02 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 2
حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب
حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو گھر لے آئے ۔ وہ حضرت یوسف علیہ السلام پر بہت توجہ دیتے تھے کیوں کہ لگ بھگ دس سال بعد انہیں بیٹا واپس ملا تھا۔ ا س کے علاوہ آپ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ لیکن اس سے پہلے وہ ان کی آزمائش لے گا۔ لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ آزمائش کس طرح لے گا۔ اسی وجہ سے وہ حضرت یوسف علیہ السلام پر اور زیادہ توجہ دینے لگے۔ اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا تو وہ خواب اپنے والد محترم کو سنایا۔ اللہ تعالیٰ ا س خواب کے بارے میں فرماتا ہے۔ ترجمہ ” جب یوسف (علیہ السلام ) نے اپنے والد محترم سے عرض کیا۔ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر4) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کریم ابن کریم ابن کریم ابن کریم حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم علیہم السلام ہیں۔
سجدہ کرنے والے ستاروں کے نام
حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنا خواب بتایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی عالم ( دوسری روایات میں اس کا نام بستانہ بتایا گیا ہے) حاضر ہوااور عرض کی۔ یا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے ان ستاروں کے نام بتائیں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھے تھے کہ وہ انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک اس یہودی عالم کی طرف اٹھایا اور فرمایا۔ اگر میں تمہیں ان ستاروں کے نام بتادوں تو تم اسلام قبول کر لو گے؟ اس نے کہا ۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان ستاروں کے نام حرثان ، الطارق، الذیال ، ذوالکثتان، قابس، دثان، ہودان ، الفیلق، المصبح، الضروح، الفرنیح، الضیا اور النور ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آسمان کے افق میں ان ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا۔ یہ منتشر امر ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو بعد میں جمع فرمائے گا۔ یہودی نے کہا۔ اللہ کی قسم ، ان ستاروں کے واقعی یہی نام ہیں۔
کس عمر میں خواب دیکھا
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب خواب دیکھا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک کیا تھی۔ اس کے بارے میں امام فخر الدین محمد بن عمر رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بچپن میں یہ خواب دیکھا تھا۔ لیکن وہ کون سا معین زمانہ تھا اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے سات سال کی عمر میں خواب دیکھا کہ گیارہ لاٹھیاں ایک دائرہ کی شکل میں زمین میں مرکوز ہیں اور ایک چھوٹی سی لاٹھی نے ان گیارہ بڑی لاٹھیوں کو نگل لیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب اپنے والد محترم کو بتایا تو انہوں نے فرمایا۔ کہ خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا۔ پھر بارہ سال کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پھر یہ خواب اپنے والد محترم کو بتایا تو انہوں نے فرمایا۔ اپنے بھائیوں کو یہ خواب بیان نہیں کرنا۔ ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر کو مکمل ہونے میں چالیس سال کا عرصہ لگا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں اسّی 80سال کا عرصہ لگا۔
اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے والد محترم کو اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے جو فرمایا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ترجمہ ” یعقوب ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے میرے پیارے بیٹے اپنے ا س خواب کا ذکر اپنے بھائیوں اسے نہیں کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی فریب کریں۔ اور شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں برگذیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں معاملہ فہمی( خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا۔ اور اپنی نعمت تمہیں بھر پور عطا فرمائے گا۔ اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی عطا فرمائے گا ۔ جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تمہارے دادا اور پر دادا یعنی ابراہیم (علیہ السلام ) اور اسحاق ( علیہ السلام ) کو بھی بھر پور نعمت عطا فرمائی تھی۔ یقینا تمہارا رب بہت بڑے علم والا اور زبردست حکمت والا ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر5اور 6) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عہ فرماتے ہیں کہ گیارہ ستارے حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ اور سورج اور چاند آپ علیہ السلام کے والد اور والدہ ہیں۔ اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ نے حسن کا ثلث ( تیسرا حصہ ) عطا فرمایا تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان ستاروں سے مراد ان کے بھائی اور سورج اور چاند والدین ہیں۔
اللہ تعالیٰ نبوت کا انعام عطا فرمائے گا
حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹے کی زبانی خواب کا بیان سن کر سمجھ گئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کواللہ تعالیٰ عروج عطا فرمائے گا۔ اور ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ سجدہ کریں گے۔ یہ لکھنے کے بعد مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی آگے لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ تم یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہیں سنانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس خواب کو سن کر گیارہ کے عدد پر غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ تم کواللہ تعالیٰ عروج عطا فرمائے گا۔ اور وہ لوگ تمہارے مقابلہ میں نیچے رہیں گے۔ اور خواب کی تعبیر سے متاثر ہو کر وہ کوئی ایسی تدبیر نہ کر بیٹھیں جس سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو پہلے تو یہ نصیحت کی کہ تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان مت کرنا۔ اور فرمایا۔ کہ میں سمجھ رہا ہوں اور یقین کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرمالے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمائے گا۔ اور تم پر اپنا انعام پورا کرے گا۔ جس میں نبوت کا عطا فرمانا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ تم پر اور آلِ یعقوب ( بنی اسرائیل کے انبیائے کرام) پر اپنا انعام کامل فرمائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے داد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور تمہارے دادا حضرت اسحاق علیہ السلام پر اپنا انعام کامل فرمایا ہے۔ علامہ ابن کثیر سورہ یوسف کی آیت نمبر6کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلا م کو بتا رہے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں کون سے مرتبے عطا فرمائے گا۔ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی ہے۔ اسی طرح وہ تمہیں بلند مربتہ نبوت بھی عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھر پور نعمت دے گا۔ یعنی نبوت جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی عطا فرما چکا ہے۔ جو تمہارے دادا اور پر دادا تھے اور اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ کہ نبوت کے لائق کون ہے؟
بھائیوں کا حسد
حضرت یعقوب علیہ السلان نے خواب سنا تو سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کےلئے حضرت یوسف علیہ السلام کو چن لیا ہے۔ اسلئے ان پر اور زیادہ توجہ دینے لگے ۔ اس بات کو تمام بھائیوں نے محسوس کرلیا۔ اور انھیں لگا کہ (نعوذباللہ ) ابا جان ہم سے کم اور یوسف (علیہ السلام )سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ابلیس شیطان تو ہمیشہ انسان کی گھات میں لگا ہوا ہے۔ اس نے جب یوسف علیہ السلام کے خلاف تمام بھائیوں کے احساس کو دیکھا تو اسے اور ہوا دینے لگا۔ اور آپ علیہ السلام کے خلاف کے خلاف طرح طرح کے وسوسے ان کے دل و دماغ میں بھرنے لگا اور شیطان اپنی چال میں کامیاب ہونے لگا۔ اور تمام بھائیوں نے مل کر یہ طئے کیا کہ کسی بھی طرح یوسف (علیہ السلام )کو ابا جان سے دور کردیا جائے تو ابا جان پھر ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ترجمہ”یقناً یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کیلئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ جب انھوں نے (آپس میں ) کہا کہ یوسف اور اسکا بھائی (بن یامن) ہمارے مقابلے میں ہمارے والد محترم کو زیادہ پیارے ہیں ۔ جب کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا جان صریح غلطی کررہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام ) کو تو مار ہی ڈالو یا پھر کسی نا معلوم جگہ پر پھینک آﺅ۔ تاکہ ہمارے والد محترم کی توجہ ہماری طرف ہوجائے۔ اسکے بعد ہم نیک بن جائیں گے۔ ان بھائیوں میں سے ایک نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو والد محترم سے دور کرنا چاہتے ہو تو ایسا ہی کرو۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 7سے 11تک) ابلیس شیطان لگاتار حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بہکانے کی کوشش کرتا رہا۔ آخرکار اسے کامیابی ملی اور بھائیوں نے آپ علیہ السلام کے خلاف واضح کاروائی کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ علامہ ابن کثیر نے آیت نمبر 5 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے تاکید کردی کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے نہیں دہرانا۔ کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں سر بلندی عطا فرمائے گا۔ اور بھائی اس سر بلندی کے بارے میں جان کر ابلیس شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے تم سے دشمنی کرنے لگ جائیں گے۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نا معقول حرکت کرنے لگ جائیں گے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف بھائیوں کا مشورہ
سورہ یوسف کی آیت نمبر 9اور10کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پھر آپس میں کہنے لگے کہ ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، یوسف کا پتہ ہی کاٹ دو۔ نہ وہ رہے گا اور نہ ہی ہماری آنکھوں کا کانٹا بنے گا۔ جب ہم ہی ہم نظر آئیں گے تو ابا جا ن کی محبت صرف ہمارے لئے رہے گی۔ اب اسے والد محترم سے دور ہٹانے کی دو سورتیں ہیں۔ یا تو اسے مار ڈالو۔ یا پھر ایسی دور دراز جگہ پر پھینک آﺅ کہ اسکی کوئی خبر ہی نہ مل سکے۔ اور یہ واردات کرکے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ یہ سن کر ایک بھائی نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اسکا نام روبیل تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ یہودا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ شمعون تھا۔ اس نے کہا۔ بھئی یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ اور نا انصافی ہے بے وجہ بے قصور کو صرف عداوت کی وجہ سے ناحق اسکا خون اپنے سر پر لے رہے ہو۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے۔ اور طئے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہہ میں پھینک دیں گے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بیت المقدس کا کنواں تھا۔ انھیں یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ مسافر وہاں سے گزرے اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں ۔ پھر کہاں وہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دے کر کام نکل رہا ہے تو زہر کیوں دیا جائے؟ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپس میں اس موضوع پر بات کررہے تھے کہ یوسف(علیہ السلا م)کے لئے ہما رے والد محترم کی محبت زیادہ ہے اور اس محبت کو ختم کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آرہی ہے تو ابلیس شیطان ایک بوڑھے کی شکل میں ان بھائیوں کے پاس آیا اور بولا کہ میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں۔ یوسف ( علیہ السلام ) چاہتا ہے کہ تمہیں غلام بنا لے۔ اور تمہارے والد محترم بھی تم کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تدبیر یہ ہے کہ اس کو قتل کر دو یا بیابان میں پھینک آﺅ تا کہ درندہ کھا جائے۔ کچھ بھائیوں نے کہا۔ یہ تو گناہِ کبیرہ ہے ۔ تو ان پسند کرنےوالے بھائیوں نے اگلی بات کہی کہ بعد میں نیک بن جانا۔
بھائیوں نے والد محترم سے اجازت لی
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا۔ ابا جان ہم بکریاں چرانے اور شکار کرنے جا رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ ہمارے چھوٹے بھائی یوسف ( علیہ السلام )کو بھی بھیج دیں۔ تا کہ اسے بھی لطف آئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بیٹو ، مجھے ڈر ہے کہ تم لوگ شکار اور دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاﺅ گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت کا فائدہ اٹھا کر بھیڑیا ، یوسف ( علیہ السلام ) پر حملہ کر دے۔ یہ سن کر سب بھائی ایک ساتھ کہنے لگے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اور اگر بھیڑیا یوسف ( علیہ السلام )پر حملہ کرے گا تو ہم سب بھائی مل کر اس کی حفاظت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ ابا جان ، آخر آپ علیہ السلام یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے۔ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ کل آپ علیہ السلام ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے) فرمایا۔ اسے تمہارا لے جانا مجھے تو بہت صدمہ دے گا۔ اور مجھے کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی ( طاقتور) جماعت کی موجودگی میں بھیڑیا اگر اسے کھا جائے تو ہم تو بالکل نکمّے ثابت ہوں گے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر11اور 14تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھیڑیے کا خطرہ یا تو اس وجہ سے ہو اکہ ملک کنعان میں بھیڑیوں کی کثرت تھی۔ یا اس وجہ سے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ کسی پہاڑی کے اوپر ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام اس پہاڑی کے دامن میں نیچے ہیں۔ اچانک دس بھیڑیوں نے ان کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کرنا چاہا۔ مگر ایک بھیڑیے ہی نے مدافعت کر کے چھڑا دیا۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین نگل گئی۔ جس کی تعبیر بعد میں یہ ہوئی کہ دس بھیڑیے دس بھائی تھے۔ اور جس بھیڑیئے نے مدافعت کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا وہ بڑا بھائی یہوداہ ( یاروبیل) تھا۔ اور زمین کا نگل جانا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسی خواب کی وجہ سے خود ان کے بھائیوں کی طرف سے انہیں خطرہ تھا۔ لیکن مصلحتاً آپ علیہ السلام نے پوری بات ظاہر نہیں فرمائی۔
بھائیوں نے حفاظت کا وعدہ کیا
سورہ یوسف کی آیت نمبر13، 14کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف( علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ سیر کے لئے بھیج دیں جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاﺅ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر خیرکے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی سیرت کی اچھائی کا بیان تھی۔ اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوٰة و سلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے کہ تم اپنی بکریوں کو چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہواور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اسی بات کو انہوں نے لیا ۔ اور دماغ میں بسا لیا۔ کہ یہی عذر ٹھیک رہے گا۔ یوسف ( علیہ السلام ) کو الگ کر کے ابا جان کے سامنے ہی گھڑنت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا جان آپ علیہ السلام یہ کیا سوچ رہے ہیں ہماری جماعت اتنی قوی اور طاقت ور موجود ہے۔ اور اس کے باوجود ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھا جائے؟ بالکل ناممکن ۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر ہم سے بے کار اور نکما اور نقصان والا کوئی نہیں ہوگا۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں کہ بھائیوں نے کہا۔ اے ہمارے والد محترم ہماری باتوں پر اعتماد فرمائیے۔ اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ بھیج دیں گے۔ کل ہماری زمینوں پر کہ وہ جنگلی پھل خوب کھا ئے گا۔ اور اپنی مرضی سے بلا روک ٹوک خوب بھاگے دوڑے گا پر ندوں اور جانوروں کے پیچھے خوش ہوکر ۔ اور کچھ تجربہ اور صحت حاصل کرے گا۔ آپ علیہ السلام ان کے چھوٹے ہونے اور نا تجربہ کار ہونے کی فکرنہ کریں۔ اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور ہم سب بھائی اس کی حفاظت کریں گے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کا سلوک
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد محترم سے آپ علیہ السلام کی حفاظت کا وعدہ کر کے لے چلے۔ جب سنسان علاقے میں پہنچے تو ایک بھائی نے آپ علیہ السلام کو مارا۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ اور تیرہ یا چودہ سال کی عمر ہو گی۔ بن یامن آپ علیہ السلام سے بھی چھوٹے تھے۔ اسی لئے وہ گھر پر ہی تھے۔ آپ علیہ السلام دوسرے بھائی کے پاس گئے تو اس نے بھی مارا۔ اس طرح آپ علیہ السلام جس بھائی کے پاس جاتے تھے وہ مارتا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔ بھائیوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بات سن کر کہا کہ آپ علیہ السلام کو یہ خوف اور خطرہ بھی عجیب ہے ۔ ہم دس بھائیوں کی قوی جماعت اس کی حفاظت کے لئے موجود ہے۔ اگر ہم سب کے ہوتے ہوئے بھی اس کو بھیڑیا کھا جائے تو ہمار ا وجود ہی بے کار ہو جائے گا۔ اور پھر ہم سے کسی کام کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی پیغمبرانہ شان کی وجہ سے معلوم کرلینے والے خطرے کو اپنی اولاد کے سامنے نہیں کھولا۔ کہ مجھے تو خود تم سے ہی خطرہ ہے۔ اسکی یہ وجہ تھی کہ سب اولاد کی دل شکنی ہوجاتی اور دوسری یہ وجہ تھی کہ ایسا کہنے سے بھائےوں کے دل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف دشمنی اور شدید ہوجاتی ۔ اور اگر اس وقت چھوڑ دےتے تو پھر کسی وقت کسی اور بہانے سے قتل کردیں گے۔ اسی لئے اجازت دے دی مگر بھائےوں سے مکمل عہد و پیمان لیا کہ اسکو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اور بڑے بھائی روبیل یا یہودا کو خصوصیت سے ہدایت دی کہ تم اسکی بھوک پیاس اور دوسری ضرورتوں کی پوری طرح خبر گیری کرنا اور جلدی واپس لانا۔ بھائیوں نے اپنے والد محترم کے سامنے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے کاندھوں پر بٹھالیا۔ اور باری باری سب بھائی اٹھاتے رہے۔ کچھ دور تک حضرت یعقوب علیہ السلام بھی ان کو رخصت کرنے کےلئے ساتھ آئے۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی تاریخی روایات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب یہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تو اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام جس بھائی کے کاندھے پر سوار تھے۔ اس نے آپ علیہ السلام کو زمین پر پٹک دیا ۔ آپ علیہ السلام پیدل چلنے لگے۔ مگر کم عمر تھے اسلئے انھیں بھائیوں کا ساتھ دینے کےلئے دوڑنا پڑ رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے دوسرے بھائی کے پاس گئے اس نے آپ علیہ السلام کو طمانچہ مارا اور دھتکار دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام اپنے ہر بھائی کے پاس جاتے تھے تو مارتا تھا اور کہتا تھا۔ تونے جو گیارہ ستارے اور چاند اور سورج کو اپنے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ان کو پکار وہی تیری مدد کریں گے۔ امام قرطبی نے اسی وجہ سے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ بھائیوں کو کسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کا علم ہوگیا تھا۔ اور وہ خواب ہی بھائیوں کی شدتِ غیظ و غضب کا سبب بنا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں