01 حضرت لوط علیہ السلام
سلسلہ نمبر 8
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 1
قارئین کرام ،اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حالات پیش کر چُکے ہیں ۔اسکے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کرنا تھا ۔ لیکن اُسے روک کر ہم آپکی خدمت میں حضرت لوط علیہ السلام کے حالات پیش کر رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ حالات حضرت ابراہیم علیہ کی زندگی میں ہی پیش آئے تھے ۔ اس لئے ہم پہلے حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر پیش کر رہے ہیں ۔ تاکہ تسلسل قائم رہے اور ذہین میں کوئی اُلجھن پید ا نہ ہو۔ اسکے بعد ہم حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے ۔ کیونکہ اِ ن کے حالات ، حضرت لوط علیہ السلام کے بعد پیش آئے ہیں۔
حضرت لوط علیہ السلام کا سلسلئہ نسب
حضرت لوط علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ اسلام ، حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بھائی ہاران بن تارخ کے بیٹے ہیں ۔جسے آذربھی کہا جاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے دو بھائی ہاران اور ناحور تھے ۔ اِس طرح حضرت لوط علیہ اسلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ۔حضرت لوط علیہ اسلام بن ہاران بن تارخ ۔اس طرح تارخ پر جاکر آپ علیہ السلام کا سلسلئہ نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مِل جاتا ہے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کے سگے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔
حضرت لوط علیہ السلام کی ہجرت
ٍایک روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کے باپ کانا م ہاران نہیں حران تھا۔ اور وہ ایک دوسرے علاقے میں جاکر بس گیا تھا اور اُسکے نام پر وہاں کی بستی کا نام حران پڑگیا تھا۔اور آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کرکے پہلے اپنے بھائی کے پاس گئے او اُسے اسلام کی دعوت دی ۔ اُس نے تو اسلام قبول نہیں کیا لیکن حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا علیہ السلام پر ایمان لے آئے ۔ اب حقیقت کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ ہرحال جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صر ف سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا اورحضرت لوط علیہ السلام ہی ایمان لائے ۔ اور اِن تینوں مقدس ہستیوں نے اللہ کے لئے ہجرت کی اور مِصر گئے ۔وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سید ہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا ملیں ۔ اور یہ چاروں اُس وقت کے ملُک کنعان جو بعد میں ملُک شام کا ایک صوبہ کہلایا اور اب مُلک فلسطین کہلاتا ہے ، اُسکی طرف ہجرت کرگئے ۔ راستے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحُکم دیا کہ وہ اپنے بھتیجے کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے قوم سدوم کی طرف بھیجیں تو اُنھوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو قوم سدوم کی طرف بھیج دیا۔
قومِ سدوم کا علاقہ
حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر تبیان القران میں لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جس علاقہ میں رہتی تھی اُس کو آج کل” شرق اردن “کہا جاتا ہے ۔یہ جگہ عراق اور فلسطین کے درمیان ہے ۔ توریت میں اس علاقے کے صدر مقام (راجدھانی) کا نام سدوم بتایا گیا ہے۔جو یا تو بحیرئہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا ۔ یاپھر اب بحیرئہ مردار ہی اس کی ایک یادگار کے طور پر رہ گیا ہے۔ جسے آج تک بحرلوط کہا جاتا ہے ۔اردن کے اُس جانب جہا ں بیحرئہ مُردار یا بحرلوط واقع ہے۔ اُس کے قر یب رہنے والوں کا اعتقاد ہے کہ یہ تمام حصہ جواب سمندر نظر آرہا ہے کسی زما نہ میں یہ خشک زمین تھا اور اِس پر شہر آباد تھے ۔ سدوم اور عامورا وغیرہ یہیں تھے ۔ جب قوم لوط پر عذاب آیا اوراس زمین کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور سخت زلزلے آئے ۔ تب یہ زمین تقریباًچار سو میڑ سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی اُبھر آیا ۔اس سے اسکا نا م بحر مُردار اور بحر لوط ہے۔اس زمانے کے محققین نے بحر مُردارکے ساحل پر تبا ہ شدہ بستیوں کے آثار دیکھ کر یقین کرلیا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے۔ جس کا اللہ اتعالیٰ نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے ۔ مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القران میں لکھتے ہیں ۔ یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی ۔جسے آج کل ”شرق اردن “کہا جاتا ہے ۔ اور عراق اور فلسطین کے درمیان میں واقع ہے ۔بائیبل میں اِس قوم کے صد ر مقام (راجدھانی ) کانام سدوم بتایا گیا ہے۔ جو تو بحرمُردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحر مُردار میں غرق ہوچکا ہے ۔ تلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ اُن کے چار بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس صرف باغ ہی باغ تھے ۔ جسکے جمال کو دیکھ کر انسا ن پر مستی طاری ہونے لگتی تھی ۔ مگر اب اس قوم کا نام ونشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے ۔اور یہ بھی متعین نہیں ہے اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں ۔ اب صرف بحر مُردار ہی ایک یادگار کے طور باقی رہ گیا ہے جسے آج کل بحر لوط کہا جاتا ہے۔
حضرت لوط علیہ لسلام کا اعلان نبوت
حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں ۔ اپنے چچا محترم کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام ،فلسطین اور مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے۔ پھر مستقل نبوت کے منصب پر سرفراز ہوکر اِس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے ۔ اہل سدوم کو اِس لحاظ سے اُن کی قوم کہا گیا ہے کہ غالباًاُن کا رشتہ داری کا تعلق اِس قوم سے تھا ۔ مولانا مفتی محمد شفیع تفیسر معارف القران میں لکھتے ہیں ۔حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ دونوں کا اصل وطن مغربی عراق میں بصرہ کے قریب ارض بابل کے نام سے معروف تھا۔ اِس میں بت پرستی پر عام رواج تھا۔خلیل اللہ علیہ السلام کا گھر انہ بُت پرستی میں مبتلا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہدایت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رسول بناکر بھیجا ۔ قوم نے مخالفت کی اورآگ میں ڈال دیا۔ خود باپ نے گھر سے نکل جانے کاحُکم دیا ۔ صرف بیوی سیدہ سارہ رضی اللہ عنھا اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ایمان لائے ۔بالآخر اُن دونوں کو لیکر ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی ۔ نہراُردن کے پاس پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حُکم سے ملک کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرما کر اردن اور بیت المقدس کے درمیان مقام سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ۔یہ علاقہ پانچ اچھے خاصے بڑے شہروں پر مشتمل تھا۔جن کے نام سدوم عمورہ ، ادمہ ،صبوبیم ار بالع یا صوغر تھے ۔ ان کے مجموعہ کوقران پاک نے ”موتفکہ“ اور” موتفکات “کے الفاظ میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔سدوم اِن شہروںکا دارلحکومت اور ”مر کذ“سمجھا جاتا تھا۔حضرت لوط علیہ السلام نے یہیں قیام فرمایا،زمین سرسبزو شاداب تھی،اورہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی۔مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے چچا کے ساتھ ہجرت کی اور تین لوگوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ فلسطین چلے گئے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام مُلک شام کے شہر حمص کے پاس ایک بستی اردن میں قیام پذیر رہے ۔ آپ علیہ السلام وہاں کی چار بستیوں کے بنی ہوئے ۔ ان کے نام سدوم ، آمور ، عامور ،صبویر ، برلین ہے۔ اِن میں سے ہر شہر کی آبادی ایک لاکھ جوان پر مشتمل تھی ۔بوڑھے ،بچے اور عورتیں اِن کے علاوہ تھے۔ سدوم سب سے بڑا شہر تھا وہیں حضرت لوط علیہ السلام نے قیام فرمایا ۔ انھی بستیوں کو” موتفکا ت “یعنی اُلٹی جانے والی بستیاں کہاگیا ہے ۔
قوم سدوم کی بُر ائیاں
حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جن بستیوں کی طرف نبی بناکر بھیجا ۔ یہ چار شہروں پر مشتمل تھیں ۔یعنی سدوم ،امورا،عامور اور صبویر۔ہر بستی میں ایک لاکھ جنگجوتھے ۔ اور ان میں سے سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔حضرت لو ط علیہ السلام نے اسی شہر میں سکونت اختیار فرمائی ۔ یہ شہر ملک شام کے شہروں میں سے ایک تھا اورفلسطین سے ایک دن اور ایک رات کی مسانت پر ہے۔قوم سدوم کے لوگ بہت امیر تھے اُن کے پانچوں شہروں میں پھل فروٹ اور اناجوں اور ہر قسم کی قدرتی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطافرمائی تھیں ۔ ہر قسم کی پیداوار کی فراوانی تھی ۔ان کے علاوہ یہ پانچوں شہر تجارتی شاہراہ پر واقع تھے۔ اور اِسی وجہ سے ان پانچوں شہروں میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں ۔ اِن منڈیوں میں دوسرے علاقوں کے لوگ اپنا مال فروخت کرتے تھے۔اورقوم ِسدوم کے یہاں پیدا ہوئے پھلوں اور دوسری چیزوں خرید کر لے جاتے تھے۔ اِسطرح قوم سدوم کا ہر شخص دولت مند تھا۔ اور دولت اور عیش وآرام نے اِس قوم میں طرح طرح کی بُرائیاں پیدا کردی تھیں۔مولانا محمد آصف قاسمی تفسیر بصیرت القران میں لکھتے ہیں ۔ کہ نعمتوں کی فراوانی اور دولت کی ریل پیل نے اِس قوم کو سرکش بنادیا تھا۔آگے لکھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں فرمایاہے کہ جب انسان دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے تو وہ سرکشی کرنے لگتا ہے۔ یہی حال سدوم کے رہنے والوں کا ہوا۔ وہ عیش وعشرت میں اتنے مُبتلاہوئے کہ زنا کاری کی نئی نئی راہیں ایجاد کرلیں ۔
قوم سدوم کی سب سے بڑی بُرائی
قوم سدوم طرح طرح کی بُرائیوں میں مُبتلا ہوگئی تھی۔ ابلیس شیطان نے اُنھیں ایسی ایسی بُرائیوں میں مُبتلا کر دیاتھاکہ ایک اچھا انسان اسکا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اِس قوم میں چوری کر نا عام ہوگیا تھا۔مسافروں کو ستانا اور اُن کو ذلیل کرنا اُن کے لئے عام بات تھی ۔اور غریبوںپر ظلم کرنا اُن کی عادت بن گئی تھی ۔اور سب بڑی برُائی اُن میں یہ آگئی تھی کہ مرد، مرد سے جنسی خواہش پوری کر تے تھے اور عورتیں ، عورتوںسے جنسی خواہش پوری کر تے تھے۔امام ااسحاق بن مبشراور امام ابن عساکرنے حضرت محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ قوم سدوم جب طرح طرح کی بُرائیوں میں مُبتلا ہوگئی تو ابلیس شیطان نے اِن کی سرکشی اور بُرائیوں کو دیکھ کر ایک انتہائی خوب صورت نوجوان لڑکے کی شکل میں اِن کی مجلس میں آیا ۔ اور اُن کووہ گناہ کرنے کی دعوت دی جواُن سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔ پھر اُنھوں نے اُس سے جنسی خواہش پوری کی ۔ پھر اسکے بعد تو دھیرے دھیر ے پوری قوم میں یہ بُرائی عام ہوگئی ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قوم سدوم کے گھروں اور باغات میں بے شمار پھل لگے ہوئے تھے۔ اور وہ پھل راستے کی جانب باہر لٹکے ہوئے تھے ۔ ایک مرتبہ اُن پر قحط آگیااو ر پھلوں کی قلت ہوگئی ۔ تو اُن کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اُنھوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ اگر تم اس ظاہر سامنے والے پھل کو مسافروں سے محفوظ رکھوگے تو اس میں تمھارے لئے عیش و خوشحالی ہوگی۔اُنھوں نے کہا ہم کون سی چیزکے سبب اس پھل کو بچاسکتے ہیں؟ تو اُنھوں نے کہا ۔ تم یہ اصول بنا کر کہ اپنے شہرمیں جس اجنبی شخص کو پکڑوتو اُس کے بارے میں یہ طریقہ اختیا ر کرو کہ تم اُس شخص کے ساتھ ہم جنسی (بد فعلی) کر و۔ کیونکہ جب تم اس طرح کروگے تو لوگ تمھارے شہرکی طرف نہیں آئیں گے۔ بس یہی وہ شئے ہے (جسکے ذریعے شیطان نے وسوسہ پیداکرکے ) جس نے اُنھیں اتنی بڑی بے حیائی کے ارتکاب پرا ُبھاراجس کا ارتکاب اس سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے نہیں کیا۔
قوم سدوم کے مرد اور عورت دونوں ہم جنس پرست تھے
قوم سدوم (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ) بہت ذیادہ بے حیائی اور برُائیوں میں مُبتلا تھی ۔ امام بیہقی اور امام ابن عساکر اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ قوم سدوم نے پہلے اپنی عورتوں کے پچھلے حصّے کو استعمال کیا اور چالیس برسوں تک استعما ل کرتے رہے ۔ پھر مردوں کے ساتھ ہم جنسی شروع کردی ۔قوم سدوم کے مرد تو بے حیائی اور اِس بُرے فعل میں مُبتلا تھے ہی اُن کی عورتیں بھی اُن کی طرح بے حیائی اور ہم جنسی میں مُبتلا تھیں ۔ امام ابن ابی الدنیا اور امام ابن عساکر نے حضرت طاﺅس رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ اُن سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو عورت کے پچھلے حِصّے کے ذریعے ملاپ کرتا ہے تو انھوں نے کہا ۔ اس کا آغاز قو م سدوم (حضر ت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا) پہلے مردوں نے عورتوں سے یہ فعل کیا اور پھر یہی فعل مردوں کے ساتھ کیا۔قوم سدوم اتنی ذیادہ بے حیائی میں مُبتلا ہوگئے تھے کہ مرد عورتوں سے بے پرواہ ہوگئے تھے اور عورتیں مردوں سے بے پرواہ ہوگئیں تھیں۔ امام بیہقی اور اما م ابن عساکر نے حضرت حذیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ قو ل نقل کیا ہے کہ قو م سدوم یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں پختہ قول یہ ہے کہ اُس وقت عورتیں عورتوں کے سبب اور مرد مردوں کے سبب ایک دوسرے سے مستعنی اور بے نیاز تھے ۔ حضرت ابو حمزہ رحمتہ علیہ فرماتے ہیں ۔ میں نے حضرت محمدبن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کی عورتوں کو اُن کے مردوں کے سبب عذاب دیاہے؟تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں عدل وانصاف کیا ہے ۔ کیونکہ اُس وقت مرد ، مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے لطف اندوڑ ہواکرتے تھے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں