارک میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں کشتی میں سوار ہونے کو فرمایا۔ اور پھر انہیں بتلایا کہ اس کشتی کا چلنا اور رکنا اللہ تعالیٰ کے نام سے ہے۔ اسی لئے جب کشتی چلانا ہوتی تھی تو فرماتے تھے۔ ” بسم اللہ “ تو کشتی چل پڑتی تھی۔ اور جب اسے روکنا چاہتے تھے تو فرماتے تھے۔ ” بسم اللہ “ تو کشتی کھڑی ہو جاتی تھی۔ ( تفسیر مدارک جلد نمبر2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر نعیمی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے زور سے آواز لگائی۔ اس کشتی پر تم سوار ہو جاﺅ۔ آ ج سے اس کا چلنا شروع ہوتا ہے۔ اسے تم کو چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے نام سے ہی اس کا چلنا اور رکنا ہے۔ بس اے مسلمانوں ، تم اللہ تعالیٰ کا نام لئے جاﺅ اور نمازوں اور سجدوںمیں مشغول رہو بے شک میرا رب گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ اور کفر اور شرک نہیں بخشنے والا ہے ۔ اور رحم فرمانے والا ہے۔ دیکھو تم کو کسیے بچا رہا ہے۔ پس اس کے شکر میں اس کا نام ہی ورد کرتے رہو۔ اس کشتی کے چلنے کا وقت اور رکنے کا وقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اور یہ نجات صرف اس کے رحم سے ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ آپ علیہ السلام بسم اللہ مجرھا فرماتے تو کشتی چلتی اور بسم اللہ مرسٰھا فرماتے تو کشتی رک جاتی۔

طوفان میں تیزی

حضرت نوح علیہ السلام جلدی جلدی سب کو کشتی پر سوار کررہے تھے۔ اور ادھر کشتی کے باہر کافروں کا مجمع لگ گیا۔ اوروہ بھی سب حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ان میں آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی اور ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ اچانک آسمان پر گھنے بادل چھا گئے۔ اور بارش شروع ہو گئی۔ دھیرے دھیرے بارش تیز ہوتی چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر بس نہیں کیا۔ بلکہ زمین سے بھی پانی نکلنا شروع ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے ارد گر ( زمین میں سے) پانی نکلنا شروع ہوا تو آپ علیہ السلام کی امت کا ایک آدمی اپنے کافر سرداروں میں سے ایک کے پاس گیا اور بولا۔ یہ ہے وہ جسے تم گمان کرتے تھے کہ یہ مجنوں ( دیوانہ پاگل) ہے۔ بے شک جس عذاب سے وہ تمہیں ڈراتا تھا وہ تم پر آچکا ہے۔ وہ ( کافر سردار) اپنے اصحاب ( دوسرے کافر سرداروں) کی جماعت لے کر (کشتی کے پاس)آیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ بےشک تم پر وہ آگیا ہے جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔ ( یعنی اللہ کا عذاب) ۔ اس کافر سردار نے پوچھا ۔ اس کی ( عذاب کی) علامت کیا ہے؟ آپ علیہ السلا م نے فرمایا۔ اپنی سواری کے سر کو پھیر ۔یعنی اپنی سواری کو گھما کر پیچھے دیکھ ۔پس اس نے اپنی سواری کو پھیرا تو اس کے پاﺅں کے نیچے سے زمین میں سے پانی نکلنے لگا۔ پس وہ پانی سے بچنے کے لئے بھاگتے ہوئے پہاڑ کی طرف نکل گیا۔ ( تاریخ ابن عسا کر، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) 

زمین و آسمان سے پانی نکلنا

حضرت نوح علیہ السلام سب لوگوں کو کشتی میں سوار کر چکے تو تمام دروازوں کو بند کر دیا۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے کافر ابھی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ بارش جاری تھی اور اس میں تیزی آتی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ زمین سے بھی پانی نکلنے لگا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے طوفان کی شدت کو قرآن پاک میں اس طرح بیان فرمایا ۔ ترجمہ ” ہم نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے زور کے بہتے پانی سے اور زمین سے چشمے نکال کر بہا دیئے۔ تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی۔ “(سورہ القمر آیت نمبر11اور 12) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ اور زمین سے بھی پانی نکلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا پانی بھر گیا۔ اس کے آگے ہے کہ پانی روئے زمین ( یعنی پوری زمین) بھر گیا۔ کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلند سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ بلکہ پہاڑوں سے بھی اوپر پندرہ ہاتھ تک پانی چلا گیا ۔ اور ایک قول کے مطابق تو اسّی80میل اوپر تک پانی ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف سورہ الحاقہ میں اشارہ کیا ہے۔ ترجمہ ” جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔ ( سورہ الحاقہ آیت نمبر11) (تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر اللہ تعالیٰ نے پانی اور طوفان کی شدت کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا۔ ترجمہ ” اور وہ کشتی اُن کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر42)تفسیر مدارک میں ہے کہ پہاڑوں جیسی موجوں سے مراد طوفان کی موجیں ہیں۔ موج جمع ہے۔ اور موجہ واحد ہے۔ جب تیز ہوائیں پانی کے اندر داخل ہو کر اسے اوپر اٹھاتی ہیں تو اس اٹھے ہوئے پانی کی بلندی کو موج کہتے ہیں۔ ( تفسیر مدارک نسفی امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں..... 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں