اتوار، 30 اپریل، 2023

03 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



03 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 3

حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینک دیا گیا

حضرت یوسف علیہ السلام جس بھائی کے پاس بھی مدد کے لئے جارہے تھے وہ بھائی آپ کو مار رہا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام ادھ مرے ہوگئے تو فرمایا کہ آپ لوگوں نے والد محترم سے جو وعدہ کیا تھا اسے اتنی جلدی بھلا دیا۔ یہ سن کر یہودا یا روبیل کو رحم آیا اور اس نے اپنے بھائیوں کو سمجھاےاکہ اپنے چھوٹے بھائی پر رحم کرو ۔ اور اسے والد محترم کے پاس پہنچادو۔ ہاں اس سے یہ عہد لے لو کہ والد محترم سے ہماری شکایت نہ کرے۔ بھائیوں نے کہا ۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے تو ہم تمھیں بھی قتل کر دیں گے ۔یہودا نے جب تمام بھائیوں کو اتنا سخت دیکھا تو بولا ۔ اگر تم طئے کر چکے ہو تو میری بات سنو اس علاقے میں ایک پرانا کنواں ہے۔ جس میں جھاڑ وغیرہ اگ آئیں ہیں ۔ اور سانپ بچھو اور دوسرے زہریلے جانور اس میں رہتے ہیں۔ تم اسے کنویں میں پھینک دو ۔ اگر کسی سانپ بچھو نے اسے ڈس کر ختم کر دیا تو تمھارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا۔ اور تم اس کا خون بہانے سے بچ جاﺅ گے۔ اور اگر یہ اس کے باوجود بھی زندہ رہا تو شاید کوئی قافلہ یہاں آئے اور اسے نکال لے جائے۔ تو وہ قافلے اسے اپنے ساتھ دوسرے ملک لے جائے گا۔ اور ایسی صورت میں بھی تمھارا مقصد پورا ہوجائے گا۔ تمام بھائی اس بات سے متفق ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص اتار کر آپ علیہ السلام کو کنویں میں پھینک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ والد محترم کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی سب بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو ایذائیں دینی شروع کردی۔ برا بھلا کہنے لگے اور چانٹے(طمانچے) مارنے لگے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے ہوئے اس کنویں کے پاس پہنچے اور کنویں میں پھینکنے کےلئے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پاﺅں باند ھنے لگے ۔ آپ علیہ السلام ایک ایک بھائی کے دامن کو پکڑتے اور ہر بھائی سے رحم کی درخواست کرتے ۔ لیکن ہر بھائی جھڑک دیتا اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا تھا۔ سب نے ملکر مضبوطی سے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پاﺅں باندھے اور کنویں میں لٹکا دیا۔ آپ علیہ السلام نے کنویں کا کنا را ہاتھوں سے پکڑا تو بھائیوں نے انگلی پر مار مار کر اسے بھی چھڑا دیا۔ اور آدھی دور تک رسی لٹکا نے کے بعد رسی کو کاٹ دیا اور ایک دم آپ علیہ السلام کنویں میں نیچے گر گئے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹوں کو رخصت کرنے کے بعد غمزدہ حالت میں واپس ہوئے۔ جے سے ہی والد محترم کی نظروں سے اوجھل ہوئے تو بھائیوں کے تیور بدل گئے ۔ کوئی جھڑکتا،کوئی طعنہ دیتا ، کوئی دھکا دیتا ۔اسی حالت میں اپنی زمینوں پر مقام کسم پر آگئے۔ مگر وہاں نہیں ٹھہرے بلکہ دو تن یا دالتن کے جنگل میں آپ کو گھسیٹ گھسیٹ کر لے آئے۔ وہیں ایک کنواں تھا۔ یہ جگہ حبرون یعنی الخلیل سے چھ کوس کے فاصلے پر اور مصر کی شاہراہ (ہائی وے) کے قریب ہے۔ اسکے بعد آگے لکھتے ہیں ۔ اس مقام پر بھائیوں نے حضرت یوسف کو بے دردی سے مارنا اور دھکے دینا شروع کردیا۔ آپ علیہ السلام ایک ایک بھائی کے پاس جاتے اور وہ مارتا اور دھکے دیتا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے بھائیوں کو والد محترم سے کیا ہوا وعدہ یاد دلایا تو انھوں نے مارنا چھوڑ کر آپ علیہ السلام کو کنویں میں پھینکنے کا ارادہ بنالیا۔ اور اس بات پر متفق ہوگئے۔ بس پھر کیا تھا فوراً آپ علیہ السلام کی قمیص اتار لی اور باندھ کر کنویں میں لٹکا دیا۔ جب آدھا کنواں طئے ہوگیا تو نہایت بے دردی سے رسی کو کاٹ دیا تاکہ کسی پتھر سے ٹکرا کر مر جائے۔ چونکہ کنویں میں اندھیرا تھا اسلئے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ علیہ السلام زندہ ہیں کہ نہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو انھوں نے راستہ میں ان کے ساتھ شدید عداوت کا اظہار کیا ۔ ایک بھائی آپ علیہ السلام کو مارتا تو وہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تو وہ بھی ان کو مارتا پیٹتا اور انھوں نے ان میں سے کسی کو بھی رحم دل نہیں پایا۔ قریب تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قتل کردیتے ۔ اسی وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ۔ اے ابا جان ، کاش آپ علیہ السلام جانتے کہ آپ علیہ السلام کے پیارے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے؟ تب یہودا نے سب بھائیوں سے کہا۔ کیا تم لوگوں نے مجھ سے پکا عہد نہیں کیا تھا کہ تم لوگ اسے قتل نہیں کرو گے۔ تب وہ آپ علیہ السلام کو کنویں پر لے گئے اور ان کوکنویں کی منڈےر پر کھڑا کرکے ان کی قمیص اتاری جس سے ان کا مقصد تھا وہ اس قمیص پر خون لگاکر حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیں گے اور پھر انھیں کنویں میں پھینک دیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی کنویں میں حفاظت

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کرٹھان لیا کہ اسے غیر آباد کنویں کی تہہ میں پھینک دیں ۔ تب ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کی طرف وحی کی کہ یقینا تم انہیں اس ماجرا ( واقعہ) کی خبر اس حال میں دو گے کہ وہ جانتے ہی نہیں ہوں گے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر15) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا تو جبرئیل امین علیہ السلام ان کے پاس آئے او رکہا ۔ اے نوجوان ، تمہیں اس کنویں میں کس نے ڈالا ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بھائیوں نے ۔ جبرئیل علیہ السلام نے وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے والد محترم مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اور میرے بھائی مجھ سے حسدکرتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ کیا تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بات تو میرے اور میرے والد محترم کے رب ( اللہ تعالیٰ) کے سپرد ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ تم یہ دعا کرو۔ ترجمہ ” اے اللہ ،میں تجھ سے تیرے پوشیدہ نام کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے بزرگی اور عزت والے، تو میرے گناہ معاف کر دے۔ مجھ پر رحم فرما اور میرے لئے میرے معاملہ میں کشادگی اور نکلنے کا راستہ بنا دے۔ اور وہاں سے بھی رزق عطا فرما جہاں سے مجھے ملنے کا گمان ہی نہیں ہے۔ “ جب آپ علیہ السلام نے ان کلمات سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی اور نکلنے کا راستہ بنا دیا۔ اور بادشاہِ مصر کے ذریعے آپ علیہ السلام کو رزق عطا فرمایا۔ جہاں سے ملنے کا آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان کلمات کے ساتھ اصرار سے دعا مانگو کیوں کہ یہ چیدہ اور نیک لوگوں کی دعا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کی مدد

حضرت یوسف علیہ السلام کو باندھ کر ان کے بھائیوں نے کنویں میں لٹکا دیا تھا۔ اور آدھے کنویں تک چھوڑنے کے بعد شمعون نے یہ چاہتے ہوئے رسی کو کاٹنا شروع کر دیا کہ آپ علیہ السلام تیزی سے نیچے گریں اور گرتے وقت کنویں کے کسی باہر نکلے ہوئے پتھر سے ٹکر ا کر ( نعوذ باللہ ) مر جائیں۔ ادھر زمین پر شمعون رسی کاٹ رہا تھا ادھر جبرئیل علیہ السلام عرش کے پائے کے پاس تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرے بندے ( یوسف علیہ السلام )کے پاس پہنچو اور اسے سنبھالو۔جبرئیل علیہ السلام تیزی سے ساتوں آسمانوں کو پار کرتے ہوئے زمین پر آئے اور شمعون رسی کاٹ رہا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام کنویں کے اندر پہنچ گئے تھے۔ اور جیسے ہی رسی کٹی فوراً جبرئیل علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سنبھال لیا۔ اور آرام سے ایک پتھر پر بٹھا دیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تھا تب جبرئیل علیہ السلام قمیص لے کر آئے تھے اور آپ علیہ السلام کو پہنا دی تھی۔ وہ قمیص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رہی۔ پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کے پاس رہی۔ اس کے بعد جب یہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملی تو آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں اس قمیص کو ایک تعویز میں ڈال کر پہنا دیا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں سے وہ قمیص نکال کر پہنا دی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ علیہ السلام زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔ انہوں نے اوپر سے آپ علیہ السلام کو آواز لگائی تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا اور فرمایا۔ ہر میت کی کوئی نہ کوئی وصیت ہوتی ہے۔ میری وصیت سن لو۔ بھائیوں نے کہا۔ وہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ جب کسی نو عمر لڑکے کو دیکھنا تو میری بے چارگی اور اپنے ظلم کو یاد کرلینا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ اے یوسف علیہ السلام ، اپنے بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور دعا میں مشغول ہو جاﺅ۔ پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کو دعا بتائی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے حضرت یوسف علیہ السلام نے اس طرح دعا مانگی۔ اے اللہ ، اے ہر اجنبی کے مونس، اے ہر تنہا کے ساتھی، اے ہر خوف زدہ کے ملجا، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے ہر سر گوشی کو جاننے والے، اے ہر شکوہ کی انتہا اور اے ہر اجتماع کے حاضر ، اے زندہ ، ا ے زندہ رکھنے والے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی امید میرے دل میں ڈال دے۔ یہاں تک کہ میرے نزدیک تیرے سوا نہ کوئی غم ہو اور نہ ہی کوئی مصروفیت رہے۔ اور میرے لئے میر ے معاملہ میں وسعت اور نکلنے کی راہ پیدا فرما دے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ فرشتوں نے یہ دعا سن کہا۔ اے اللہ تعالیٰ، ہم دعا اور آواز سن رہے ہیں۔ آواز تو نو عمر لڑکے کی ہے۔ اور دعا نبی کی ہے۔ امام ضحاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام کنویں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا ۔ کیا میں آپ علیہ السلام کو ایسے کلمات سکھا دوں جن کو اگر آپ علیہ السلام دہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہیں کنویں سے نکال لے گا؟ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان الفاظ میں دعا مانگی۔ اے ہر مصنوع کو بنانے والے، اے ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرنےوالے۔ اے ہر راز کے شاہد ، اے ہر اجتماع کے حاضر ، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے ہر اجنبی کے دوست اور اے ہر تنہا کے مونس ، میرے لئے کشادگی اور امید کو لادے۔ اور اپنی امید میرے دل میں پیدا فرما دے۔ یہاں تک کہ تیرے سوا میں کسی کی امید نہ کروں۔ حضرت یوسف علیہ السلام اس دعا کو بار بار ساری رات دہراتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس دن صبح آپ علیہ السلام کو کنویں سے نکالا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام تین دن کنویں میں رہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ” اور عشاءکے وقت (وہ سب) اپنے والد محترم کے پاس روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ۔ ابا جان، ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے تھے اور یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ پس اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ علیہ السلام تو ہماری بات کو ( سچ) نہیں مانیں گے۔ چاہے ہم سچ ہی کہہ رہے ہوں۔ اور یوسف (علیہ السلام )کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا (کسی جانور کا )خون لگا کر لے آئے۔ والد محترم نے فرمایا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے۔ اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں سے اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔“ (سورہ یوسف آیت نمبر16سے 18) حضرت یعقوب علیہ السلام کو جب ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب سنایا تھا جب ہی آپ علیہ السلام سمجھ گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو بہت بڑے کام کے لئے چن لیا ہے۔ اور وہ کام سونپنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کے بیٹے کی آزمائش لے گا۔ اور تکلیف دہ حالات میں مبتلا کر کے تجربہ حاصل کرنے کا موقعہ دے گا۔ اسی لئے جب دوسرے بیٹوں نے لے جانے کی فرمائش کی توآپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ ان کی اور ان کے بیٹے کی آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ اسی لئے جب بیٹوں نے آکر بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا تو آپ علیہ السلام نے ان کی بات کا یقین نہیں کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ علیہ السلام کی قمیص خون میں لت پت لا کر اپنے والد محترم کو دی جس پر جانور کا خون لگا ہوا تھا۔ کس جانو ر کا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ بکرے کا خون تھا۔ کچھ میں ہے کہ بھیڑ کا خون تھا اور کچھ میں ہے کہ ہرن کا خون تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ برادران یوسف نے جب اپنے والد محترم کو بھائی کی قمیص دی تو انہوں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا کہ قمیص صحیح سلامت ہے تو فرمایا۔ یہ بڑا مہربان بھیڑیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دی گئی تو وہ قمیص پھٹی ہوئی نہیں تھی۔ آپ علیہ السلام نے قمیص دیکھ کر فرمایا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو اگر اسے بھیڑیا کھا لیتا تو یہ قمیص پھٹی ہوئی ہوتی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قمیص کو الٹ پلٹ کر نے کے بعد آپ علیہ السلا م نے خون کے داغ تو دیکھے لیکن قمیص بالکل صحیح سلامت تھی۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے بیٹو، اللہ کی قسم میں نے ایساسمجھدار اور حلیم بھیڑیا نہیں دیکھا کہ اس نے میرے بیٹے کو کھا لیا اور قمیص کو صحیح سلامت رکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ یہ کیسا بھیڑیا ہے قمیص پر رحم کر دیا اور میرے بیٹے پر رحم نہیں کیا۔ جب آپ علیہ السلام نے یہ فرمایا تو بیٹوں نے کہا ۔ آپ علیہ السلام تو ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے چاہے ہم سچ ہی کیوں نہ بول رہے ہوں۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ دل تو قبول نہیں کرتا پھربھی تمہاری بات پر یقین کرتا ہوں اور اپنے بیٹے کے بچھڑنے پر صبر کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتاہوں کہ وہ مجھے صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قافلے والوں نے کنویں سے نکالا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ ترجمہ” اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی لانے والے کو ( اسی کنویں پر ) بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ ( تو دیکھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اسے پکڑے ہوئے ہیں) کہنے لگا واہ واہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک نو عمر لڑکا ہے۔ انہوں نے اسے مالِ تجارت قرار دے کر چھپا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وہ کر رہے تھے۔ اور انہوں نے اسے بہت ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ دیا۔ وہ تو یوسف (علیہ السلام )کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے۔ (سورہ یوسف آیت نمبر19اور 20)حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں کے اندر تھے اور اللہ تعالیٰ انہیں سمجھا رہے تھے کہ تمہارے بھائیوں کو یہ شعور ( احساس) ہی نہیں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ یہ سلوک کر کے کتنی بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ بہر حال ایک وقت ایسا آئے گا جب تم ان کے اوپر حاوی ہو گے اور انہیں احساس کراﺅ گے۔ اسی دوران مدین کا ایک قافلہ بھٹک کر اس کنویں کے پاس پہنچ گیا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طرف جا رہا تھا وہ راستہ بھول گئے اور اس کنویں کے قریب آکر پڑاﺅ ڈال دیا۔ یہ کنواں آبادی سے دور چرواہوں اور مسافروں کے لئے تھا۔ اس کا پانی نمکین تھا لیکن جب حضرت یوسف علیہ السلا م کو اس میں ڈالا گیا تو وہ پانی میٹھا ہو گیا۔ جب قافلے والے وہاں اترے تو انہوں نے ایک شخص کو پانی لانے کے لئے کنویں پر بھیجا۔ وہ دمدین کا باشندہ تھا۔ اور اس کا نام مالک بن وعسر تھا۔ اس نے پانی نکالنے کے لئے ڈول کو کنویں میں ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلا م رسی پکڑ کر اوپر آگئے۔ آپ علیہ السلام اتنے حسین تھے کہ پانی نکالنے والا سکتہ کے عالم میں آپ علیہ السلام کو کچھ دیر دیکھتا رہا۔ پھر اس نے خوشی سے چلاتے ہوئے قافلے والوں کو خوش خبری دی کہ اس کنویں سے انتہائی خوب صورت دل موہ لینے والا نو عمر لڑکا نکلا ہے۔ 

بھائیوں نے کوڑیوں کے دام میں بیچ دیا

حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں کے باہر نکل آئے۔ آپ علیہ السلام اس کنویں میں تین دن رہے۔ حضر ت مجاہد( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں سے باہرآئے تو وہ کنواں رونے لگا۔تمام قافلے والے مالک بن وعر کی آواز سن کر دوڑتے ہوئے آئے اور حیرانی سے اس خوبصورت لڑکے کو دیکھنے لگے۔ اور اس کی خوب صورتی کودیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ لڑکا یقینا کسی بہت اچھے خاندان کا ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کو اپنے قافلے میں لے کر آئے اور سب لوگ خدمت کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی آس پاس بکریاں چراتے رہتے تھے۔ جب ان بھائیوں نے قافلے والوں کو دیکھا تو ان کے پاس آئے۔ اور وہاں دیکھا کہ قافلے والے حضرت یوسف علیہ السلا م کو کنویں سے نکال کر ان کی خدمت کر رہے ہیں تو انہیں بڑا غصہ آیا۔ اور انہوں نے قافلے والوں سے کہا کہ یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ قافلے والوں نے کہا۔ ٹھیک ہے ہم نے اس کے اوپر جوخرچ کیا ہے وہ دے دو اور اسے لے جاﺅ۔ لیکن برداران یوسف تو انہیں واپس گھر نہیں لے جانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے تمام بھائیوں نے کہا۔ یہ بار بار بھاگ جاتا ہے اس لےے ہم اسے رکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہاں تم قیمت دے کر اسے خرید سکتے ہو۔ اور حضرت یوسف علیہ السلا م کو عبرانی زبان میں دھمکی دی کہ اگر اصلیت بتاﺅ گے تو ہم تمہیں اس بار واقعی قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد قافلے والے مول بھاﺅ کرنے لگے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ لوگ ہر قیمت پر اسے بیچ دیں گے۔ اس لئے بہت ہی کم قیمت لگائی۔ آخر سودا طے ہو گیا۔ ایک روایت کے مطابق 18درہم یا پھر 20درہم یا پھر 22درہم یا پھر 40درہم پر سود ا طے ہوا۔ اور قافلے والوں نے آپ علیہ السلام کو خرید لیا۔ اس کے بعد ان کے بھائیوں نے قافلے والوں سے کہا اسے اچھی طرح باندھ کر رکھنا کیوں کہ یہ بار بار بھاگ جاتا ہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں