بدھ، 26 اپریل، 2023

06 حضرت لوط علیہ السلام Story of Prophet Loot




  06 حضرت لوط علیہ السلام

سلسلہ نمبر 8

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ کا سہارا

حضرت لو ط علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھارہے تھے اور قوم ہے کہ گندگی پر اصرار کررہی تھی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے نوجوان مہمانوں کی فکر تھی۔ آخر کا ر آ پ علیہ السلام اپنے آپ کو بے بس محسوس کر نے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے اِسکے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ تر جمہ ”لوط علیہ السلام نے کہا۔ کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی۔ یا میں کسی زبردست کا سہارا لے لیتا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 80۔) حضرت قتادہ رحمتہ اﷲعلیہ (جلیل القدر تابعی) فر ماتے ہیں ہمیں یہ بتا یا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ آیت پڑھا کرتے تھے تو فرماتے تھے اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے۔بے شک وہ مضبوط سہارے کی پناہ لیتے رہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے بعد جس نبی کو بھی بھیجا۔ اُسے اپنی قوم میں صاحب ثروت بنایا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی اپنی قوم میں ثروت و سطوت کے ساتھ بھیجا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ اِس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضر ت لوط علیہ السلام کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ سب کو اپنی قوم میں (اعلیٰ نسب ، مضبوط خاندان یا قبیلہ ) خوش حال اور صاحب مال بنایا۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی۔

حضرت لوط السلام اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔ کیونکہ قوم سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کے مکان پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا تھا۔اور دروازوں اور کھڑکیوں کو دھکے مارمار کر تو ڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کی مدد کا ارادہ فرمایا تو جبرئیل علیہ السلام کو حُکم دیا کہ اب اپنے آپ کو ظاہر کردو۔ تب جبرئیل علیہ السلام نے حضرت لو ط علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ علیہ السلام گبھرائیں نہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اِسکے بارے میں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ۔”اب فرشتوں نے کہا۔ اے لوط علیہ السلام ، ہم آپ علیہ السلام کے پروردگار کی طر ف سے بھیجے ہوئے (فرشتے )ہیں ۔ اور اِن لوگوں کا آپ علیہ السلام تک پہنچنا ناممکن ہے۔“ (سور ہ ھود آیت نمبر 81۔) اللہ تعالیٰ نے سور ہ الحجر میں فر مایا۔ تر جمہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے تو اُنھوں نے فر مایا۔ تم لوگ کچھ انجان سے معلوم ہورہے ہو۔ اُنھوں نے کہا۔ نہیں بلکہ ہم آپ علیہ السلام کے پاس وہ چیز (اللہ کا عذاب) لیکر آئے ہیں۔جس میں لوگ شبہ کررہے تھے۔ہم تو آپ علیہ السلام کے پاس حق لیکر آئے ہیں ۔اور ہم بالکل سچے ہیں ۔“(سورہ الحجرآیت نمبر 61 سے 64 تک۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ۔”پھر جب ہمارے قاصد (فرشتے )لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے ۔ تو وہ اُن کی وجہ سے غمگین ہوگئے ۔ اور دِل ہی دِل میں رنج کر نے لگے۔ تو قاصدوں نے کہا۔ آپ علیہ السلام گھبرائیے مت اور نہ ہی غمزدہ ہوں۔ ہم آپ علیہ السلام کو گھروالوں کے ساتھ بچا لیں گے۔ مگر آپ علیہ االسلام کی بیوی پر عذاب نازل ہوگا۔“(سورہ العنکبوت آیت نمبر 31 سے 33 تک۔)

عذاب کی شروعات ، قوم سدوم کو اندھا کردیا

اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جبرئیل علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو تسلی دی ۔ اور عرض کیا کہ آپ علیہ السلام اُداس نہ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِس لئے بھیجا ہے کہ ہم قوم سدوم کو عذا ب دیں ۔اور آپ علیہ السلام کو اپنے گھروالوں کے ساتھ بچالیا جائے گا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی عذاب کا شکار ہوگی۔ اِن کے درمیان یہ سب باتیں ہورہی تھیں کہ قوم سدوم کے لوگوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو توڑدیا اور اندر داخل ہوگئے۔اور فرشتوں کو گھیرلیا۔اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارا تو پوری قوم سدوم اندھی ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے سور ہ القمر میں فرمایا۔” بے شک (حضرت لوط علیہ السلام نے)اُنھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا۔ لیکن اُنھوں نے ڈرانے والوں میں (شک وشبہ اور )جھگڑا کیا۔اوراُن کو (حضرت لوط علیہ السلام کو ) اُن کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا۔ پس ہم نے اُن کی آنکھیں اندھی کردیں۔ (اور فرمادیا) میراعذاب اور میر ا ڈرانا چکھو۔“ (سور ہ القمر آیت نمبر ۶۳ اور ۷۳ ۔) حضرت حذیفہ بن یمان رضی عنہ فرشتوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات چیت ، اُسکے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بنے اور آپ علیہ السلام کی بد بخت بیوی کے قوم کو خبر دینے کے بارے میں تفصیل سے بتا نے کے بعد فرماتے ہیں۔پس وہ یعنی قوم سدوم دوڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے گھر پر آئے اور اُنھوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو دھکیلنا شروع کردیا۔یہاں تک کہ وہ آپ علیہ السلام پر عذاب آنے کے قریب ہوگئے ۔ توایک فرشتے نے اپنے پر کے ساتھ اُن پر دروازہ بند کر دیا۔اُ س وقت آپ علیہ السلا م نے بڑی بے بسی محسوس کی اور اللہ تعالیٰ سے بڑی حسرت سے فریاد کی تو اللہ تعالیٰ کے حُکم سے فرشتے نے عرض کیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اور ایک فرشتے نے پر مارا تو قوم سدو م کا ہر فرد پر لگنے کی وجہ سے اندھا ہوگیا۔پس اُنھوں نے اندھے ہو کر اانتہائی تکلیف میں رات گذاری۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب قوم سدوم کے لوگ دروازوں کو توڑکر اندر داخل ہوگئے اور فرشتوں کے قریب پہونچ گئے تو جبرئیل علیہ السلام نے اُنھیں اپنا پر مارا۔تو وہ اند ھے ہو کر چلنے لگے۔اور ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔یہاں تک کہ جب وہ اُن لوگوں کے پاس پہونچے جو دروازے کے باہر تھے تو اُنھوں نے کہا۔ہم تمھارے پاس سب سے بڑے جادوگرکے پا س سے ہو کر آئے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے مہمانوں کو گھر کے اندرلیکر دروازہ بند کردیا۔پس وہ (قوم سدوم) کے لوگ آئے اور دروازہ تو ڑ کر اندر داخل ہوگئے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے اُن کی آنکھوں پر اپنے پر سے ضرب لگائی تو اُن کی بینائی ختم ہوگئی یعنی وہ اندھے ہوگئے۔اُنھوں نے کہا ۔ اے لوط علیہ السلام ،تم ہمارے پاس جادوگر لیکر آئے ہو۔اور پھر وہ آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے۔ 

اپنے گھروالوں کو لیکر نکل جائیں ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے سب لوگ اندھے ہوچکے تھے۔لیکن یہ بدبخت پھر بھی آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے تو آپ علیہ السلام نے خیال کیا کہ قو م کے لوگ کہیں نقصان نہ پہونچائیں ۔اِسی لئے آپ علیہ السلام نے فر مایا کہ نہ جانے کب صبح ہوگی تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ صُبح بہت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں سورہ ھود میں فرمایا۔ترجمہ۔”اب فرشتوں نے کہا۔ اے لوط علیہ السلام ، ہم آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔اور یہ ناممکن ہے کہ یہ لوگ آپ علیہ السلام تک پہونچ جائیں۔پس آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے۔(یعنی صبح صادق کے وقت )لیکر اِس علاقے سے کافی دور نکل جانا۔ اور آپ سب لوگوں میں کسی کو بھی پیچھے مڑکر دیکھنا نہیں چاہیئے،سوائے آپ علیہ السلام کی بیوی کے ۔ اس لئے کہ اُسے بھی وہی (عذاب) پہونچنے والاہے ۔جوان سب کو( قوم سدوم) کو پہونچنے گا۔یقینااُس وعدے کے وقت صُبح کا ہے کیا صبح بالکل قریب نہیں ہے۔“(سورہ ھود آیت نمبر81۔) قوم سدوم کے لوگ اندھے ہوگئے تھے۔شروع میں تو اُنھوں نے اسے جادو سمجھا،اور آپ علیہ السلام کو دھمکی دینے لگے۔لیکن جیسے جیسے رات گزرتی جا رہی تھی ،ویسے ویسے اُن کی سمجھ میں آتا جارہا تھا کہ اُن لوگوں پر کوئی جادووغیر ہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ تو اُسی عذاب کی شروعات لگتی ہے جسکے بارے میں حضرت لوط علیہ السلام سمجھارہے تھے۔اب قوم سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کے مہمانوں کا خیال اپنے دِل سے نکال دیا تھا۔اور اُنھیں اپنی آنکھوں کی فکر لگ گئی تھی۔اِسی لئے سب لوگ واپس چلے گئے۔جبرائیل علیہ السلام نے حضر ت لوط علیہ السلام کو سمجھایا کہ جب رات کا کچھ حصہ باقی رہ جائے گا تو آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لیکر یہاں سے نکل جانا اور ہم لوگ صبح ہوتے ہی عذاب دینے لگ جائیں گے۔اور تم میں سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی آواز سننے کے باوجود پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔

بیوی نہیں بچے گی۔

حضرت لوط علیہ السلام کو فرشتوں نے تسلی دی۔علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔کہ اُن کی یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی افسردگی ،کامل ملال اور سخت تنگ دِلی کے وقت فرشتوں نے اپنے کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک نہیں پہونچ سکیں گے۔آپ علیہ السلام رات کے آخری حصّے میں اپنے اہل وعیال کو لیکر یہاں سے نکل جائیے۔ خود اِن سب کے پیچھے رہیئے اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیے۔قوم والوں کی آہ وبکا پر اور اُن کے چلاّنے کی آواز سُنکر بھی کوئی بھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا۔پھر اِس اثبات سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا استثناءکرلیا۔کہ وہ اِس حُکم کی پابند ی نہیں کرسکے گی۔وہ عذاب کے وقت کی ہائے اور تکلیفوں کی آواز سُنکر مڑکر دیکھے گی۔ اس لئے کہ رحمانی قضامیں اُس کا بھی ان کے (قوم سدوم کے ) ساتھ ہلاک ہونا طے ہوچکاہے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سُن کر صبر نہیں کر سکی۔اور مڑکر اپنی قوم کی طرف دیکھا (اور اُن کی خراب حالت دیکھ کر بولی) اور اُس کی زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم ، اُسی وقت اوپر سے ایک (گندھک اور تیز ابیت سے بھراہوا) پتھر آیا اور اُسے لگا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگئی۔( یعنی جل کر راکھ ہوگئی ہوکر پگھل گئی) آ پ علیہ السلام کی تشفی کے لئے فر شتوں نے اِس بد بخت قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ صبح ہوتے ہی اِس خبیث قوم کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اور صبح بالکل قریب ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ فرشتوں نے جب حضرت لوط علیہ السلام کا یہ اضطراب دیکھا تو حقیقت کھول کر بتا دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ آپ علیہ السلام دروازہ کھول دیں۔اب ہم اِن کو عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں۔دروازہ کھولا تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پر کا اشارہ اُن کی آنکھوں کی طرف کیا تو سب لوگ اندھے ہوگئے اور واپس بھاگنے لگے۔اُس وقت فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حُکم سے حضرت لوط علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ علیہ السلام رات کے آخری حِصّے میں اپنے اہل وعیال کو لیکر یہاں سے نکل جائیں ۔ اور سب کو یہ ہدایت کر دیں کہ اِن میں سے کوئی بھی پیچھے مُڑکر نہیں دیکھے ۔سوائے آپ علیہ السلام کی بیوی کے ۔کیونکہ اُس پرتو وہی عذاب آنے والا ہے جو اس قوم پر آئے گا ۔ اسکے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی کو ساتھ نہ لیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی ہونے کی وجہ سے وہ آپ علیہ السلام کے گھروالوں کے ساتھ چلے گی مگر وہ آپ علیہ السلا م کے حکم پر عمل نہیں کر ے گی۔بعض روایات میں آیا کہ یوں ہی ہوا کہ یہ بیوی بھی ساتھ چلی گی مگر جب قوم پر عذاب آنے کا دھماکہ سُنا تو پیچھے مڑ کر دیکھا اور قوم کی تباہی پر افسوس کا اظہار کر نے لگی۔اُسی وقت ایک پتھر آیا جس نے اُسکا بھی خاتمہ کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام اور گھر والوں کو بچالیا۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے قوم سدوم کے لوگوں کو اندھا کردیا۔ پوری قوم اندھی ہوچکی تھی۔قوم سدوم پر اللہ کے عذاب کی شروعات ہوچکی تھی ۔جب رات کا آخری پہر شروع ہو اتو فرشتوں نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا ۔ اب آپ علیہ السلام اپنے اہل بیت (گھر والوں ) کو لیکر نکل جائیں اور صبح ہونے تک آپ لوگ محفوظ مقام پر پہونچ چکے ہوں گے ۔ تب ہم اِس بد بخت قوم پر عذاب کی شروعات کریں گے۔حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھروالوں کو لیکر اپنے مکان سے نکلے تو قوم سدوم کو بہت تکلیف میں مُبتلا پایا۔ہر طرف اندھے دکھائی دے رہے تھے۔جو ٹٹول ٹٹول کر چل رہے تھے۔آپ علیہ السلام تیزی سے اپنے اہل بیت کو لیکر اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے زمین لپیٹ دی تھی۔اور سفر تیز ی سے طے ہورہاتھا۔امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے کہا کہ حضرت لوط علیہ السلام طلوع فجر کے وقت اپنے گھروالوں کو لیکر نکلے۔تو فرشتوں نے عرض کیا ۔کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پورا علاقہ (جو پانچ بستیوں پر مشتمل تھا۔) اُن فر شتوں کے سُپرد فرمادیاہے۔جن کے ساتھ بادلوں کے جیسے کی آواز بجلی کا کو ند نا اور دوزخ کی بھڑکنے کی کڑکڑاہٹ ہے۔اور ہم نے اُن کو یعنی فرشتوں کو کہہ دیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نکل رہے ہیں۔لہذا اُنھیں تم کوئی تکلیف نہیں دینا۔اور اے حضرت لوط علیہ السلام ، جو کچھ آپ علیہ السلام اور گھروالے دیکھیں گے اُسے دیکھ کر خوف میں مُبتلا نہیں ہونا۔بلکہ خاموشی سے اور تیزی سے آگے بڑھتے چلے جانا پس حضرت لوط علیہ السلام باہر نکلے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی خاطر زمین کو لپیٹ دیا۔یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کے ساتھ نجات حاصل کرلی ۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہونچ گئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں .......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں