05 حضرت لوط علیہ السلام
سلسلہ نمبر 8
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 5
حضرت لوط علیہ السلام کی گواہی
سور ہ ھود کی آیت نمبر ۷۷ کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور حضر ت لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے ۔اِن دونو ں بستیوں کے درمیان چار فرسخ یعنی بارہ میل کا فاصلہ ہے۔ جب فرشتوں نے حضرت لو ط علیہ السلام کی بیٹی کو نہر سدوم سے پانی بھرتے ہوئے پایا۔ اُنھوں نے اُس سے پوچھا کہ کیا یہاں ہم کسی کے مہمان بن سکتے ہیں؟ لڑکی اِن خوب صورت نوجوانوں کو دیکھ کر ڈر گئی کیونکہ وہ اپنی قوم کی خباثت سے واقف تھی ۔ اُس نے کہا ۔ تم یہیں رُکو میں ابھی آتی ہوں۔ پھر والد محترم کی خدمت میں گئی اور مہمانوں کی خبر دی تو آپ علیہ السلام جلد ی جلدی فرشتوں کے پاس تشریف لائے تو فرشتوں نے کہا ۔ آج رات آپ علیہ السلام ہماری میزبانی کریں تو ہم پر مہربانی ہوگئی ۔ آپ علیہ السلام نے فر مایا ۔ مجھے مہمان بنانے میں کو ئی اعتراض نہیں ہے۔لیکن کی تم نے میر ی قوم کے عمل کے بارے میں سُنا ہے؟ فرشتوں نے پوچھا۔ کون سا عمل؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اللہ کی قسم یہ اِس زمین پر سب سے بد ترین قوم ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھاکہ جب تک حضر ت لوط علیہ السلام چار مرتبہ اس قوم کے خلاف گواہی نہیں دیں گے تب تک عذاب نہیں دینا ۔ اِدھر آپ علیہ السلام کو یہ فکر تھی کہ یہ خوب صورت نوجوان اگر میر ی مہمان بن گئے تو میر ی قوم کی خباثت کا شکا ر ہو جائیں گے۔ اس لئے آ پ علیہ السلام چاہتے تھے کہ یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں ۔ اسی لئے دوسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بہت بد ترین قوم ہے ۔ لیکن فرشتے مہمان بننے پر اصرار کر رہے تھے۔ اِس لئے تیسری اور چوتھی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام نے اُنھیں سمجھا نے کے لئے اپنی قوم کی خباثت کے بارے میں بتایا۔
مہمانوں کو بچانے کے لئے گواہی دی۔
سورہ ھو د کی اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بھیدبتاکر فرشتے وہاں سے چل دیئے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس اُن کی زمین یا اُن کے مکان میں پہونچے۔ فرشتے خوب صورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔تاکہ قومِ لوط کی پوری طرح سے آزمائش ہوجائے۔ حضرت لو ط علیہ السلام مہمانوں کو دیکھ کر سٹپٹا گئے۔ دِل ہی دِل میں پیچ وتاب کھانے لگے۔ کہ اگر مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لو گ چڑھ دوڑ یں ۔ اور اگر مہمان نہیں بناتا ہوں تو یہ سیدھے بستی میں جائیں گے ۔اور اُنھی کے ہا تھ پڑجائیں گے۔ زبان سے نکل گیا کہ آج کا دِن بڑی مصیبت والا ہے۔ قوم والے شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ اور مجھ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ کیا ہوگا؟ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدر تابعی ) فرماتے ہیں۔ حضرت لو ط علیہ السلام اپنی زمین میں کھیتی باڑی کر رہے تھے کہ فر شتے خوب صورت نوجوانوں کی شکل میں آئے اور مہمان بنے۔ شرماشرمی میں انکار نہیں کر سکے اور اُنھیں لیکر گھر کی طرف چلے۔ راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں اُن سے فرمایا۔ اللہ کی قسم ،یہاں کے لوگوں سے زیادہ برُے اور خبیث اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جاکر پھر یہ فرمایا۔ تاکہ یہ بے چارے پردیسی واپس چلے جائیں اور گھر پہونچنے تک دو مرتبہ اور فر مایا ۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا یہی حکم تھا کہ جب تک اس کا نبی علیہ السلام چار مرتبہ اُن کے خلاف گواہی نہ دی دے تب تک اس قوم پر عذاب نہیں کرنا۔ امام سدی فرماتے ۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے یہ فرشتے دِن ڈھلے نہر سدوم پر پہونچے ۔ وہاں حضر ت لو ط علیہ السلام کی صاحبزادی پانی لینے گئی تھی وہ مل گئی ،اُن سے اُنھوں نے پوچھا کہ یہاںہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں ؟ اُس نے کہا ۔ آپ لوگ یہیں رکیئے ،میں واپس آکر جواب دوں گی۔ اُنھیں ڈرلگاکہ پردیسی نوجوان اگر قوم والوں کے ہاتھ لگ گئے تو اُن کی بڑی بے عزتی ہوگی۔ یہاں آکر والد صاحب سے ذکر کیا کہ چند نو عمر پردیسی آئے ہیں۔ میں تو آج تک نہیں دیکھے۔ آپ اُن سے ملاقات کر لیں اور اُنھیں سمجھائیں ورنہ ہماری قوم کے لوگ اُنھیں ستائیں گے۔قوم سدوم کے لوگوں نے حضرت لو ط علیہ السلام کو کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی با ہر والے کو اپنا مہمان نہیں بنانا۔ بلکہ ہمارے پاس بھیج دیاکر نا۔ ہم ہی سب کچھ کرلیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اِن خوب صورت نو جوانوں کو دیکھا تو خاموشی سے انھیں گھر لے آئے ۔ اور کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔
حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے قوم کو خبر کر دی
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کو گھر لے آئے ۔ اور اپنی بیوی سے کہا کہ اِن مہمانوں کے بارے میں قوم کو خبر نہ ہو۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں۔ حضرت لو ط علیہ السلام کو پریشانی اِس لئے ہوئی کہ اِس سے پہلے بھی آپ علیہ السلام اجنبی مہمانوں کو پناہ دیتے تھے۔ جو اس بد معاش قوم سے گھبرا کر پناہ کی تلاش میں آتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام سے لڑتی تھی۔ کہ تم اِن کو کیوں چھپاتے ہو ۔ہمارے حوالے کر دیا کرو ۔حضرت لو ط علیہ السلام اُن کو جھڑکتے تھے اور لعنت ملا مت کرتے تھے۔ حضرت لو ط علیہ السلام کی بیوی کو کافروں نے لالچ دیکر کا فربنا لیا تھا۔ وہ چھپے ہوﺅں کی مخبری جاکر کر تی تھی تو قوم آکر جھگڑتی تھی۔ اِس سے چند دِنوں پہلے اِس قسم کا واقعہ ہو چکا تھا۔ اور قوم سدوم کے لوگوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اب اگر آپ علیہ السلام نے کسی مہمان کو گھر میں رکھا یا پناہ دی تو ہم جبراً گھر میں گھس کر اُنھیں اُٹھا لے جائیں گے۔ آپ علیہ السلام پھر بھی مہمانوں کو گھر لیکر آئے۔ پھر اپنی بیوی کو دیکھا اور فر مایا۔ تجھ کو ہلاکت ہو، اند ر جا کر چھپ جا اور کسی کو نہیں بتانا ۔کافروں سے اُس کو لالچ تھی، تھوڑی دیر تو صبر کئے بیٹھی رہی ۔ پھر پیشاب یا کسی ضرورت کا بہانہ کر کے باہر نکلی اور گھر گھر میں جاکر خبر دیتی آئی اور بتائی آئی کہ ایسے خوب صور ت جسم والے اور ایسے لباس والے اور خوشبو دار نوجوان لڑکے ہمارے گھر آئے ہیں۔امام قر طبی لکھتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا فرہ تھی ۔ جب اُس نے مہمانوں کو دیکھا اور اُن کی خوب صورتی اور جمال کو دیکھا تو وہ چپکے سے گھرسے نکلی ۔ اور قوم سدوم کی مجلس میں آئی ،اور اُن کو بتا یا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے پا س آج رات ایسے نوجوان مہمان ہیں کہ خو ب صورتی میں اُن کے جیسا نہیں دیکھا گیاہے۔
حضر ت لوط السلام کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
اللہ تعالیٰ نے سورہ التحریم میں فرمایا ۔ترجمہ ۔”اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام ) اور لوط (علیہ السلام ) کی بیویوں کی مثال بیان فر مائی ہے۔ یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں ۔ پھر اُن کی اُنھوں نے خیانت کی بس دونوں (نیک بندے بھی ) ان سے اللہ کے عذاب کو نہیں روک سکے۔اور حُکم دے دیا گیا کہ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونو ں بھی چلی جاﺅ۔(سورہ التحریم آیت نمبر۰۱۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”تو ہم نے لوط (علیہ السلام ) کو اور اُن کے گھروالوں کو بچالیا۔ سوائے اُن کی بیوی کے ،کہ وہ اُن لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پس ہم اُسے (حضرت لوط علیہ السلام )اور اُسکے متعلقین کو سب کو بچالیاسوائے ایک بڑھیاکے ۔وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔“ (سور ہ الشعراءآیت نمبر 170اور 171۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پس ہم نے اُسے (حضرت لوط علیہ السلام ) کو اور اُسکے گھروالوں کو سوائے اُسکی بیوی کے سب کو بچالیا۔ اس کا اندازہ تو پیچھے رہ جانے والوں میں ہم لگا چکے تھے۔ (سورہ النمل آیت نمبر 57۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ تر جمہ ۔ ” (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )کہا ۔ اُس میں تو لوط (علیہ السلام ) ہیں۔ فرشتوں نے کہا۔ ہم اُنھیں بخوبی جانتے ہیں۔ لوط علیہ السلام کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیا جائے گاسوائے اُن کی بیوی کے۔ کیونکہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 32۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فر مایا۔ تر جمہ ۔” بے شک لوط(علیہ السلام بھی ) پیغمبروں میں سے ہیں ۔ ہم نے اُنھیں اور اُن کے گھر والوں کو سب کو نجات دی سوائے اُس بڑھیاکے۔ جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی۔“ (سورہ الصافات آیت نمبر 133 سے 135 تک۔)
حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت
اللہ تعالیٰ نے سور ہ التحریم میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں فرمایا کہ اُن دونوں نے اپنے شوہر وں سے خیانت کی ۔ وہ خیا نت یہ تھی کہ اُن دونوں عورتوں نے اسلام کی راہ میں اپنے کا شوہروں کا ساتھ نہیں دیا بلکہ قوم کے کافروں کا ساتھ دیتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں۔ کسی بنی کی بیوی کبھی بد کار نہیں رہی ہے۔ اِن دونوں عورتوں کی خیانت دراصل دین کے معاملہ میں تھی۔ اُن دونوں نے حضرت نو ح علیہ السلام اور حضرت لو ط علیہ السلام کا دین قبول نہیں کیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے سرداروں یعنی مذہبی پیشواﺅں کو مسلمانوں کے بارے میں خبر یں پہنچا یا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے شوہر کے یہاں آنے والے مہمانوں کی خبر اپنی بدکردار اوربے حیا قوم کو دیا کر تی تھی۔
قوم سدوم نے گھر کو گھیر لیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فر مایا۔ تر جمہ ۔”اور اُس کی (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم دوڑتی ہوئی آئی۔ وہ لوگ تو پہلے ہی بد کاری میں مُبتلا تھے ۔ لوط علیہ السلام نے فر مایا۔ اے میرے قوم کے لوگو، یہ میر ی (قوم کی ) بیٹیاں ہیں ۔جو تمھارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں ۔اللہ سے ڈرو اور مُجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوانہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلاآدمی نہیں ہے۔ اُنھوں نے جوا ب دیا۔ آپ (علیہ السلام ) بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں لڑکیوں سے کوئی مطلب نہیں ہے ۔اور آپ (علیہ السلام ) ہماری کا اصلی چاہت سے خوب واقف ہیں۔ لوط علیہ السلام نے فر مایا ۔ کاش کہ مجھ میں تم مقابلہ کر نے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا سہارا لے لیتا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 78سے 80 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فر مایا۔ تر جمہ ۔”اور شہروالے خوشیاں مناتے ہوئے آئے ۔(حضر ت لوط علیہ السلام نے ) فرمایا۔ یہ لوگ میر ے مہمان ہیں ،تم مُجھے رسوامت کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مُجھے (میرے مہمانوں کے سامنے) رسوامت کرو۔ وہ بولے کیاہم نے تمھیں دنیا بھر کی (ٹھیکیداری) سے منع نہیں رکھا تھا۔ (سورہ الحجر آیت نمبر 67 سے 70 تک۔)
حضرت لوط علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے بیوی کو منع فرمایاتھا کہ اِن مہمانوں کے بارے میں ہماری بے حیا اور بد کردار قوم کو نہیں بتانا۔ لیکن اُس بد بخت بُڑھیا نے آپ علیہ السلام کی نا فرمانی کی اور اپنی قوم کو جاکر بتا دیا کہ ہمارے گھر میں بہت خوب صورت چندنوجوان مہمان بن کر آئے ہیں۔ یہ خبر پوری قوم کو ہو گئی۔ اور پوری قوم کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے ڈھول تاشے بجا تے ہوئے آئے اور آپ علیہ السلام کے گھر کو گھیرلیا۔ اور حضرت لوط علیہ السلام سے اِن نو جوان مہمانوں کے بارے میں یہ مانگ کر نے لگے کہ اِن نوجوانوں کو ہمارے حوالے کردو۔آپ علیہ السلام اُنھیں سمجھا یا کہ دیکھویہ انتہائی گٹھیا اور غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ تمھارے لئے بہتر یہ کہ تم اپنی قوم کی بیٹیوں سے نکاح کرو اور جائز طریقے سے جس کا اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے ۔ اُس طریقے سے فائدہ حاصل کرو۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور اُن کی قوم کو یہ خبر ملی کہ حضرت لوط علیہ السلام کے یہاں حسین و جمیل خوب صورت نوجوان لڑکے آئے ہیں ۔اُن کو یہ خبر حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے دی تھی۔ اُس نے قوم سدوم سے کہا۔ میں نے اِس سے پہلے اتنے حسین اور خوب صور ت لڑکے نہیں دیکھے ہیں۔ اور وہ لوگ عورتوں کے بجائے مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے۔ اور اُن سے پہلے کسی نے یہ خلاف فطرت کام نہیں کیا تھا۔ تو وہ دوڑتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا ۔کیا ہم نے آپ علیہ السلام سے یہ نہیں کہا تھا کہ آ پ علیہ السلام کے پاس کوئی شخص نہیں آئے ۔اور اگر کوئی آیا ہے تو ۔ہم اُس سے بے حیائی کا کام کریں گے۔تب حضرت لوط علیہ السلام نے فر مایا ۔اے میر ے قوم کے لوگو۔ یہ میر ی قوم کی بیٹیاں ہیں۔ یہ تمھارے لئے پاکیزہ ہیں ۔میں اِن بیٹیوں سے نکاح کر نے کو اپنے مہمانوں کے فدیہ کے طور پر حُکم دیتا ہوں۔ اور آپ علیہ السلام کی دعوت یہ تھی کہ وہ حرام کام کو چھوڑیں اور حلال نکاح کرلیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔یعنی قوم کی عورتوں سے نکاح کر لو جو اُن کی بیٹیا ں ہیں۔ اور وہ اُن کے نبی ہیں ، کیونکہ نبی اُمت کا باپ جیسا ہوتاہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ سورہ احزاب میں ہے۔ترجمہ۔” اور نبی(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی ازواج اُمت کی مائیں ہیں۔“
قومِ سدوم کی اخلاقی پستی
حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کوجب پوری قوم سدوم نے گھیر لیا اور مہمانوں کی مانگ کرنے لگے تو آپ علیہ السلام نے دروازہ بند کر لیا۔ اور اوپر بالا خانے (بالکنی یا ٹیرس) پر کھڑے ہو کر اپنی قوم کو سمجھانے لگے کہ اِس حرام کام کو چھوڑ کر تم عورتوں سے نکاح کر و اور جائز راستہ اپناﺅ۔ لیکن قوم سدوم انتہائی اخلاقی پستی میں گِر چُکی تھی ۔ اِن لوگو ں نے آپ علیہ السلام کو جو جواب دیا اُسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔تر جمہ ۔” اُنھوں نے (قوم سدوم کے لوگوں نے ) جواب دیا۔ آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمیں عورتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری چاہت کیا ہے ؟ (سورہ ھود آیت نمبر 79) اِس آیت کی تفہیم میں مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ یہ فقرہ اُن لوگوں کے نفس کی پوری تصویر کھنیچ دیتا ہے کہ کس قدر خباثت میں ڈوب گئے تھے۔ بات صرف اِس حد تک نہیں رہی تھی کہ وہ فطرت اور پاکیزگی کے راستے سے ہٹ کر ایک گندے اور خلاف فِطرت کے راستے پر چل پڑے تھے۔ بلکہ نوبت یہا ں تک پہونچ گئی تھی کہ اُن کی ساری رغبت اور دلچسپی اب اسی گندے راستے کی طرف ہی تھی۔ اُنہیں صِرف اُس گندگی کی ہی طلب رہ گئی تھی۔ اور وہ فطرت اور پاکیزگی کے اصل راستے کے متعلق یہ کہنے میں بھی شرم محسوس نہیں کر رہے تھے کہ یہ راستہ ہمارے لئے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ اخلاق کے زوال اور نفس کے بگاڑ کی انتہائی پستی ہے کہ اِس سے زیادہ پستی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اُس شخص کا معاملہ تو بہت ہلکا ہے جو صرف نفس کی کمزروی کی وجہ سے حرام میں مُبتلا ہو جاتا ہے۔مگر حلال کو کرنے کے قابل اور حرام کو بچنے کے قابل چیز سمجھتا ہو۔ایسا شخص کبھی بھی سُد ھر سکتا ہے۔اور نہ بھی سُدھر ے تو تب بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک بگڑا ہوا انسان ہے ۔ مگر جب کسی شخص کی ساری رغبت صرف حرام کی طرف ہوا ور وہ یہ سمجھے کہ حلا ل میرے لئے ہے ہی نہیں ۔تو اُس کا شمار انسانوں میں نہیں کیا جاسکتا ۔وہ دراصل ایک گندا کیڑا ہے جو غلاظت میں ہی پڑا رہتاہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں