01 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 1
قارئین کرام ، حضرت لوط علیہ السلام کے حالات بیان کرنے کے دوران ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات انشاءاللہ آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی مدد سے ہم اپنا وعدہ پورا کررہے ہیں۔ان تینوں انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات تسلسل سے ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس لئے آپ کو ادھورا پن نہ لگے یہی ذہن میں رکھ کر ان تینوں کے حالات ہم ایک ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی بشارت
حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی بشارت کے بارے میں ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام (سلسلہ نمبر 7) اور حضرت لوط علیہ السلام (سلسلہ نمبر8) میں ہم بتا چکے ہیں۔ یہاں ہم صرف قرآن پاک کی آیات پیش کرر ہے ہیں۔ تاکہ ادھورے پن کا احساس نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ہمارے بھےجے ہوئے قاصد ابراہیم( علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لیکر پہونچے اور سلام کیا۔ انھوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغےر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ جب دیکھا کہ وہ لوگ (مہمان)کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں تو دل ہی دل میں پریشان ہوئے۔ انھوں نے کہا۔آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ان کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) جو بےوی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ تو ہم نے (یعنی ہمارے قاصدوں نے) اسے اسحاق( علیہ السلام )اوران کے بعد (ان کے بےٹے) یعقوب (علیہ السلام ) کی بشارت دی۔ وہ کہنے لگی ہائے میری کمبختی ، مجھے اولاد کیسے ہوسکتی ہے جبکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور مےرے شوہر کی عمر مجھ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تو یقینا بڑی عجےب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا۔ تم اللہ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔ بےشک وہ ہی تمام حمد و ثنا کے لائق ہے اور بڑی شان والا ہے۔ “(سورہ ہود آےت نمبر69سے 73تک)اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ۔” انھیں ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا حال سنا دو۔ جب انھوں نے ان کے پاس آکر سلام کیا تو انھوں نے کہا۔ ہمیں تو تم سے خوف آرہا ہے۔ انھوں نے کہا۔ آپ (علیہ السلام ) خوف نہ کھائے ۔ ہم آپ (علیہ السلام ) کو ایک علیم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں ۔ (یعنی علم والے بیٹے کی ) آپ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم بشارت دے رہے ہو۔ یہ بشارت تم کس بنا پر دے رہے ہو؟ انھوں نے کہا۔ ہم آپ (علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) سچی بشارت دے رہے ہیں۔ اور آپ ( علیہ السلام ) مایوس لوگوںمیں شامل نہ ہوں۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا۔ اپنے رب (اللہ تعالیٰ ) کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ اور بہکے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر 51سے 56تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاء میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ ”اور ہم نے اسے اسحاق علیہ السلام عطا فرمایا اور پھر مزید یعقوب علیہ السلام بھی عطا فرمایا۔( سورہ الانبیاء آیت نمبر 72)
حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بیٹے کی بشارت دی اور فرمایا کہ وہ علم والا ہوگا۔ یہ بشارت آپ علیہ السلام کو اس وقت ملی جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بشارت دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا کہ اسکا نام اسحاق علیہ السلام ہوگا۔ یعنی نام بھی اللہ تعالیٰ نے رکھا۔ اور بیٹے کی بشارت کے ساتھ ساتھ پوتے کی بھی بشارت بھی دی اور اسکا نام بھی رکھ دیا کہ اسکا نام یعقوب علیہ السلام ہوگا۔ اور اگلے سال ہی حضرت اسحاق علیہ پیدا ہوئے۔ اور اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر لگ بھگ چودہ برس تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی سارہ رضی اللہ عنما اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ملک کنعان(حالیہ فلسطین) کے ایک شہر”الخلیل“ میں رہائش پذیر تھے۔ الخلیل کو حبرون بھی کہا جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں مقیم رہیں۔ جب حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ تم کسی کنعانی لڑکی سے نکاح مت کرنا۔ بلکہ ہمارے رشتہ دار کی لڑکی سے نکاح کرنا۔ حضرت ابراہم علیہ السلام کے دو بھائی تھے۔ ایک کا نام ہاران اور دوسرے کا نام ناحور تھا۔ ناحور کے بیٹے کا نام بتویل تھا اور بتویل کے بیٹے کانام لابان تھا۔ اور بیٹی کا نام رفقاء تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ رفقاء بنت بتویل سے نکاح کریں۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے والد محترم کے حکم کو پورا کرتے ہوئے رفقاء بنت بتویل سے نکاح کرلیا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کی پیدائش
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لگ بھگ تیرہ 13 بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ ان کے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قنطورہ سے نکاح کیا۔ ان سے چھ بیٹے زمران ، یشقان ، مادان ، مدین، شیاق اور شوح پیدا ہوئے۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجور بنت ارہیر سے نکاح کیا۔ اور ان سے پانچ بیٹے ہوئے۔ کیسان ، شورخ ، امیم ، موطان اور نافس پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے والد کے ساتھ الخلیل میں رہے۔ اور باقی بیٹے الگ الگ علاقوں میں آباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی اولاد سے نوازا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کے بیانات کے مطابق حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی رفقاء بنت بتوابیل سے نکاح کیا تو اس وقت ان کی عمر 40چالیس سال تھی۔ اور ان کی بیوی بانجھ تھی۔ لیکن حضرت اسحاق علیہ السلام نے جب اپنی بیوی کے حق میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو اسطرح قبول کیا کہ انھیں جڑواں یعنی ایک ساتھ دو بیٹے عطا فرمائے۔ اسطرح آپ علیہ السلام کو جڑواں بیٹے عیصو اور یعقوب پیدا ہوئے۔ عیصو پہلے پیدا ہوئے پھر یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے پہلے پیدا ہونے والے بیٹے کا عیصو رکھا۔ اور بعد میں پیدا ہونے والے بیٹے کا نام یعقوب رکھا۔ اور یعقوب کے معنی ہے ۔پیچھے آنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسرائیل کا لقب عطا فرمایاتھا۔ اور آپ علیہ السلام کی اولاد بنو اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔
عیص (عیصو) کا نکاح
جب عیص اور حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔ ان کی نوجوانی میں دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلالیا۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور آپ علیہ السلام ملک کنعان میں اپنے والد محترم کے کام (اسلام کی دعوت) کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جبکہ ان کے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی نبوت سے سرفراز فرمادیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ میں نبوت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بیٹے عیص کو پیار سے عیصو کہہ پکارتے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام اکثر دونوں بھائی ایکدوسرے سے ملاقات کرتے تھے۔ جب عیصو جوان ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی سے فرمایا ہے اپنے بڑے بیٹے کا نکاح میری بیٹی سے کردو۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی کے حکم کو پورا کیا۔ اور عیصو کا نکاح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹی بسمہ بنت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کردیا۔ ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا جن کا نام عیصو نے روم رکھا۔اور روم بن عیص کی اولاد بنو اصغر(رومی) کہلائی۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کو نبوت کی بشارت
حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے عیص(عیصو) کا نکاح اپنے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹی سے کردیا۔ تو اپنے دوسرے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کے نکاح کی فکر ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بےٹے کو حکم دیا کہ وہ کسی کنعانی عورت سے نکاح نہ کریں بلکہ اپنے ماموں لابان بن بتویل یا ناحور کے پاس جائیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے والد کے حکم کو پوراکرنے کےلئے اپنے ماموں کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک جگہ قیام فرمایا ۔ اور ایک پتھر سے ٹیک لگا کر یا تکیہ بنا کر سوگئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا آسمان سے فرشتے نیچے اتر رہے ہیں اور اوپر چڑھ رہے ہیں۔ اور ایک فرشتے نے آکر آپ علیہ السلام کو بشارت دی ۔کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت بھی دی کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے سلسلے کو جاری رکھے گا۔ اس جگہ کا نام حجر اسلئے پڑ گیا تھا۔ بعد میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس جگہ کا نام ایل رکھ دیا۔ جسکے معنی بیت اللہ ہوتا ہے ۔ اور انھوں نے وہاں ایک مسجد تعمیر فرمائی۔ جو آج بیت المقدس کے نام سے مشہور ہے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کا نکاح
حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے ماموں لابان کے پاس حران میں آئے اور انھےں اپنے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کا پیغام دیا۔ تو ان کے ماموں لابان نے ان سے فرمایا ۔ کیا نکاح اور مہر کےلئے تمھارے پاس کچھ مال ہے؟ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے۔ لابان کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی کا نام لیا اور چھوٹی بیٹی کا نام راحیل تھا۔ لیا عام شکل و صورت کی تھی اور نظر بھی کچھ کمزور تھی۔ جبکہ راحیل بہت ہی خوبصورت تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے چھوٹی بیٹی کو پسند کیا۔ لیکن ان کے ماموں لابان نے کہا کہ میں پہلے بڑی بیٹی کا نکاح کروں گا۔ اور اگر تمھیں راحیل سے نکاح کرنا ہے تو اس کی ایک شرط یہ ہے کہ پہلے تمھیں لیا سے نکاح کرنا ہوگا۔ اور اسکا مہر یہ ہوگا کہ تم سات سال میری بکریاں چراﺅ گے۔ اسکے بعد راحیل سے نکاح ہوگا اور اسکا مہر یہ ہوگا کہ تم سات سال اور میری بکریاں چراﺅ گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس شرط کو منظور کرلیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح جائز تھا۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام کے بعد دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح حرام کر دیا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں بھی یہی ہے ۔ ہاں اس بات کی اجازت ہے کہ اگر ایک بہن نکاح میں ہے اور اسکا انتقال ہوگیا تو دوسری بہن سے نکاح کرسکتا ہے۔
عیصو رومیوں کے باپ
حضرت یعقوب علیہ السلام نے وعدہ کے مطابق بکریاں چرائیں اور جب مدت پوری ہوگئی تو آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں کو لیکر گھر واپس جانے کی اجازت اپنے ماموں سے طلب کی ۔ ان کے ماموں لابان نے اپنی دونوں بیٹیوں کی خدمت کےلئے ایک ایک کنیز دی۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو گھوڑے ،اونٹ اور کافی بکریاں دیں۔ ان سب کو لیکر حضرت یعقوب علیہ السلام گھر واپس آئے اور بڑے بھائی نے گرم جوشی سے چھوٹے بھائی کا استقبال کیا۔ اور دونوں بھائی اپنے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ رہنے لگے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر ایک سو ساٹھ 160سال ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلوالیا۔ عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دادی سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے بازو میں اپنے والدِ محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کو الخلیل میں دفن کردیا۔ الخلیل کو حبرون بھی کہا جاتا ہے۔ والد محترم کے انتقال کے بعد عیصو کا دل ملک کنعان سے اچاٹ ہو گیا ۔ اور چھوٹے بھائی کو فلسطین میں چھوڑ کر دوسرے علاقے میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے عیصو کی اولادمیں بہت برکت دی اور ان کی نسل بڑھتے بڑھتے ساحل سمندر اور اسکندریہ کی سرحد تک بلکہ اس سے بھی آگے سمندر پار کر کے روم تک پہنچ گئی۔ اور روم میں خوب پھولی پھلی۔ اسی لئے عیصو کو رومیوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ اور رومی چونکہ بنی اسماعیل ( حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد) اور بنی اسرائیل ( حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ) کے بھائی ہیں۔ اسی لئے انہیں عرب میں عام طور سے بنو اصغر کہا جاتا تھا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد اور لقب ” اسرائیل“
حضرت یعقوب علیہ السلام کے ماموں لابان نے اپنی بڑی بیٹی لیا کو جو کنیز دی تھی اس کا نام زلفی تھا۔ اور چھوٹی بہن راحیل کو جو کنیزدی تھی اس کا نام بلہی تھا۔ دونوں بہنوں نے اپنی کنیزوں کو حضرت یعقوب علیہ السلام کو ہبہ کر دیا۔ ان کنیزوں سے بھی آپ علیہ السلام کو اولادیں ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کی کئی بیٹیاں تھیں۔ اور بارہ 12بیٹے ہیں۔ ان کے نام روبیل، یہود، شمعون ، لاوی، لیالون، یشحریا یسحر، دان ، یفتامی، جاد، حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہیں۔ ان میں سے حضرت یوسف علیہ السلام علیہ السلام اور بن یامن کی والدہ راحیل ہیں۔ اور باقی دوسرے بیٹے لیا اور دونوں کنیزوں کے بیٹے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی اس عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ” اسرائیل“ کا لقب عطا فرمایا ہے۔ اسرائیل کا معنی ہوتا ہے ۔ بہت زیادہ عبادت گزار بندہ۔ اسی لقب کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد” بنی اسرائیل“ کہلائی۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا بچپن
حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کے دس بھائی بڑے تھے۔ اور صرف بن یامن ان سے چھوٹے تھے۔ تمام بھائیوں میں حضرت یوسف علیہ السلام سب سے خوب صورت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ حسن عطا فرمایا تھا کہ ان سے پہلے کسی کو نہیں عطا فرمایا تھا۔ اور ان کے بعد صرف سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی زیادہ خوب صورت ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات میں سب سے زیادہ خوب صورت بنایا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اور ان کی والدہ راحیل کو اللہ تعالیٰ نے حسن کا ایک بہت بڑا حصہ عطا فرمایا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دودھ پینے کی مدت پوری کر لی تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی تربیت کے لئے اپنی سب سے بڑی بہن کے حوالے کر دیا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام اپنی پھوپھی کی زیر نگرانی پرورش پانے لگے۔ ان کی پھوپھی ان سے بہت زیادہ محبت کرتی تھیں۔
پھوپھی نے محبت سے روک لیا
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی بڑی بہن کے پاس پرورش کے لئے بھیج دیا ۔ تا کہ دیہات کی صاف ستھری ہوا میں آپ علیہ السلام بڑے ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی تو اپنے پیارے بھتیجے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئی۔ انہیں اس پیارے بھتیجے سے بہت محبت ہو گئی۔ اور وہ آپ علیہ السلام کا بہت خیال رکھنے لگی۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر مبارک لگ بھگ سات یا آٹھ سال تھی تو حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو لینے کے لئے آئے تو بہن نے کہا بھائی! یہ تو ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے ایک دو ہفتہ رکھوں تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی بہن کی بات مان لی اور واپس چلے گئے۔
حضرت یوسف علیہ السلام والد محترم کی خدمت میں
حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی اپنے بھتیجے سے بہت محبت کرتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ کسی بھی تدبیر سے اپنے بھتیجے کو روک لیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ایک کمر بند تھا جو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی کو دیا تھا۔ کیوں کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پہلی اولاد تھیں۔ انہوں نے وہ کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر میں باندھ دیا اوراوپر سے کپڑے پہنا دیئے۔ اس کے بعد گھر میں اعلان کیا کہ میرے والد کا کمر بندگم ہو گیا ہے۔ سب لوگ اسے ڈھونڈ نے لگے۔ ہر فرد کی تلاشی لی گئی تو وہ کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر سے بندھا ہو املا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں یہ قاعدہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز چرائے تو چوری کرنے والا جس کی چیز چوری کرے گا تو وہ اس کا غلام بنا لیا جائے گا۔ اسی قاعدے کی بنا پر آپ علیہ السلام کی پھوپھی نے کہا۔ اب یوسف ( علیہ السلام )پر میرا اختیار ہے۔ جب حضرت یعقوب اپنے بیٹے کو لینے آئے تو بڑی بہن نے تمام واقعہ بتایا تو آپ علیہ السلام مجبور ہو گئے۔ اور خالی ہاتھ واپس چلے گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی کو احساس تھا کہ انہوں نے غلط کام کیا ہے۔ اس لئے جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے تمام رشتہ داروں اور خاندان والوں کو بلایا اور یہ اقرار کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ اور غلطی میری ہے اس کے لئے مجھے معاف کر دیں۔ اور ان کا انتقال ہو گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اس وقت بارہ سال تھی۔ اور آپ علیہ السلام کو ان کے والد محترم یعقوب علیہ السلام اپنے گھر آئے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں