اتوار، 30 اپریل، 2023

05 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



 05 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 5

اللہ کا احسان

حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے اکسایا ۔مولانا لقمان سلفی لکھتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ عزیز مصر کے گھر میں جو کچھ پیش آیا اسے بیان کیا جارہا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ علیہ السلام کے ساتھ فعل بد کا مطالبہ کیا ۔ اور اس عورتکے نام کی صراحت اسلئے نہیں کی گئی تاکہ اسکا راز افشانہ ہوجائے۔ اور عزیز مصر کی بےوی کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کو گناہ پر اس عورت نے اکسایا جس کے گھر میں وہ رہتے تھے۔ تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے وہ کتنی مشکل گھڑی تھی۔ اور وہ عفت اورپاک دامنی کی کس بلندی کو چھو رہے تھے۔ کہ اس گھر میں رہنے کی وجہ سے زلیخا کا بار بار سامنا ہوتا رہا ہوگا اور وہ اپنے حس و جمال کا مظاہرہ کرتی رہی ہوگی۔ تاکہ انھیں اپنے ذات میں دلچسپی لےنے پر اکسائے۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام پر ان تمام ہتھکنڈوں کا رائی کے دانہ کے برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ایسا کرنے سے پہلے شدت خوف اور غایت ِاحتیاط کی وجہ سے سب دروازے بند کردئیے۔ تاکہ وہاں تک پہنچنے کا گمان بھی نہ ہوسکے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی یہ بھی دلیل ہے کہ زلیخا نے انسانوں سے خوف کھانے کا ایک بھی عذر باقی نہیں رکھا تھا۔ اسکے باوجود ان کے دل میں گناہ کا خیال تک نہیں گذرا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسکے جواب میں فرمایا۔ کہ میں اس دعوت یا گناہ سے بچنے کجےلئے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اسلئے کہ یہ تو زنا، جرم عظیم، امانت میں خیانت اور احسان فراموشی ہے۔ اور اسے اس گناہ عظیم سے باز رکھنے کےلئے اڈ خیانت کی شدید ترین قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھیں معلوم ہے کہ مجھے کس خیانت پر ابھار رہی ہو؟ وہ عزیز مصر ہے جس نے ہر طرح سے میرا خیال کیا ہے۔ تو اب میرے لئے یہ کس طرح مناسب ہے کہ میں اسکی عزت سے کھیلوں ۔ ایک دوسری تفسیر یہ بھی بیان کی گئی کہ ” اِنّہُ“ کی ضمیر اللہ کے لئے ہے۔ یعنی میرا رب اللہ تعالیٰ نے تو مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ مجھے نئی زندگی دی ہے۔ اور عزیز مصر کے پاس پہونچاکر میری پریشانیوں کو دور کیا ہے۔ اب اگر میں نے تمھاری بات مانی تو میں ظالم بن جاﺅں گا۔ اور ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتاہے۔ 

 قمیص کا پھٹنا

حضرت یوسف علیہ السلام اتنا فرمانے کے بعد تیز تیز قدم سے دروازے کی طرف جانے لگے۔ تا کہ دروازہ کھول کہ با ہرنکل جایں۔آپ علیہ السلام کے پیچھے پیچھے زلیخا آنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑکر روکنے کی کو شش کرنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ اور تیزی سے دروازے کی طرف دوڑنے لگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑنے لگی۔ اور آپ علی السلام کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو بھاگتے ہوئے آپ علیہ السلام نے پھر اسکا ہاتھ جھٹکا۔ تو اس کے ہاتھ میں آپ علیہ السلام کی قمیص کا کونہ آگیا۔ اب حالت یہ ہو گئی تھی کہ حضرت یو سف علیہ السلام آگے آگے دوڑ رہے تھے اور ان کی قمیص کا کونہ زلیخا مضبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اور روک نہیں پا رہی تھی۔ اور قمیص کومضبوطی سے پکڑے رہنے کی وجہ سے دوڑتی جا رہی تھی۔آپ علیہ السلام نے بھاگتے بھاگتے ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ پر مارا۔ تاکہ قمیص چھوٹ جائے۔ آپ علیہ السلام کے ہاتھ مارتے ہی قمیص پھٹ گئی۔ اور اسکا ٹکڑا زلیخا کے ہاتھوں میں رہ گیا۔آپ علیہ السلام اسی حالت میں دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچے۔ اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ” دونوں (آگے پیچھے) دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پیچھے کی طرف کھینچ کر پھاڑ ڈالی“(سورة یوسف آیت نمبر 25)

عزیز مصر کا دیکھنا اور زلیخا کا الزام

اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں ترجمہ”اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا تو وہ کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے تو بس اسکی یہی سزا ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا کوئی اور دردناک سزا دی جائے“ (سورة یوسف آیت نمبر25)حضرت یوسف علیہ السلام تیزی سے دوڑتے ہوئے دروازے تک پہونچے اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا اور با ہر نکلنے کی کوشش کی لیکن عزیز مصر کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئے۔ عزیز مصر کسی کام سے اسی طرف آرہا تھا۔ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ بھی رک گیا۔ وہ عورت کے کسی رشتہ دار سے باتیں کرتا آرہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور حضرت یوسف علیہ السلام بد حواس حالت میں نظر آئے کہ بال بکھرے ہوئے ہیں۔ چہرہ اور پورا بدن پسینے میں شرابور ہے اور سانس دھونکنی کی طرح چل رہی ہے۔ ابھی عزیز مصر اور اس کا ساتھی حیرانی سے آپ علیہ السلام کی حالت پر غور ہی کررہے تھے کہ پیچھے سے زلیخا دوڑتی ہوئی باہر آئی اور وہ ان دونوں کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئی۔ اس کے ہاتھ میں آپ علیہ السلام کی قمیص کا ٹکڑا تھا۔ کچھ سیکنڈ تو وہ حیرانی اور پریشانی کا شکار رہی ۔ لیکن پھر فوراً اس نے اپنے شوہر سے کہا۔ تمھاری غیر موجودگی میں اس نے میری عزت پر حملہ کیاہے اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اب یا تو اسے قید کرہ یا پھر درد ناک سزا دو۔ حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے اس عورت کو دیکھنے لگے۔ 

یہ عورت جھوٹ کہہ رہی ہے

حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے اس عورت کو دیکھ رہے تھے ۔ اور وہ بڑی صفائی سے اپنے گناہ کا الزام آپ علیہ السلام پر ڈال رہی تھی۔ اپنے شوہر اور رشتہ دار کو دیکھ کر وہ رونے لگی اور روتے روتے بتانے لگی۔ کہ کس طرح اس نے مجھ پر حملہ کیا ہے اور میں بچنے کی کوشش کررہی تھی۔ اور اسی چھےنا جھپٹی میں اس کی قمیص کا یہ ٹکڑا پھٹ کر میرے ہاتھ میں آگیا ہے اور وہ ٹکڑا اپنے شوہر کو دے دیا۔ اور کہا کہ اب تم ہی فیصلہ کرو کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ جیل میں ڈالنا ہے یا پھر کوئی اور درد ناک سزا دینا ہے۔ اور شوہر کے کاندھے پر سر رکھ کر سسکنے لگی۔ حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے آنکھیں پھیلائے اس عورت کے مکر و فریب کو دیکھ رہے تھے۔ اور پریشان ہورہے تھے۔ جب وہ عورت خاموش ہوئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ عورت جھوٹ کہہ رہی ہے۔ میں نے اس عورت کی عزت پر حملہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ یہ خود مجھے گناہ کرنے کی دعوت دے رہی تھی ۔ اور مجھے بہلا پھسلا رہی تھی۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرماےا۔ترجمہ۔ ” یوسف (علیہ السلام ) نے فرماےا ۔ یہ عورت مجھے بہلا پھسلا رہی تھی۔ “( سورہ یوسف آیت نمبر 26 ) حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دیکھا کہ یہ عورت خود گناہ کی دعوت دےکر مجھ پر الزام لگا رہی ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس نے خود مجھے گناہ کی دعوت دی تھی لیکن میں نے انکار کردیا ۔ اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا تو یہ مجھے پیچھے کی طرف سے پکڑنے کی کوشش کرنے لگی تو میں دروازے کی طرف دوڑنے لگا۔ اس نے پیچھے سے میری قمیص پکڑ کر روکنے کی کوشش کی تو میری قمیص پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی۔ یہ سن کر زلیخا نے کہا ۔ یہ قمیص کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں اسلئے ہے کہ میں اسکے حملے کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور پیچھے ڈھکیل رہی تھی تو قمیص پھٹ کر میرے ہاتھ میں آگئی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ہیں

اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” اور عورت کے قبیلے کے ایک شخص نے کہا۔ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ عورت سچ کہہ رہی ہے اور یوسف (علیہ السلام نعوذ باللہ ) جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے۔ اور یوسف ( علیہ السلام ) سچ بولنے والوں میں سے ہیں۔ اور جب کہ دیکھا کہ قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے اور بے شک تم عورتیں بڑی گہری چال چلتی ہو۔( سورہ یوسف آیت نمبر 26سے 29تک ) عزیز مصر حیران و پریشان سا کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سچاہے؟ اور کون جھوٹا ہے؟ ایسے وقت میں جو اسکے ساتھ اسکا دوست اور اسکی عورت کا رشتہ دار تھا۔ وہ آگے بڑھا ۔ اسکے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔کہ وہ دودھ پیتا بچہ تھا۔ یا پھر اسی عورت کا کوئی رشتہ دار اور سمجھ دار آدمی تھا۔ اب حقیقت کیا ہے اسکا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ خیر تو وہ آگے بڑھا اور بولا کہ تمھاری بیوی کہتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام ) نے اس پر حملہ کیا تھا اور وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہہ رہی تو یوسف (علیہ السلام )کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہوگی۔ اور یوسف (علیہ السلام ) کہتا ہے کہ اس عورت نے اسے گناہ کرنے کی دعوت دی تو یہ جان بچا کر بھاگا تو اس عورت نے اسے پیچھے پکڑنے کی کوشش کی ۔ اگر یوسف( علیہ السلام ) سچا ہے تو اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوگی۔ جب قمیص کا وہ ٹکڑا عورت کے ہاتھ میں تھا اسے قمیص سے ملاکر دیکھا گےا تومعلوم ہوا کہ یہ ٹکڑا پیچھے کے حصے کا ہے۔ اور قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر اس شخص نے عزیز مصر سے کہا یوسف (علیہ السلام ) سچا ہے اور یہ عورت جھوٹی ہے۔ اور عزیز مصر نے اپنے بیوی سے کہا۔ اری او بدبخت ، یوسف (علیہ السلام ) تو معصوم ہے اور تو نے اسے اتنے بڑے الزام میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ آئندہ اس معصوم پر کوئی الزام نہیں لگانا۔ اور گھر کی بات ہے اسے گھر ہی میں دفن کردو۔ اور یوسف (علیہ السلام ) کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ اور اس سے معافی مانگو۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا۔ بیٹے اسے معاف کردو اور اس بات کو یہیں ختم کردو۔

شہر کی عورتوں میں چرچا

حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر نے کہا کہ گھر کی بات ہے اسے یہیں پر ختم کردو۔ آپ علیہ السلام نے کسی کو کچھ نہیں کہا اور بات وہیں ختم کردی ۔ لیکن یہ بات کسی نہ کسی طرح شہر کی عورتوں کو معلوم ہوگئی ۔ اور عورتوں میں اسی بات کو لےکر چرچا ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ۔’ ’اور شہر کی عورتوں میں (چرچا) ہونے لگی کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان ) کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اسکے دل میں یوسف (علیہ السلام ) کی محبت بیٹھ گئی ہے۔ ہمارے خیال میں تو وہ کھلی گمراہی میں پڑ گئی ہے۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر 30) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر نے تو معاملہ وقتی طور پر رفع دفع کردیا تھا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ اس قصے کو یہیں تک رہنے دینا آگے مت بڑھانا۔ لیکن خبر کسی نہ کسی طرح شہر کی عورتوں کو پہنچ گئی اور وہ آپس میں چرچا کرنے لگی کہ دیکھو عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوا۔ بڑے گھر کی عورت ہے لیکن اپنے غلام کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے پھسلا رہی ہے۔ غلام اسلئے کہا کہ اس کا شوہر حضرت یوسف علیہ السلام کو خرید کر لایا تھا۔ اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ اول تو یہ عورت شوہر والی تھی۔ اسے اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف مائل ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر مائل بھی ہوئی تو کس پر؟ جو اس کے برابر کا نہیں تھا۔ نہ تو عمر میں برابر اور نہ ہی مرتبہ میں برابر دونوں میں اگر کوئی برابری بھی ہوتی تو ایک بات تھی ۔ بس جی ایک غلام کی محبت تو بری طرح اس کے دل میں گھر کر گئی ہے۔اس محبت نے یہ بات سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ مین کس سے لگ رہی ہوں۔اور کس کی طرف مائل ہورہی ہوں۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ صاف غلطی کررہی ہے۔

عورتوں کو حسن یوسف کے دیدار کی تمنا

سورہ یوسف کی آیت نمبر 30کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ کہ اس داستان محبت کی خبر شہر بھر میں ہوگئی ۔ چرچے ہونے لگے۔ چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب وحقارت سے اس قصے کو دہرایا کہ دیکھو وزیر کی بیوی ہے۔ اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے ۔ اور اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ وہ عورتیں کہتی ہیں کہ عزیز کی بیوی بہت غلط کام کر رہی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی پتہ چل گیا تھا۔ یہاں لفظ مکر اسلئے بولا گیا ہے کہ بقول بعض علمائے کرام یہ خود ان عورتوں کا (عزیز کی بیوی کو بد نام کرنا )ایک مکر تھا۔دراصل وہ حسن یوسف کے دیدار میں مری جارہی تھیں۔ اور یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ چھپانے کے باوجود درباری لوگوں کی عورتوں میں پھیل گیا۔ ان عورتوں نے عزیز کی بیوی کو لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ پانچ عورتیں عزیز مصر کے قریبی افسروں کی بیویاں تھیں۔ یہ عورتیں آپس میں کہنے لگی کہ دیکھو کیسی حیرت کی اور افسوس کی بات ہے کہ عزیز کی بیوی اتنے بڑے مرتبے پر ہوتے ہوئی اپنے نوجوان غلام پر فریفتہ ہوکر اس سے اپنا مطلب کرنا چاہتی ہے۔ ہم تو اس کو بڑی گمراہی پر سمجھتے ہیں۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کو زلیخا کا غلام یا تو اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ شوہر کی چیز کوبھی عادةً بیوی کی چیز کہاہے۔ اور یا اسلئے کہ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے شوہر سے بطور ہبہ اور تحفہ لیا تھا۔ 

زلیخا نے عورتوں کو دعوت دی

حضرت یوسف علیہ السلام کو جب مصر لایا گیا تو آپ علیہ السلام کے دیدار کے لئے مردوں نے اپنی جیبےں خالی کردی۔ یہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں ۔ مردوں نے حسن یوسف کا دیدار کرلیا تھا ۔ مگر عورتیں محروم رہ گئی تھیں۔ اور پورے مصر میں ایک ایک فرد کی زبان پر آپ علیہ السلام کی خوبصورتی کے تذکرے تھے ۔ حالانکہ آپ علیہ السلام کو مصر میں آئے لگ بھگ بارہ سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ لیکن پھر بھی آپ علیہ السلام کو دیکھنے کی تمنا لوگ رکھتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی تھیں جو زلیخا پر طعن کررہی تھیں۔ زلیخا نے شاہی دعوت کا اہتمام کیا اور ان عورتوں کو دعوت دی۔ تمام عورتیں حاضر ہوگئےں۔ وہب کہتے ہیں کہ زلیخا نے ایک پر تکلف شاہی کھا نا تیار کرایا۔ اور چالیس عورتوں کو مدعو کیا جنھوں نے طعنہ دیا تھا۔ اور ان کےلئے مخملی مسندیں بچھا دیں۔ اور گاﺅ تکیے لگادئیے۔ امام بغوی فرماتے ہیں عزیز مصر کی بیوی نے رنگ برنگے پھلوں اور کھانوں سے دسترخوان کو چن دیا۔ اور گاﺅ تکیے لگا دئیے۔ پھر عورتوں کی دعوت کی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی۔ اور پھر اس میں اس نے اپنی معذوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے یہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل اور بیٹھک درست کرلی۔ جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کےلئے ایک ایک تیز چاقو سب کےلئے رکھ دیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اپنا راز دار بنا یا تھا۔ اور یہ بتایا کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کرتی ہے۔ لیکن جب ان عورتوں نے اس کا راز فاش کردیا تو یہ ان کی بد عہدی اور مکر تھا۔ ان عورتوں نے اس کی غیبت کی تھی اور یہ غیبت مکر کے مشابہ تھی۔ عزیز مصر کی بیوی نے جب یہ سنا کہ یہ عورتیں اسکی حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کی وجہ سے اسکو ملامت کررہی ہیں۔ تو اس نے اپنے عذر کو ظاہر کر نے کا ارادہ کیا۔ اس نے ان عورتوں کو بلا یا اور ان کی مجلس منعقد کی ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں