04 حضرت لوط علیہ السلام
سلسلہ نمبر 8
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 4
عذاب کے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان
اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ”اور ہماری طرف سے خوش خبری دینے والے ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے او رسلام کہا۔ اُنھوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بُھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ اب جو دیکھا کہ اُن کے ہاتھ تو کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اُنھیں انجان پاکر دِل ہی دل میں ان سے خوف کر نے لگے۔ اُنھوں نے کہا ۔ آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اُن کی بیوی کو کھڑی ہوئی تھی وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔ وہ کہنے لگی ہائے میر ی کم بختی ، میر ے ہاں اولاد کیسے ہوسکتی ہے۔میں خود بوڑھی ہو چُکی ہوں اور میر ے شوہر بھی بڑی عمر کے ہیں۔یہ تو یقینا عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ۔ تم اللہ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟ تم پر اس گھر کے لوگو، اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔بے شک اللہ تعالیٰ ہی حمد و ثنا کے لائق ہے۔ اور بڑی شان والا ہے ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام ) کو اطمینان ہوگیا اور اُسے بشارت مِل چُکی تو ہم سے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں کہنے سننے لگے۔یقینا ابراہیم (علیہ السلام ) بہت تحمّل والے نرم دِل اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ اے ابراہیم (علیہ السلام ) !اِس خیال کو چھوڑ دیں(کہ قوم سدوم کوچھوڑ دیا جائے گا)آپ (علیہ السلام)کے رب کا حُکم آپہنچا ہے اور ان پرنہ ٹالے جانے والا عذاب ضرور آنے والا ہے۔ (سورہ ھود آیت نمبر 69 سے 76 تک۔)
حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر انسان کی بھلائی چاہتے تھے
اس آیت کی تفسیر میں مولانا عاشق الہٰی مہاجرمدنی لکھتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اطمینان ہو ا تو آپ علیہ السلام حضرت لو ط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے کہ اُن کو ہلاک نہ کیا جائے ۔ کیو نکہ اُن کے اند ر حضرت لوط علیہ السلام موجود ہیں۔اُن کے اسی جذبے کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ بے شک حضر ت ابراہیم علیہ السلام بہت تحمّل والے اور نرم دِل ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ اسی لئے جو فرشتے آئے تھے ۔ اُنھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ تمھارے رب کا فیصلہ ہو چُکا ہے۔ اُن پر عذاب ضرور آئے گا جو ہٹنے والا اور واپس ہونے والا نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بحث کر نا
اِس آیت کی تفسیر میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم ِلوط کے بارے میں کہنے سننے لگے امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ جب جبرئیل علیہ السلام اپنے ساتھ فرشتو ں کو لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام کو بتایا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کر نے والے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم اُس بستی کو ہلاک کردو گے جس میں چار سو 400 مومن ہوں۔ تو اُنھوں نے جواب دیا نہیں کریںگے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا جس بستی میں تین سو ۰۰۳ مومن ہوں تو فرشتوں نے جواب دیا ۔ ہم اُس بستی کو ہلاک نہیں کریں گے۔پھر آپ علیہ السلام نے پو چھا اگر دو سو مومن ہوں تب کیا کرو گے۔ تو اُنھوں نے کہا ۔ ہم ہلاک نہیں کریں گے۔پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر سو 100 مومن ہو تو ہلاک کردو گے؟ فرشتوں نے کہا ۔ نہیں ہلاک کریں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے پوچھا ۔ اگر اُس بستی میں پچاس 50 مومن ہوں تو ؟ فر شتوں نے کہا ، ہم اُس بستی کو ہلاک نہیں کریں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اگر وہا ں چالیس مومن ہوں تب بھی اُس بستی کو ہلاک کردہ گے۔ تو فرشتوں نے کہا نہیں۔ آپ علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ اور اگر اُس بستی میں چودہ مومن ہوں تو ؟ فرشتوں نے کہا تب بھی ہلاک نہیں کریں گے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوچ کر چودہ مومن فرمایا کہ حضرت لوط اسلام کے اہل بیت کل ملا کر چودہ تھے۔
پانچ مومن ہوں تو عذاب نہیں دیں گے
حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) فرماتے ہیں کہ جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خبر دی کہ ہم لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جا رہے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تمھاراکیا خیال ہے اگراُن میں پچاس 50 مومن ہوں تو؟ اُنھوں نے جواب دیا ۔ اگر پچاس مسلمان ہوں گے ہم اُنھیں عذاب نہیں دیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فر مایا۔ اگر اُن میں چالیس مسلمان ہوں تو؟ فرشتوں کے کہا اگر چالیس مسلمان بھی ہوگے تو عذاب نہیں دیں گے۔ آگے فرمایا۔اگر تیس مسلمان ہوں تب بھی عذاب نہیں دوگے۔ تو اُنھوں نے کہا ۔ ہاں۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر دس مسلمان اُس بستی میں ہوں تو؟ فرشتوں نے کہا اگر دس مسلمان ہوں گے تب بھی ہم عذاب نہیں دیں گے۔ یہ سُن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کوئی قوم ایسی نہیں ہوتی ۔ جس میں دس افراد ایسے نہ ہو ں جن میں خیر اور نیکی نہ ہوں۔پھر حضرت قتاد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ بے شک قومِ سدوم کی بستی میں چار لاکھ افراد تھے،یا ان میں سے جتنے اللہ چاہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے تو اُنھو ں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا۔ اگر اُن میں پانچ افراد بھی نماز پڑھتے ہوں گے تو اُن پر عذا ب اُٹھالیا جائے گا۔
اُن میں حضر ت لوط علیہ السلام ہیں
اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ۔ترجمہ۔”اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس بشارت لیکر پہنچے تو کہنے لگے کہ اُس بستی (قوم ِسدوم) والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں ۔ یقینا یہاں کے رہنے والے گنگار ہیں۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )کہا ۔ اُس میں لو ط علیہ السلام ہیں۔ فرشتوں نے کہا ۔ وہاں جو ہیں اُنھیں ہم بخو بی جانتے ہیں ۔ لوط (علیہ السلام ) کو اور اُن کے خاندان کو ہم بچا لیں گے۔ سوائے اُن کی بیوی کے ،کیونکہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ (سور ہ العنکبوت آیت نمبر 31 اور 32۔) مفتی احمد یار خان اس کی تفسیر میں لکھتے تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پریشانی دور ہوگئی اور فرشتوں کی حقیقت معلوم ہوگئی اور بیٹے اور پوتے کی خوش خبری مل گئی تو فرشتوں کی طرف متوجہ ہوئے ۔اور جان لیا کہ اِس وقت رب کریم کا رحمت کا دریائے محبت جوش میں ہے۔ اس وقت جو چاہا جائے گا مل جائے گا۔ دِل میں خیال آیا کاش قوم لوط کو کچھ اور مہلت مل جائے ہو سکتا ہے وہ قوم راہ راست پرآجائے اور مومن ہوجائے ۔ میرارب تو حمید اور مجید ہے۔اُسکے قانو ن پر اُسکی قدر ت ، اُس کے غضب پر اُسکی رحمت غالب ہے۔ وہ ہزاروں قانونوں کو توڑکر اپنے پیاروں کے لئے قدرت کا کرشمہ دکھادیتاہے۔ اگر چہ عذاب کا فیصلہ ہو ُچکا ہے۔مگر اُس کا ٹا لنا اُسکی قدرت کےلئے کیامشکل ہے۔ وقت بھی کرم کا ہے بشارت عظمیٰ ابھی ابھی ملی ہے۔اِس بنا ءپر یجاد لُنا ۔ ہم سے یعنی ہمارے فرشتوں سے یا بلاواسطہ ہم سے ہی۔اپنے سجدوں ، دُعاﺅں میں بڑے ہی ناز سے جھگڑا کرنے لگے۔قوم ِلوط کے اُس وقت چھٹکا رے کے بارے میں ۔یہ ایسا ہی جھگڑا تھا، جیسا کہ لاڈلا شاگر د اپنے مہربا ن اُستاد سے یا غلام اپنے کریم آقا سے یا محبوب اپنے حبیب سے کسی کی سفارش میں کرتا ہے۔یہ جھگڑا کریم آقا،مہربان اُستاداورحبیب کو برُا نہیں لگتا بلکہ اسِی ضدوں سے تو اور پیا ر ا لگتا ہے۔یہ ضیف کا جھگڑا قوی سے ہے ۔ فقیر محتاج کا جھگڑا کریم غنی سے ہے۔ اِس جھگڑے کا ذکر کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان بتائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقامِ خلیل کیاہے ؟جھگڑا اِس طرح ہواکہ اے میر ے رب کے معزز فرشتو، تم اُس قوم کو سب کو ہلاک کردو گے چاہے اُس میں پچاس مومن ہوں۔ فرشتوں نے کہا نہیں اگر پچاس مومن ہوں گے تو ہم اُس قوم کو ہلاک نہیں کریں گے۔پھر فرمایا اگر چالیس ہوں تو؟ فرشتے بولے نہیں ۔پھر فرمایا ۔ اگر تیس ہوں ، بیس ہوں، دس ہوںاور پانچ ہی ہوںتو؟ ہر مرتبہ فرشتے کہتے رہے نہیں ہم ہلاک نہیں کریں گے۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ اور اگر صرف ایک ہی مومن ہوتو؟ فرشتوں نے کہا۔ اگر ایک مومن بھی ہوں گے تو ہم عذاب نہیں دیں گے۔ یہ سُن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اُن میں تو حضرت لوط علیہ السلام موجود ہیں ۔ پھر کس طرح اُس قوم پر عذاب آئے گا ؟ فرشتوں نے کہا۔ ہم اُن کو اُس بستی سے نکال لیں گے اُن کو بچانے کا وعدہ ہو چُکا ہے۔ اور اُسی بستی پر عذاب دیں گے جس میں ایک بھی مومن نہیں ہوگا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ سے محبت اور ناز
اِس آیت کی تفہیم میں مولانا سیدابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ ”جھگڑے“ لفظ سے یہ موقع اُس انتہائی محبت او ر ناز کو ظاہر کررہاہے ۔ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رکھتے تھے۔ اِس لفظ سے یہ تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے کہ بندے اور اللہ کے درمیان بڑی دیر تک ردوکد جاری رہتی ہے۔ بندہ اصرار کررہا ہے کہ کسی طرح قوم لوط پر سے عذاب ٹال دیاجائے ۔ اور اللہ جواب میں کہہ رہاہے کہ یہ قوم اب خیر سے خالی ہو چُکی ہے۔اور اس کے جرائم اُس حد سے گذر چُکے ہیں کہ اس کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے ۔ مگر بندہ ہے کہ پھر بھی یہی کہے جارہاہے کہ پروردگار ، اگر کچھ تھوڑی سی بھلائی بھی اس میں باقی ہوتو اسے ذرامہلت دیدے ۔ شاید کہ وہ بھلائی کچھ پھل لاسکے۔ بائیبل میں اِس جھگڑے کی کچھ تشریح بھی بیان ہوئی ہے۔ لیکن قرآن پاِک کا مجمل بیان اپنے اندر اُس سے زیادہ معنوی وسعت رکھتاہے۔
حضرت لوط علیہ السلام کے مہمان
اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔”جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے تو وہ اُن کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے۔ اور دِل ہی دِل میں کڑھنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ آج کا دِن بڑی مصیبت کا دِن ہے۔ “(سورہ ھود آیت نمبر ۷۷۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ۔”پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے تو وہ اُن کی وجہ سے غمگین ہوگئے ۔ اور دِل ہی دِل میں رنج کر نے لگے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر ۳۳) حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ سے عاجز آکر قوم ِسدوم نے اُنھیں شہر سے باہر نکال دیاتھا۔اور آپ علیہ السلام شہر سے باہر مکان بناکر اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ سدوم پر عذاب دینے کے لئے جن فرشتوں کو بھیجا تھا ۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے اور اُنھیں بیٹے اور پوتے کی بشارت دینے کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے ۔ اُس وقت شام ہورہی تھی۔ یعنی سورج غروب ہورہاتھا۔ اور ہلکا اندھیر اچھانے لگا تھا۔
حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی
حضرت لوط علیہ السلام کے مہمانو ں کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام شہر سدوم میں رہتے تھے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام چھ میل اُدھر مقام ”الخلیل “ میں جو فلسطین کے سرحد ی علاقوں سے ہے۔ پہلے اِس کا نام کچھ اور تھا اب اسکا نام الخلیل ہے۔ ایک روایت ہے کہ فرشتے بغیر راستہ پو چھے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔اور دوسری روایت میں ہے کہ فرشتے بستی کے ایک کنویں پر پہنچے،وہاں حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیا ں اور کچھ عورتیں پا نی بھر رہی تھیں۔ اِن اجنبی لڑکوں کو دیکھا تو پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ جاﺅ جلد سے بھاگ جاﺅ۔ ورنہ یہاں کے لوگ پکڑ کر تمھیں غلام بنا لیں گے۔ یہ بات اُنھوں نے بد ل کر بہت شرم سے کہی تھی۔ فرشتے بولے، یہاں کوئی مہمان نواز نہیں ہے کیا؟جو ہمیں کچھ دیر اپنے گھر میں ٹھہرائے۔ تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی محترمہ نے اپنے گھرکی طرف اشارہ کیا کہ وہاں چلے جائیے ۔ وہ بزرگ آ پ لوگوں کو اپنے یہاں مہمان بنالیں گے۔ وہ سب فر شتے حضرت لو ط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام اپنے کھیت میں کام کررہے تھے۔ اجنبی مہانوں کو دیکھا جو خوب صورت قر یب البلوغ لڑکو ں کی شکل میں تھے،دیکھتے ہی گھبرا کر کھڑے ہو گئے ۔ پریشان ہو گئے اور غم زدہ بھی ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان سِئی کا مطلب یہی ہے کہ ایک پریشانی نازل ہونا جس سے آدمی ہو ش و ہواس کھو بیٹھے ۔ یہاں مُراد ہے انتہا ئی دُکھ اور افسوس ۔ اِس فعل سے ثابت ہو اکہ حضرت لو ط علیہ السلام اِن نوجوان لڑکو ںکو دیکھ کر اُن کو بچانے کی فکر اور پریشانی میں اُنھیں غور سے نہیں دیکھ سکے۔ اگر توجہ اور سکون سے دیکھنے کا موقع ملتا تو ضرور سمجھ جاتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ لیکن آپ علیہ السلام تو اسی فکر میں تھے کہ میر ی قوم والوں کو اِن نوجوانوں کے بارے میں معلوم نہ ہو۔
حضرت لوط علیہ السلام کی پر یشانی کی وجہ
سور ہ ھود کی آیت نمبر 77 کی تفسیر میں مولانا مفتی محمدشفیع لکھتے ہیں۔کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا فر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی خبیث بد کا ری اور بے حیائی میں مبتلا تھی جو دُنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں پائی گئی تھی۔اور جس سے جنگل کے جانور بھی نفرت کرتے تھے۔ کہ مرد،مرد کے ساتھ منہ کالا کرے جسکا وبال عام بدکاری سے کہیں زیادہ ہے۔اِسی لئے اِس قوم پر ایسا شدید اور عجیب عذاب آیا جو عام بے حیائی اور بدکاری کرنے والوں پر نہیں آیا ۔ حضر ت لوط علیہ السلام کا واقعہ جواِن آیا ت میں مذکو رہے ۔ وہ اِس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے چند فرشتے جن میں جبرئیل علیہ السلام بھی تھے ۔اِس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے۔ جو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فلسطین گئے تھے۔ جسکا واقعہ پہلی آیا ت میں بیان ہوچُکاہے۔ اُسکے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے جنکا مقام وہاں سے دس بارہ میل کے فاصلے پر تھا۔ اللہ تعالیٰ جس قوم کو عذاب میں پکڑتے ہیں۔ تو اُسی مناسبت سے اُن پر حجّت قائم فرماتے تھے۔ اِس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حسین نوجوان لڑکوں کی شکل میں بھیجا۔ جب وہ حضرت لوط علیہ السلام کے گھر پہونچے تو اُنھیں انسانی شکل میں دیکھ کر آپ علیہ السلام نے مہمان سمجھا اور اُس وقت وہ سخت فکر اور غم میں مُبتلا ہوگئے کہ مہمانوں کی مہمانی نہ کی جائے تو یہ شان پیغمبری کے خلاف ہے۔ (آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ تم مہمان نہیں بنانا بلکہ ہمارے سامنے مہمان کو پیش کر دینا)اور اگر اِن کو مہمان بنالیں تو اپنی قوم کی خباثت معلوم تھی۔ اسکا خطرہ تھا کہ وہ مکان پر چڑھ آئیں گے اور مہمانوں کو اذیت پہونچائیں گے۔ اور آپ علیہ السلا م مدافعت نہیں کر سکیں گے۔اور دِل میں فر مایا کہ آج بڑی سخت مصیبت کا دِن ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں