03 حضرت لوط علیہ السلام
سلسلہ نمبر 8
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 3
سب سے پہلے اللہ کی راہ میں جہاد
حضرت لوط علیہ السلام مسلسل کئی سال تک قوم ِ سدوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن وہ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہے اور اپنی برائیوں پر ڈٹے رہے لیکن آپ علیہ السلام بھی صبر اور حکمت سے اللہ کی طرف بُلا تے رہے اور اُنھیں بے حیائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر قوم آپ علیہ السلام سے عاجز آگئی ۔ اور اپنی ایک دوست قوم سے ملکر سازش کی۔ اُس قوم نے قومِ سدوم پر حملہ کیا اور حضرت لوط علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے گئے ۔ یا پھر قومِ سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کروایا کہ ان سے جان چھوٹ جائے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام اپنے اہل وعیال اور مال کو لیکر اردن کی سرزمین (قومِ سدوم) کی طرف چلے گئے ۔آپ علیہ السلام اسی مقام پر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے تھے کہ فلسطین کے رہنے والے ایک قبیلے نے حملہ کرکے آپ علیہ السلام کو اور گھروالوں کو گرفتار کرکے لے گئے ۔جب حضرت لوط علیہ السلام کی گرفتاری کی خبر ملی تو آپ علیہ السلام نے اپنے اہل اور غلاموں اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ ملکر اُس قبیلے پر حملہ کر دیا۔اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تین سو مجاہدین تھے ۔اور آپ علیہ السلام اللہ کے لئے سب سے پہلے جہاد کر نے والے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی مد د فرمائی اور فتح عطافرمائی ۔اور آپ علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے گھروالوں کو رہائی دلائی۔اِسکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام تو ”الخلیل “میں واپس آگئے اور حضرت لوط علیہ السلام پھر قوم سدوم کو سمجھانے کے لئے اُن کے پاس چلے گئے ۔ لیکن وہ بد بخت قوم کفر اور بے حیائیوں پر اڑی رہی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی قوم ِسدوم کو سمجھاتے تھے
حضرت لوط علیہ السلام تو مسلسل قومِ سدوم سمجھاتے رہتے تھے۔اسکے علاوہ آپ علیہ السلام کے چچاحضرت ابراہیم علیہ السلام بھی وقتاً فوقتاً اپنے بھتیجے کے پاس آتے تھے۔اور اِس بد بخت قوم کو سمجھاتے رہتے تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام قوم ِسدوم کے سب سے بڑے شہر سدوم میں پذیر تھے۔یہ شہر اُس وقت مُلک کنعان کا ایک شہر تھا۔اور آج (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے وقت ) ملک شام میں ہے۔اور فلسطین سے ایک دِن اور ایک رات کی مسافت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ قوم سدوم کو مہلت دیتا رہا۔اور اُنھوں نے اسلام کا پردہ چاک کردیا اور محارم کی آبروریزی کرنے لگے۔اور فاحشہ کبُریٰ (یعنی مردوں سے بد فعلی )کا ارتکاب کر نے لگے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خچر پر سوار ہوکر قومِ سدوم کے شہروں کی طرف آئے اور اُنھیں وعظ ونصیحت فرمائی لیکن اُنھوں نے قبول کر نے سے انکار کردیا۔اسکے بعد جب بھی آپ علیہ السلام اپنے بھتیجے سے ملنے آتے تھے تو قوم سدوم کو ضرور سمجھاتے تھے۔ اور فرماتے تھے اے قومِ سدوم ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارے لئے ایک دن مقررہے ۔وہ کون سا ہے میں بھی نہیں جانتا۔ بلاشبہ اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں (کفر اور ایسی برائیو ں سے ) منع فرمایاہے ۔اس لئے تم اللہ کے عذاب کو دعوت مت دو ۔
قوم سدوم نے بستی سے نکال دیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ اور اُن کی (حضرت لوط علیہ السلام کی ) قوم سے کوئی جواب نہیں بن پڑا سوائے اسکے کہ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اِن لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں ۔ (سورہ اعراف آیت نمبر 82۔ ) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ۔ اُنھوں نے (قوم سدوم کے لوگوں نے ) جواب دیا۔ کہ اے لوط (علیہ السلام )، اگر تم باز نہیں آئے تو ہم یقیناتمھیں (اپنی بستی سے) نکال دیںگے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ میں تمھارے کاموں سے سخت ناخوش اور ناراض ہوں۔ (سورہ شعراءآیت نمبر 176 اور 186۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ قوم کا جواب سوائے یہ کہنے کہ اور کچھ نہیں تھاکہ آپ لوط کو اپنے شہر سے شہر بدِر کردو۔ یہ بڑے پاک باز بن رہے ہیں۔(سورہ نمل آیت نمبر 56۔) حضرت لوط علیہ السلام قوم ِسدوم کو بڑی محبت اور نرمی سے سمجھاتے رہے لیکن اِن کی آنکھوں پر ابلیس شیطان نے تکبّر اور گھمنڈکی پٹی باندھ رکھی تھی۔اِس لئے اِن بد بختوں نے آپ علیہ السلام سے دشمنی شروع کردی اور دشمن قبیلے نے اِن پر حملہ کر کے اِن لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا اُن میں حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔آپ علیہ السلام نے اپنے چچاکی مدد سے آزادی حاصل کی اور قوم ِسدوم کے لوگوں کو بھی آزاد کروایا ۔لیکن یہ احسان فراموش اور بے حیا قوم نے آپ علیہ السلام کو شہر میں داخل ہونے نہیں دیا۔پہلے زمانے میں ہر شہر اور گاﺅں کے اطراف ایک بلند دیوار ہوتی تھی۔ جو پورے شہر یاپوری بستی کو گھیر ے میں لئے ہوئے ہوتی تھی ۔اسے شہرپناہ یا پھر فصیل کہا جاتا تھا۔جس میں بڑے بڑے گیٹ یعنی دروازے ہوتے تھے۔اِس بد بخت قوم سدوم نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے گھروالوں کو بستی کے باہر نکال دیا ۔ اور آپ علیہ السلام بستی کے باہر اپنا گھر بناکر رہنے لگے اور پانچوں شہروں میں گھوم گھوم کر اُنھیں سمجھاتے رہے۔
قوم سدوم کو اچھے لوگوں کاوجود گوارا نہیں تھا
اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف کی آیت نمبر 82 میں جو فرمایا ہے کہ اسکی تفہیم میں مولانا سید ابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس سے معلوم ہواکہ یہ لوگ صرف بے حیا ، بدکر دار اور بد اخلاق ہی نہیں تھے۔ بلکہ اخلاقی پستی میں اِس حد تک گِر گئے تھے کہ انھیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں او ربرُائی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہیں تھا۔وہ بدی (برُائی) میں یہاں تک غرق ہوگئے تھے۔کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔اور پاکی کے اِس تھوڑے سے عنصرکو بھی نکال دینا چاہتے تھے۔جو اُن کی گھناونی فضا میں باقی رہ گیاتھا۔اِسی حد کو پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے استیصال کا فیصلہ صادر ہو ا۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے تو اُسے زمین پر زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی ہے۔ سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میںجب تک چند اچھے پھل موجود ہوں اُس وقت تک ٹوکرے کو رکھاجاتا ہے۔ مگر جب وہ اچھے پھل بھی نکل جائیں تو پھر اِس ٹوکرے کا مصرف اِس کے سِوا اور کچھ نہیں رہتا ہے کہ اُسے کو ڑے پر اُلٹ دیا جائے ۔
یہ ہمیں روکنے والے کو ن ہوتے ہیں
سورہ اعراف کی آیت نمبر 82 کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ کہ اِس حرکت کی ابتداءاِس طرح ہوئی کہ حضرت لوط علیہ السلام کی اِس قوم کی چاروں پانچوں بستیاں نہایت ہی سر سبز و شاداب تھیں ۔ ان میں باغات ، سر سبز کھیت اور نہریں وغیر ہ بہت تھیں ۔ اِن بستیوں کے آس پاس کے علاقوں کی زمین قریباً خشک تھی۔(یعنی دوسرے علاقوں میں خوراک پانی اور پھلوں وغیرہ کی بہت کمی تھی۔)اِسی لئے خشک زمین کے لوگ اور اُن کے لڑکے اِس سرسبز علاقہ میں آتے تھے۔اور اُن کے باغات کے پھل وغیر چوری کرکے لے جاتے تھے۔قومِ لوط کے لوگ اِن سے بہت پریشان تھے۔ایک دِن ابلیس شیطان نہایت حسین و جمیل لڑکے کی شکل میں آیا ۔ اور ایک باغ کے پھل توڑنے لگا۔باغ والے نے اسے پکڑ لیا اور مارنا پیٹنا چاہا تو ابلیس نے کہا ۔ تم مجھے مارومت بلکہ میرے ساتھ ایسی حرکت کرو ۔باغ والے نے ابلیس کے بتانے کے مطابق اُسکے ساتھ ویسی حرکت کی تو اُسے بہت لذت محسوس ہوئی ۔ پھر ابلیس بولا۔ اب جو بھی لڑکا تمھارے باغ کا پھل توڑنے آئے تو اُسے مارنا نہیں بلکہ یہی حرکت کرناتو تمھیں لطف حاصل ہوگا۔ اور اِس ڈرسے لڑکے تمھارے باغ میں آنا چھوڑدیں گے۔ اُس شخص نے دوسرے لوگوں کو بھی یہ واقع بتایا ۔ اور دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کرنے لگے او ر ہوتے ہوتے یہ حرکت قومِ سدوم میںعام ہوگئی ۔ (اِسی لئے جب حضرت لوط علیہ السلام نے اُنھیں اِس حرکت سے منع فرمایا تو)اُنھوں یہی کہا کہ اِن کو اور اِن کے ساتھ اِن کے بال بچوں کو بھی اپنی بستی سے نکال دو ۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اِس حرکت کو سب لوگ اچھاکہتے ہیں ۔ اور یہ اکیلے بُرا کہتے ہیں۔ جمہور (اکثریت) کے مقابلے میں ایک شخص کی بات نہیں ماننی چاہیے ۔اور ہماری قوتیں ، طاقتیںاور دولت ہماری اپنی چیز یں ہیں ۔ جس طرح چاہیںخرچ کریں۔یہ روکنے والے کون ہوتے ہیں۔اور انسان آزاد ہے جو چاہے کر لے ۔یہ ہماری آزادی سلب کررہے ہیں۔ لہذااِنھیں نکال دو۔اِن بدنصیوں نے رب کے مقابل سب کی با ت مانی ۔ اپنی دولت اور قوت کو اپنی چیز سمجھا۔ یہی غلطیاں گناہوں کی جڑ ہیں۔ اور اِسی لئے وہ لوگ حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ کہ یہ تو بڑے صاف ستھر ے بنتے ہیں ۔اور ایسے مزے دار لذیذ کا م سے ہمیں روکتے ہیں ۔ ہماری بستی میں اِن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ یہاں نہیں ہوں گے تو ہمیں اپنی ہوس کو پوری کرنے کی آزادی ہوگی اور ہم کوکوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔ اُن بد بختوں کا مطلب یہ تھا کہ (نہایت غلیظ اور بُرا) کام نہایت پاکیزہ ستھرا ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام اِس کام سے بچنے کو پاکیزگی سمجھتے ہیں یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔
قومِ سدوم نے عذاب کی مانگ کی۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ترجمہ ۔”(حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا۔)تم مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو۔اور راستے بند کر تے ہو۔ اوراپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو۔ اسکے جواب میں اُن کی قوم نے کہا۔ اب تم جاﺅ اور اگر سچے ہو تو ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آﺅ۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 29) قوم سدوم مسلسل بے حیائی میں مُبتلا رہی اور حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اُڑاتی رہی۔ آپ علیہ السلام مسلسل اُنھیں سمجھاتے رہے۔اِن لوگوں نے آپ علیہ السلام کو روکنے کی ہر کوشش کرلی۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا۔ لیکن آپ علیہ السلام پھر بھی اِن پانچوں شہروںمیں جاکر اُنھیںبھلائی کا حُکم دیتے رہے ۔ اور بُرائی سے روکتے رہے۔ اِس طرح لگ بھگ بیس سال کا عرصہ گذرگیا ۔ لیکن قوم سدوم بُرائیوں پر ڈٹی رہی۔ اور اب اِس بد بخت قوم نے آپ علیہ السلام کو یہ جواب دینا شروع کردیا کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈرا رہے ہو وہ ہم پر لے آﺅ۔ اب حضرت لوط علیہ السلام جسے بھی سمجھاتے تھے تو وہ یہی کہتا تھاکہ میں تو وہی کروں گا جو کررہا ہوں۔ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمیں جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو اُسے لے آﺅ۔ اب ہم عذاب دیکھ کر رہیں گے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی دعا
اللہ تعالی نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ۔ ترجمہ۔”حضرت لوط علیہ السلام نے دُعا کی۔ اے میر ے رب پروردگار، اِس مفسدقوم پر میری مد د فرما۔ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 30 ) جب اِن بدبختوں نے یہی رویہ اختیا ر کرلیا۔ کہ جسکو بھی حضرت لوط علیہ السلام سمجھانے لگتے تو وہ یہی کہتا کہ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب سے ہمیں ڈرا ہے ہو وہ عذاب ہم پر لے آﺅ۔ جب قوم سدوم کاہر فرد عذاب کی مانگ کر نے لگا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگی۔ کہ اے اللہ تعالیٰ ، میں نے ہر طریقے سے اِس قوم کو سمجھانے کی کوشش کی ۔لیکن اِن کی بدبختی کہ یہ میری بات کو سمجھنے کے بجائے مجھ سے عذاب کی مانگ کررہے ہیں ۔ او رزمین پر فساد پھیلا رہے ہیں ۔اے ا للہ تعالیٰ اِن فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اجازت اور حُکم سے سرزمین ”غورزغر“ کے ایک شہر سدوم میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔سدوم اس علاقے کا مرکزی شہر تھا۔ جسکے مضافات میں کئی دوسری بستیاں ،چراگاہیں اور چھوٹے چھوٹے شہر بسے ہوئے تھے۔سدوم کے لوگ علاقہ بھر میں فاجر وفاسق اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور دین کے منکر تھے۔ نہ تو ان کے اجتماعی طور طریقے اچھے تھے۔اور نہ ہی اِن کے انفرادی کردار بہتر تھے۔ وہ لوگوں کو لوٹتے تھے۔ سرعام فسادکرتے تھے۔لیکن کوئی اُن کو روکنے والا نہیں ہوتا تھا۔ اُنھوں نے ایک ایسی بُرائی کی بنیاد ڈالی جو بنی آدم (حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد)میں اِس سے پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی ۔وہ مردوں سے بد فعلی کرتے تھے۔اور عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے۔ جن سے نکاح کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اُنھیں اللہ وحدہُ لاشریک کی طرف بُلایا۔ اور اُنھیں گناہوں اور فحش کاموں سے روکا۔ اُنھیں بتایاکہ یہ قباحتیں اور بُرائیاں انسان کو زیب نہیں دیتیں ۔لیکن اُن گمراہی اور سرکشی میں اضافہ ہی ہوتا گیا ۔کسی نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں سُنی ۔وہ فسق وفجور اور کفر کی راہوں پر گامزن رہے۔اس کے بعد علامہ ابن کثیر دوسری جگہ لکھتے ہیں ۔ اگرکوئی اُنھیں نصیحت کی بات کر تا بھی تو اُسے مذاق میں اُڑا دیتے تھے۔ نہ تو اُنھیں اپنے پچھلے گناہوں پر ندامت تھی اور نہ ہی مستقبل میں بُرائیوں اور گناہوں کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ تھا۔وہ حضرت لوط علیہ السلام کو کہا کرتے تھے ۔ترجمہ۔”اے لوط (علیہ السلام) ،اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آﺅ۔©©“ (سورہ العنکبوت ) اِن بدبختوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ وہ عذاب الیم لے آئیں اور جس ہلاکت کی باتیں کرتے ہو اُسے کر گزرو۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑک اُٹھی اور اُسکی صفت عضب جوش میں آگئی اور اللہ تعالیٰ نے دُعا قبول کرلی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں