04 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 4
حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بازار میں
حضرت یوسف علیہ السلا م کے بھائیوں کے کہنے پر قافلے والوں نے آپ علیہ السلام کو راستے بھر باندھ کر رکھا اور مصر لے کر آئے۔ اور مصر کے بازار میں بیچنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں انسانوں کو خریدنے اور بیچنے کا رواج تھا۔ لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ کسی علاقے کا حکمراں دوسرے علاقے پر قبضہ کر کے اس علاقے کے مرد وں ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا کرتا تھا۔ یا ڈاکو کسی قافلے پر اچانک حملہ کر کے قافلے والوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اور بازار میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس طرح ان کی پوری زندگی غلامی میں گزر جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر رحم فرمایا۔ اورتمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرنے کے لئے اپنے آخری رسول اور انبیائے کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی کالے کوکسی گورے پر فضیلت نہیں ہے۔ اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے۔ کوئی کسی سے اونچا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کسی سے نیچا ہے۔ بلکہ تمام انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ اونچا ہے جو متقی ( گناہوں سے بچنے والا) اور نیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مساوات ( برابری) کا پیغام ہی نہیں دیا بلکہ اس پر خود بھی عمل کیا اور بہت سے غلاموں کو آزاد فرمایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہزاروں غلاموں کو آزاد کیا۔ اور غلامی کا نظام ہی ختم کر دیا۔ اس کا اثرپوری دنیا پر پڑا۔ اور اتنا شدید پڑا کہ یہودیوں ، عیسائیوں اور کافروں بلکہ پوری دنیا کی ہر قوم نے اسے اپنالیا۔ اور دھیرے دھیرے غلام بنا نے کا رواج ہی ختم ہو گیا۔ اور تمام انسان برابر سمجھے جانے لگے۔ ہم نے ایسے ہی دور میں آنکھ کھولی ہے ۔ اسی لئے ہمیں غلامی اور غلاموں کی زندگی کی تکلیفوں کا اتنا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ ہاں اگرہم تاریخ کا مطالعہ بغور کریں تو بہت حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں
حسنِ یوسف علیہ السلام کی شہرت
اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلا م کو نو عمری میں غلام بنا کر مصر کے بازار میں لایا گیا اور بیچنے کے لئے کھڑا کردیاگیا۔ آپ علیہ السلام بہت حسین تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات میں سب سے خوبصورت بنایا ہے۔ اور آپ حضرت یوسف علیہ السلا م کے بعد حضرت یوسف علیہ السلا م سب سے خوبصورت ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے خوبصورتی کا ذکر صرف مصر کے بازار میں ہی نہیں بلکہ پورے مصر میں ہونے لگا۔ اور اس بے انتہا خوبصورت غلام کو دیکھنے کےلئے پورا مصر امڈ پڑا۔ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ قافلہ مصر پہونچا اور مالک بن دعر نے جن غلاموں کو فروخت کرنا تھا۔ انھیں دریائے نیل میں غسل کرایا ۔ اور صاف ستھرے کپڑے پہنائے۔ سب سے آخر میں حضرت یوسف علیہ السلا م کو غسل کراکر جب خوبصورت کپڑے پہنائے تو آپ علیہ السلام کے حسن کا یہ عالم تھا کہ مالک بن دعر میں دیکھنے کی تاب نہیں رہی۔ اور بازار مصر میں تو آپ علیہ السلا م کو نظر بھر دیکھنے کےلئے لوگ امڈ پڑے ۔ لوگ خریدنے نہیں بلکہ دیکھنے آرہے تھے۔شام تک پورے مصر میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایک بے انتہا خوب صورت غلام لایا گیا ہے۔ وہ اتنا خوبصورت ہے کہ بس اسے دیکھتے ہی رہو۔ یہاں تک کہ بازار مصر مین دوسری صبح کے وقت تک عجیب آب و تاب سے حسن جہاں تاب جلوہ افروز ہوا۔ مصر میں پہلے ہی شہرت ہوچکی تھی کہ عظیم غلام بکنے کےلئے آیا ہے۔ مالک بن دعر مسرور تھا کہ آج اسکے نام کے ڈنکے مصر کے گلی کوچوں میں بج رہے ہیں۔ سودا حضرت یوسف علیہ السلا م کا ہونا تھا اور قسمت مالک بن دعر کی کھلی تھی۔
حسن یوسف علیہ السلا م کو دیکھنے کیلئے قیمت
حضرت یوسف علیہ السلا م کی خوبصورتی کی دھوم پورے مصر میں مچی ہوئی تھی۔ مفتی احمد یارخان نعیمی آگے لکھتے ہیں ۔ صبح کے وقت سب لوگ مالک بن دعر کے گھر کے دروازے پر آگئے۔ ہزاروں آدمیوں کے ہجوم کو دیکھ کر وہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور بولا۔ اے لوگو، تم کیا چاہتے ہو؟ سب نے کہا جو غلام تو لاےا وہ ہم کو بھی دکھا دے۔ صرف ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مالک بن دعر کے مشیر نے اسے مشورہ دیا کہ غلام کے دیدار کو روکنے کےلئے اور جمگھٹے کو بھگانے کےلئے غلام کو دیکھنے پر ایک آدمی پر ایک دینار ادا کرنا مقرر کردو۔ پھر کوئی بھی دیکھنے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ مالک بن دعر نے اعلان کردیا کہ غلام کو دیکھنے والے کو ایک دینار ادا کرنے ہوں گے۔ یہ سن کر غریب لوگ مایوس لوٹ گئے۔ کیونکہ دو سو درہم کا ایک دینار ہوتا ہے۔ اور امیر متوسط لوگ ایک دینار ادا کرکے حضرت یوسف علیہ السلا م کا دیدار کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ شام تک 6 لاکھ دینار جمع ہوگئے۔ جبکہ مالک بن دعر نے آپ علیہ السلا م کو بیس20،بائیس 22، یا چالیس40درہم میں خریدا تھا۔ دوسرے دن مالک بن دعر نے اعلان کیا کہ اس حسین غلام کو جو دیکھنا چاہتا ہے وہ دو دینار ادا کرے۔ پورا دن لوگوں کا مجمع لگا رہا۔ اور شام تک لاکھوں دینار جمع ہوگئے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مخلوق کو دیکھنے کایہ حال ہے تو خالق کو دیکھنے کا کیا حال ہوگا؟
عزیزِ مصر نے خریدا
حضرت یوسف علیہ السلا م کے چرچے مصر کے گھر گھر میں ہونے لگے تھے۔ جسے دیکھوں اس حسین غلام کے بارے میں بات کررہا تھا۔ عزیزِ مصر نے بھی آپ علیہ السلا م کے بارے میں سنا تو دل نے چاہا کہ اک نظر دیکھ لیا جائے۔ عزیز مصر وزیر خزانہ تھا۔ امام عبدالرحمٰن بن عبداللہ سہیلی فرماتے ہیں۔ اسکا نام قطفیر تھا۔ اور امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ اس کا نام اطفیر بن روحب تھا۔ اسکی بیوی کا نام راعیل تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کا نام زلیخا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے حضرت یوسف علیہ السلا م کو خریداتھا۔ وہ مصر کے بادشاہ کا وزیر قطفیر تھا۔ اور مصر کا بادشاہ ریان بن ولید تھا۔اور یہ بھی کہا کہ اسکا نام ولید بن ریان تھا۔ اور یہی قول رائج ہے۔ وہ قوم عمالقہ سے تھا۔ مفتی احمد یارخان آگے لکھتے ہیں ۔ لوگ مسلسل آپ علیہ السلام کا دیدار کرنے آرہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار کرنے والے تین قسم کے تھے۔ پہلی قسم کے لوگ مست وار تھے دوسری قسم کے لوگ حیرت زدہ تھے اور تیسری قسم مجنونوں کی تھی۔ لوگوں کا عجب حال تھا کہ دیدار کرنے کےلئے دوڑے آتے تھے مگر واپس جانے کی ہمت نہیں پاتے تھے۔ اگلی صبح اعلان ہوا کہ اس غلام کی نیلامی جمعہ کے دن ہو گی۔ جو سب سے زیادہ قیمت لگائے وہی خرید سکے گا۔ مصرکے تمام تاجر اور دولت مند لوگ نیلامی میں آئے ۔ ان میں عزیز مصر بھی تھا۔ مالک بن دعر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو شاہانہ قیمتی لباس اور تاج پہنا کر ایک اونچی مسند پر بٹھا یا ہوا تھا۔ اس نے جب آپ علیہ السلام کا دیدار کیا تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے شفقت پیدا کردی ۔ اور اس کے اندر باپ کی محبت جاگ اٹھی ۔ اور اس نے دل ہی دل میں طئے کرلیا کہ میں اس حسین لڑکے کو ہر قیمت پر خریدوں گا اور بیٹا بناﺅں گا۔ ( عزیز مصر بے اولاد تھا)۔ لوگ بڑھ بڑھ کر بولی لگا رہے تھے۔ لیکن عزیز مصر سب سے بڑھ کر بولی لگا رہا تھا۔ آخر کار دوسرے تمام لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ اور اس نے آپ علیہ السلام کو اس کے وزن کے برابر سونا اورچاندی اور ہیرے اور یاقوت اور ریشم اور عنبر اور کافور دیکر خریدلیا۔
اللہ تعالیٰ نے مصر میں قدم جمادئیے
حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر خرید کر اپنے گھر میں لے آیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں سورہ یوسف میں فرماےا۔ ترجمہ” مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا ۔ اسے بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ رکھو۔ بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا پھر ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف (علیہ السلام ) کا قدم جمادیا۔ تاکہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا علم سکھا دیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادے پر غالب ہے اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔( سورہ یوسف آیت نمبر 21) عزیز مصر کی بیوی کا نام ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں راعیل یا زلیخا تھا۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا نام راعیل اور لقب زلیخا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام عزیزمصر کے گھر میں رہنے لگے۔ اور وہ دونوں آپ علیہ السلام کو بہت عزت و احترام سے رکھتے تھے۔ اور اپنے گھر کے ایک فرد کی طرح پیش آتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مورودی لکھتے ہیں کہ بائبل میں اس شخص کانام فوطیفار لکھا ہے۔ قرآن پاک میں اسے عزیز کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اور ایک دوسرے موقع پر (جب حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کا انتظام سنبھالاتب بھی ) یہی لقب حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر میں کوئی بڑے عہدے دار یا صاحب منصب تھا۔ بائبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ شاہی جلو داروں (باڈی گارڈوں ) کا افسر تھا۔ اور علامہ محمد بن جریز طبری حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شاہی خزانے کا افسر تھا۔ تلمود کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اٹھارہ 18سال کی تھی۔ اور فوطیفار ان کی شاندار شخصیت کو دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا یہ لڑکا غلام نہیں ہے۔ بلکہ کسی بڑے شریف خاندان کا چشم و چراغ ہے جسے حالات کی گردش یہاں کھینچ لائی۔ اسی لئے جب وہ انھیں خرید رہا تھا تو اس نے سوداگروں سے کہہ دیا تھا کہ یہ تو غلام معلوم نہیں ہوتا ہے ۔ مجھے شبہ ہے کہ تم اسے کہیں سے چرا کر لائے ہو اسی بنا پر فوطیفار نے ان سے غلاموں کا سا برتاﺅ نہیں کیا بلکہ انھیں اپنے گھر اور اپنی کل املاک (جاگیر اور جائداد) کا مختار بنا دیا۔ بائبل کا بیان ہے کہ” اس نے اپنا سب کچھ یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں میں دے دیا اور سوائے روٹی کے جسے وہ کھالیتا تھا اسے اپنے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔
اللہ تعالیٰ نے تربیت کا انتظام کیا
سورہ یوسف کی آیت نمبر21کی تفہیم میں مولانا مودودی آگے لکھتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام کی تربیت اس وقت تک صحرا میں نیم خانہ بدوشی اور گلہ بانی کے ماحول میں ہوئی تھی۔ ملک کنعان اور شمال عرب کے علاقے میں اس وقت تک نہ تو کوئی منظم ریاست تھی اور نہ ہی تمدن و تہذیب نے کوئی بڑی ترقی نہیں کی تھی۔ کچھ آزاد قبائل تھے جو وقتا فوقتا ہجرت کرتے رہتے تھے۔ اور بعض قبائل نے مختلف علاقوںمیں مستقل سکونت اختیار کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستیں لیں تھی۔ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو جو تعلیم و تربیت ملی تھی اس میں بدویانہ ( دیہاتی) زندگی کے محاسن اور خانوادہ ابراہیمی کی خدا پرستی اور دینداری کے عناصر تو ضرور شامل تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس وقت کے سب سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ ملک یعنی مصر میں ان سے جو کام لینا چاہتا تھا اور اس کے لئے جس واقفیت جس تجربے اور جس بصیرت کی ضرورت تھی اس کی نشو و نما کا کوئی موقع بدوی زندگی میں نہیں تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ انتظام فرمایا کہ انھیں سلطنت کے سب سے بڑے عہدے دار کے یہاں پہنچا دیا۔ اور اسنے (عزیز مصر) نے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر انھیں اپنے گھر کا اور اپنی جاگیر کا مختار کل بنادیا۔ اسطرح یہ موقع پیدا ہوگیا کہ ان کی وہ تمام قابلیتیں پوری طرح نشونما پاسکیں جو اب تک بروے کار نہیں آئی تھیں اور انھیں جاگیر کے انتظام سے وہ تجربہ حاصل ہوجائے جو آئندہ ایک بڑی سلطنت کا نظم نسق چلانے کےلئے درکار تھا۔ اس مضمون کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔
زلیخا کا اظہار محبت
حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ تیرہ یا چودہ برس کی عمر میں مصر پہونچے ۔ اور لگ بھگ بارہ یا تیرہ برس عزیز مصر کے یہاں رہنے کے بعد آپ علیہ السلام کی عمر پچیس یا چھبیس برس کی ہوئی تو یہ واقعہ پیش آیا جس کا ہم ذکر کرنے والے ہیں۔ اتنے برسوں تک ساتھ رہنے سے زلیخا آپ علیہ السلام سے محبت کرنے لگی تھی۔ ایک روز عزیز مصر گھر پر نہیں تھا۔ تو زلیخا نے تمام دروازے بند کرلئے اور آپ علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرنے لگی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تو میرے محسن (احسان کرنے والے) کی بیوی ہے۔ اور میں اپنے محسن کے ساتھ احسان فراموشی اور بے ایمانی نہیں کروں گا۔ اور تم جس چیز کی دعوت دے رہی ہو اس سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ” اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف(علیہ السلام ) تھے۔ اس نے یوسف (علیہ السلام ) کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاﺅ۔ یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ وہ میرا رب ہے مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے ۔ بے انصافی کر نے والوں کا بھلا نہیں ہوتا۔ ( سورہ یوسف آےت نمبر 23 ) مولانا محمد آصف قاسمی اس آیت کی تفسےر میں لکھتے ہیں ۔ عزیز مصر نہایت محبت اور احترام سے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے گھر لے آیا۔ اور ان سے غلاموں جیسا معاملہ کرنے کی بجائے گھر کے ایک فرد کی طرح ہر ایک آرام کا خیال رکھنے لگا۔ جب یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے گھر میں آئے تھے اس وقت بعض روایات کے مطابق ان کی عمر سات آٹھ سال کی تھی ۔ لیکن کچھ سال ہی میں وہ ایک خوبصورت ترین نوجوان بن کر ابھرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جتنا بھی حسن پیدا کیا اس میں سے آدھا حسن حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمایا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام جوان ہوتے گئے ۔ اور جمال اور خوبصورتی نکھرتی گئی۔ عزیز مصر کی بیوی ( بعض روایات کے مطابق) جس کا نام زلیخا آتا ہے۔ وہ اس بھر پور اور شرم و حیا کے پیکر جوان پر مر مٹی اور اس نے نفس کے غلبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ ایک دن اس نے اپنے خصوصی کمرے میں حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ دروزے بند کرلئے۔ اپنے اس بت پر جس کو وہ اپنا معبود کہتی تھی اس پر کپڑا ڈال کر اپنے بے تابی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی۔ اے یوسف (علیہ السلام ) میرے قریب آﺅ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسکی نیت بھانپتے ہوئے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میری مربی یعنی عزیز مصر نے مجھے عزت کا ٹھکانہ دیا ہے۔ میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ احسان فراموشی کروں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں